بسم الله الرحمن الرحيم
الرایہ کے متفرقات – شمارہ نمبر 587
پہلے صفحے کی پیشانی پر
جریدہ "الرایہ" کی انتظامیہ اپنی امتِ مسلمہ کو ماہِ رمضان المبارک کی آمد پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔ وہ مہینہ جو محنت و مشقت کا مہینہ ہے، صبر اور جہاد کا مہینہ ہے، جس میں اجر و ثواب کئی گنا بڑھا دیے جاتے ہیں اور درجات بلند کیے جاتے ہیں۔ الرایہ ہماری افواج میں موجود مخلص اہل قوت کی ہمتوں کو اس جانب راغب کرتا ہے کہ وہ اس رمضان کو اس حال میں رخصت نہ ہونے دیں کہ انہوں نے جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی قیادت میں " نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ" کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ ( عسکری مدد) نہ دے دی ہو جس کی بدولت مسلمانوں کے درمیان ان کا مرتبہ مدینہ منورہ کے انصارِ کبار جیسا ہو جائے، اور اللہ کی رضا تو سب سے بڑی چیز ہے۔
===
پہلے صفحے کے لیے
یہ وہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب لوگوں کی زندگیوں سے اللہ عزوجل کے احکامات غائب ہو جاتے ہیں، تو ان پر شیاطین کے چیلوں کے قوانین مسلط ہو جاتے ہیں، جو انہیں ذلیل کرتے ہیں اور انہیں تنگ دستی و کٹھن زندگی کا وارث بناتے ہیں:
﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ * وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾
"پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بہکے گا اور نہ تکلیف پائے گا، اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے معیشت (زندگی) تنگ ہوگی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے" (۔ سورۃ طہ: آیات 123-124)
آج انسانیت کو ایک ایسی ریاست کی ضرورت ہے جو اسلام کو قائم کرے، اس کی شریعت کو نافذ کرے، انسان کو عزت و تکریم دے اور اسے جمہوری نظام کی گمراہیوں اور جاہلیت سے نکال کر اسلام کی وسعتوں اور اس کے پائیدار و سیدھے احکامات کی طرف لے جائے:
﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
"اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے، اللہ نے تمہیں اسی کا تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ" (۔ سورۃ الانعام: آیت 153)
جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو صحابہ کرام نے اپنے مسائل حل کرنے اور اپنے نظامِ زندگی کی تشکیل کے لیے غیر ملکی ریاستوں کی طرف رجوع نہیں کیا، اور نہ ہی وہ ایرانیوں یا رومیوں کے مرہونِ منت ہوئے کہ ان کے ایجنٹ بن کر ان کی پالیسیوں پر عمل درآمد کریں، جیسا کہ آج کے مسلمان حکمرانوں کا حال ہے۔ بلکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی پاسداری کرتے ہوئے ایک ایسے خلیفہ کی بیعت کی جو منصبِ حکم میں آپ ﷺ کا جانشین ہو تاکہ وہ دین کو قائم کرے اور اسلام کے ذریعے دنیا کے معاملات چلائے۔ وہ اکٹھے ہوئے اور اس شخص کا انتخاب کیا جو اللہ کی شریعت کی حفاظت کرے اور اسلام کے مطابق ان کی سیاست کرے۔ چنانچہ انہوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی جنہوں نے ایک انتہائی کٹھن وقت میں اقتدار سنبھالا جب امت ایک حقیقی آزمائش میں تھی۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے دین کو قائم کیا، شریعت کو نافذ کیا اور ایک مومن کی عزت اور اللہ عزوجل پر توکل کے ساتھ اسلام کا جھنڈا بلند کیا، اور اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم پر ذرہ برابر سمجھوتہ نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے فرمایا: "کیا میرے جیتے جی دین میں کمی کی جائے گی؟ اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے اونٹ باندھنے والی ایک رسی دینے سے بھی انکار کریں گے جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے، تو میں اس پر بھی ان سے قتال کروں گا"۔
