Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال و جواب

 

شام کے واقعات اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کا پسپائی اختیار کرنا

 

 

(عربی سے ترجمہ)

 

سوال :

 

شام کے شمال مشرق میں واقعات میں بڑی تیزی رونما ہوتی جا رہی ہے، جہاں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) تیزی سے ان علاقوں کا کنٹرول کھو رہی ہیں جن پر اب شامی حکومت قابو پا  رہی ہے۔ آخر یہ سب کیسے ہوا؟ ان سب واقعات کو کس زاویہ سے سمجھا جانا چاہیے، جبکہ شامی حکومت اور SDF دونوں ہی امریکی ایجنٹ ہیں؟ اور اس حقیقت کے باوجود کہ امریکہ کی جانب سے شامی حکومت کو ان علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے واضح طور پر گرین سگنل دیا گیا ہے، تو پھر ٹرمپ انتظامیہ شام یا اس کے گرد و نواح میں آخر کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے؟

 

براہِ مہربانی وضاحت فرما دیں۔

 

جواب:

 

مندرجہ بالا سوالات کے جوابات کی وضاحت کے لئے ہم درج ذیل نکات کا جائزہ لیں گے:

 

اول : شام میں SDF کے لئے امریکہ کی حمایت کے مراحل

 

1۔ شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) ایک وسیع اتحاد ہے جو اکتوبر 2015ء میں داعش کے خلاف لڑنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔ اس اتحاد میں کرد، عرب، سریانی (Syriac)، آرمینی اور ترکمان جنگجو شامل ہیں۔ SDF کا سب سے بڑا حصہ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) اور ویمنز پروٹیکشن یونٹس (YPJ) پر مشتمل ہے، جو روجاوا (Rojava) میں خود اعلانیہ خودمختار علاقوں کی سلامتی اور دفاع کے ذمہ دار ہیں۔

 

امریکہ نے 2015ء میں SDF کی تشکیل کے وقت سے ہی اس کی حمایت تیز کر دی تھی، اور یہ حمایت 2014ء میں شام میں امریکی مداخلت سے شروع ہوئی تھی، جو روسی مداخلت سے بھی پہلے کی بات ہے۔ امریکی افواج نے SDF کو فضائی تحفظ، وسیع مالی امداد اور اسلحہ فراہم کیا۔ SDF کے لیے امریکہ کی وابستگی اس حد تک تھی کہ اس نے فروری 2018ء میں دریائے فرات کے مشرق میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی روسی ویگنر (Wagner) فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ امریکہ نے ترکی کی جانب سے SDF کو کمزور کرنے کے لیے دیے گئے تمام بیانات اور کوششوں کو بھی روکے رکھا۔

 

اس طرح، SDF کے لئے امریکی حمایت میں اس کے آغاز سے ہی فوجی فضائی تحفظ فراہم کرنا، سیاسی پشت پناہی، مالی و اسلحہ کی امداد، اور دریائے فرات کے ساتھ زرخیز زمینوں، تیل و گیس کے کنوؤں اور پاور اسٹیشنوں پر اس کے کنٹرول کو آسان بنانا شامل تھا۔ ترکی کی جانب سے شمال مشرقی شام میں اس امریکی پالیسی کی مخالفت پر بھی امریکہ نے سخت مزاحمت کی۔ یہ سب کچھ اس مقصد کے تحت تھا کہ اگر دمشق سے اسلامی خلافت کا آغاز ہو تو اس کے خلاف جنگ کے لئے امریکہ اپنے آلات اور ذرائع کو تیار کر سکے۔

 

آج ٹرمپ، احمد الشرع کی حکومت کو خطے میں امریکی مفادات حاصل کرنے کے لئے زیادہ اہل سمجھتا ہے، جن میں سے دو مقاصد سب سے اہم ہیں: یعنی پہلا شام میں اسلامی نظامِ حکومت کو دور رکھنا، اور دوسرا شام اور فلسطین میں یہودی وجود کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، اور روزانہ کے حملوں کے باوجود یہودی وجود کے خلاف مزاحمت سے گریز کرنا۔

