Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

رفح کراسنگ کا کھولا جانا اور مغربی کنارے کے مکینوں پر عائد پابندیوں میں سختی کا بنیادی مقصد ارضِ مقدس فلسطین کے باشندوں کی جبری بے دخلی ہے

 

 

(عربی سے ترجمہ)

 

 

خبر۔ یہودی وجود اور حماس کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد، اور زندہ اسرائیلی قیدیوں سمیت ہلاک شدگان کی باقیات کی واپسی کو قریباً اسی (80) روز بیت جانے کے باوجود، جس میں اب بھی ایک لاش کی تلاش جاری ہے، کچھ خبر رساں ذرائع یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ "حالیہ ایام میں رفح بارڈر کراسنگ کو کھولنے کے لیے امریکی دباؤ مسلسل جاری رہا ہے،" جو کہ امریکہ میں یہودی وزیر اعظم کی  ملاقاتوں سے ہم آہنگ ہے۔ ان ذرائع کے مطابق، یہودی وجود، نیتن یاہو کے دورے کے بعد جس دوران اس نے گزشتہ پیر، 29 دسمبر 2025 کو ٹرمپ سے ملاقات کی تھی،  دونوں جانب سے کراسنگ کھولنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ (الجزیرہ عربی) ترمیم شدہ۔

 

 

تبصرہ۔ میڈیا کی تمام تر توجہ محض اس بحث پر مرکوز ہے کہ رفح کراسنگ کا انتظام کون سنبھالے گا اور اس کی بحالی کا طریقہ کار کیا ہوگا، تاہم  ان حالات میں کراسنگ کھولنے کے مضمرات پر جان بوجھ کر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔ لہٰذا، کراسنگ کھولنے کی اہمیت کا جائزہ لینا ضروری ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:۔

 

 

1.       یہ حقیقت اب سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ اور یہودی وجود نہ تو کسی وقار کے حامل ہیں اور نہ ہی دیانت کے۔ اس معاہدے کے بارے میں، جس کا نام اس کے خالق ٹرمپ کے نام پر رکھا گیا ہے، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ مسیلمہ کذاب سے بھی بدتر ہے،ے، اور یہی حال ان مغربی حکمرانوں سمیت مسلم دنیا کے ان کٹھ پتلی حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کا ہے جو اس کے حلیف بنے ہوئے ہیں۔ ان میں وہ کمزور ترین مسلم حکمران بھی شامل ہیں جنہیں اس معاہدے کے نفاذ کا ضامن بنایا گیا تھا؛ جن میں ترکی کا منافق، پاکستان کا کٹھ پتلی، مصر کا فرعون، اور انڈونیشیا کا بے بس حکمران و دیگر شامل ہیں۔ معاہدے پر دستخط ہوئے لگ بھگ تین ماہ بیت چکے ہیں، لیکن ٹرمپ اور اس کے زیرِ اثر یہودی وجود نے اس کی ایک بھی شق پر عمل نہیں کیا، حالانکہ یہ معاہدہ سر تا پا ناانصافی پر مبنی تھا۔ یہودی وجود کی جانب سے گزشتہ دو برسوں سے جاری قتل و غارت گری بند نہیں ہوئی، غزہ اور مغربی کنارے سے خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت مسلمان قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا، اور غزہ کی پٹی میں امدادی سامان، خیموں اور دیگر انسانی ضرورت کی اشیاء کی فراہمی بھی تعطل کا شکار ہے۔

 

 

2.       یہودی وجود اور ٹرمپ کی جانب سے عہد شکنی دراصل ایک دانستہ اقدام ہے، جس کا مقصد اہلِ غزہ کے مصائب و آلام کو طویل سے طویل تر کرنا ہے۔ اگر کراسنگ کھولی جاتی ہے، تو کثیر تعداد میں لوگ غزہ کی پٹی سے ہجرت کر جائیں گے؛  اپنی مزاحمت سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی جانب جانے کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ کی پٹی اب رہائش کے قابل نہیں رہی۔ اگر امریکہ اور یہودی وجود نے مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے عزم کے باوجود پہلے مرحلے میں تین ماہ کی تاخیر کی ہے، تو وہ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں کتنی تاخیر کریں گے، جہاں غزہ کی ازسرِ نو تعمیر ہونی ہے؟ تعمیراتی مواد کی ترسیل میں تاخیر اور پابندیوں کی اس پالیسی کے باعث غزہ کو دوبارہ بسانے اور اسے رہنے کے قابل بنانے میں کتنا وقت لگےگا؟ درحقیقت تعمیراتی مواد کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اہل ِ غزہ سے انتقام لینے اور انہیں رضاکارانہ ہجرت پر مجبور کرنے کا ایک حربہ ہے۔