امتِ مسلمہ پر یہی شرعی فریضہ ہے۔ یعنی ریاست کا قیام ، بلکل ویسے ہی جیسے رسول اللہ ﷺ نے ریاست قائم فرمائی تھی، جو اسلام کو نافذ کرے، مسلمانوں کو متحد کرے، اقتدار مجرم غاصبوں سے چھین لے، مظلوموں کی مدد کرے، اور جہاد کے ذریعے حملہ آوروں کا خاتمہ کرے، اور اللہ رب العالمین کی شریعت کے کسی بھی حکم پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔
نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کی ریاست ہی وہ واحد راستہ اور بنیاد سے علاج کرنے والا حل ہے جو اس دنیا کا رخ بدل دے گی جو آج ظلم، فساد، بے امنی اور تباہی کے بوجھ تلے سسک رہی ہے۔ یہ ریاست اللہ تعالیٰ کے اذن سے استعماری کافروں کے اثر و رسوخ اور تسلط اور ان کے گرے ہوئے نااہل ایجنٹوں کا خاتمہ کر دے گی۔
===
پہلے صفحے کے لیے یہ بھی
مغرب کے زوال کی شرائط مکمل ہو چکی ہیں
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ عالمی نظام اب ختم ہو چکا ہے اور یہ دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا، لہٰذا درمیانی قوت رکھنے والی ریاستوں کو اس کا شکار بننے سے بچنا چاہیے۔ کارنی نے ڈیووس کی معاشی کانفرنس کے دوران یہ بیان دیا کہ "جب قوانین آپ کا تحفظ کرنا چھوڑ دیں، تو پھر آپ کو اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے" (بحوالہ اسکائی نیوز عربیہ)۔
الرایہ: ان کے اپنے قلعوں کے مرکز سے آنے والا یہ اعتراف دراصل اس نظام کی موت کا نوشتہ دیوار ہے جس کی بنیاد قوموں کا خون چوسنے پر رکھی گئی تھی۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کے بنائے ہوئے قوانین کا یہ جنگل اب ان کے ظلم اور ناکامی کے عیوب کو چھپانے کے لیے کافی نہیں رہا۔
یقیناً زوال کی تمام شرائط مکمل ہو چکی ہیں۔ کیونکہ ان کی اشرافیہ اپنی شیطانی خواہشات کی تسکین کے لیے انسانی وقار کو سلب کرنے کی دلدل میں جا گری ہے۔ ان کے اپنے لوگوں، ان کے پیروکاروں اور ان اشرافیہ کے نشانے پر موجود طبقوں کا یہ یقین اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے کہ مغربی نظریاتی نظام کسی بھی صورت میں انسانیت کی قیادت کرنے اور ان کے معاملاتِ زندگی کی دیکھ بھال اور تنظیم کے لیے موزوں ہے، کیونکہ اس نظام کی قواعد و ضوابط کی بنیاد ہی لوگوں کو کچلنے اور انہیں بدحال کرنے پر رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب، (اسلامی) نشاۃِ ثانیہ کی تمام شرائط بھی پوری ہو چکی ہیں۔ کیونکہ ایک ایسی آیڈیالوگی (مبدأ) موجود ہے جس کی فکر بالکل خالص ہے، اور اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز کے لیے اس کا طریقہ کار مکمل طور پر واضح ہے، اور اس نظریے کے حاملین وہ مخلص لوگ ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنے عقیدے کے تابع کر دیا ہے۔
===
مرکزی کلمہ کے نیچے
یہودی وجود نے مغربی کنارے کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے فیصلوں کی منظوری دے دی!