 

 

چنانچہ، ٹرمپ اور اس کے عہدیداروں کے بیانات نے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ SDF کا کردار ختم ہو چکا ہے اور خطے میں امریکی مفادات کی خدمت کے لیے شامی حکومت اس کی جگہ لے رہی ہے۔ یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی، بلکہ شام کے لیے امریکی ایلچی ٹام بارک (Tom Barrack) نے اپنے دوروں کے دوران اس کا کھلے عام اظہار کیا ہے، اسی طرح ترک اور شامی حکام بھی اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔

 

ا-) ٹام بارک (Tom Barrack) نے بیان دیا کہ SDF کا اصل مقصد اب ختم ہو چکا ہے، یعنی اپنی سطح پر داعش کے خلاف بنیادی فورس کے طور پر کام کرنا، اور دمشق اب سکیورٹی کے فرائض سنبھالنے کے قابل ہو چکا ہے، جس میں داعش کے حراستی مراکز پر کنٹرول شامل ہے۔ (الجزیرہ نیٹ، 21 جنوری، 2026ء)

 

ٹام بارک نے ایکس (ٹویٹر) پر ایک اور بیان میں کہا، SDF کا اصل مقصد، یعنی زمینی سطح پر داعش کے خلاف بنیادی فورس کے طور پر کام کرنا، زیادہ تر ختم ہو چکا ہے، کیونکہ دمشق اب نہ صرف سکیورٹی کے فرائض سنبھالنے کے لئے تیار ہے بلکہ اس کے پاس اس کی اہلیت بھی موجود ہے، جس میں داعش کے حراستی مراکز اور کیمپوں کا کنٹرول شامل ہے“۔ (بی بی سی، 20 جنوری، 2026ء)

 

اس نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا، جس کا ترجمہ شام میں امریکی سفارت خانے نے کیا: آج صورتحال بنیادی طور پر ہی بدل چکی ہے۔ شام کی اب ایک تسلیم شدہ مرکزی حکومت ہے جو داعش کو شکست دینے والے عالمی اتحاد (Global Coalition to Defeat ISIS)میں (2025ء کے آخر میں اپنے 90 ویں رکن کے طور پر) شامل ہو گئی ہے“۔

 

شامی فوج میں SDF کے انضمام کے حوالے سے اس نے مزید کہا: حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس منتقلی کو فعال طور پر آسان بنا رہا ہے، نہ کہ SDF کے الگ کردار کو طول دے رہا ہے... اور یہ اقدام کردوں کے لئے ایک منفرد موقع پیدا کرتا ہے: یعنی نئی شامی ریاست میں انضمام انہیں مکمل شہریت کے حقوق فراہم کرے گا“۔ (سی این این عربی، 21 جنوری، 2026ء)۔

 

ب۔) ترک صدر، رجب طیب اردگان نے بدھ کو کہا کہ شمالی شام میں کرد فورسز کو لازماً اپنے ہتھیار ڈال دینے چاہئیں اور فوری طور پر تحلیل ہو جانا چاہئےتاکہ مزید خونریزی کے بغیر حل تک پہنچا جا سکے۔ یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب دمشق نے انہیں چار دن کی مہلت دی تاکہ حسکہ (Hasakah) کو مرکزی ریاست میں ضم کرنے کا منصوبہ پیش کیا جا سکے۔ (الجزیرہ نیٹ، 21 جنوری، 2026ء)۔

 