 

 

3.       اگرچہ یہودی ریاست اور اس کی کٹھ پتلی فلسطینی اتھارٹی (PA) نے مغربی کنارے کے لوگوں سے دفاع و مزاحمت کے تمام وسائل چھین لیے ہیں، اور وہ اس حد تک گر چکے ہیں کہ جو کوئی بھی آزادی اور مزاحمت کی بات کرتا ہے، اسے "اشتعال انگیزی" کے الزام میں یہودی یا فلسطینی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن مغربی کنارے میں گزشتہ دو سالوں سے جاری سیکورٹی آپریشنز کا کوئی حقیقی جواز موجود نہیں ہے۔ اس کے برعکس، قتل و غارت، گھروں کی مسماری، شہروں اور دیہاتوں پر روزانہ کے چھاپے، اور فلسطینی محنت کشوں کو "گرین لائن" میں داخلے سے روکنا،جو کہ مغربی کنارے کی معیشت کی شہ رگ ہے، ان سب کا واحد مقصد غزہ کی طرح یہاں کے لوگوں کو بھی ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔ توقع یہ کی جا رہی ہے کہ جو لوگ پیچھے رہ جائیں گے، وہ یہودی وجود کی جانب سے مسلط کردہ تبدیلیوں کے آگے سرنگوں ہو جائیں گے: جن میں زمینوں پر غاصبانہ قبضہ، بستیوں کی غیر قانونی تعمیر، اور مکمل ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے والے جابرانہ اقدامات شامل ہیں؛ اور یہ سب کچھ مغربی کنارے میں یہودی وجود کے سیکورٹی دستے، یعنی فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔

 

 

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگرچہ ارضِ مقدس فلسطین کے باشندوں کا اجر ان کی ثابت قدمی، صبر اور اپنی مٹی سے وابستگی کی بدولت نہایت عظیم ہے کیونکہ وہ یہودیوں اور ان کے حلیفوں کے ہر ظلم کو سہہ رہے ہیں، تاہم کسی ایسے شخص کو ملامت کرنا جائز نہیں جو اپنے اہل خانہ کے تحفظ کی خاطر پڑوسی مسلم ممالک کی طرف ہجرت کرتا ہے۔ یہ میدانِ جنگ سے فرار نہیں ہے، اللہ نہ کرے، بلکہ یہ اللہ کے ایک فیصلے سے دوسرے فیصلے کی طرف جانا ہے۔ فلسطین کے ستم رسیدہ لوگوں پر ان کی سکت سے زیادہ بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہے۔

 

 

صرف وہ لوگ ملامت کے مستحق ہیں اور جن پر صبح و شام ملامت کی جانی چاہیے، اور وہ سرحدوں پر اور ان کے پیچھے تعینات مسلم افواج ہیں۔ مظلوموں کی نصرت، انہیں اپنی زمین پر بااختیار بنانے، دشمن سے انتقام لینے اور ارضِ مقدس فلسطین کو واگزار کرانے کی شرعی ذمہ داری ان مسلم فوجی افسران کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے جن کے پاس تمغے اور عہدے ہیں۔ ان کی بزدلی اور کمزوری کا یہ تسلسل اب ختم ہونا چاہیے۔

 

)يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ(

 

"اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم زمین سے چمٹ کر رہ جاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ حالانکہ دنیا کی زندگی کا فائدہ آخرت کے مقابلے میں نہایت قلیل ہے"۔ [ سورہ التوبہ: 38]

 

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو براڈکاسٹ کے لیےتحریر کردہ

 

بلال المہاجر ، ولایہ پاکستان کی تحریر

 

 

ہجری تاریخ :15 من رجب 1447هـ
عیسوی تاریخ : اتوار, 04 جنوری 2026م

حزب التحرير

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.