یہودی وجود کی مختصر وزارتی کونسل (کابینہ) نے ایسے فیصلوں کی منظوری دی ہے جن کا مقصد مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ ان فیصلوں کے تحت فلسطینی املاک کی یہودیوں کو فروخت پر عائد پابندیوں کو ختم کر دیا گیا ہے، فلسطینیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں گھروں کو مسمار کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ شہرِ خلیل، حرمِ ابراہیمی کے گردونواح اور بیت لحم میں منصوبہ بندی و نقشہ سازی کے اختیارات بھی یہودی وجود کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
مبارک سرزمین فلسطین میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے مطابق، یہ فیصلے انتہائی خطرناک نوعیت کے ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں آباد کاروں کا وجود صرف فلسطینی آبادیوں کے اطراف میں نہیں بلکہ ان کے عین قلب میں قائم ہو جائے گا۔ ان فیصلوں پر عمل درآمد کی صورت میں لازمی طور پر خونی تصادم ہوں گے، اور یہ آباد کاروں کی جانب سے موجودہ حملوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ وحشیانہ جارحیت کا راستہ کھول دیں گے۔ اس سب کا مقصد مغربی کنارے کے لوگوں کی زندگی کو ایک ایسی ناقابلِ برداشت جہنم میں بدل دینا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جان کے بارے میں مطمئن نہ رہے، اور یوں انہیں زبردستی ہجرت اور کوچ کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
اہلِ فلسطین کو آج جس تنگی اور اپنی سرزمین سے جڑ سے اکھاڑے جانے کی صورتحال کا سامنا ہے، اور غاصب وجود جس طرح ان کے سانسوں، گھروں اور زمینوں پر اپنا جابرانہ تسلط جما رہی ہے، اس میں اسے اس فلسطینی اتھارٹی کا تعاون حاصل ہے جو پہلے دن سے اس کی گود میں جا بیٹھی ہے، اور اسے وہ حکمران ٹولے تحفظ فراہم کر رہے ہیں جنہوں نے اپنے وجود کو اس (یہودی وجود) کے وجود کے ساتھ مشروط کر رکھا ہے۔ یہ تمام تر صورتحال امت کے سامنے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں چھوڑتی کہ وہ حرکت میں آئے، کیونکہ صرف اہل فلسطین کی ثابت قدمی پر تکیہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی ذبح ہونے والے سے یہ امید لگانا کہ وہ قصاب کے سامنے ڈٹا رہے۔
بلکہ القوی اور العزیز اللہ سے ہماری دعا یہ ہے کہ وہ امت کے اہل قوت و منعت (فوجی طاقت رکھنے والوں) کے سینے کھول دے تاکہ وہ امت کے عوام کے دباؤ پر اس منظر نامے کو بدل ڈالیں، اور وہ بساط الٹ کر یہودی وجود کو تحفظ دینے والوں کو خود اس یہودی وجود سے پہلے گرا دیں۔ اگر وہ اللہ کے ساتھ اپنے معاملے میں سچے ہو جائیں تو وہ نہ صرف فلسطین بلکہ پوری دنیا کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ امت جو صحرا کی گہرائیوں سے نکلی تھی، جس نے فارس و روم کو فتح کیا اور پھر پوری دنیا اس کے زیرِ نگیں آگئی، وہ فلسطین کو آزاد کرانے اور تاریخ کے صفحات کو نئے سرے سے لکھنے سے قطعاً عاجز نہیں ہے، یہاں تک کہ پوری زمین اللہ کے دین کی تابع ہو جائے۔ اور یوں رسول اللہ ﷺ کی یہ بشارت پوری ہو جائے: «إِنَّ اللهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا» "بے شک اللہ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا، پس میں نے اس کے مشرقوں اور اس کے مغربوں کو دیکھا، اور یقیناً میری امت کی بادشاہت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی" (رواہ مسلم)۔
