بسم الله الرحمن الرحيم
سوال و جواب
ایران کے خلاف جنگی آپریشن
(عربی سے ترجمہ)
==================
سوال:
ٹرمپ کے بار با بدلتے ہوئے بیانات، جن میں پہلے ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا، پھر اسے 5 دن کی ڈیڈلائن میں بدلا گیا، پھر 10 دن کی مہلت اور پھر اس کا مجوزہ 15 نکاتی منصوبہ، ان سب کے کیا اثرات اور نتائج ہوں گے؟ اور پھر بیانات بدلنے کا ایک سلسلہ ہے، جن میں سے زیادہ تر ٹرمپ کی طرف سے اور کچھ ایران کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے بعد ایرانی ٹیلی ویژن کا وہ اعلان ہے کہ جس میں ایران کی جانب سے ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اور پھر ان تمام امور کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ ... کیا ٹرمپ ایران کو ایٹمی ہتھیار اور بھاری میزائل حاصل کرنے سے روکنے کے اپنے مقاصد حاصل کر لے گا، اور یوں ایران کو دوبارہ امریکہ کے مدار میں (زیرِ اثر لانے) یا اسے ایک تابع ریاست بنانے میں کامیاب ہو جائے گا، یا پھر ایران ایک خودمختار ریاست بن کر ابھرے گا؟ اور کیا یہ سچ ہے کہ ”یہودی وجود“، امریکہ کی منظوری سے جنوبی لبنان کو دریائے لیطانی تک اپنے ساتھ ملا کر اپنی ریاست کی حدود کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے، جیسا کہ یہودی وزیرِ دفاع نے ایک بیان دیا تھا؟ اور آخر مسلمان یہ کیوں نہیں سمجھ پا رہے کہ وہ اسلامی ریاست، یعنی خلافتِ راشدہ ہی ہوگی جو ٹرمپ اور اس کے پیروکاروں کو اسی طرح مٹا دے گی جس طرح خلافت نے رومی شہنشاہوں اور فارسی بادشاہوں کا خاتمہ کیا تھا، اور یوں ان کی سازشوں کو انہی پر الٹ دے گی تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو اور کفر و کافر فنا ہو جائیں؟
جواب:
مذکورہ بالا سوالات کے تینوں حصوں کے جواب کی وضاحت کے لئے ہم درج ذیل نکات کا جائزہ لیں گے :
اول : سوال کا پہلا حصہ، جو اس بات سے متعلق ہے کہ ٹرمپ کا مقصد ایران کو ایک تابع ریاست بنانا ہے، یا ایسی ریاست جسے وہ اپنے اثر و رسوخ کے مدار میں ہی رکھنا چاہتا ہے، یا پھر اسے ایک ایسی ریاست بننے دے جو خودمختار ہو کر ابھرے :
1- 28 فروری، 2026ء بروز ہفتہ کی صبح کو، امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اس نے اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کی افواج نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے ساتھ اس کا قریبی اتحادی، نیتن یاہو بھی شامل ہو گیا۔ اس اقدام سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایران بالخصوص پاسدارانِ انقلاب کے اندر سخت گیر موقف ظاہر ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے اہم ترین معاملات پر رضامندی کا مطالبہ شروع کر دیا ہے تاکہ اسے ایک ایسی ریاست میں بدل دیا جائے جو مکمل طور پر امریکہ کی تابع فرمان ہو، نہ کہ محض امریکی دائرۂ اثر کے مدار میں گردش کرنے والی ریاست ہو۔ ایرانی لیڈران کا قتل کر دیا جانا اور ایران کو امریکی مدارمیں ہی برقرار رکھنا، غالب امکان یہی ہے کہ اب ایسا ممکن ہونا نہیں۔ امریکہ نے ایران پر اس لئے جنگ نہیں کی کہ اسے اپنے دائرۂ اثر سے نکال کر ایک آزاد ریاست کی طرح چھوڑ دے، بلکہ اسے یقین تھا کہ وہ ابتدائی دھچکا دینے کے ساتھ ہی اس پر تیزی سے غالب ہو جائے گا اور اسے ایک مکمل تابع فرمان ریاست بنا دے گا۔ اس بات کا ایک ہی مطلب نکلتا ہے یعنی کہ ٹرمپ انتظامیہ، ایرانی حکومت کے اندر موجود بعض عناصر کے ساتھ مکمل رابطہ اور ہم آہنگی میں تھی، تاکہ پہلا ہی جھٹکا دئیے جانےکے فوراً بعد، یعنی اعلیٰ سطحی قیادت کے قتل ہو جانے کے بعد، فوراً اقتدار پر قابو پایا جا سکے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا! اور پاسدارانِ انقلاب اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ اسی لئے ٹرمپ اور یہودی وجود اس بات پر حیران رہ گئے کہ ایران میں حکومتی نظام متحد رہا اور وہ بھرپور شدت اور حیرت انگیز دلیری کے ساتھ میزائل اور ڈرون داغ رہے تھے۔ ایران کی جانب سے کئے جانے والے حملوں میں یہودی وجود کو اور خلیج و خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ٹرمپ نے بیان دیا کہ کچھ ایسے لوگ جن کے بارے میں اسے امید تھی کہ وہ اقتدار سنبھالیں گے، وہ نادانستہ طور پر مارے گئے ہیں! امریکہ نے یہ سمجھا کہ ایران کا یہ شدید ردعمل سپریم لیڈر کے قتل ہو جانے کے بعد بعض لیڈران کے جذباتی فیصلوں کا نتیجہ ہے، اور اس لئے امریکہ نے ایک نئے لیڈر کے تقرر ہو جانے کا انتظار کیا۔ تاہم مجتبیٰ کی اپنے والد کے جانشین کے طور پر تقرری کے بعد اور کئی ہفتے گزر جانے کے بعد، ایران میں نظام حکومت ان لوگوں کے کنٹرول میں مستحکم ہو گیا ہے جو امریکہ کے مخالف ہیں، خاص طور پر جب سے اس (امریکہ) کی جارحیت تمام حدیں عبور کر چکی تھی۔
2- ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور یہودی وجود کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ جب انہوں نے ایران کے خلاف اپنی جارحیت کا آغاز کیا تو انہوں نے جنگ کے لئے ایک مختصر عرصہ مقرر کیا تھا جس کا اندازہ چار دن لگایا گیا تھا؛ جس میں ایک بڑے اور بھرپور حملے کے ذریعے ایران کی اعلیٰ قیادت، جوہری تنصیبات، میزائل فیکٹریوں اور لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جیسے ہی حکومت کی اعلیٰ قیادت اور پہلی صفوں کے لیڈران نشانہ بنیں گے، تو دوسرے درجہ کے قائدین خود بخود ہار مان لیں گے اور ان کی شرائط مان لیں گے، جیسا کہ وینزویلا میں ہوا تھا کہ جب امریکی افواج نے اس کے صدر کو اغوا کر لیا تو نائب صدر اور ان کے ساتھیوں نے امریکہ کے سامنے سرنڈر کر دیا تھا۔ تاہم، ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور بعض دیگر اعلیٰ رہنماؤں کے قتل کے بعد ایسا نہیں ہوا۔ پاسدارانِ انقلاب ڈٹے رہے اور انہوں نے اس جارحیت کا مقابلہ کرنے اور دشمنوں پر جوابی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نتیجتاً، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک واضح دراڑ پیدا ہو گئی، حالانکہ ایران پہلے امریکہ کے مدار میں ہی گردش کر رہا تھا۔ اور امریکہ تو اسی تعلق کو تبدیل کرنا چاہتا تھا؛ ورنہ وہ یہ جارحیت شروع ہی نہ کرتا اور نہ ہی یہودی وجود کو یہ اجازت دیتا کہ وہ سپریم لیڈر سمیت ایرانی حکومت کی اہم ترین شخصیات کو قتل کر دے۔ یہ عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ کا مقصد ایرانی حکومت کی پالیسی کو ایک سیٹلائٹ ریاست (مدار میں گھومنے والی) سے بدل کر ایک مکمل تابعدار ریاست بنانا تھا، تاکہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنی شرائط منوا سکے۔ تاہم، امریکہ یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3- جو حقیقت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ امریکہ کا مقصد ایرانی حکومت کی پالیسیوں کو تبدیل کرنا تھا، اور اسے ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ اپنی اعلیٰ قیادت کی بہت سے لیڈران کی ہلاکت کے باوجود یہ حکومت اس جارحیت کے سامنے ڈٹ جائے گی اور جوابی کارروائی کرے گی، وہ امریکہ کے سیکرٹری آف ڈیفنس، 'پیٹ ہیگستھ' (Hegseth) کا 10 مارچ، 2026ء کو دیا گیا یہ بیان ہے: ”میں لازماً یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں ایسی کوئی توقع تھی کہ وہ بالکل اسی طرح کا کوئی ردعمل دیں گے“۔ اسی طرح، نیویارک ٹائمز نے 12 مارچ 2026ء کو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اور اس کے مشیر اس بات پر پُرامید رہے تھے کہ اعلیٰ قیادت کے قتل کے بعد ایسے حقیقت پسند لیڈر ابھر کر آئیں گے جو جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے، جس کا مطلب امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور اس کی شرائط کو قبول کرنا تھا! بہرحال جب فوری طور پر ہتھیار ڈالنے کی ان کی امیدیں دم توڑ گئیں، تو ٹرمپ نے اس تنازعے کو حل کرنے کے لئے دو ہفتوں اور شاید چار ہفتوں کی باتیں شروع کر دیں۔ وہ اس جنگ کو کسی بھی ایسے طریقے سے ختم کرنا چاہتا ہےکہ جس سے وہ فاتح نظر آئے، نہ کہ اسے اس طرح سے ختم کرے کہ جس میں ایسی شکست اور ذلت نظر آتی ہو جیسا کہ 2021ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے وقت امریکہ کورسوا ہونا پڑا تھا۔ ٹرمپ اس جنگ کو ختم کر دینا چاہتا ہےپیشگی اس کے کہ حالات مزید بگڑ جائیں اور ملکی سطح پر خود اس کی اور اس کی پارٹی کی ساکھ متاثر ہونے لگے، خاص طور پر اس لئے کہ جب اس موسمِ خزاں میں کانگریس کے مڈٹرم انتخابات آ رہے ہیں، اور ان انتخابات میں ناکامی 2028ء میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات پر منفی اثر ڈالے گی۔ ٹرمپ ایک ”زبانی فتح“ کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے! صدر ٹرمپ نے 11 مارچ، 2026ء کو Axios کو دیئے گئے ایک مختصر فون انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ”جلد“ ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ ”عملی طور پر نشانہ بنانے کے لئے کچھ باقی نہیں بچا“۔ اس پانچ منٹ کی کال کے دوران ٹرمپ نے کہا، ”بس مزید تھوڑا بہت ادھر ادھر... اور میں جب بھی چاہوں گا کہ یہ جنگ ختم ہو جائے، تو یہ ختم ہو جائے گی“۔ ٹرمپ ایسے بیانات دے رہا ہے جو لفظوں کا گورکھ دھندا ہیں گویا کہ وہ جیت چکا ہو۔ بہرحال اس سب سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ کی صورتحال متزلزل ہے، کیونکہ وہ فوری طور پر اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا ہے اور ہونے والے نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔
4- اس کے بعد ٹرمپ نے ڈیڈ لائنز میں توسیع کرتے ہوئے ایک نئی حکمتِ عملی کا سہارا لیا۔ 22 مارچ کو اس نے 48 گھنٹے کا حتمی الٹی میٹم دیا تھا، پھر 23 مارچ کو ”مثبت مذاکرات“ کا جواز دے کر اس الٹی میٹم کو پانچ دن تک بڑھا دیا۔ پھر 26 مارچ کو اس نے مزید دس دن کی مہلت کا اعلان کر دیا، جو 6 اپریل 2026ء تک تھی، اور اس کے ساتھ دیگر متضاد بیانات بھی دیئے۔ اس کی حکمتِ عملی ایران پر نفسیاتی اور سیاسی دباؤ ڈال کر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔ ایران کو دی جانے والی یہ مہلتیں اس فوجی تیاری کے لئے ایک آڑ بھی ہو سکتی ہیں جو امریکہ خطے میں بھیجے گا تاکہ خلیجِ فارس کے خارگ جزیرے (Kharg Island) یا ایران کے خلاف محدود زمینی کارروائی شروع کی جا سکے۔ وہ پہلے بھی سابقہ حملوں میں ایسا کر چکا ہے۔ وہ اس خطے میں نئی کمک بھیجنے کی چال چل رہا ہے، ”اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمۂ دفاع آئندہ چند روز میں مشرقِ وسطیٰ میں کم از کم 10,000 اضافی جنگی فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں...“ (MEBA نیوز، 27 مارچ، 2026ء)۔ دوسرے الفاظ میں، یہ ڈیڈ لائنز ماضی کی طرح دھوکہ دہی پر مبنی ایک چال ہیں۔
