Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال و جواب

 

یمنی مسئلے کو اس قدر شدید حد تک بحران زدہ بنانے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں؟

 

(عربی سے ترجمہ)

سوال:

 

یمن کی صدارتی کونسل کے ایک رکن، عیدروس الزبیدی کی قیادت میں یمن میں جنوبی عبوری کونسل (Southern Transitional Council) کی جانب سے یمن کے علاقے،حضرموت اور المھرۃ میں اپنی فوجیں تعینات کرنے کے بعد سے حالات کافی پیچیدہ ہو گئے ہیں؛ جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ، رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ ختم کر دیا اور مطالبہ کیا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر اپنی افواج یمن سے واپس بلا لے۔سعودی عرب نے فوری طور پر اس کی تائید کی اور یمن کے شہر، المکلا کی بندرگاہ پر موجود متحدہ عرب امارات کے ہتھیاروں پر بمباری کی، اور پھر سعودی عرب نے مطالبہ کر دیا کہ متحدہ عرب امارات، رشاد العلیمی کے مطالبے پر عمل کرتے ہوئے اپنی فوجیں یمن سے نکال لے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات نے اپنی افواج واپس بلا لیں، اور بالآخر عیدروس الزبیدی متحدہ عرب امارات کی طرف فرار ہو گیا ... تو پھر یمنی مسئلے کو اس قدر شدید بحران کی طرف دھکیلنے کےپیچھے کیا عوامل کارفرماہیں؟ کیا برطانیہ یمن میں اپنے حامیوں کو کھو رہا ہے؟ اور کیا اس تنازعہ کا کوئی بین الاقوامی پہلو بھی ہے؟

براہِ مہربانی وضاحت فرما دیں۔

 

جواب:

 

ان معاملات کو واضح کرنے کے لئے، ہم پہلے یہ وضاحت کریں گے کہ آخر یہ بحران کیسے وجود میں آیا، اور پھر یہ کہ ان واقعات کے نتائج اور پیدا ہونے والی صورتِ حال کس سمت جا سکتی ہے:

*اول : بحران کی تشکیل کا مقامی پہلو*

 

1- ظاہری طور پر یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب یمنی عبوری کونسل—جو جنوبی یمن کی ریاست کی بحالی کے منصوبے کی سب سے شدید حامی ہے—نے حضرموت اور المھرۃ پر کنٹرول حاصل کرنے اور عمرو بن حبریش کی قیادت میں قبائلی اتحاد کی افواج کو تیل کی تنصیبات سے بے دخل کرنے کے لئے اپنی فوجیں روانہ کیں۔ جنوبی عبوری کونسل کے وفادار یمنی دستوں نے جمعرات کی صبح اعلان کیا کہ انہوں نے حضرموت صوبے کے علاقےالمسيلة میں تیل کمپنیوں سے متعلق مقامات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ایک فوجی تعیناتی کے بعد عمل میں آئی جس میں تیل کے کنویں، ان کے گرد و نواح کی تنصیبات اور تیل کی رسد کے راستے شامل تھے۔ یہ پیش رفت حضرموت قبائلی اتحاد (Hadramawt Tribal Alliance)سے وابستہ افواج کے علاقے میں اپنے ٹھکانوں سے انخلاء کے بعد ہوئی، جو بعض مقامات پر محدود جھڑپوں کے بعد عمل میں آیا… (بی بی سی، 04 دسمبر، 2025ء)۔

 