===
جمہوریت کے بت خود اپنے بنانے والوں کے ہاتھوں پاش پاش ہو گئے
اے مسلمان افواج! مغربی بیانیہ دم توڑ چکا ہے، اور جمہوریت و بین الاقوامی قانون کے بت خود ان کے خالقوں کے ہاتھوں ٹوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کر لیا ہے کہ یہ محض ایک افسانہ ہے، اور یہ مان لیا ہے کہ یہ استعماریت کا ایک ہتھیار ہے۔ پھر کیوں ہمارے حکمران اب بھی ان کی کانفرنسوں کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں؟ اور کیوں ہمارے علماء ان کی عدالتوں سے انصاف مانگتے ہیں؟ ہم اس نظام پر کیوں بھروسہ کریں جو ہمیں مٹانے کے لیے ہی بنایا گیا ہے؟ آخر تم کب تک خود کو دھوکا دیتے رہو گے؟ مغرب اس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کا کیمپ تقسیم ہو چکا ہے، جس سے اس فکر کی کمزوری عیاں ہو گئی ہے جس کی بنیاد حق کے بجائے صرف مفاد پر ہے۔
اور اس کا متبادل اس مردہ نظام کی مرمت کرنا نہیں ہے، اور نہ ہی ان کی جوئے کی میز پر کسی بہتر نشست کی تلاش کرنا ہے، بلکہ اس کا متبادل وہ نظام ہے جو طاقتور اور کمزور یا امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ متبادل تو خالقِ کائنات کا نظام ہے، یعنی نبوتکے نقشِ قدم پر قائم خلافت۔ ایک ایسا نظام جس میں شریعت کو محض ایک مفید کہانی کے طور پر نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے ایک ربانی وحی کے طور پر نافذ کیا جاتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مغرب کے وہم و گمان اور اس کے بوسیدہ قوانین کو مسترد کر دیا جائے۔ حق کا سورج طلوع ہونے کو ہے اور ان کے باطل نظام کا زوال یقینی ہے، کیونکہ باطل کو مٹنا ہی ہوتا ہے:
﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً﴾
"اور فرما دیجئے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے" (۔ سورہ الاسراء: آیت 81)
اے مسلمان افواج! اپنی گردنوں سے ان غدار حکمرانوں کی زنجیریں اتار پھینکو جو اس ظالمانہ نظام کی پہرے داری کر رہے ہیں۔ تمہاری امت خلافت کے قیام کے لیے تمہاری نصرۃ (عسکری مدد) کا انتظار کر رہی ہے، تاکہ دنیا وہ نظام دیکھے جو حقیقی بنیادوں پر قائم ہے، وہ نظام جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق حکمرانی کرتا ہے۔ اب اوہام کا وقت ختم ہو چکا ہے، اور مغرب کے بیانیے کے چہرے سے نقاب اتر چکا ہے، لہٰذا حزب التحریر کی پکار پر لبیک کہو، وہ ہر اول دستہ جو امت کے احیاء اور ظلم کے ڈھانچوں کو ڈھانے کی دعوت لے کر اٹھا ہے۔
===
طرابلس الشام میں دوسری عمارت کا گرنا محض ایک افسوسناک واقعہ نہیں بلکہ ایک کھلا جرم ہے!
ولایہ لبنان میں حزب التحریر کے میڈیا آفس سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ: طرابلس میں دوسری عمارت کا گرنا، جبکہ اس سے چند ہی روز قبل "قبہ" کے مقام پر بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، محض ایک "افسوسناک حادثہ" قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ مجرمانہ غفلت کا ایک کھلا ثبوت ہے!
