المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان
| ہجری تاریخ | 24 من شـعبان 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/24 |
| عیسوی تاریخ | جمعرات, 12 فروری 2026 م |
پریس ریلیز
خلافت بلوچستان کے عوام کو اسلامی عقیدے کی بنیاد پر یکجا کرے گی، نہ کہ آج کے حکمرانوں کی مانند، طاقت اور جبر کے ذریعے!
بلوچستان میں حالیہ حملے اپنے پھیلاؤ، شدت اور دائرہ کار کے لحاظ سے پچھلے کئی دہائیوں کے شدید ترین حملے تھے، جو 29 جنوری سے علیحدگی پسندوں کی جانب سے بلوچستان کے کم از کم نو اضلاع میں بیک وقت کیے گئے، یہ حملے مختلف سیکیورٹی تنصیبات، فوجی چوکیوں، پولیس اسٹیشن، جیل، ضلع انتظامیہ کے دفاتر، بینکس سمیت مختلف ریاستی اداروں پر کیے گئے، ان حملوں اور اس کے خلاف آپریشن میں مجموعی طور پر کئی سو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب جب کہ ان حملوں اور اس کے خلاف جوابی آپریشن کو قریبا ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تو وقت آ چکا ہے کہ اس مسئلے پر ٹھنڈے دل سے غور و غوض کیا جائے۔ حزب التحریر اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے سامنے یہ تین اہم نکات رکھنا چاہتی ہے۔
اولاً: جمہوری نظام، جو اکثریت کو اقلیت پر فوقیت دیتا ہے، کے باعث سب سے کم آبادی والے صوبے بلوچستان کو دہائیوں سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ نومبر 2025 میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ڈسٹرکٹ ولنریبیلٹی انڈیکس آف پاکستان (District vulnerability index of Pakistan - DVIP) نامی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے 20 سب سے پسماندہ ضلعوں میں سے 17 اکیلے بلوچستان میں ہیں۔ حکومت کی اپنی یہ رپورٹ ان کے اپنے سیاسی پروپیگنڈے کی قلعی کھول دیتی ہے جس کے ذریعے دعوی کیا جاتا ہے کہ بلوچستان کی ترقی پر کثیر فنڈز خرچ کر کے وہاں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ دستیاب فنڈ کا بیشتر حصہ سیاسی وفاداریوں کو خریدنے اور ایک چھوٹے اشرافیہ کی کرپشن کی نظر ہو جاتا ہے۔ جبکہ بلوچستان سونے، چاندی، تانبے، تیل و گیس، آبی و دیگر وسائل کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ لیکن اسلام کے احکامات سے روگردانی کر کے ان وسائل کا فائدہ بھی بڑی بڑی کمپنیوں اور ایک چھوٹے اشرافیہ کو حاصل ہو رہا ہے۔ اسلام کی رو سے یہ تمام وسائل ملکیت عامہ ہیں اور اس کا فائدہ تمام لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ ان وسائل کو نہ تو نجکاری کے ذریعے سیٹھوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ریاست اس کی مالک ہو سکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
<<الناسُ شُرَكاءُ في ثلاثٍ: الماءِ، والكلأِ، والنارِ>>
"لوگ تین چیزوں میں برابر کے شریک ہیں: پانی، چراگاہیں اور آگ۔ (ابی داؤد، ابن ماجہ)
اسلام واحدانی نظام کے اصول پر قائم ہوتا ہے نہ کہ وفاقی بنیاد پر۔ وفاقی بنیاد سے ہر صوبہ اپنے وسائل کا مالک ہوتا ہے، جس کی خلاف ورزی کی بنیاد پر بلوچ علیحدگی پسند ہتھیار اٹھا کر ریاست سے لڑ رہے ہیں، جبکہ اسلام کی رو سے پوری ریاست میں ہر جگہ پر موجود معدنیات اور تیل و گیس کے وسائل، سمندر، دریا وغیرہ ریاست کے تمام افراد کی مشترکہ ملکیت میں شمار ہوں گے، جس سے تمام لوگوں کو یکساں فائدہ اٹھانے کا حق دیا جاتا ہے۔ پس اس بنیاد پر خیبر پختون خواہ، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور دیگر علاقوں کے ایسے وسائل اسی طرح بلوچوں کی ملکیت ہیں، جس طرح بلوچستان میں موجود وسائل دیگر شہریوں کے۔ اسلام اپنے عادلانہ نظام کی بدولت تمام علاقوں کو یکساں ترقی دے کر ان پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی احساس محرومی کا خاتمہ کرتا ہے۔ اسلام کے ان احکامات سے روگردانی کر کے بلوچستان کو علیحدگی پسندوں اور ان کے پیچھے موجود غیر ملکی استعمار کے لیے ترنوالہ بنا دیا گیا ہے۔
