بسم الله الرحمن الرحيم
امریکہ کی نئی قومی دفاعی حکمت عملی اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور ایجنٹوں کی قیمت پر امریکی مفادات کے تحفظ کا ایک متکبرانہ منصوبہ ہے
خبر: "پینٹاگون کی ایک سٹریٹیجک دستاویز کے مطابق، امریکی فوج اپنی سرزمین کے تحفظ اور چین کو روکنے کو ترجیح دے گی، جبکہ یورپ اور دیگر مقامات پر اپنے اتحادیوں کو 'زیادہ محدود' مدد فراہم کرے گی۔ جمعہ (23/01/2026) کو جاری ہونے والی 2026 کی قومی دفاعی حکمت عملی پینٹاگون کی ماضی کی پالیسی سے ایک نمایاں انحراف ہے، جو کہ واشنگٹن کی طرف سے کم تعاون کے ساتھ اتحادیوں پر بوجھ بڑھانے کے مطالبے اور اپنے روایتی حریفوں، چین اور روس کے خلاف نرم رویہ اختیار کرنے کی صورت میں سامنے آیا ہے" (aljazeera.com)۔
تبصرہ: امریکی وزارتِ جنگ کی جانب سے 23 جنوری 2026 کو جاری کردہ 2026 کی قومی دفاعی حکمت عملی کا ایک مرکزی موضوع یہ امریکی مطالبہ ہے کہ اس کے اتحادی اور شراکت دار اخراجات اور نقصانات میں اس کا ساتھ دیں، جبکہ امریکہ دنیا بھر میں اپنے مفادات کا تحفظ کرے۔ چنانچہ، یہ حکمت عملی واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ: "کوشش کی لائن، تیسرا نقطہ: امریکی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ بوجھ کی تقسیم میں اضافہ"۔ یہ حکمت عملی ان جغرافیائی خطوں کی بھی وضاحت کرتی ہے جہاں امریکہ دوسرے ممالک سے زیادہ کام کرنے کا مطالبہ کرے گا: "محکمہ یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور جزیرہ نما کوریا میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے لیے ایسی مراعات کو ترجیح دے گا کہ وہ اپنے دفاع کی بنیادی ذمہ داری خود سنبھالیں، جبکہ امریکی افواج کی مدد صرف انتہائی اہم مگر محدود صورت میں ہوگی"۔
عالمِ اسلام کے اہل قوت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ حکمت عملی اسلامی امت کے مرکز یعنی مشرقِ وسطیٰ میں بوجھ بانٹنے کی تفصیلات بیان کر رہی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ: "جیسا کہ صدر ٹرمپ نے ریاض میں اپنی تاریخی تقریر میں بیان کیا تھا کہ امریکہ ایک زیادہ پرامن اور خوشحال مشرقِ وسطیٰ کا خواہاں ہے۔ تاہم، جیسا کہ صدر نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ تبدیلی صرف ان لوگوں کے ہاتھوں ہی آسکتی ہے جن کا خطے کے مستقبل میں سب سے بڑا حصہ ہے،یعنی خود خطے میں ہمارے اتحادی اور شراکت دار"۔ یہاں مشرقِ وسطیٰ سے باہر اور خود مشرقِ وسطیٰ کے اندر موجود اہل قوت توجہ دیں۔ درحقیقت، مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی پالیسی جسے وہ "گریٹر مڈل ایسٹ" (وسیع تر مشرقِ وسطیٰ) کہتے ہیں، اس میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں، خاص طور پر جب بات امریکہ کے کلیدی مفادات کی ہو، جیسے کہ غزہ پر امریکی قبضہ، سرزمینِ فلسطین کی مستقل دستبرداری اور یہودی وجود کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن)۔ لہٰذا، پوری امتِ مسلمہ کے اہل قوت 2026 کی قومی دفاعی حکمت عملی کے نتائج پر غور کریں۔ ٹرمپ کے زیرِ قیادت امریکہ نہ صرف اپنا فائدہ چاہتا ہے، بلکہ وہ یہ بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ مسلم دنیا میں اس کے ایجنٹ مسلمانوں کی افواج اور دولت کو دل کھول کر خرچ کریں، تاکہ وہ (امریکی مفادات کا) کیک کاٹ کر خود امریکہ کے منہ تک پہنچائیں۔