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس کی ذمہ داری اقتدار کے تمام ستونوں اور خود شہر کے ان سرمایہ داروں پر عائد ہوتی ہے جیسے میقاتی، صفدی، کرامی، کبارہ اور دیگر، جنہوں نے دولت کے انبار تو لگا لیے لیکن طرابلس کے لوگوں کو "موت کی چھتوں" کے نیچے رہنے کے لیے چھوڑ دیا جو کسی بھی لمحے ان کے سروں پر گر سکتی ہیں۔ ان لوگوں نے عوام کی زندگی اور وقار کے بجائے صرف اپنے ذاتی، سیاسی اور انتخابی مفادات کو اہمیت دی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ طرابلس کوئی ایسا شہر نہیں جو بھیک مانگے یا دوسروں کے رحم و کرم پر جیے۔ طرابلس اپنی صلاحیتوں اور اپنے لوگوں کے لحاظ سے ایک امیر شہر ہے، لیکن اسے جان بوجھ کر لوٹا گیا اور نظر انداز کیا گیا ہے۔ "قبہ" کے علاقے میں پہلی عمارت کے گرنے اور کئی لوگوں کی ہلاکت کے بعد بہت سے وعدے کیے گئے اور میٹنگز ہوئیں، لیکن ثابت ہوا کہ وہ صرف وقت گزاری کے لیے جھوٹے وعدے اور لوگوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے محض میڈیا کی حد تک گمراہ کن ملاقاتیں تھیں۔ وہ جلد ہی طرابلس والوں کو بھول گئے، اور اب جب "تبانہ" کے علاقے میں عمارت گری ہے تو پھر سے وہی بیانات، وعدے اور میٹنگز شروع ہو گئی ہیں! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: «لايُلْدَغُ المؤمِنُ من جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتيْنِ» "مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا"، تو ہم اس اقتدار اور ان سیاستدانوں کے ہاتھوں کتنی بار ڈسے جائیں گے؟
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ اب شہر کے تمام مخلص لوگوں پر واجب ہے کہ وہ ان حکمرانوں کے خلاف عملی اقدامات کریں اور اقتدار کے ان ایوانوں اور ان کے نمائندوں میں سے ہر اس شخص کی برطرفی اور سخت احتساب کا مطالبہ کریں جس کی غفلت یا حل تلاش کرنے میں ٹال مٹول ثابت ہو جائے۔
===
آج دنیا جو دیکھ رہی ہے وہ محض افراد کی رسوائیاں نہیں بلکہ پورے نظام کا بے نقاب ہونا ہے
گزرے ہوئے کسی بھی وقت سے زیادہ، آج دنیا ایک ایسی تہذیب کی شدت کے ساتھ ضرورت مند ہے جو انسان کو اس کی قدر و قیمت واپس دلائے اور انسانی وجود کی حرمت کو بحال کرے۔ ایک ایسی تہذیب جو انسان کو محض پیداواری مشین، کھپت کا ذریعہ (صارف) یا منڈی کا ایک عدد نہ سمجھے، بلکہ اسے ایک ایسی معزز مخلوق مانے جس کا ایک مقصد اور پیغام ہے۔ ایسی تہذیب جو محض وعظ و نصیحت یا تاریخی یادداشت کی صورت میں نہ ہو، بلکہ ایک مکمل تہذیبی منصوبہ ہو جو روح اور مادے کو یکجا کرے، آزادی اور ذمہ داری کے درمیان توازن پیدا کرے اور اعلیٰ اقدار کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ کے بجائے اس کی بنیادی شرط بنائے۔ ایک ایسی تہذیب جس میں انسان محض ایک "ترقی یافتہ جانور" نہ ہو بلکہ ایک معزز مخلوق ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾
"اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی"(۔ سورہ الاسراء: آیت 70)۔
ایک ایسی تہذیب جہاں انسان بے مقصد بھٹکنے والا وجود یا اپنی خواہشات کا غلام نہ ہو، بلکہ صاحبِ ارادہ ہو جیسا کہ اللہ نے اسے دیکھنا چاہا ہے: یعنی زمین پر اللہ کا خلیفہ، جو امانت دار ہو نہ کہ جابر و مسلط۔