5- ٹرمپ اور اس کی تکبرانہ روش کے سامنے اب صرف وہی راستہ رہ گیا ہے جسے وہ ”طاقت کے ذریعے امن“ (Peace through strength) کہتا ہے، یعنی جنگ کی آگ میں مذاکرات۔ چنانچہ اس نے 15 نکاتی منصوبہ کا اعلان کیا جو اس نے ایران کو جنگ ختم کرنے کے لئے پاکستان کے ذریعےسے پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کی تفصیل کچھ یوں ہے: ”ایران کی جمع کردہ نیوکلئیر صلاحیتوں کا مکمل خاتمہ، آئندہ کبھی نیوکلئیر اسلحہ کی خواہش نہ کرنے کا مستقل عہد، ایران کی سرزمین پر یورینیم افزودگی بند کرنا، تمام ترافزود کردہ مواد کو ایک مختصر مدت کے اندر اندر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے حوالے کرنا، ایران کے علاقوں، نطنز، اصفہان اور فردو کی جوہری تنصیبات کو غیر فعال اور تباہ کرنا، اور ایران کے اندر تمام معلومات کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے لئے دستیاب بنانا؛ اسی طرح نیوکلئیر ایشو، ایران کے لئے اپنی ”پراکسی پاور پالیسی“ کو ترک کر دینا ہو گا، خطے میں اپنے اتحادیوں کو مالی اور عسکری حمایت بند کرنا ہوگی، آبنائے ہرمز کو سب کے لئے ایک کھلی اور آزاد بحری گزرگاہ رکھنا ہوگا، اور میزائل مسئلے کو بعد میں حل کرتے ہوئے ان کی تعداد اور رینج پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، اور اس کے علاوہ ان میزائلوں کے استعمال کو صرف ”جائز دفاع“ کی حد تک محدود کرنا ہوگا“ (ال عربی الجدید، 25 مارچ، 2026ء)۔ اس منصوبے کی شرائط سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ کا مقصد ایران کو امریکی مدار میں گردش کرتی ہوئی ایک ”سیٹلائٹ اسٹیٹ“ کی حیثیت سے ہٹا کر اسے ایک ایسی تابع فرمان ریاست میں تبدیل کرنا ہے جو امریکہ کے تمام احکامات پر من وعن عملدرآمد کرتی ہو۔ حتیٰ کہ انٹرنیشنل پریس نے بھی اس 15 نکاتی منصوبہ کو ایک ”سرنڈر“ دستاویز قرار دیا ہے، یعنی ایک ایسا معاہدہ جو ایران کو مکمل طور پر ایک غلام ریاست میں بدل دیتا ہے۔ ”تاہم، پاکستان کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کیا گیا منصوبہ، دراصل سرنڈر کر دینے کی ایک دستاویز ہی ہے“ (دوحہ انسٹی ٹیوٹ، 26 مارچ، 2026ء)۔ ٹرمپ نے 24 مارچ، 2026ء کو اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل، پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں زور دیا کہ وہ ایران کو ٹرمپ کی شرائط پر یہ معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کریں۔ تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایران نے اس منصوبے کو سرکاری ٹیلی ویژن پر مسترد کر دیا، جو اس کے اس انکار کی علامت ہے کہ وہ ایک غلام ریاست بننے سے انکار کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے خود اپنا پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا، جس میں شامل تھا کہ: ”ایرانی حکام کے خلاف قاتلانہ حملوں کا خاتمہ، نئی جنگ نہ چھِڑنے کی ضمانتیں، جنگی تاوان کی ادائیگی، دشمنی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کا اعتراف“ (یورونیوز، 25 مارچ، 2026ء)۔ اگرچہ ایران کی یہ پیشکش نیوکلئیر اسلحہ یا میزائلوں کے مسئلے کو براہِ راست حل نہیں کرتی، لیکن یہ امریکی 15 نکاتی منصوبے کی توقعات پر بھی پورا نہیں اترتی۔ یوں اس طرح مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