امریکی دفاعی حکمت عملی میں آنے والی تبدیلی کی وسعت کو پچھلی صدی کی نوے کی دہائی اور موجودہ صدی کے ابتدائی دور کے درمیان امریکی عالمی اثر و رسوخ کے عروج سے موازنہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ وہی دور تھا جب امریکی 'ڈیپ اسٹیٹ' نے 1997 سے 2006 کے درمیان "امریکی عالمی قیادت کے فروغ" کے لیے اپنا منصوبہ 'پروجیکٹ فار دی نیو امریکن سنچری' (PNAC) قائم کیا تھا۔ اس وقت امریکہ نے انتہائی نمایاں کردار ادا کیا، اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی دولت اور جوانوں کو بے دریغ خرچ کیا۔ چنانچہ، امریکہ نے ایک بڑا بوجھ اٹھایا اور اگست 1990 سے 28 فروری 1991 کے درمیان عراق پر حملے کے لیے 42 ممالک کے اتحاد کی قیادت کی۔ امریکہ نے 2004 سے 2009 کے درمیان عراق پر حملے کے دوران کثیر القومی فورس (MNF-I) کی قیادت کرتے ہوئے بھی ایک بڑا بوجھ اٹھایا، جیسا کہ 2001 سے 2021 کے درمیان افغانستان پر اس کے قبضے سے ظاہر تھا۔ اس دور میں، امریکہ مسلم دنیا میں اپنے ایجنٹوں پر بھی بہت مہربان تھا، اور انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فنڈز اور اسلحہ فراہم کرتا رہا، چاہے وہ مسلمانوں اور اسلام کے مقدسات کی قیمت پر ہی کیوں نہ ہو۔ کرپشن کے ذریعے، مسلم دنیا میں امریکی ایجنٹ بے پناہ دولت مند بننے میں کامیاب ہوئے، اور وہ اہل قوت میں موجود کم ظرف لوگوں کو رشوت دے کر اپنے اور امریکہ کے ساتھ ملانے میں بھی کامیاب رہے، تاکہ وہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف کھڑے ہوں۔
تاہم، اب امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی، فوجی اور معاشی طور پر اپنا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک چکا ہے۔ سیاسی طور پر، امریکہ دنیا پر اپنی اخلاقی ساکھ کھو چکا ہے، کیونکہ مادی مفادات کے لیے اس کا ننگا ناچ، قطع نظر اس کے کہ اس میں شہریوں کی جانوں کا کتنا بڑا نقصان ہو، اب واضح ہو چکا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی فوج کے وہ ہولناک جرائم بھی سامنے آ چکے ہیں جن سے جنگل کے جانور بھی شرما جائیں۔ سیاسی ساکھ میں یہ گراوٹ غزہ میں نسل کشی کے دوران یہودی وجود کے لیے امریکی حمایت کی وجہ سے دنیا کے اجتماعی شعور میں مزید پختہ ہو گئی ہے۔ یہ سیاسی بحران امریکی ڈیپ اسٹیٹ کے ستونوں کے درمیان شدید اندرونی تصادم کی وجہ سے مزید گہرا ہو گیا ہے۔ فوجی محاذ پر، خاص طور پر مسلم دنیا میں مہم جوئی کے دوران سخت مزاحمت نے امریکی افواج کو صدمے اور بددلی کا شکار کر دیا ہے۔ امریکہ کے نئے ہتھیاروں پر انحصار اس کے فوجیوں کی بزدلی اور تھکاوٹ کا مداوا نہیں کر سکتا۔ جہاں تک معیشت اور مالیات کا تعلق ہے، امریکہ اپنی معیشت پر توجہ مرکوز کرنے، اخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے پر مجبور ہے، کیونکہ دنیا اب بھی 2008 کے مالیاتی بحران اور کووڈ-19 کے کساد بازاری کے اثرات جھیل رہی ہے۔ لہٰذا، اب اپنے ایجنٹوں سے امریکی مطالبہ بدل چکا ہے۔ امریکہ اب صرف یہ نہیں چاہتا کہ اس کے ایجنٹ اس کے مفادات کا تحفظ کریں، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی دولت اور افواج کی قیمت پر ایسا کریں۔ چنانچہ، امریکہ کے ایجنٹ اب ٹرمپ کی خدمت کے لیے امتِ مسلمہ کی دولت اور بیٹوں کو بے مثال طریقے سے خرچ کریں گے۔ مسلمانوں کے حکمران اس طرح مسلمانوں پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھائیں گے، جو پہلے ہی کمر توڑ ٹیکسوں اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، اور امت کے اہم وسائل جیسے کہ تیل، گیس یا نایاب زمینی معدنیات (REEs) کا کنٹرول امریکی کمپنیوں کے حوالے کریں گے۔
اے امتِ مسلمہ کے اہل قوت!