ج۔) شامی ایوانِ صدر نے پیر 19 جنوری، 2026ء کو اعلان کیا کہ عبوری شامی صدر احمد الشرع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی۔ سرکاری خبر رساں ادارے سانا (SANA) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں صدور نے گفتگو کے دوران شامی سرزمین کی یکجہتی اور خودمختاری کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا، استحکام کے حصول کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کی، اور اس بات پر اتفاق کیا کہ شامی ریاست کے دائرے میں رہتے ہوئے کرد عوام کے حقوق اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے“۔ (سی این این عربی، 19 جنوری، 2026ء)

 

دوئم : یہ صورتحال کیا ظاہر کرتی ہے؟

 

ان تمام حقائق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ نے شامی صدر احمد الشرع کو SDF کے خاتمے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ اب امریکہ نہ اپنے عزائم چھپاتا ہے اور نہ ہی سفارتی زبان استعمال کرنے کی زحمت کرتا ہے۔ وہ کھلم کھلا اعلان کرتا ہے کہ دہشت گردی“ کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی آلے کے طور پر کام کرنے والی SDF کا کردار اب ختم ہو چکا ہے، اور اب امریکہ ایک بڑے آلۂ کاریعنی احمد الشرع کی حکومت پر انحصار کرنا چاہتا ہے۔ یہ دونوں ہی امریکی آلہ کار ہیں، اور امریکہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے آلہ کار تبدیل کرتا رہتا ہے۔ یہ پیش رفت، زمین پر موجود دیگر حقائق کے ساتھ مل کر کئی نتائج کی طرف اشارہ کرتی ہے:

 

1- ایک ایجنٹ کو دوسرے ایجنٹ سے بدلنا:

 

شامی انقلاب کے دوران، جس نے امریکہ کو تھکا دیا تھا اور جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے اوباما کے بال سفید کر دئیے“، امریکہ مسلسل ایک ایسے طاقتور ایجنٹ کی تلاش میں رہا جو اقتدار سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو، تاکہ اپنے ایجنٹ بشار کو اس کے ساتھ بدل سکے، جس کے خلاف شامی عوام نے بغاوت برپا کر رکھی تھی۔ 26 جولائی، 2025ء کے ایک سوال کے جواب میں یہ بتایا گیا تھا کہ شام میں امریکہ کا منصوبہ ایک بنیادی اصول پر مبنی ہے: یعنی ایک ایجنٹ کی جگہ دوسرے ایجنٹ کو لے کر آنا۔ اس مقصد کے لئے ترکی کو بشار الاسد کی حکومت کو ختم کرنے اور ایک ایسی نئی حکومت بنانے کا گرین سگنل دیا گیا تھا جو امریکہ کی وفادار ہو۔

 

ترکی اور اس کے انٹیلی جنس اداروں نے یہ امریکی کام اپنے ذمے لے لیا اور احمد الشرع کو تیار کیا، جو پہلے الجولانی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بائیڈن انتظامیہ کے خاتمے سے چند ماہ قبل، امریکہ نے ترکی کو شام نئے امریکی ایجنٹ کے حوالے کرنے کے آپریشن کی قیادت کرنے کی اجازت دی۔ ترکی نے، امریکہ کی طرف سے، ایران اور روس سے رابطہ کیا تاکہ شام میں ان کی افواج کو غیر جانبدار کیا جا سکے، اور امریکہ نے بشار الاسد سے ملک کے اقتدار کو نئے ہاتھوں میں دینے کا مطالبہ کیا۔اس طرح نئے ایجنٹ نے پرانے کی جگہ لے لی، جبکہ ترکی امریکہ اور اس نئے ایجنٹ کے درمیان رابطے کا مرکزی ذریعہ بنا رہا۔

 

2۔ اس کے بعد امریکہ نے اپنے نئے ایجنٹ سے مزید ممنوعہ اقدامات“ کا مطالبہ کیا، اور اس نئے ایجنٹ نے ترک دباؤ کے تحت اپنی مکمل اطاعت کی تصدیق کی۔ احمد الشرع نے توحید کے پرچم کو ترک کر کے اس کی جگہ ایک سیکولر جھنڈا اختیار کیا، اس نے بشار الاسد کے باقی ماندہ لوگوں کے لئے عام معافی نامہ جاری کیا، جبکہ ان شباب کو قید میں بند رکھا جو اس خلافت کے قیام کے لئے کام کر رہے ہیں، جس کے بارے میں اس جابرانہ دور کے خاتمہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے پیشن گوئی کی ہے :

 

.. » ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ. ثُمَّ سَكَتَ«..