2- الجزیرہ نے 03 دسمبر، 2025ء کو رپورٹ کیا کہ محمد القحطاني کی سربراہی میں ایک سعودی وفد، صوبہ حضرموت کے دارالحکومت المکلا پہنچا اور وہاں موجود فریقین کو اکٹھا کیا۔ ایک معاہدہ طے پایا تاکہ کشیدگی ختم کی جا سکے، اور اس مقصد کے لئے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ ”حضرموت کے گورنر ہاؤس کے میڈیا آفس کے ایک بیان کے مطابق، اس معاہدے پر حضرموت کے گورنر سالم احمد الخنبشی اور صوبے کے پہلے ڈپٹی گورنر اور حضرموت قبائلی اتحاد کے سربراہ شیخ عمرو بن علی بن حبریش نے دستخط کئے“ (سکائی نیوز، 04 دسمبر،2025ء)۔ یہ بھی طے پایا کہ سعودی وفد اس معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرنے کے لئے حضرموت میں ہی قیام کرے گا۔

 

3- (حضرموت قبائلی اتحاد کے سربراہ شیخ عمرو بن حبریش، جو یمن کے مشرق میں واقع اس تیل سے مالا مال صوبے کے لئےخود مختار حکومت کا مطالبہ کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ حضرموت کو ایک مسلح بیرونی یلغار کا سامنا ہے جو ساحلی اور بالائی علاقوں میں واقع مقامات کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس کی تیل کی تنصیبات کے لئے خطرہ ہے۔ شیخ عمرو بن حبریش نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج پر الزام لگایا کہ ”انہوں نے قبائلی اتحاد کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کے ذریعے دھوکہ دہی سے حملہ کیا، جو مقامی حکام اور حضرموت قبائلی اتحاد کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور لوگ زخمی ہوئے ہیں“ (العربی الجدید، 09 دسمبر، 2025ء))۔

 

بہرحال سعودی عرب نے ان پیش رفتوں کو مسترد کر دیا۔ [میجر جنرل محمد القحطانی (جو یمن سے متعلق خصوصی کمیٹی کے سربراہ ہیں) اور اس موجودہ سعودی وفد کے سربراہ بھی ہیں، جو حضرموت صوبے کا دورہ کر رہا ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک حضرموت میں استحکام کے موقف کی حمایت کرتا ہے اور ”کسی بھی قسم کی طاقت کے ذریعے حقائق مسلط کرنے کی کوشش“ کو مسترد کرتا ہے۔]

 

4- دریں اثناء یمنی صدارتی قیادت کی کونسل کے سربراہ، رشاد العلیمی نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا موقف اپنایا۔ ”العلیمی نے کسی بھی ایسی انفرادی کارروائی کی قطعی مخالفت کی جو امن و استحکام کی راہ میں رکاوٹ بنے اور قانونی حکومت کی اتھارٹی کو نقصان پہنچائے،اور انہوں نے حضرموت میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پابندی پر زور دیا۔ رشادالعلیمی نے یہ بیانات عبوری یمنی دارالحکومت عدن سے سعودی عرب کی طرف روانگی سے قبل دئیے“ (جریدہ القدس، 05 دسمبر، 2025ء)۔

 

5- اور جب سعودی کوششیں صورتحال کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے عبوری کونسل کی افواج کو حضرموت اور المھرۃ کی طرف بھیجنے سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کرنے میں ناکام ہو گئیں، یعنی معاملہ ایک بند گلی میں پہنچ گیا، تو بحران مزید شدت اختیار کر گیا اور اس نے علاقائی رخ اختیار کر لیا۔ ”یمنی صدارتی قیادت کی کونسل کے سربراہ، رشاد العلیمی نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا اور اماراتی افواج کو یمن سے نکلنے کے لئے 24 گھنٹے کا وقت دے دیا“ (آر ٹی، 30 دسمبر، 2025ء)۔ رشاد العلیمی نے ہوم لینڈ شیلڈ فورسز (Homeland Shield Forces) (جو وزارت دفاع کے ماتحت ہیں) کو پیش قدمی کرنے اور دونوں صوبوں کے تمام فوجی کیمپوں کا کنٹرول سنبھالنے کا حکم بھی دے دیا۔

 

