المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان
| ہجری تاریخ | 21 من شوال 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/36 |
| عیسوی تاریخ | بدھ, 08 اپریل 2026 م |
پریس ریلیز
پاکستان کے حکمرانوں نے امت سے غداری کے تسلسل میں ایران-امریکہ جنگ میں شکست خوردہ امریکہ کو یقینی شکست سے بچا لیا
7 اپریل کی شام امریکی فرعون ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا، "پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کی بنیاد پر، جنہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کی طرف بھیجی جانے والی تباہ کن کارروائی کو روک دوں، اور اس شرط پر کہ اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو، میں ایران کے خلاف بمباری اور حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر رضامند ہوں۔" اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، "سفارت کاری کو اپنا عمل جاری رکھنے کا موقع دینے کے لیے، میں صدر ٹرمپ سے پرخلوص درخواست کرتا ہوں کہ وہ (الٹی میٹم کی) مہلت میں دو ہفتوں کی توسیع کریں۔ پاکستان پوری سنجیدگی کے ساتھ ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ خیرسگالی کے طور پر اسی مدت یعنی دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔" جس کے بعد شہباز شریف نے 15 دن کے سیز فائر معاہدے کا اعلان کیا اور دونوں ممالک کی قیادت کو جمعہ 10 اپریل، 2026 کو مکمل معاہدے سے متعلق مذاکرات کرنے کیلئے اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔ پاکستان کے حکمرانوں کا یہ غدارانہ طرزِ عمل اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کی شکست کے ابتدائی آثار اس جنگ میں ظاہر ہوئے جو اس نے اور اس کے زیرِ سایہ یہودی ریاست نے امام مسلم اور بخاری کی سرزمین کے خلاف چھیڑی ہوئی ہے۔ رائٹرز نے 6 اپریل 2026 کو رپورٹ کیا کہ، "پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، "پوری رات" امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔" جس طرح پاکستان کے حکمرانوں نے افغانستان سے امریکہ کے باعزت انخلا کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا، تاکہ وہ اپنی فوجی شکست کے باوجود سیاسی طور پر کامیاب نظر آئے، اسی طرح اب یہ حکمران ایران کے معاملے میں بھی امریکہ کے لیے یہی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاکہ امریکہ وہ کامیابی حاصل کر سکے جو وہ میدانِ جنگ میں حاصل نہ کر سکا۔
اپنے قیام کے بعد سے کئی دہائیاں بیت گئیں کہ پاکستان کے حکمران مسلسل کافر استعماری طاقتوں کے مفادات کی خدمت اور سہولت کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی امت کی نشاۃِ ثانیہ یا اس کے کسی حقیقی مفاد کی خدمت کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ 1980 کی دہائی کے اوائل میں، پاکستان کے حکمرانوں نے ملک کی فوجی اور انسانی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے، لوگوں کے ایمان، اسلامی جذبات اور جہاد سے محبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، افغان سرزمین پر دو سپر پاورز کے درمیان جنگ میں مغربی کیمپ کی حمایت کی، کہ جس کی قیادت امریکہ کر رہا تھا۔ اس کے نتیجے میں خطے کے مسلمانوں کو سوویت یونین کو شکست دینے کا موقع ملا اور افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ کی راہ ہموار ہوئی۔
پاکستان کے حکمرانوں نے امریکہ کے ساتھ اس کے صلیبی اتحاد میں اور اسلام کے خلاف اس کی جنگ میں تعاون جاری رکھا، جسے "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کہا گیا، جس کے دوران امریکہ افغانستان پر قبضہ کرنے اور کابل میں ایک ایجنٹ حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ حتیٰ کہ جب امریکہ افغانستان سے نکلا، تو وہ بھی اس وقت نکلا جب پاکستان کے حکمرانوں نے طالبان کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے جال میں پھنسا کر امریکی انخلا کے لیے ایسا معاہدہ کیا، جس نے امریکی مفادات کی حفاظت کو یقینی بنایا اور خطے میں ان کے تسلسل کی ضمانت دی، جبکہ ساتھ ہی ساتھ افغانستان میں شریعت کے مکمل نفاذ کو بھی روکا گیا۔