وہ دنیا جو دوہرے معیاروں سے تھک چکی ہے، جسے اس کے لیڈروں کے تضادات نے رسوا کر دیا ہے اور جو ایک بے روح صارفانہ تہذیب کے بوجھ تلے گھٹ کر رہ گئی ہے، اسے ایک ایسے نمونے کی ضرورت ہے جو توازن بحال کرے۔ ایسا نمونہ جو بے راہ روی کے جواز کے لیے آزادی کا نعرہ بلند نہ کرے اور نہ ہی ظلم و استبداد کو برقرار رکھنے کے لیے اقدار کا نام استعمال کرے۔ پس اسلامی تہذیب کوئی بالادستی قائم کرنے کا منصوبہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسان اور معاشرے کو بکھراؤ اور تباہی سے، اور سیاست کو اخلاق سے علیحدگی سے بچانے کا ایک منصوبہ ہے۔ جب انسان کی عزت محفوظ ہوگی، خواہشات کو اقدار کے ذریعے قابو میں رکھا جائے گا اور اقتدار کو امانت سے جوڑا جائے گا، تبھی ہم کسی حقیقی تہذیب کی بات کر سکتے ہیں۔
===
امریکہ کی لگام صرف ریاستِ خلافت ہی کس سکتی ہے
حزب التحریر ولایہ عراق کے میڈیا آفس نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: عراقی انتخابات کے ڈرامے کو تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، وہ انتخابات جس کے عراقی سیاستدانوں نے قصیدے پڑھے، جس کے لیے مکروہ فرقہ واریت کو ہوا دی اور جسے "انتخابی جشن" کا نام دیا، تو اس کا نتیجہ کیا نکلا؟
پہلا: حقیقت نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ جشن لوگوں کے ساتھ سب سے بڑا جھوٹ اور دھوکا تھا کہ یہ ان کی مرضی کی نمائندگی کرتا ہے۔ کیونکہ ہر خاص و عام یہ بات یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ یہ ووٹ خریدنے اور سادہ لوح لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کا سب سے بڑا فاسد سودا تھا۔ حتیٰ کہ نتائج آنے کے بعد کچھ ووٹرز یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے ووٹ ہوا میں اڑ گئے، جیسا کہ صوبہ نینویٰ کے کامیاب امیدوار نجم الجبوری کے ساتھ ہوا جنہوں نے تقریباً چالیس ہزار ووٹ حاصل کیے تھے، لیکن انتخابی جوڈیشل باڈی نے انہیں "بعث پارٹی کے خاتمے کے قانون" کی زد میں آنے کی وجہ سے نااہل قرار دینے کا حکم جاری کر دیا۔
دوسرا: انتخابات کے بعد بھی عہدوں اور نام نہاد "آئینی حقوق" کے لیے مختلف دھڑوں اور ایک ہی اتحاد کے اندر آپسی لڑائی، ٹکراؤ اور کھینچا تانی کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی اختلافات اب ایک مستقل روش بن چکے ہیں، جس میں حساس معاملات کو انتظار اور سودے بازی کی منطق پر چلایا جا رہا ہے، اور ان حکمرانوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ انہوں نے لوگوں کو کس قدر کٹھن زندگی، بے مقصدیت اور ضائع ہونے کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
تیسرا: ملک اب بھی امریکہ کے زیرِ تسلط ہے اور اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت نوری المالکی یا ایران نواز مسلح گروہوں سے وابستہ کسی بھی امیدوار کی نامزدگی پر امریکی دھمکیوں سے بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ یہ اس سیاسی ٹولے کے اس دعوے کے جھوٹ کو ثابت کرتا ہے کہ عراق ایک آزاد ملک یا خود مختار ریاست ہے۔
چوتھا: گزشتہ 23 برسوں کے دوران بار بار ہونے والے ان انتخابی تجربات اور اس کے نتیجے میں ملک کی تباہی، بربادی اور بدحالی کے بعد، جسے کرپشن نے اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے، یہ بات یقین کے ساتھ ثابت ہو چکی ہے کہ ہمارا مسئلہ ہر چار سال بعد اس کچرے کو دوبارہ گھمانا نہیں ہے۔ ہمارے مسائل کا حل صرف چہرے بدلنے میں نہیں ہے، بلکہ اس نظام کو جڑ سے اکھاڑنا ضروری ہے جو ان تمام مسائل کو جنم دیتا ہے اور اس تمام تر فساد کی پیداوار کا اصل ذمہ دار ہے۔
===
آج کا دن دنیا کے سامنے سڑے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے متبادل کے طور پر اسلام کو پیش کرنے کے لیے سب سے موزوں ہے