6- سعودی عرب نے فوری طور پر اس اقدام کی تائید کی، جس کے بعد سے بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔ سعودی افواج نے ان ہتھیاروں اور گولہ بارود پر بمباری کی جو متحدہ عرب امارات نے عبوری کونسل کی مدد کے لئے المکلا کی بندرگاہ پر بھیجے تھے۔ ”یمن میں سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے منگل کے روز ایک محدود فوجی کارروائی کرنے کا اعلان کیا جس میں ان ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جو متحدہ عرب امارات سے صوبہ حضرموت کے شہر مکلا کی بندرگاہ پر پہنچی تھیں“ (صدی نیوز، 30 دسمبر، 2025ء)۔ یوں اس طرح یمن میں ایک شدید بحران پیدا ہو گیا جسے سفارتی کوششیں حل نہ کر سکیں اور یہاں تک کہ یہ بحران علاقائی سطح تک پھیل گیا، جہاں سعودی عرب نے صدارتی کونسل سے متحدہ عرب امارات کو یمنی منظر نامے سے نکالنے کا مطالبہ کیا، اور پھر ان ہتھیاروں پر بمباری کی جو متحدہ عرب امارات نے حضرموت میں عبوری کونسل کو بھجوائے تھے، جس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اسی طرح کا ایک شدید بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا، جو 2017ء میں سعودی عرب اور قطر کے مابین پیش آنے والے بحران سے مشابہ ہے۔

 

7- پھر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات ”جھک“ گیا اور اس نے یمن سے اپنی افواج کو نکالنے کا اعلان کر دیا۔ ”اماراتی وزارت دفاع نے منگل کے روز اپنے اہلکاروں کی سلامتی کو یقین دہانی بناتے ہوئے اور متعلقہ پارٹنرز کی باہمی ہم آہنگی کے ساتھ یمن میں انسدادِ دہشت گردی کے باقی ماندہ دستوں کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا“ (آر ٹی، 30 دسمبر، 2025ء)۔ دوسری طرف سعودی عرب نے یمن میں متحدہ عرب امارات کے اتحادیوں (عیدروس الزبیدی کی قیادت میں عبوری کونسل) کو حضرموت اور المھرۃ سے بے دخل ہونے کی وارننگ دینا جاری رکھا۔ اس عبوری کونسل نے ابتداء میں تو ان وارننگ پر تعمیل کرنے سے انکار کیا، لیکن پھر سعودی دھمکی کے دباؤ میں آ کر لچک دکھانا شروع کی اور مشترکہ موجودگی یا جزوی انخلاء کی پیشکش کی۔ ”یمنی جنوبی عبوری کونسل کی افواج نے حضرموت کے ساحلی علاقوں اور اس کی وادی کےمتعدد علاقوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا“ (المدن، 31دسمبر، 2025ء)۔ تاہم یہ انخلاء اس بحران کا کوئی حتمی حل نہیں تھا، بلکہ ایک دھوکہ تھا!

 

8- اس کے بعد اتحادی افواج کے میڈیا کے اعلان کے مطابق 8 جنوری، 2026ء کو عیدروس الزبیدی صومالی لینڈ کے راستے عدن سے ابوظہبی فرار ہو گیا۔پھر سعودی وزیر دفاع نے کہا کہ ”مملکت سعودی عرب، جنوبی یمن میں موجود شخصیات کے ساتھ باہمی مشاورت سے ریاض کانفرنس کی تیاری کے لئےایک ابتدائی کمیٹی تشکیل دے گی“۔اور جمعہ کی صبح کو یمن کی جنوبی عبوری کونسل کے سیکرٹری جنرل عبد الرحمٰن الصبیحی نے کونسل اور اس کے تمام اداروں کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب ”مملکت سعودی عرب کی حمایت کے ساتھ ایک جامع جنوبی کانفرنس کے ذریعے جنوبی یمن کے منصفانہ مقصد کی تکمیل کے لئے مل کر کام کیا جائے گا“ (الجزیرہ، 09 جنوری، 2026ء)۔

 

*دوئم : بین الاقوامی پہلو*

 