6- اس کے باوجود، گرچہ خفیہ طور پر ہی سہی لیکن رابطے جاری رہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے 31 مارچ، 2026ء کو الجزیرہ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ: ”جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ نہ تو براہِ راست مذاکرات ہیں اور نہ ہی کسی ثالث کے ذریعے مذاکرات۔ وہ پہلے کی طرح اب بھی امریکی نمائندے وِٹکوف (Wittkov) سے براہِ راست پیغامات وصول کر رہے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔ ایران میں کسی مخصوص فریق کے ساتھ مذاکرات کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ پیغامات وزارتِ خارجہ کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں، اور سکیورٹی اداروں کے درمیان بھی رابطے ہیں… جو قومی سلامتی کونسل کی نگرانی میں ہو رہے ہیں“۔ انہوں نے مزید کہا: ”ہم نے مذاکرات کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا اور ہمیں اس پر تحفظات ہیں۔ جنگ کے خاتمے کے لئے ہماری شرائط واضح ہیں۔ ہم جنگ بندی کو قبول نہیں کریں گے، بلکہ ہم مکمل طور پر دشمنی کے خاتمے کے خواہاں ہیں، نہ صرف ایران میں بلکہ پورے خطے میں“۔ انہوں نے یہ بھی کہا: ”ایران کی شرائط میں یہ شامل ہے کہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ دوبارہ حملے نہ کئے جائیں گے، اور معاوضہ کی صورت میں نقصانات کی تلافی کی جائے“۔ یہ بیان دوغلا پن ظاہر کرتا ہے؛ یعنی رابطے بھی موجود ہیں لیکن مذاکرات بھی نہیں ہو رہے! بہرحال، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو مذاکرات کے لئے آمادہ ہیں، اور امریکہ کسی بھی وقت جنگ روک کر مذاکرات شروع کر سکتا ہے، کیونکہ امریکہ اور ایرانی حکومت، دونوں کے درمیان بات چیت جاری ہے جیسا کہ عراقچی نے ذکر کیا ہے۔ البتہ پاسدارانِ انقلاب حکومتی عہدیداروں کے مقابلے میں زیادہ سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ وہ خلیج، اردگرد کے خطے اور مقبوضہ علاقوں میں امریکی اثاثوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور مذاکرات سے انکار کر رہے ہیں۔
7- سابقہ نکات پر غور و فکر کے بعد، سوال کے پہلے حصہ کے بارے میں نتیجہ درج ذیل ہے:
الف- پاسدارانِ انقلاب کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کو امریکی اثر و رسوخ سے آزاد کرایا جائے اور اسے دوبارہ امریکی دائرۂ اثر میں جانے سے روکا جائے، بلکہ اسے ایک خودمختار ریاست کے طور پر قائم کیا جائے: ”ایرانی پاسدارانِ انقلاب: آبنائے ہرمز میں دشمن کی کسی بھی کارروائی کا بحری افواج کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا جائے گا“ (MTV لبنان، 4 مارچ، 2026ء) ...”ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے جمعرات کو تصدیق کی کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن ذلیل ہو کر ہتھیار نہیں ڈال دیتا، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حملے مزید شدت اور وسعت کے ساتھ جاری رہیں گے“ (الایام نیوز، 2 اپریل، 2026ء) ... ”ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ اہم اسٹریٹجک آبنائے ہرمز ملک کے دشمنوں کے لئے بند رہے گی، جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ بندی پر اس وقت تک غور نہیں کریں گے جب تک اسے دوبارہ کھول نہ دیا جائے“ (اخبار الیوم، یکم اپریل، 2026ء) ... پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ٹیلیگرام چینل کے ذریعے کہا: ”آج کے بعد سے اب ہر قاتلانہ حملے کے بدلے میں ایک امریکی کمپنی کو تباہ کیا جائے گا“ (العربیہ نیٹ، یکم اپریل، 2026ء)
ب- پاسدارانِ انقلاب کے برعکس، ایران میں سرکاری حکام درمیانی کیفیت میں اور تذبذب کا شکار ہیں، اور ان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ اگر ممکن ہو تو ایران امریکی دائرۂ اثر میں ہی برقرار رہے۔ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہےکہ ایران امریکہ کی ایک تابع فرمان ریاست بن جائے، جیسا کہ خطے کے بہت سے ممالک ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو ایران میں بات چیت کے لئے مناسب افراد میسر ہیں: ”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شام کہا کہ ”ہم درحقیقت صحیح افراد سے بات کر رہے ہیں“، اور جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو امریکہ سے بات کر رہے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ”وہ اس لئے تفصیل نہیں بتانا چاہتے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان لوگوں کو قتل کر دیا جائے…“ (فرانس-24 انگلش، 23 مارچ، 2026ء) … ایک پاکستانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل نے عارضی طور پر وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو اپنے قتل کے ہدف کی فہرست سے نکال دیا ہے، جب پاکستان نے واشنگٹن سے درخواست کی کہ انہیں نشانہ نہ بنایا جائے، اور انہیں بتایا کہ ”اگر انہیں بھی ختم کر دیا گیا تو بات چیت کرنے کے لئے کوئی بھی باقی نہ رہے گا“ (الجزیرہ نیٹ عربیہ، 26 مارچ، 2026ء)
ج- جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے، تو اس جنگ میں اس کا مقصد یہ ہے کہ ایران اس کا تابع بن جائے، اس کے احکامات کی تعمیل کرے، ایران کے تیل و گیس پر اس کا کنٹرول ہو، اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور اثر و رسوخ میں اس کا بڑا حصہ شامل ہو! امریکہ اس انداز میں جنگ چاہتا ہے کہ جس سے اس کے زیادہ سے زیادہ اہداف حاصل ہو سکیں۔ وہ ایران میں توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے ذریعے کشیدگی بڑھانے کا راستہ اختیار کر سکتا ہے، چاہے ایران جواب میں خلیجی ممالک کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے اور تیل کی فی بیرل قیمت بلند ترین سطح تک پہنچ جائے۔ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلوائے بغیر اس کی ناکہ بندی کر سکتا ہے یعنی ایرانی آئل ٹینکرز کو روک کر یا پھر ان جہازوں کو روک کر جنہیں ایران نے بحیرۂ عرب سے گزرنے کی اجازت دے دی ہو۔
بہرحال ایران کو اپنی غلامی میں لے آنے کے ٹرمپ کے خواب اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک ایران کی حکومت کے اندر اس کے کارندے موجود ہیں... اور اگر ان لوگوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا، تو ٹرمپ کے خواب شرمندۂ تعبیر ہو جائیں گے۔