...پھر جبر کا دور ہو گا، اور وہ تب تک رہے گا جب تک اللہ چاہے گا، پھر جب وہ چاہے گا اسے ختم کر دے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی ...

 

احمد الشراع نے اسکولوں میں قرآن کی تعلیم کے اوقات کم کر دیے،اور ٹرمپ نے اس سے مطالبہ کیا کہ وہ یہودی وجود کے بار بار اور شدید حملوں کا کوئی جواب نہ دے، حالانکہ یہ حملے خود دمشق تک جا پہنچے تھے۔پھر ٹرمپ نے یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں وزیر خارجہ الشیبانی نے اللہ ﷻ، اس کے رسول ﷺ یا مومنین بالخصوص غزہ کے لوگوں سے کوئی شرم یا خوف محسوس کیے بغیر مذاکرات کیے، جو کہ متعدد ادوار پر مشتمل تھے۔

 

یہودی وجود کے ساتھ ان مذاکرات کے دوران احمد الشرع کی حکومت کے مطالبات اتنے معمولی تھے کہ مجرم بشار نے بھی 2008ء کے مذاکرات میں، جو شامی انقلاب سے پہلے ترکی کی سرپرستی میں ہوئے تھے، اس سے کہیں زیادہ مطالبات کئےتھے۔ ان تمام ”ممنوعہ شرائط“ کو قبول کرنے کے بعد، امریکہ نے الشرع کے ساتھ براہِ راست سیاسی رابطہ قائم کر لیا، جو انٹیلی جنس اور ترک ذرائع کے علاوہ تھا۔ اس سلسلے میں پہلا سیاسی قدم 14 مئی، 2025ء کو ریاض میں امریکہ کے ایجنٹ محمد بن سلمان اور احمد الشرع کے مابین  ہونے والی ملاقات کی صورت میں سامنے آیا۔ بعد ازاں یہ رابطے مزید وسیع ہو گئے، یہاں تک کہ احمد الشرع کو امریکی صدر کی جانب سے تعریف و توصیف ملنے لگی، اور یہ سلسلہ 11نومبر، 2025ء کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے اس کی ملاقات پر منتج ہوا، اگرچہ یہ ملاقات باضابطہ تقاریب کے بغیر اور بیک ڈور پالیسی کے ذریعے سے ہوئی تھی۔  ٹرمپ نے کہا کہ وہ احمد الشرع کے ساتھ ”اتفاقِ رائے“ رکھتے ہیں اور واشنگٹن شام کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ (آر ٹی، 11 نومبر، 2025ء)

 

3۔ ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان (Hakan Fidan) نے احمد الشراع کے دورۂ واشنگٹن اور ٹرمپ سے ملاقات کے دوران وائٹ ہاؤس میں شام کے مسائل کے حل کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ ان ملاقاتوں میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی وِٹکوف (Witkoff)، شام کے لئے امریکی ایلچی تھامس بارک (Thomas Barrack)، شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی، اور بعد ازاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) بھی شریک تھے۔بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکاء نے شام میں موجودہ مسائل سے نکلنے کے ممکنہ طریقوں پر گفتگو کی۔  (آر ٹی، 11 نومبر، 2025ء)

 

