المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان
| ہجری تاریخ | 25 من رجب 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/21 |
| عیسوی تاریخ | بدھ, 14 جنوری 2026 م |
پریس ریلیز
وہ ڈھال جو رجب میں کھو گئی: وہ نقصان جس کا ہم غم مناتے ہیں اور وہ وعدہ جسے ہم تھامے ہوئے ہیں
ماہِ رجب آتا ہے تو اس کی حُرمت ہمارے دلوں میں تازہ ہوتی ہے، یہ روحانی بلندی اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا مہینہ ہے۔ مگر اسی تقدس کے اندر ایک گہرا تاریخی زخم بھی چُھپا ہے۔ کیونکہ یہ رجب کا ہی مہینہ تھا - رجب 1342ھ (1924ء) - جس میں وہ سیاسی ادارہ جو اُمت مسلمہ کی وحدت کا علمبردار تھا، یعنی خلافتِ عثمانیہ، جس کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔
یہ محض ایک سلطنت کا خاتمہ نہ تھا، بلکہ اس جُنَّة (ڈھال) کا ٹوٹ جانا تھا جو صدیوں تک عالمِ اسلام کی اجتماعی حفاظت، عزت اور وحدت کی علامت رہی۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں حکم دیتا ہے:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾
"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔" (سورۃ آلِ عمران، 3:103)
خلافت کے خاتمے سے گویا یہ رسی کاٹ دی گئی۔ مسلمانوں کے متحد سیاسی وجود کو توڑ کر کمزور، آسانی سے قابو میں آنے والی اکائیوں میں بانٹ دیا گیا - ایسے قومی ریاستی ڈھانچے جو استعماری طاقتوں نے تراشے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشن گوئی فرمائی تھی: «يُوشِكُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا» "قریب ہے کہ قومیں تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔۔۔" (سنن ابی داؤد)
یوں امت بے یار و مددگار ہو گئی؛ اس کی سرزمینوں کا قلب، اس کے وسائل، سب کُفار کے قبضے، لوٹ مار اور کنٹرول کے لیے کھلے میدان بن گئے۔
اس المناک رجب کے بعد سے سانحات کا سلسلہ تھما نہیں، اور ہر سانحہ ہماری کھوئی ہوئی ڈھال سے پیدا ہونے والے خلا کی گواہی دے رہا ہے۔ ہمارا پہلا قبلہ، مسجدِ اقصیٰ، مسلسل یہود کے قبضے میں ہے، اس کی حرمت ایک مسلط کردہ استعماری منصوبے کے ذریعے پامال کی جا رہی ہے۔ ہماری زمینوں کو چھوٹے چھوٹے متحارب ریاستی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا—ایسی سرحدیں جو ہمیں مضبوط کرنے کیلئے نہیں، بلکہ کمزور کرنے کے لیے کھینچی گئیں۔ مسلمانوں کا سرمایہ محض غیر ملکی مفادات کی تکمیل کا ایندھن بن گیا ہے، اور مسلم افواج کو اکثر اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ بوسنیا کی نسل کشی سے لے کر ’دہشت گردی‘ کے نام پر لڑی جانے والی دہائیوں کی جنگ تک، اور سب سے بڑھ کر آج غزہ میں براہِ راست دکھائی جانے والی نسل کشی - خلافت کے بغیر یہ صدی ظلم، جلاوطنی اور خونریزی کی الم ناک داستان ہے۔
قرآن کی تنبیہ ہمارے سامنے حقیقت بن چکی ہے:
﴿وَلَا تَنَـٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ﴾
"اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم میں بزدلی آ جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔" (سورۃ الانفال 8:46)
ہماری کمزوری کی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی عدم وحدت ہے۔ یہ حالت ہماری تقدیر نہیں۔ غزہ اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے گہرے دکھ کو ہمیں مایوسی میں نہیں، بلکہ اپنی اجتماعی ڈھال کو دوبارہ حاصل کرنے کی شدید تحریک میں بدلنا چاہیے۔ استعماری کفار کا ہر حملہ اس ابدی حقیقت کو دہراتا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی: «إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ۟ » "امام (خلیفہ) ایک ڈھال ہوتا ہے، جس کے پیچھے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعے حفاظت حاصل کی جاتی ہے۔" (صحیح البخاری، صحیح مسلم)
اس نبویؐ طریقے پر قائم عدل کی خلافت کے بغیر امت کی حرمتوں، اس کی دولت، اس کی سرزمین اور اس کے خون کی حقیقی حفاظت ممکن نہیں۔ ہم امید سے سرشار اور اللہ کے وعدے پر پُریقین ہیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بشارت بھی دی: « ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ » "پھر جابرانہ حکمرانی کا دور ہو گا، پھر اللہ اسے اٹھا لے گا جب وہ چاہے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت دوبارا قائم ہوگی۔۔۔" (مسند احمد)
یہی ہمارے رب کا ہم سے وعدہ ہے اور یہی ہماری سمت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾
"اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت عطا کرے گا، جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی۔۔۔" (سورۃ النور 24:55)
لہٰذا، اس رجب کو ہماری فکری بیداری کا نقطۂ آغاز بننا چاہیے۔ ہمارے غم کو بامقصد جدوجہد میں بدلنا چاہیے تاکہ ہم دین سے حاصل ہونے والی بصیرت، وحدت کے فروغ، اور خلوص کے ساتھ اس احیاء کے لیے کام کریں، جو ہمارا حق بھی ہے اور ہمارے لیے وعدہ بھی۔
ظلم کے ان دائروں سے باعزت نجات کا واحد راستہ اسی عادلانہ چھتری کا دوبارہ قیام ہے جس کے سائے میں کمزور محفوظ ہوں، عدل قائم ہو، اور امت ایک جسم بن کر کھڑی ہو۔
اس ڈھال کو دوبارہ قائم کرنا ہی ہو گا۔
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ پاکستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: https://bit.ly/3hNz70q |
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com |