Logo
Print this page

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    17 من ذي القعدة 1447هـ شمارہ نمبر: 1447
عیسوی تاریخ     پیر, 04 مئی 2026 م

پریس ریلیز

 

عالمی صمود فلوٹیلا (کشتیوں کے بیڑے) پر یہودی وجود کے حملہ کے بعد لازم ہے کہ مسلمانوں کی جدوجہد درست سمت میں ہوجائے!

 

(عربی سے ترجمہ)

 

یہودی وجود کی مسلح افواج نے ”گلوبل صمود فلوٹیلا“ پر حملہ کر دیا اور عالمی سمندری علاقوں میں غزہ کی جانب انسانی ہمدردی کے نام پر رواں دواں اس فلاحی وامدادی  چھوٹے کشتیوں کے بیڑے میں 20 سے زائد کشتیاں قبضے میں لے لیں اور ان میں سوار 175 اراکین کو گرفتار کر لیا، یہ نام نہاد ”گلوبل صمود فلوٹیلا“ محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی کے مظلومین کے لئے امدادی سامان لے کر جا رہا تھا۔ یہودی وجود کے اس حملہ میں 31 کے قریب امدادی اراکین زخمی ہو گئے۔ فلوٹیلا انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، زخمی اراکین میں مختلف ممالک کے لوگ شامل ہیں، جن میں 4 ارکان نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے تعلق رکھتے ہیں، 03 کا تعلق اٹلی اور امریکہ سے ہے، جبکہ کینیڈا، نیدرلینڈ، اسپین، برطانیہ، کولمبیا اور جرمنی میں ہر ملک سے دو ارکان شامل ہیں، اور ان کے علاوہ ہنگری، یوکرائن، فرانس، پولینڈ اور پرتگال سے بھی ارکان زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب یہودی وجود کے وزیرِ اعظم، نیتن یاہو نے اپنی طرف سے فاخرانہ طور پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس کی افواج نے محصور غزہ کی پٹی کی جانب رخ کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو کامیابی سے روک دیا ہے، نیز نیتن یاہو نے اپنی بڑائی ظاہر کرتے ہوئےتکبرانہ انداز میں مزید کہا کہ یہ آپریشن خود اس کے براہ راست احکامات کے تحت انجام دیا گیا۔ اس نے اپنے بیان کا اختتام ان طنزیہ جملوں کے ساتھ کیا کہ ”انہیں غزہ دیکھنا ہے، تو صرف یوٹیوب پر ہی دیکھنے کو ملے گا“۔

 

یہودی وجود کا یہ تکبر جو کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے اور وہ نہ تو کسی کوخاطر میں لاتا ہے اور نہ ہی اسے کسی بھی قسم کے جوابی ردعمل کا کوئی ڈر ہے، اسی غرور آمیز رویہ نے یہودی وجود کو یہ جرأت دی ہے کہ وہ ایک امن پسند رفاحی و فلاحی امداد کی شہری تنظیم پر بھی حملہ کر ڈالیں حالانکہ اس تنظیم سے تو کسی کو کوئی خطرہ بھی نہیں اور وہ تو غزہ کے مظلومین کے لئے فقط ایک یکجہتی کے پیغام کے سوا اور کچھ بھی نہ لے کر جا رہے تھے۔

 

اگرچہ یہودی وجود کو بہت اچھی طرح سے یہ معلوم ہے کہ یہ نام نہاد فلاحی تنظیم نہ تو غزہ سے محاصرہ ختم کر سکتی ہے اور نہ ہی یہ جنگ کو روک سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی یہودی وجود نے نہ تو کسی بھی قسم کے عالمی قانون اور مروجہ اصولوں کی کوئی پرواہ کی اور نہ ہی اس فلاحی بیڑے کے ارکان کی قومیتو ں کا کوئی لحاظ رکھا اور دور عالمی پانیوں کے اندر جاکر کشتیوں کے اس بیڑے پر حملہ کر دیا۔ گویا صاف گوئی سے یوں کہا جائے تو یہودی وجود کھلم کھلا یہ اعلان کر رہا ہے کہ وہ جو چاہے گا وہ کرے گا، اسے نہ تو کسی کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی اسے کسی کا کوئی ڈر یا خوف ہے،  اور یقیناً ایسا اس لئے ہے کہ یہودی وجود کو امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کی مکمل آشیرباد حاصل ہے، اس کی رعونت بھی امریکہ کی ہی مرہون منت ہے اور وہ مدد بھی اسی سے ہی لیتا ہے۔

 

اور یہ حقیقت دوبارہ ہماری توجہ اس پر مبذول کراتی ہے کہ غزہ میں ان حالات کی اصل وجہ کیاہے اور آخر وہ کونسا حقیقی حل ہے جو کہ ان استعماری طاقتوں کی بساط انہی پر پلٹ سکتا ہے۔

 