اس عرصے کے دوران، امریکہ نے بتدریج شام پر سے پابندیاں اٹھائیں، اور ہر مرحلے پر اس بات کو یقینی بنایا کہ احمد الشرع اپنی وفاداری ثابت کرے۔  نومبر 2025ء میں داعش کے خلاف امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد میں شام، 90 ویں رکن کے طور پر شامل ہو گیا،اور امریکی سفارتخانے نے دمشق سے اپنی ایکس (X) پر پوسٹ میں اعلان کیا کہ شام باضابطہ طور پر عالمی اتحاد کے 90ویں رکن کے طور پر شامل ہو گیا ہے (اناضول، 12 نومبر، 2025ء)۔   جس کے بعد دسمبر 2025ء میں ٹرمپ نے قیصر ایکٹ (Caesar Act) کے تحت عائد پابندیوں کے خاتمے پر دستخط کیے۔ (الجزیرہ، 19 دسمبر، 2025ء)۔

 

سوئم : SDF کا انخلاء

 

حالیہ واقعات کے دوران، SDF کی افواج کئی علاقوں سے پیچھے ہٹ گئیں۔ ان کے کمانڈر مظلوم عبدی کے مطابق، دریائےفرات کے مغرب سے مشرق کی طرف انخلاء کا مشورہ ”دوستوں اور ثالثوں“ نے دیا تھا (کردستان-24، 16 جنوری، 2026ء) اور یقیناً امریکہ ان دوستوں اور ثالثوں کی قیادت کر رہا تھا، یہ اقدام 10 مارچ، 2025ء کے SDF-حکومت معاہدے کو نافذ کرنے کے لئے تھا، جس کے تحت تمام شہری اور عسکری اداروں کو شامی ریاست میں ضم کیا جانا تھا ۔(العربیہ، 10 مارچ، 2025ء)۔

 

اس کے بعد ایک دوسرا معاہدہ ہوا، جس میں SDF سے دیر الزور اور رقہ کو فوری طور پر حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جسے امریکی ایلچی نے ایک اہم موڑ قرار دے کر سراہا (العربی ٹی وی، 18 جنوری، 2026ء)۔ امریکی ایلچی ٹام براک نے ایکس (X) پر لکھا: ”یہ معاہدہ اور جنگ بندی ایک اہم سنگِ میل کی نمائندگی کرتے ہیں، کیونکہ سابقہ حریف خلفشار کی بجائے شراکت داری اختیار کر رہے ہیں“۔ انہوں نے دونوں فریقین کی اس معاہدے کے لئے کی گئی ”مثبت“ کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ یہ معاہدہ متحدہ شام کی طرف دوبارہ گفتگو اور تعاون کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے“۔ (العربی ٹی وی، 18 جنوری، 2026ء)۔

 

چہارم : SDF میں اندرونی مزاحمت

 

SDF کے اندر سخت گیر  دھڑوں، خاص طور پر کردستان کی PKK سے وابستہ عناصر نے نفاذ میں تاخیر کرنے کی کوشش کی، اس امید پر کہ وہ امریکی پالیسی میں کسی خلا کا فائدہ اٹھا سکیں۔ العربی چینل نے 17 جنوری، 2026ء کو اربیل (Erbil) میں ہونے والے اجلاس کے حوالے سے بتایا کہSDF کے کمانڈر مظلوم عبدی چاہتے تھے کہ وہ امریکیوں کو قائل کریں کہ SDF کا شامی فوج میں انضمام تین یونٹوں کی شکل میں ہو۔ تاہم، امریکی مؤقف میں کوئی لچک پیدا نہ ہوئی، نہ ہی اربیل (Erbil) کے اجلاس میں اور نہ اس سے پہلے۔ امریکہ نے اربیل (Erbil) سمیت تمام ملاقاتوں میں اسے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد شامی حکومت نے اس معاہدے کو عسکری طور پر نافذ کیا، جس کا آغاز حلب کے نواح سے ہوا، جس کے نتیجے میں دیر الزور اور رقہ کو فوری طور پر حوالے کرنے کا دوسرا معاہدہ ہوا، اور SDF کے خلاف امریکی مداخلت نے اس کے خاتمے کو تیز کر دیا، باوجود اس کے کہ صدر احمدالشرع نے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی (سی این این عربی، 19 جنوری، 2026ء)۔ احمد الشرع نے کہا: ”ہم اپنے عرب قبائل کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ امن برقرار رکھیں اور معاہدے کی شقوں کے نفاذ کے لئے جگہ فراہم کریں“۔ اس کے بعد عرب ملیشیا شامی فوج کے ساتھ SDF کے خلاف لڑائی میں شامل ہو گئی، جو ہفتے سے جاری ہے۔ (سی این این عربی، 19 جنوری، 2026ء)۔ 