پاکستان کے ایجنٹ حکمران، مصر اور ترکی کے حکمرانوں کی طرح، امریکہ کی بالادستی اور مسلم دنیا پر اس کے تسلط کو بچانے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔ وہ باہم مل کر اپنے اقدامات کو ہم آہنگ کرتے ہیں، اپنے امریکی آقا کو خدمات پیش کرتے ہیں اور ٹرمپ کے مسلط کردہ منصوبوں کو ایسے پیش کرتے ہیں جیسے وہ ان کے اپنے ہوں۔ ان حکمرانوں کا اسلام یا امتِ مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر ان میں ایمان یا اسلام کے دفاع کا کوئی جذبہ ہوتا، تو وہ فلسطین کی بابرکت سرزمین میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حرمتوں کی پامالی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے، جو مجرم یہودی ریاست کے ہاتھوں ہو رہی ہے۔ خصوصاً جب یہ سرزمین پاکستان کے بیلسٹک میزائلوں کی زد میں ہے، جو ایٹمی وارہیڈز سے لیس ہیں۔ پاکستان کا ایک ہی میزائل یہودی ریاست کو تباہ کرنے اور اس بابرکت سرزمین کو آزاد کروانے کے لیے کافی ہے! کہاں ہیں یہ حکمران اور ان کے فوجی اعزازات، جب اسلام کے پہلے قبلہ اور تین مقدس مساجد میں سے تیسری مسجد ایک ماہ سے زائد عرصے سے بند ہے؟ کہاں ہیں ایمان، ہمسائیگی اور رشتہ داری کے ان بندھنوں کی حمایت میں حرکت کرنے کا جذبہ، جو ان کا امام مسلم، بخاری اور ترمذی کے وارثوں کے ساتھ ہے؟ یہ حکمران کافروں کے اتحادی ہیں، ان کی حفاظت اور خدمت کرتے ہیں، نہ کہ مسلمانوں کے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿المُنَافِقُونَ وَالمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُم مِّن بَعْضٍ، يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ، نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ، إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾
"منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک جیسے ہیں۔ وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ بے شک منافق ہی نافرمان ہیں۔" [سورۃ التوبہ: 67]
اے پاکستان کے مسلمانو! اے پاکستان آرمی کے مخلص افراد!
تم اسلام کے لوگ ہو، طاقت اور دفاع کے حامل ہو۔ تم وہ لوگ ہو جنہوں نے اس خطے میں روسیوں اور برطانویوں کو شکست دی، اور تم وہی ہو جو آج امریکہ کو شکست دے سکتے ہو، تم نے دیکھ لیا ہے کہ صرف ایک مسلم قوت بھی اس قابل ہے کہ محض قومی مفاد میں امریکہ کو ناکوں چنے چبوا سکے، اس کی ناجائز اولاد یہودی وجود کا حشر نشر کر سکے، اور پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال کر سکے، تو اس وقت کیا عالم ہو گا جب خلافت کے زیر سایہ متحدہ مسلم قوت امریکہ کا مقابلہ کرے، دنیا کے اہم ترین بحری گذرگاہوں کو کنٹرول کرے، اور یہودی وجود کا پتا کاٹ کر رکھ دیں۔ جب یورپ کے ممالک فرداً فرداً تیل کی سپلائی کیلئے تمہاری شرائط مانیں گے، اور مسلم دنیا میں تجارت کے لائسنس کیلئے ہماری شرائط پر معاہدے کریں گے۔ امریکی اقتدار کا سورج آج ہی غروب ہو جائے اگر تم اِن ایجنٹ مسلم قیادتوں کو ہٹا دو، جو امریکہ کی اصل طاقت ہیں۔ تمہارے درمیان حزب التحریر موجود ہے، جو خلافت کے منصوبے کی علمبردار ہے، جو تمام مسلم ممالک کو خلافت کے پرچم تلے متحد کر سکتی ہے، اور امت کی افواج اور وسائل کو یکجا کر سکتی ہے، یہاں تک کہ امت دنیا میں ایک غالب سپر پاور بن جائے، نہ کہ صرف مسلم دنیا میں۔ اے مسلمانو! اپنے بیٹوں کو، جو مجاہد پاکستان آرمی میں ہیں، پکارو کہ وہ حزب التحریر کو اپنی فوجی مدد (نُصرۃ) فراہم کریں، تاکہ تم دنیا میں مطلوبہ کامیابی اور آخرت میں سرخروئی حاصل کر سکو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾
"اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں قدموں کو مضبوط جما دے گا۔" [سورۃ محمد: 7]
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ پاکستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: https://bit.ly/3hNz70q |
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com |