2026 کی قومی دفاعی حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اب ویسا نہیں رہا جیسا وہ کبھی تھا، لہٰذا اس موقع پر غور کریں جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ امریکہ جنگل کے اس بیمار شیر کی طرح ہے جو اپنی خوراک کے لیے شدید معذوری کا شکار ہے۔ امریکہ اب پہلے سے کہیں زیادہ دوسروں کی طاقت پر منحصر ہے۔ امریکہ اپنی سابقہ طاقت کی محض یادوں کو استعمال کر کے لوگوں کو اپنی مرضی کے سامنے جھکنے کے لیے خوفزدہ کرتا ہے۔ تاہم، اس کی دہشت گردی اس کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی، اور نہ ہی مسلم دنیا پر اس کے ظالمانہ قبضے کو ختم کرنے کے موقع کو بند کر سکتی ہے۔
جہاں تک امریکہ کے ایجنٹوں کا تعلق ہے، امریکہ اب انہیں وہ مدد، فنڈنگ اور اسلحہ فراہم نہیں کر سکتا جو اس نے اپنے سابقہ ایجنٹوں جیسے کہ مشرف، مبارک اور بشار الاسد کو فراہم کیا تھا۔ لہٰذا، آج کے امریکی ایجنٹ، جیسے کہ عاصم منیر، السیسی اور احمد الشرع، اپنے پیشروؤں سے کہیں زیادہ کمزور ہیں، کیونکہ وہ اقتدار میں رہنے کے لیے غیر ملکی حمایت اور منظوری کے محتاج ہیں۔ مزید برآں، امت کے اندر امریکی ایجنٹوں کے خلاف غصہ بڑھ رہا ہے، اور اس میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ وہ امریکی مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ مسلمان اپنی دولت اور اپنی افواج کا بھاری نقصان برداشت کر رہے ہیں۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ﴾
"اور اللہ اپنے معاملے پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے" [سورہ یوسف: 21]۔
غزہ کی آزمائش کے ذریعے، اللہ تعالیٰ نے بین الاقوامی منظر نامے میں بہت سی تبدیلیاں کی ہیں اور اب وقت ہے کہ دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ لہٰذا، اے بھائیو، امریکہ کا دوبارہ جائزہ لیں، اس کے ایجنٹوں کا دوبارہ جائزہ لیں اور نبوت کے طریقے پر خلافت راشدہ کے قیام کے ذریعے مسلم دنیا میں ناگزیر تبدیلی لانے کی اپنی شرعی ذمہ داری کو پورا کرنے کے موقع کا دوبارہ جائزہ لیں۔ حزب التحریر خلافت راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے آپ سے نصرۃ (فوجی تعاون) کی طلبگار ہے، لہٰذا جواب دیں!
مصعب عمیر، ولایہ پاکستان
Latest from
- رایہ اخبا ر شمارہ نمبر 584
- امریکی اجارہ داری کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل خلا میں اضافہ
- حزب التحریر/امریکہ خلافت کانفرنس 2026 تقسیم سے اتحاد تک
- پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے تو اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے بجائے فرعون ٹرمپ کا انتخاب کر لیا ہے
- الرایہ اخبار: شمارہ 583 کی نمایاں سرخیاں