المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان
| ہجری تاریخ | 17 من رمــضان المبارك 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/35 |
| عیسوی تاریخ | جمعہ, 06 مارچ 2026 م |
پریس ریلیز
پاکستان کے حکمران اللہ ﷻ اور اس کے بندوں کے سامنے بے شرمی کی ہر حد پار کر چکے ہیں، اور ظلم و ستم کے مرتکب ہو رہے ہیں
اسلامی عقیدے کا ربط، خالص ایمان، اخوتِ اسلام اور ہمسائیگی کے شرعی حقوق، کچھ بھی اس بات کو روکنے کے لیے کافی نہ تھا کہ کم از کم یہ حکمران خاموش رہتے اور غداری سے ہی باز رہتے۔ لیکن نہیں، یہ حکمران اس سے بھی آگے بڑھ گئے، اور اپنے ہی بھائی اور پڑوسی ملک ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی ریاست کی مسلط کردہ جنگ میں ایران کے خلاف شامل ہونے کی دھمکی دینے لگے، اور اس کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کو جواز بنایا۔ ان حکمرانوں نے بڑی آسانی سے اسلامی عقیدے کے عہد اور ایمان کے رشتے کو فراموش کر دیا، جو انہیں زمین پر موجود ہر مسلمان کے ساتھ جوڑتا ہے۔ آخر کون سا عہد زیادہ مضبوط ہے؟ حرمین پر قابض حکمرانوں کے دفاع کے لیے بنائے گئے کاغذی دستاویز، یا اللہ اور رسول ﷺ سے کیا گیا عہد؟!
منگل 3 مارچ کو پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ پاکستان نے ایران کو سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی یاد دہانی کرائی ہے، تاکہ ایران کو اس بات سے روکا جا سکے کہ وہ سعودی سرزمین پر قائم امریکی فوجی اڈوں پر مزید حملے نہ کرے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا: "میں نے ایرانی فریق کو اپنے دفاعی معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا، جس پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سعودی عرب کی سرزمین استعمال نہ ہو۔"
اگرچہ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ ایران کے مسلمان، خواہ وہ سنی ہوں یا شیعہ، دنیا میں بسنے والے دو ارب مسلمانوں کے بھائی ہیں، لیکن یہ بات بھی دن بدن زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ایرانی حکمرانوں کا بھی دیگر مسلم ممالک کے حکمرانوں کی طرح اسلام اور مسلمانوں سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ہے۔ وہ نہ تو اللہ ﷻ کی شریعت کے مطابق حکومت کرتے ہیں، اور نہ ہی وہ امتِ مسلمہ کے معاملات کو اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق حل کرتے ہیں۔ بلکہ اب تو وہ اس حد تک گر چکے ہیں کہ انہوں نے کھلے عام امریکہ کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ ایرانی صدر محمد خاتمی کے نائب محمد علی ابطحی نے 2004 میں دبئی میں ایک کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اگر ایران نہ ہوتا تو امریکہ افغانستان اور عراق پر قبضہ نہ کر پاتا۔
یہ کوئی راز نہیں کہ ایرانی حکومت، جو دراصل امریکہ کی ایک ایجنٹ حکومت ہے، نے بشار الاسد کے ساتھ مل کر ان جرائم میں شرکت کی جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جاری رہے۔ ان جرائم میں بدترین مظالم شامل تھے، جن میں نہ تو عورتوں کی عزت محفوظ رہی اور نہ ہی بے گناہ مسلمانوں کا خون۔ امریکہ کو خوش کرنے، اس کے مفادات کے تحفظ اور خطے میں اس کے جرائم پیشہ حلیفوں خصوصاً عراق اور شام میں اس کی مدد کرنے کے لیے ایرانی حکومت نے جو قربانیاں دیں وہ سب رائیگاں گئیں۔ امریکہ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اس حکومت کا کردار اب ختم ہو چکا اور اسلام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والا یہ انقلاب اب اس کے کسی کام کا نہیں، بلکہ اب مذہبی رہنماؤں کی حکومت اس کے نئے منصوبے یعنی یہودی ریاست کی قیادت اور غلبے میں ایک نیا مشرقِ وسطیٰ قائم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ چنانچہ امریکہ نے اس کے رہنماؤں کو ایک ایک کر کے قتل کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے بغل بچے صہیونی ریاست، کی طرح بنیادی ڈھانچے، اسکولوں اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا، جہاں کہیں بھی حکومت کے کسی فرد کی موجودگی کا شبہ ہو۔