 

پنجم : پیش رفت میں تیزی

 

1۔ شام نے اعلان کیا کہ SDF کا انضمام انفرادی بنیادوں پر ہوگا، نہ کہ فوجی یونٹوں کے طور پر، جبکہ ثقافتی حقوق اور تقرریوں کے حوالے سے محدود رعایتیں دی گئیں۔ حکومت نے رقہ، دیر الزور اور حسکہ (Hasakah)کے کچھ حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا، جس کے بعد SDF کے پاس سوائے حسکہ (Hasakah)کے مذاکرات کے لیے بہت کم گنجائش بچی ہے۔ (الجزیرہ نیٹ، 20 جنوری، 2026ء)۔

 

شامی وزارت دفاع نے پیر کے روز شام کی فوج اور SDF کے درمیان شام 8 بجے سے، چار دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا، جو شامی صدر کے SDF کے ساتھ حسکہ کے مستقبل سے متعلق مفاہمت کے اعلان کے بعد آیا۔ (الجزیرہ نیٹ، 20 جنوری، 2026ء)۔ کچھ معمولی رعایتیں دی گئیں، جن میں SDF کی شخصیات کو اسسٹنٹ وزیر دفاع، حسکہ کے گورنر، پارلیمانی نشستوں اور سول عہدوں کے لیے نامزد کرنا شامل ہے (سی این این عربی، 20 جنوری، 2026ء)۔ شامی صدر نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ عمل میں آیا: ”شامی فوج حسکہ اور قامشلی کے مرکزی علاقوں میں داخل نہیں ہوگی اور صرف ان کے اطراف میں موجود رہے گی، جبکہ بعد میں حسکہ (بشمول قامشلی) میں پرامن انضمام کے شیڈول اور تفصیلات پر بات ہوگی“ (بی بی سی، 20 جنوری، 2026ء)۔ مزید برآں، دونوں فریقین نے یہ بھی اتفاق کیا کہ شامی حکومت کی فوج کرد دیہاتوں میں داخل نہیں ہوگی، اور وہاں کی حفاظت مقامی سکیورٹی فورسز کے ذریعے کی جائے گی جو علاقے کے باشندے ہوں گے۔ (CNN عربی، 20 جنوری، 2026ء)

 

اور جب امریکہ نے فیصلہ کیا کہ داعش کے قیدیوں کو SDF کے زیرِ کنٹرول جیلوں سے عراق منتقل کیا جائے، تو قسد نے امریکہ سے یہ درخواست کی کہ قیدیوں کی منتقلی مکمل ہونے تک مدت میں توسیع دی جائے، اور ایسا ہی کیا گیا: شامی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ SDF کے ساتھ جنگ بندی کی مدت 15 دن کے لیے بڑھا دی گئی، تاکہ داعش کے قیدیوں کو SDF کی جیلوں سے نکال کر عراق منتقل کرنے کے امریکی عمل کی حمایت کی جا سکے۔ وزارت دفاع نے اپنے X (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ پر بتایا کہ توسیع آج رات 11 بجے سے شروع ہوگی، اور یہ SDF کی جیلوں سے داعش کے قیدیوں کے اخراج اور عراق منتقل کرنے کے عمل کی حمایت کے لیے ہے۔(الجزیرہ، 24 جنوری، 2026ء)