1- اس بحران کا یہ پہلو بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے؛ سعودی عرب کے حکمران امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور اس کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کے حکمران برطانیہ کے ایجنٹ ہیں اور برطانوی پالیسیوں کو نافذ کرتے ہیں۔یہ دونوں فریق ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہیں، جس کی وجہ سے یمن میں ان کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں چنانچہ وہ یا تو تصادم کے کنارے پر آ کھڑے ہوتے ہیں یا اس تنازعہ کے کسی مرحلے میں داخل ہونے کو ہیں۔جہاں تک اس تنازع میں شامل یمنی فریقوں کا تعلق ہے، تو کچھ عرصہ قبل تک یہ دونوں فریق برطانوی انگریزوں کے ایجنٹ تھے۔ عیدروس الزبیدی، جو جنوبی یمن میں ”عبوری کونسل“  کی قیادت کر رہا ہے اور صدارتی کونسل کے آٹھ ارکان میں سے ایک ہے، وہ برطانیہ کا ایک ایجنٹ ہے اور اپنے تمام اقدامات میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہم آہنگی رکھتا ہے۔

 

2- جہاں تک جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کا تعلق ہے، وہ بھی ابتدا میں برطانوی گروپ کا ہی حصہ تھا،لیکن اب اس نے بھرپور طریقے سے سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے اور یمن سے متحدہ عرب امارات کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے، حالانکہ متحدہ عرب امارات یمن میں برطانوی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا سب سے مضبوط آلۂ کار ہے۔

 

اس بات کی مزید وضاحت کے لئے  :

 

الف) سال 2022ء میں ایک صدارتی کونسل تشکیل دی گئی تھی جس کے سربراہ رشاد العلیمی کو صدر کے اختیارات دئیے گئے، جبکہ دیگر سات ارکان کو نائب صدر کے اختیارات ملے۔ سعودی عرب اور امریکی نمائندے اس کونسل کی تشکیل پر متفق تھے،حالانکہ اس کے بیشتر ارکان یمنی سیاسی محور کے وہ افراد تھے جو برطانیہ کے زیر اثر تھے۔ تاہم، انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی کیونکہ سعودی عرب نے مالی اور سکیورٹی معاونت کے ذریعے اس کونسل پر کنٹرول حاصل کر رکھا تھا، خاص طور پر اس لئے کہ اس کونسل میں جنوبی عبوری کونسل کے چار ارکان شامل تھے تاکہ اسے مطمئن کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، رشاد العلیمی، جوکہ برطانوی حامیوں میں سے رہا تھا اور سابق یمنی صدر علی عبد اللہ صالح کے دور میں اہم سیاسی عہدوں پر فائز رہ چکا تھا، وہ سعودی عرب میں قیام پذیر رہا تھا اور سعودی مالی و سکیورٹی امداد پر انحصار کرتا رہا تھا۔ چنانچہ اس سب سے سعودی عرب کے لئے اس پر مؤثر طور پر اثرانداز ہونا ممکن ہوا اور یہ اثر حالیہ مدت میں مزید مضبوط ہوا۔

 