آج افراطِ زر (مہنگائی) جو کرنسی کو چاٹ رہی ہے، وہ حقیقت میں اعتماد اور جواز کو اس کی جڑوں سے ختم کر رہی ہے۔ جب نظام ٹوٹے ہوئے 'سماجی معاہدے' کی مرمت کرنے سے عاجز آ جاتے ہیں، تو وہ فطری طور پر ایسے متبادل تلاش کرتے ہیں جو قلیل مدت میں کم خرچ ہوں لیکن طویل مدت میں زیادہ تباہ کن ہوں۔ جنگ کوئی عقلی انتخاب نہیں ہے، لیکن اکثر یہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے براہِ راست مقابلے سے بچنے کے لیے آخری پناہ گاہ ثابت ہوئی ہے۔ یہ کوئی اچانک ہونے والا واقعہ نہیں ہے، بلکہ ایک سست رفتار راستہ ہے جب مسائل کو حل کرنے کے بجائے صرف ٹالا جاتا ہے، اور جب انسانی زندگی اور استحکام کے مقابلے میں مفادات اور سرمائے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اسی لیے، آج کا دن دنیا کے سامنے اس سڑے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے متبادل کے طور پر ایک اسلامی منصوبہ پیش کرنے کے لیے موزوں ترین ہے، کیونکہ دنیا کو ایک ایسے ربانی منہج کی ضرورت ہے جس میں معیشت اقدار کے تابع ہو، مال ایک امانت ہو، اور انسان ایک آلہ نہیں بلکہ خود ایک مقصد ہو۔ ایک ایسا منہج جو سود، دھوکا دہی (غرر)، خیالی سٹہ بازی اور اجارہ داری کو حرام قرار دے، اور کرنسی کو مستحکم بنائے، زکوٰۃ کو محض خیرات نہیں بلکہ ایک ریاستی رکن بنائے، اور دولت کی گردش کو برقرار رکھنے کے لیے مال جمع کرنے کو حرام قرار دے تاکہ مال صرف امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے، بلکہ ایک مکمل اصولی ڈھانچہ ہے، جس کی عملی شکل نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ ہے، جس کا وعدہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان سے ہم سے کیا ہے، بشرطیکہ ہم تبدیلی لائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾
"بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالیں"(۔ سورہ الرعد:آیت 11)
===
مقبوضہ کشمیر کے ساتھ حقیقی یکجہتی کیسے ہو؟
کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ حقیقی یکجہتی کا مطلب اسے آزاد کرانے کے لیے مسلمانوں کی افواج اور خاص طور پر پاکستان کی فوج کو متحرک کرنا ہے، نہ کہ وہ باتیں جو پاکستان کے حکمران ہر سال 'یومِ یکجہتی کشمیر' منانے کے لیے اپنے کھوکھلے بیانات کے ذریعے دہراتے ہیں۔ یہ حکمران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہیں اور عالمی نظام سے التجا کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر توجہ دے۔ ایک طرف وہ ٹرمپ کو خوش کرنے اور غزہ کے ساتھ غداری کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے، پاکستان کا پانی روک رہا ہے، مسلمانوں کے درمیان فتنوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور آزاد کشمیر پر حملہ کرنے اور اسے ضم کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
عاصم/شہباز حکومت نے بھارت سے کشمیر کو آزاد کرانے کا موقع اس وقت ضائع کر دیا، جب مئی 2025 کی چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی بہادر افواج نے پاکستان پر ہونے والی بھارتی جارحیت کو کچل دیا تھا۔
اس لیے اہل پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے ایجنٹ حکمرانوں کے بیانات اور ان کے حل کو مسترد کر دیں، اور پوری قوت سے یہ مطالبہ کریں کہ کشمیر کی آزادی کے لیے فوج کو محاذ پر بھیجا جائے، جو اس خطے میں ہندوؤں کی بالادستی کو کاری ضرب لگائے گا۔ اسی طرح تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے تندہی سے کام کریں، جو پوری امتِ مسلمہ کو متحد کرے گی اور اس کے مقبوضہ علاقوں کے ایک ایک انچ کو آزاد کرائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾
"اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا"(۔ سورہ محمد، آیت 7)
===