 

یوں اس طرح سے، SDF کا باب اور امریکہ کے چھوٹے ایجنٹ، یعنی SDF کے کمانڈر مظلوم عبدی، ، کا باب بند کیا جا رہا ہےجبکہ مظلوم عبدی کو سونپا گیا مشن بھی مکمل ہو گیا تھا۔ امریکہ علامتی عہدوں کے ”چھوٹے سے ریٹائرمنٹ پیکیج“ کے ساتھ اس کی سروس کو ختم کر رہا ہے، جو ممکنہ طور پر عارضی ہیں۔ امریکہ خطے کے واقعات کو کنٹرول کرتا ہے اور اپنے ایجنٹوں کا کردار ختم ہونے پر انہیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے چھوڑ دیتا ہے۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 

﴿أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ

خبردار! کتنا برا ہے وہ فیصلہ جو یہ کرتے ہیں۔ [سورہ النحل: 59]

 

ششم : خلاصہ

 

یہ بات نہایت تکلیف دہ ہے کہ اپنے عوام کی ان تمام قربانیوں کے بعد جو انہوں نے حکومت بدلنے اور اسلامی نظام کے قیام کے لئے دی تھیں،شام اب مکمل طور پر امریکہ کے تابع ہو چکا ہے۔ امریکہ نے اقتدار کے ایک ایسے پیچیدہ تخت کو محفوظ بنانے کے لئے سستی وفاداریاں خریدیں، جس کا مالک اقتدار میں رہنے کے لیے امریکی مفادات کی خدمت کرتا رہے، اسلام اور جہاد کو ترک کر کے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرنے سے گریز کرے، اور حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ مقابلے سے بھی شام کو دور کر دے، اور یہ تو ایسا اقدام ہے جس کی ہمت مجرم بشار الاسد نے بھی نہ کی تھی۔

 

شام کا حکمران یہ بات بھول چکا ہے، یا جان بوجھ کر نظر انداز کئے ہوئے ہے، کہ اگر امریکہ کو اس سے زیادہ کارآمد کوئی اور ایجنٹ مل گیا تو امریکہ پر انحصار کرنا اسے اس کی کرسی پر باقی نہیں رکھے گا۔ اور اس کے لیے اس سے پہلے گزرے ہوئے حکمران ایک نہیں بلکہ کئی عبرتناک مثالیں ہیں، جو اس حقیقت کی بھرپور تصدیق کرتی ہیں۔ تو کیا حکمران، ان کے مددگار اور ان کے درباری، یعنی امریکہ کے ایجنٹ اس بات سے سبق حاصل نہیں کریں گے کہ امریکہ کس طرح اپنے ایجنٹوں کو گراتا ہے؟ کس طرح ان کی خدمات سے فائدہ اٹھا کر، ان کے خواب چکنا چور ہو جانے کے بعد، بغیر کسی ملال اور بغیر ایک آنسو بہائے انہیں الگ چھوڑ دیتا ہے؟ وہی حکمران جو کبھی امریکہ کی خدمت میں زمین میں فساد پھیلاتے رہے، پھر جب ان کی جگہ کوئی زیادہ فرمانبردار اور کارآمد ایجنٹ مل جاتا ہے تو امریکہ انہیں سڑک کے کنارے پھینک دیتا ہے۔

 

اور ایسے ہی ان ایجنٹ حکمرانوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان سچا ثابت ہوتا ہے:

 

﴿فَأَذَاقَهُمُ اللَّهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

پھر اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں ہی رسوائی کا مزہ چکھا دیا، اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے، کاش کہ وہ جانتے ہوتے۔ [سورہ الزمر: 26]

 

08 شعبان 1447 ہجری

بمطابق 27 جنوری 2026 عیسوی

 

 

Last modified onاتوار, 08 فروری 2026 22:33

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.