ب) اسی وجہ سے، دسمبر کے آغاز میں حضرموت اور المھرۃ صوبوں پر عبوری کونسل کے حملے کے خلاف العلیمی کا موقف انتہائی سخت تھا۔ اس نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ یمنی منظرنامے سے متحدہ عرب امارات کو نکالنے کا دوٹوک فیصلہ کیا، جو یمن میں برطانیہ کے باقی ماندہ اثر و رسوخ کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ یوں اس سے العلیمی کی وفاداری کی تبدیلی کی نشاندہی ہوتی ہے، اور اس کا حالیہ بیان اگر اس کی تصدیق نہیں کرتا تو بہرحال مزید نشاندہی ضرور کرتا ہے: ”یمن کی صدارتی قیادت کی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے آج بیان دیا کہ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا تحفظ ایک قومی ذمہ داری ہے، یمنی قیادت اس سے حاصل ہونے والے فوائد کو بھی سمجھتی ہے اور اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ اس سے غفلت خطرناک ہو سکتی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ یہ شراکت داری یمنی ریاست کی بحالی کی کوششوں میں ایک بنیادی ستون ہے“ (العربیہ، یکم جنوری، 2026ء)۔ اس کے تیجے میں صدارتی کونسل میں شامل انگریزوں کے بڑے ایجنٹوں نے العلیمی پر اعتراضات کا حملہ کر دیا کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے۔ انہوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ: ”انہوں نے انتہائی تشویش کے ساتھ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے ان یکطرفہ اقدامات اور فیصلوں کا جائزہ لیا ہے، جن میں ہنگامی حالت کے اعلان اور سیاسی و سکیورٹی کے بیانات شامل ہیں۔ یہ خطرناک اقدامات ہیں، یہاں تک کہ ان کا یہ دعویٰ بھی کہ متحدہ عرب امارات کو عرب اتحاد اور یمنی سرزمین سے نکال دینا چاہئے“(انڈیپنڈنٹ عربیہ، 30 دسمبر، 2025ء)۔ تاہم، رشاد العلیمی کی وفاداری برطانیہ سے سعودی عرب کی طرف منتقل ہو جانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ جنوبی یمن میں برطانوی اثر ورسوخ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے، لیکن بہرحال یہ اثر کافی حد تک کم ہو گیا ہے خاص طور پر عبد الرحمٰن الصبیحی کی جانب سے عبوری کونسل کی تحلیل کے اعلان کے بعد سے برطانوی اثر کافی کمزور ہو گیا ہے۔

 

*سوئم : اس شدید تنازعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تنازعہ کا مرکز ”حضرموت“ اور اس کے ساتھ ملحقہ صوبہ ”المھرۃ“ ہے:*

 

1- حضرموت، جو یمن کے رقبے کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے، یمن جنگ کے تمام تر برسوں کے دوران میں اس تنازعہ سے الگ تھلگ رہا تھا۔ حضرموت کو واضح طور پر اس جنوبی عبوری کونسل کے زیرِ اثر علاقہ سمجھا جاتا تھا جو جنوبی یمن کی شمالی یمن سے علیحدگی چاہتی ہے، اور وہاں سعودی مداخلت محدود تھی۔ 2024ء میں سعودی عرب نے حضرموت میں (رشاد العلیمی کی) یمنی حکومت کی افواج کے داخلے کی مدد کی، جبکہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل اس کی مخالفت کر رہی تھی (بلقیس ویب سائٹ، 03جون، 2024ء)۔ حضرموت میں سعودی مداخلت اس وقت تک محدود رہی جب تک امریکہ میں ٹرمپ اقتدار میں نہ آیا تھا، جس کے بعد سعودی مداخلت میں تیزی آگئی اور متحدہ عرب امارات و جنوبی عبوری کونسل کو دی جانے والی حالیہ دھمکیوں کے ساتھ یہ سعودی مداخلت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔

 