دوم: پاکستانی قومیت، جو وطن پرستی کی ایک شکل ہے، کی بنیاد پر بلوچ قومیت کے بیانیے کو شکست دینا ممکن نہیں۔ بلوچ مسلمانوں، بلکہ ساری مسلم دنیا کو صرف اسلامی عقیدے کی بنیاد پر ہی اکٹھا کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش اور عرب کے منتشر قبائل کو، جو نسلی، لسانی اور جاہلی عصبیت میں کسی بھی قوم سے آگے تھے، ایک اسلامی عقیدے میں پَرو کر یکجا کر دیا تھا، یہاں تک کہ سینکڑوں اقوامِ اس عقیدے کے باعث ایک ریاست خلافت میں یکجا ہو گئیں۔ بلوچ مسلمانوں کو اسلامی عقیدے سے جوڑا جا سکتا تھا، لیکن حکمرانوں نے اس بنیاد کو پس پشت ڈال دیا۔ پاکستانی قوم پرستی کی بنیاد پر بلوچ مسلمانوں کو جوڑنے میں مسلسل ناکامی نے سیکولر، فاشسٹ حکمرانوں کو جبر، طاقت اور تشدد کے راستے پر گامزن کر دیا۔ جبری گمشدگیوں، اغوا، سیاسی اراکین کو قید و بند کرنا، مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں، بلوچ سیاسی ورکروں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن نے مجموعی طور پر بلوچ مسلمانوں کو ریاست سے متنفر کر دیا ہے، حالانکہ اگر ریاست سیاسی شعور سے کام لیتی تو اسے بلوچ علیحدگی پسندوں کو تنہا (isolate) کرنا چاہیے تھا، لیکن حکمرانوں نے احساس محرومی اور ریاست کے رویے سے نالاں عام بلوچ مسلمانوں پر بھی 'ہارڈ اسٹیٹ' کی پالیسی لاگو کرکے انہیں علیحدگی پسندوں کی جانب دھکیل دیا ہے، اور علیحدگی پسندوں کے پروپیگنڈے کو کامیاب کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یوں انہوں نے معاملہ سلجھانے کے بجائے مزید بگاڑ دیا۔ جغرافیائی وطن پرستی کا نظریہ انتہائی کمزور اور ایک عارضی جذبہ ہے، جس کی حیثیت خطرے کی صورت میں ایک غیر شعوری ردعمل سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ریاست کا بلوچ سیاسی ورکروں کے ساتھ رویہ انتہائی ظالمانہ ہے، جو اسلام کی رو سے جائز نہیں۔ اسلام کی رو سے خلیفہ مسلمانوں کا مسؤل ہے، جو اسلامی احکامات کو سیاسی شعور کے ساتھ نافذ کرتا ہے، اور اپنی رعایا کے ساتھ حکمت، تدبر، نرمی اور برداشت سے کام لیتے ہوئے ان کی وفاداری کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا:
﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ ۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ﴾
"محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔"
(سورۃ الفتح:آیت 29)۔
موجودہ سیکولر سیاسی و فوجی قیادت کی پالیسیاں عملاً بلوچستان کے معاملات کو سنگین سے سنگین تر بنا رہی ہیں۔
