بسم الله الرحمن الرحيم
ٹرمپ کے "بورڈ آف وار اینڈ آکوپیشن" کے ماتحت غزہ میں مسلمان فوجیوں کے بھیجنے کو مسترد کر دیں
خبر:
16 جنوری 2026 کو وائٹ ہاؤس نے ایک پریس ریلیز جاری کی، جس کا عنوان تھا: "غزہ تنازعے کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے پر بیان" اس میں کہا گیا: "صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں بورڈ آف پیس کے وژن کو عملی شکل دینے کے لیے ایک بانی ایگزیکٹو بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، جو سفارت کاری، ترقی، انفراسٹرکچر اور معاشی حکمتِ عملی کے شعبوں میں تجربہ رکھنے والے رہنماؤں پر مشتمل ہے۔ مقرر کیے گئے اراکین یہ ہیں: اسٹیو وِٹکوف، جیرڈ کشنر، وزیر ہاکان فیدان، علی الثوادی، جنرل حسن رشاد، سر ٹونی بلیئر، مارک روون، وزیر ریِم الہاشمی، نکولے ملاڈینوف، یاکیر گابے، اور سِگرِڈ کاگ"۔ اس میں مزید کہا گیا: "سیکیورٹی قائم کرنے، امن کو برقرار رکھنے، اور دہشت گردی سے پاک ایک پائیدار ماحول قائم کرنے کے لیے، میجر جنرل جیسپر جیفرز کو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جہاں وہ سیکیورٹی آپریشنز کی قیادت کریں گے، مکمل غیر عسکری کیے جانے کی حمایت کریں گے، اور انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے سامان کی محفوظ ترسیل کو ممکن بنائیں گے۔" (whitehouse.gov)
تبصرہ:
ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت ایک "بورڈ آف وار اینڈ آکیوپیشن" ہے۔ اس کے شواہد خود اس کے ارکان کے بیانات میں موجود ہیں، جو کھلے عام فلسطین پر مسلمانوں کی کسی بھی اتھارٹی کو مسترد کرتے ہیں، جبکہ قابض یہودی وجود کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ 15 فروری 2024 کو ہارورڈ یونیورسٹی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے فلسطینی ریاست کی تجویز کو "انتہائی بُرا خیال" قرار دیا، جو اس کے بقول "دہشت گردی کے ایک عمل کو انعام دینے کے مترادف ہو گا"۔ جہاں تک ٹونی بلیئر کا تعلق ہے، جو اسلام کے خلاف جنگ کے اہم معماروں میں سے ایک ہے، تو اس نے 29 ستمبر 2025 کو کہا: "صدر ٹرمپ نے ایک جرات مندانہ اور ذہین منصوبہ پیش کیا ہے... جو اسرائیل کی مکمل اور دیرپا سلامتی کو یقینی بنائے گا۔"
جہاں تک ٹرمپ کی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کا تعلق ہے، تو وہ قبضہ کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے مسلمانوں کا خون بہانے اور شہری ہلاکتوں کو کولیٹرل ڈیمیج کے طور پر چھپانے میں مہارت رکھنے والا افسر ہے۔ اپنے طویل اور سفاک کیریئر میں، میجر جنرل جیسپر جیفرز آپریشن عراقی فریڈم (عراق)، آپریشن اینڈیورنگ فریڈم (افغانستان)، اور آپریشن ریزولوٹ سپورٹ (افغانستان) میں تعینات رہا ہے۔ غزہ میں بھیجے جانے والے کسی بھی مسلمان دستے، چاہے وہ پاکستان سے ہوں یا انڈونیشیا سے، ٹرمپ کے اس جنرل کی کمان میں ہوں گے۔
اے مسلمانو! اے مسلمانوں کی افواج!* دو سال سے زائد عرصے سے پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں نے، یہودی وجود کے خلاف لڑنے اور مسجدِ اقصیٰ کو آزاد کرانے کے لیے اپنے دستے بھیجنے سے انکار کر کے مبارک سرزمین فلسطین سے غداری کی ہے۔ اب وہ مسلمان افواج کو ٹرمپ کے جنرل کی فوجی کمان کے تحت، اور ایسے بورڈ کی سیاسی نگرانی میں بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد یہودی وجود کو وہ کچھ دلانا ہے جو وہ خود حاصل نہ کر سکا
اے مسلمانو! تم نے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے باوجود غزہ کی حمایت کے لیے بھرپور جدوجہد کی ہے۔ تم نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی افواج کو غزہ کی نصرت کے لیے متحرک کیا جائے۔ اب تم پر لازم ہے کہ اسراء و معراج کی سرزمین کے خلاف غداری کے اس نئے باب کے خلاف اپنی آوازیں بلند کرنا جاری رکھو۔ تمہیں مطالبہ کرنا چاہیے کہ افواج حکمرانوں کو معزول کریں، اور مسلمانوں کی جُنّہ (ڈھال)، یعنی خلافت کے قیام کے لیے فوجی مدد (نصرۃ) فراہم کریں۔
اےمسلمانوں کی افواجِ!
فلسطین کو آزاد کرانے کی شرعی ذمہ داری مسلمانوں کی افواج پر 1948 سے عائد ہے، اور یہ ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، جن میں غداری کے مسلسل ابواب رقم کیے گئے، جن میں غزہ سے غداری بھی شامل ہے۔ کسی امریکی صلیبی جنرل کی کمان میں مبارک سرزمین فلسطین پر قدم نہ رکھنا۔ تمہیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تم سرزمینِ مبارک کی طرف کسی ایسے خلیفۂ راشد کی قیادت میں پیش قدمی کرو، جس کے ذریعے مسلمانوں کی حفاظت کی جاتی ہے اور جس کے پیچھے رہ کر مسلمان قتال کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: »إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ« "امام (خلیفہ) ڈھال ہوتا ہے؛ مسلمان اس کے پیچھے ہو کر لڑتے ہیں اور اسی کے ذریعے سے تحفظ حاصل کرتے ہیں۔"
پس، حزب التحریر، اپنے امیر، جلیل القدر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ (اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے) کی قیادت میں، آپ سے خلافتِ راشدہ، یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم ہونے والی خلافت کے قیام کے لیے، پہلے مرحلے میں، آپ کی نصرۃ (فوجی مدد) طلب کرتی ہے۔ لہذا، اس پکار پر متحرک ہو جائیں!
حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے تحریر کردہ
مصعب عمیر - ولایہ پاکستان