تو اصل وجہ یہ ہے کہ اگر مسلمان حکمرانوں کی جانب سے دغا نہ کی جاتی اور مسلمان افواج کی جانب سے لاپرواہی اور کوتاہی نہ ہوتی کہ وہ غزہ کے لئے اور پورے کے پورے فلسطین کے لئے اپنے شرعی فریضہ کو ادا کرتے تو آج غزہ اور اس کے مسلمانوں کی صورتحال اس نہج پر کبھی بھی نہ پہنچ سکتی تھی ۔ انہی حکمرانوں نے یہود کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ وہ غزہ اور اس کے نہتے و معصوم عوام پر دو سال سے ایک سفاکانہ بربریت کا بازار گرم رکھیں ، اور اسی لئے یہود کے ظلم و جارحیت کو روکنا تو دور کی بات، غزہ کے مظلومین کی کسی بھی قسم کی مدد یا حمایت کے بغیر یہ جنگ مسلسل جاری ہے۔ حالانکہ اللہ ﷻ نے واضح فرما دیا ہے کہ،

 

﴿وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ  النَّصْرُ

 

”اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں، تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے“ ]الانفال؛ 8:72[۔

 

 

یہی وجہ ہے کہ یہودی وجود کو اس قدر شہہ مل گئی ہے کہ وہ یہ گمان کرنے لگ گیا ہے کہ نہ تو اسے کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت کر سکتا ہے ! بہرحال صورتحال اس کے علاوہ ہو بھی کیا سکتی تھی، جبکہ یہودی وجود نے دیکھ لیا کہ مسلمان افواج بے حس و حرکت اپنی بیرکوں میں ہی پڑی ہوئی ہیں اور اس کے مقابل اٹھ کھڑے ہونے کو دور تلک کوئی بھی نہیں؟ یہودی وجود نے مسلمان حکمرانوں سے اگر کچھ دیکھا بھی ہے تو وہ قبر کے مردوں جیسی خاموشی ہی ہے، یا پھر محض یہ کہ میڈیا پلیٹ فارم پر کبھی کبھار کوئی مذمتی بیان دے ڈالا ! جبکہ پس پردہ تو یہ حکمران، بلکہ بعض تو ایسے ہیں کہ کھلم کھلا بھی یہودی وجود کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ غزہ پر اپنی گرفت جاری رکھ سکے،  یہی حکمران اس یہودی وجود کی سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں اور اس وجود کی بقا کے لئے اور اسے پھلنے پھولنے کے لئے ہر ممکن ذرائع فراہم کرتے رہتے ہیں۔

 

اور جہاں تک مغرب کے حکمرانوں کا تعلق ہے، تو وہ یا تو یہودی وجود کے ساتھ اس جنگ اور جرائم میں مکمل طور پر شریک ہیں اور یا پھر اس معاملے سے الگ تھلگ بنے بیٹھے ہیں اور ان کی آنکھوں کے عین سامنے جو کچھ رونما ہو رہا ہے اس سے سردمہری روا رکھے ہوئے ہیں۔ اور ان میں سے اگر کچھ خود کو قدرے بہتر گردانتے ہیں تو وہ وہ ہیں جو اس جنگ کو مسترد کرتے ہیں اور محض تھوڑی سی مذمت ہی کر لیتے ہیں، جیسا کہ مسلمانوں کے چند حکمران بھی صرف یہی کام کرتے ہیں۔

 

یہود اور ٹرمپ کے امریکہ کی طرف سے برپاکردہ اس تمام صورتحال کا پانسہ پلٹنے کا صرف ایک ہی واحد طریقہ یہ ہے کہ مسلمان افواج کو اس عزم کے ساتھ حرکت میں لایا جائے کہ وہ فلسطین کو آزاد کروائیں اور اس کے مسلمانوں کی مدد کریں۔ یہ معاملہ اس کے علاوہ اور کسی بھی طرح سے حل نہ ہو پائے گا کہ افواج میدانِ جنگ میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیں اور اسے فنا کر ڈالیں۔ نہ تو کسی قسم کے یہ نام نہاد عالمی فورمز، نہ ہی سفارتی کاوشیں،  نہ ہی یہ سیاسی کاروائیاں، ااور نہ ہی یہ انسانی ہمدردی اور یک جہتی کے اقدامات کسی ایسے ظالم وسفاک دشمن کو اس کی جارحیت سے باز رکھ سکتے ہیں جس کی شیطانیت اور خباثت انتہا کے درجے تک جا پہنچی ہو۔ اس پیش کردہ حل، یعنی کہ شرعی فریضہ کی ادائیگی کے لئے مسلمان افواج کو فوری حرکت میں لایا جائے، اس حل کے علاوہ کوئی بھی اور اقدام ایک تو صرف وقت کا ضیاع ہے، اور دوسرا اس بات سے توجہ ہٹانا ہے کہ یہود کے لیڈران کے گھمنڈ اور فرعونیت کو لگام دی جائے، اور ان کی ریاست کے اس شر وفساد کا خاتمہ کیا جائے۔

 

حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس

 

 

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
http://www.hizbuttahrir.today
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizbuttahrir.today

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.