2- ٹرمپ انتظامیہ کے آنے کے بعد حضرموت میں سعودی مداخلت میں اضافہ بالکل واضح ہے۔ 2025ء کے آغاز سے سعودی عرب حضرموت میں قابلِ ذکر اثر و رسوخ قائم کر رہا ہے، قبائلی رہنماؤں سے رابطہ قائم کر رہا ہے اور اپنے حامی پیدا کر رہا ہے۔اسے ”حضرموت قبائلی اتحاد“ کے رہنما اور صوبے کے پہلے ڈپٹی گورنر عمرو بن حبریش کی صورت میں اپنا مطلوبہ شخص مل گیا ہے، جسے سعودی عرب نے بھرپور مدد فراہم کی اور طاقت حاصل کرنے کے لئے اسے ابھارا، جس کے نتیجے میں وہ حضرموت میں مزید غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔ ”فروری 2025 میں عمرو بن حبریش نے تیل کی برآمدات روکنے کے اعلان کے ساتھ ہی ”حضرموت پروٹیکشن فورسز“ کی تشکیل کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ کیا“ (الجزیرہ نیٹ، 03 دسمبر، 2025ء)۔ بعد ازاں ”ریاض میں اعلیٰ حکام بشمول وزیر دفاع اور سعودی فوج کے چیف آف سٹاف نے اس کا استقبال کیا، جبکہ سعودی عرب نے اسے یمن کے شہرسیئون سے ریاض لانے کے لئے خصوصی فوجی طیارہ بھیجا اور اس کی خاطر بھرپور حمایت کا اظہار کیا“ (اخبارالعرب، 29مارچ، 2025ء)۔ ریاض سے واپسی پر، اس نےمئی 2025ء میں 35 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل 6 فوجی بریگیڈز اور خصوصی سکیورٹی و ریسکیو نئے یونٹس بنانے کا اعلان کیا۔ آخر کار سعودی عرب نے اپنے آدمی عمرو بن حبریش کو تیل کی کمپنیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھایا، اور یہی وہ آخری پریشانی تھی جس نے عیدروس الزبیدی کی قیادت میں عبوری کونسل کی برداشت کی حد پار کر دی۔ چنانچہ عیدروس نے حضرموت کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کے لئے کمر کس لی، جس سے اس بحران کی آگ بھڑک اٹھی۔

 

3- اس کے علاوہ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ حضرموت کا وسیع و عریض صوبہ قیمتی قدرتی معدنیات کے خزانے پر موجود ہے، جن میں نایاب معدنیات جیسے ”اسکینڈیم“ شامل ہے جو حضرموت کے ساحلی علاقوں ”بروم میفع“ اور ”حجر“ میں وافر مقدار میں دریافت ہوئی ہے۔ اسکینڈیم کی یہ معدنیات طیارہ سازی اور خلائی جہازوں کی صنعت میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس کی تصدیق ”عدن سٹی“ ویب سائٹ نے 07 نومبر، 2025ء کو حضرموت کی جیولوجیکل سروے اتھارٹی کے حوالے سے بھی کی ہے۔ حضرموت میں ہونے والی اس دریافت سے یمن دنیا کی نایاب معدنیات کے نقشے پر آ جائے گا، اس کے علاوہ حضرموت کی سیاہ ریت ”ایلمینائٹ“، ”روٹائل“، ”زرکون“ اور ”میگنیٹائٹ“ جیسی معدنیات سے مالا مال ہے جن میں سرمایہ کاری کے لئے بین الاقوامی کمپنیاں آپس میں بازی لے جانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ حضرموت میں تیل، سنگِ مرمر اور گرینائٹ کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ ”یوں اس طرح سے یمن مشرق وسطیٰ کا وہ واحد عرب ملک ہے جس نے نایاب زمینی معدنیات پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں اپنی جگہ بنا لی ہے... “ ( انرجی پلیٹ فارم، واشنگٹن ، 08 جولائی، 2025ء)۔ یہی وہ نایاب عناصر ہیں جو اب ٹرمپ انتظامیہ کی بین الاقوامی پالیسیوں کا محرک ہیں تاکہ ان معدنیات پر چین کی اجارہ داری کا مقابلہ کیا جا سکے جو الیکٹرانک چپس جیسی حساس صنعتی عمل کو اپنے کنٹرول میں لئے ہوئے ہے۔

 

4- اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ہی نے سعودی عرب کو حضرموت کے استحکام سے کھیلنے کے لئے اکسایا ہے۔ عمرو بن حبریش کی قیادت میں قبائلی اتحاد کی جانب سے تیل کی کمپنیوں پر قبضے کی کوششیں اور خود مختاری کے مطالبات میں تیزی لانا اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ اس صورتحال نے برطانیہ کے گروہ (متحدہ عرب امارات اور اس کے مقامی حامی جیسے جنوبی عبوری کونسل) کو حضرموت اور المھرۃ پر حملہ کر کے قبضہ کرنے پر مجبور کیا۔ اس پر سعودی عرب، یا یوں کہیے کہ ٹرمپ انتظامیہ آپے سے باہر ہوگئی، اور متحدہ عرب امارات کے خلاف وہ سخت اقدامات کیے جو 2015ء میں آپریشن ڈیسیسیو اسٹورم (Operation Decisive Storm)کے آغاز سے اب تک نہیں دیکھے گئے تھے۔ ان سخت اقدامات میں متحدہ عرب امارات کے ہتھیاروں پر بمباری اور جنوبی عبوری کونسل میں اس کے حواریوں کو دھمکیاں دینا شامل ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ حضرموت کی نایاب معدنیات کے معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ امریکہ اس منظر نامے سےقطعاً باہر نہیں ہے، اگرچہ اسے اپنے آلہ کار سعودی عرب پر پورا بھروسہ بھی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے رابطہ کیا، ”جس میں انہوں نے یمن کی صورتحال اور علاقائی استحکام و سلامتی پر اثر انداز ہونے والے مسائل پر تبادلہ خیال کیا“ (آر ٹی، 30دسمبر، 2025ء)۔

 

*چہارم : خلاصہ کلام یوں ہے کہ یمنی منظرنامے میں نئی پیش رفت یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ حضرموت پر اپنی توجہ مرکوز کر رہی ہے کیونکہ یہاں نایاب زمینی معدنیات موجود ہیں،* جو امریکہ کو اس حساس شعبے میں چین کی بالادستی کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں گی، جو کہ دیگر صنعتی آپریشنزکو کنٹرول کرتا ہے۔اسی طرح یمنی قیادت کی وفاداری بھی برطانیہ سے بدل کر امریکہ کی طرف منتقل ہونے کا قوی امکان ہے جن میں سب سے نمایاں، یمنی صدر رشاد العلیمی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ چینی کمپنیاں پہلے ہی حضرموت میں نایاب زمین کی معدنیات کی تلاش کر رہی ہیں، اس لئے ان معدنیات کو اپنے قابو میں لینا ٹرمپ کے لئے فوری اہمیت رکھتا ہے، تاکہ چین ان پر قابض نہ ہوجائے۔ اسی لئے کفر کے ایجنٹ اپنے اپنے آقا کی خواہشات کی تکمیل کے لئے یمن میں جنگ کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔ دردناک واقعات کا یہ سلسلہ نہ صرف یمن بلکہ سوڈان اور دیگر مسلم ممالک میں بھی جاری ہے، جہاں مسلمان ایک دوسرے کو ان جنگوں میں قتل کر رہے ہیں جن کے بارے میں ان کے ایجنٹ حکمران انہیں یہ باور کراتے ہیں کہ ان میں ان کا عظیم مفاد ہے، تاکہ انہیں جان و مال کی قربانی دینے پر اکسایا جا سکے۔ لیکن حقیقت میں یہ جنگیں صرف کفر کے مفادات کے تحفظ کے لئے لڑی جا رہی ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک امت کا طاقتور گروہ بیدار ہو کر ان حکمرانوں کا محاسبہ نہ کرے اور عدل، رحمت اور ہدایت کی ریاست ”نبوت کے نقشِ قدم پرخلافتِ راشدہ“ قائم نہ کر دے۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے اسلام اور مسلمانوں کے لئےخیر، آسمانی برکات، نعمت، عزت اور وقار کا دور آئے گا۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

﴿إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً

”بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے“ (سورۃ الطلاق:3)

 

اور آنے والا کل ان کے لئے قریب ہی ہے جو اس کے منتظر ہیں۔

22 رجب 1447هـ

بمطابق 11جنوری، 2026 عیسوی

Last modified onجمعہ, 16 جنوری 2026 18:56

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.