سوم: مسلمانوں کی سرزمین کو تقسیم کرنا صریحاً حرام اور اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مؤمنین کے ساتھ غداری ہے۔ بلوچ قوم پرستی اسلامی عقیدے سے براہ راست متصادم ہے۔ اسی طرح نسلی اور لسانی بنیاد پر بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے دیگر قومیتوں کے افراد کا بہیمانہ قتل، ان پر حملے، یا صرف بلوچ لوگوں کی آبادکاری کی اجازت صریحاً حرام اور ظالمانہ اقدامات ہیں۔ ریاستی مظالم اور جابرانہ پالیسیوں پر بلوچ مسلمانوں کا غصہ بالکل بجا ہے، لیکن یہ امر بلوچ مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اسلام کے احکامات کو پس پشت ڈال کر بلوچ قوم پرستی کی پکار پر لبیک کہیں۔ بلوچ مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ حرام قوم پرستی کے نام پر اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے افضل قوم یا نسل اور دیگر مسلمانوں کو کمتر سمجھیں۔ کسی حکمران کا ظلم مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مسلمانوں کو تقسیم کر کے مزید کمزور اور کفار کے لیے ترنوالا بنا دیں۔ بلکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ظالم حکمران کا ہاتھ روکیں، برملا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کریں، اور حکمرانوں کے ظلم کے باوجود حق بات بیان کریں۔ بلوچ مسلمان عزت دار اور غیرت مند مسلمان ہیں، وہ اسلامی عقیدے کے محافظ اور علمبردار ہیں، ان کی عظیم تاریخ اور کردار ان کو اس چیز کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ ایک ایسے راستے کو اختیار کریں جسے اللہ اور اس کے رسولِ ﷺ نے جاہلیت کی پکار گردانا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے قران پاک میں فرمایا:
﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَـٰكُم مِّن ذَكَرٍۢ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَـٰكُمْ شُعُوبًۭا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾
"اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا، باخبر ہے۔" (سورۃ الحجرات،آیت 13)۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
<<مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ، يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً، فَقُتِلَ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ>>
"جو شخص اندھے (جاہلی) جھنڈے کے نیچے لڑا، قومیت یا تعصب کی طرف بلاتا رہا، یا تعصب کی حمایت میں لڑا، پھر وہ مارا گیا، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔" (صحیح مسلم)۔
اے بلوچ مسلمانو!
اپنے شرعی حقوق کیلئے اسلام کے جھنڈے تلے متحد ہو جاؤ اور ان جابر حکمرانوں کے خلاف، خلافت علیٰ منہاج النبوہ کے قیام کیلئے حزب التحریر کا ساتھ دیں۔ بلوچستان کی صورتحال ایک بار پھر ہم سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم اسلامی ریاست خلافت قائم کریں، جو دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے مسئلے کو حل کرے گی، امت کو وحدت بخشے گی، لوگوں کے حقوق پورے کرے گی، اور صرف علاقائی قوم پرستی نہیں بلکہ ان نام نہاد بین الاقوامی بارڈروں کو بھی مسمار کر کے مسلمانوں کو وحدت بخشے گی۔ یہ قوم پرستی کا ناسور ہے جس کے ذریعے کافر استعمار نے اولاّ عربوں اور ترکوں کو لڑایا، بالکان کے علاقے مسلمانوں سے کاٹے، اور پھر مسلمانوں کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ کیا یہ افغان اور پاکستانی قوم پرستی نہیں جس نے دو بھائیوں کو تقسیم کیا ہوا ہے، اور جس کو حکمران مسلسل ہوا دے رہے ہیں۔ یہ اسلامی عقیدے کی بنیاد پر قائم ہونے والی دوسری خلافت راشدہ ہی ہو گی جو اس امت کو دوبارہ وحدت بخشے گی اور تمام لوگوں کو یکساں حقوق دے گی۔
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ پاکستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: https://bit.ly/3hNz70q |
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com |