ایران صرف ایرانی انقلاب یا اس میں شامل حکمرانوں کا نام نہیں، جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھا مگر اس کے مطابق حکومت کبھی نہ کی، بلکہ ایران امام مسلم، امام بخاری، امام ترمذی، امام ابن ماجہ اور اسلامی تہذیب کے بے شمار جلیل القدر علما و مفکرین کی سرزمین ہے۔ ایران امت مسلمہ کی سرزمین ہے اور دنیا کے ہر مسلمان کا اس اسلامی زمین میں حصہ ہے۔ لہٰذا اس پر اور اس کے عوام پر امریکی جارحیت پوری امتِ مسلمہ پر جارحیت ہے۔ پوری امت کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ مسلمانوں کی اس سرزمین ایران اور اس کے عوام، جو امت کے علما اور اکابرین کی اولاد ہیں، کا دفاع کیا جا سکے۔ کسی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ "امریکہ کو اس ملک کو اس کے بدعنوان حکمرانوں سے نجات دلانے دو،" کیونکہ امت کو اپنے کانٹے خود نکالنے چاہئیں، نہ کہ اپنے دشمن کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ ایک کانٹا نکال کر اس کی جگہ ہزاروں اور زیادہ گہرے اور زہریلے کانٹے گاڑ دے۔
پاکستان کے سیاسی اور عسکری قائدین نہ اللہ رب العزت کے سامنے شرم محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے بندوں کے سامنے۔ اپنے بھائیوں اور ہمسایوں کی مدد کو دوڑنے کے بجائے انہوں نے انہیں تنہا چھوڑ دیا۔ انہوں نے غزہ میں اپنے بھائیوں اور خاندانوں کی مدد کرنے کے بجائے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر امریکہ کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے بجائے اپنی غلامی کو مزید گہرا کر لیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید اس طرح امریکہ کو خوش کر کے وہ اپنی کمزور تخت نشینی برقرار رکھ سکیں گے۔ ان حکمرانوں نے اس بات سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا، جو ماضی میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں اور حامیوں کے ساتھ ایران، شام، عراق اور دیگر مقامات پر کیا۔
خاموشی پر اکتفا کرنے کے بجائے پاکستان کے سیاسی اور فوجی قائدین یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ وہ فخر سے اعلان کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ کی جنگ میں شامل ہوں گے، جیسے اس سے پہلے وہ امریکہ کی نام نہاد "دہشت گردی کے خلاف جنگ" میں شامل ہوئے تھے۔ یہ حکمران توابو جہل اور ہسپانوی صلیبیوں کے مجرمانہ رویوں سے بھی بدتر مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں! ان پر رسول اللہ ﷺ کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں:
«إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»
"لوگوں نے پچھلے انبیاء کی تعلیمات میں سے جو باتیں پائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تم میں شرم نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو۔" (البخاری)
اے پاکستان کے مسلمانو! اے پاکستان کے مخلص افسران!
اب ان بے شرم، گھٹیا حکمرانوں کے بارے میں خاموش رہنے کا کوئی عذر باقی نہیں رہا، جو تم پر حکومت کر رہے ہیں۔ ہر دیکھنے والی آنکھ اور سمجھنے والا ذہن جان چکا ہے کہ یہی حکمران تمام برائیوں کی جڑ اور تمام بیماریوں کا سرچشمہ ہیں، اور انہیں ہٹانا سب سے بڑی شرعی ذمہ داری ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کافر مغربی استعمار کی غلامی سے آزاد ہو جاؤ گے اور اپنے معاملات خود سنبھال سکو گے۔ لہٰذا حزب التحریر کو نصرہ فراہم کرنے میں مدد کرو، یہاں تک کہ تم نبوت کے طریقے پر قائم ہونے والی خلافتِ راشدہ کو دوبارہ قائم کر دو۔ اسی کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کر سکتے ہو اور خود کو اور اپنی امت کو آزاد کرا سکتے ہو۔ ورنہ تمہاری ناکامیاں، ذلت اور خسارے بڑھتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ تم پستی کی آخری حد تک پہنچ جاؤ گے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾
"اے ایمان والو! اللہ اور رسول ﷺ کی اُس پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتی ہے۔ اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔" [سورۃ الأنفال: 24]
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ پاکستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: https://bit.ly/3hNz70q |
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com |