تاہم، اگر جنگ کی صورتحال کے باعث ان لوگوں سے وابستہ ٹرمپ کی امیدیں دم توڑ گئیں، اور پاسدارانِ انقلاب عسکری طور پر مضبوط رہے اور انہوں نے ملک میں دوبارہ اتحاد و یگانگت پیدا کر دی، تو ایران آزادی کی طرف بڑھے گا، کیونکہ یہ جنگ ایران کو امریکہ کے مدار میں رکھنے والی آخری کڑی کو بھی توڑ چکی ہوگی۔
دوئم : سوال کا دوسرا حصہ لبنان کے بارے میں ہے اور یہ کہ کیا ”یہودی وجود“ امریکہ کی منظوری سے جنوب کے علاقہ کو دریائے لیطانی تک ضم کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟
1- لبنان کے بارے میں، الجزیرہ عربی نے 26 مارچ، 2026ء کو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ: ”ایران نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی میں لبنان کو بھی لازماً شامل ہونا چاہیے“۔ 24 مارچ 2026ء کو اسرائیل کے وزیرِ دفاع، اسرائیل کاتز (Israel Katz) نے اعلان کیا کہ ان کی افواج جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کے علاقے پر کنٹرول حاصل کریں گی، اور کہا: ”بے گھر ہونے والے رہائشی اس وقت تک دریائے لیطانی کے جنوب میں واپس نہیں آئیں گے جب تک شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جاتی“۔ اس نے مزید کہا، ”اس کی افواج نے حزب اللہ کے زیرِ استعمال دریائے لیطانی پر موجود تمام پانچوں پل تباہ کر دیئے ہیں... اور وہ باقی ماندہ پلوں کو کنٹرول کریں گی اور دریائے لیطانی تک پھیلا ہوا ایک سکیورٹی زون قائم کریں گی“ (الشرق الاوسط، 24 مارچ، 2026ء)۔ 19 مارچ، 2026ء کو لبنان کے وزیرِاعظم نے CNN کو بتایا کہ انہوں نے ٹرمپ کو ایک پیغام بھیجا ہے: ”میں صدر ٹرمپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اسرائیلی فریق کے ساتھ فوری مذاکرات شروع کرنے کے لئے تیار ہیں“۔
2- لہٰذا، یہودی وجود کے بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک ایک بفر زون قائم کیا جائے گا، اور اس علاقے کو اس کے لبنانی باشندوں سے خالی کرانے کی بات کی جا رہی ہے۔ جنوب میں مزاحمت کی وجہ سے یہودی وجود کی فوج کے لئے یہ ہدف حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ مزید برآں، چونکہ یہود نے اللہ ﷻ سے تو پہلے ہی اپنا ناطہ توڑ لیا ہے اور اب ان کے پاس اگر لوگوں (مغرب، امریکہ اور مسلمانوں کے غدار حکمرانوں) کا سہارا نہ ہو تو یہ وجود لڑنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ چنانچہ اگر امریکہ کی جارحیت ختم ہو جائے، تو یہود کا وجود خود بخود ہی ختم ہو جائے گا۔
سوئم : سوال کا تیسرا حصہ خلافت سے متعلق ہے، جو کہ ایک ایسی ریاست ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی عزت ووقار کو بحال کرے گی اور کفر و کفار کو ذلیل و رسوا کر دے گی:
1- اسلامی ممالک کے حکمرانوں میں کوئی خیر باقی نہیں رہی، اس لئے یہ بعیداز قیاس ہے کہ وہ دوبارہ راہِ راست پر آ جائیں۔ اس لئے بھروسہ صرف اس امتِ مسلمہ پر ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب وہ ایک ریاست قائم کر لے اور پھر وہ سب ایک ہی ریاست میں متحد ہو جائیں جو خلافتِ راشدہ کی صورت میں ایک باشعور سیاسی قیادت کے تحت ہو، جس کا ارادہ مضبوط اور غیر متزلزل ہو۔ امت مسلمہ کے کارنامے تاریخ کے صفحات میں بھرے پڑے ہیں؛ انہوں نے چند ہی برسوں میں دو عظیم ترین سلطنتوں، فارس اور روم، کو شکست دی۔ وہ مشرق و مغرب میں اپنی فتوحات جاری رکھتے رہے یہاں تک کہ اقوام نے ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، اور بڑے بڑے عظیم لشکر بھی ان کے سامنے مغلوب ہو کر رہ گئے۔ بادشاہوں، شہنشاہوں اور حکمرانوں کے تاج ان کے قدموں میں آ گرے۔ یہی انجام امریکہ کا بھی ہوگا جو اللہ ﷻ کے اذن سے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائے گا اور اپنی فوجی چھاؤنیاں بند کرنے اور بحرِ اوقیانوس کے پار اپنی افواج کو واپس بلانے پر مجبور ہوجائے گا، جبکہ وہ شکست اور ذلت و رسوائی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یوں ٹرمپ اور اس جیسے لوگ ذلیل و خوار ہوں گے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾
”کہہ دو ان کافروں سے کہ تم ضرور مغلوب کیے جاؤ گے اور تم جہنم کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے“۔ (سورۃ آل عمران؛ 3:12)
2- یہ بات درست ہے کہ ایران خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کر رہا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ ایران نے یہودی وجود کے خلاف بھی اسی طرح کے حملے کئے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان حملوں میں کافی حد تک قوت و طاقت کا عنصر موجود ہے۔ تاہم، ایران کے حکمران اس وقت تک امریکہ کو شکست دے کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتے، جب تک کہ اللہ ﷻ کی مدد کرتے ہوئے اور اس کے احکامات نافذ کرتے ہوئے خلافت کو قائم نہ کر دیا جائے، اور یوں اللہ ﷻ کے اذن سے فتح حاصل ہو جائے گی۔ خلافت اپنے عدل و انصاف اور جہاد سے دنیا کو منور کر دے گی، اور اللہ اسے اپنی نصرت سے نوازے گا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾
”اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا“ (سورۃ محمد؛ 47:7)۔
تب خلافت امریکہ کو ایک کے بعد ایک ایسا سبق سکھائے گی کہ اس کی اصل حقیقت فاش ہو جائے گی۔ امریکہ اس وقت مسلمانوں سے ان کی اپنے علاقوں پر اور ان کے علاقوں کے اندر موجود فضائی اڈوں سے جنگ لڑ رہا ہے، اور وہ یہودی وجود پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لئے اپنے ایجنٹوں کا استعمال کر رہا ہے۔ خلافت ان ایجنٹوں کے مضبوط ٹھکانوں کو روند ڈالے گی اور انہیں ہر ممکن طریقے سے سخت شکست دے کر نکال باہر کرے گی، اور خلافت مسلمانوں کی عوام کو اپنے ساتھ شامل کر کے اپنی قوت میں اضافہ کرے گی، یہاں تک کہ وہ ایک زبردست سیلابی ریلا کی مانند بن جائے گی جو امریکہ کے ان اڈوں تک کو بہا لے جائے گا جو مسلم ممالک سے باہر ہیں۔ پھر ایک عظیم سیلاب برپا ہوگا جو اپنی راہ میں آنے والے حکمرانوں کے تخت الٹ دے گا، فلسطین کو آزاد کرائے گا اور یہودی وجود کو صفحۂ ہستی سے مٹا دے گا۔ یہودی وجود فنا ہو جائے گا اور اللہ ﷻ کے اذن سے یہ حاصل کرنا بہت آسان ہے، اگرچہ بہت سے لوگ اسے محض ایک خواب سمجھتے ہیں۔ امتِ مسلمہ ایک طاقتور اور متحرک عقیدہ رکھتی ہے جو ایک عظیم دریا کی مانند ہے، اور یہ امت امریکہ اور یہود کے خلاف ان کے شدید اور وسیع مظالم کی وجہ سے گہرا غصہ اور نفرت رکھتی ہے۔ فتح کے یہ مناظر اللہ ﷻ کے اذن سے بالکل بھی دور نہیں ہیں، جب اللہ ﷻ اپنی عظیم کامیابی عطا فرما دے گا۔ شاید اس کے بعد امتِ مسلمہ جو کچھ حاصل کرے گی اور میدانِ جنگ جو پکار پکار کر کہیں گے، وہ بیان سے بالا تر ہوگا۔ اللہ ﷻ نے اس دنیا کے لئے اپنی سنت (اٹل قانون) قائم کر رکھی ہے، جیسا کہ اللہ نےارشاد فرمایا ہے:
﴿وَكَانَ حَقّاً عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾
”اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے“ (سورۃ الروم؛ 30:47)
17 شو ال، 1447ھ
بمطابق، 04 اپریل، 2026ء