بسم الله الرحمن الرحيم
اداریہ
دارفور کو الگ کرنے کا سلسلہ کہاں تک پہنچا؟
تحریر: استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل)
(ترجمہ)
ایک اچانک پیش رفت میں، ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے شمالی دارفور کے علاقے 'دامرۃ مستریحہ' پر حملہ کر کے پیر 23 فروری 2026 کو اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ علاقہ قبیلہ محامید کے سربراہ اور نام نہاد 'انقلابی بیداری کونسل' کے صدر موسیٰ ہلال کا گڑھ ہے۔ اس قبضے سے قبل، اتوار 22 فروری 2026 کو اس علاقے پر ڈرونز کے ذریعے بمباری بھی کی گئی تھی۔
اگرچہ موسیٰ ہلال نے واضح طور پر فوج کا ساتھ دینے کا اعلان کر رکھا تھا، لیکن اس نے ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف جنگ میں عملی طور پر حصہ نہیں لیا اور پوری جنگ کے دوران اپنے علاقے ہی میں مقیم رہا۔ اطلاعات کے مطابق، اپنے علاقے پر قبضے ہو جانے کے بعد وہ پڑوسی ملک چاڈ منتقل ہو گیا ہے، جبکہ خبریں، اس کے ایک بیٹے کی ہلاکت اور دوسرے کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتی ہیں۔ یہاں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ موسیٰ ہلال ماضی میں 'نظامِ انقاذ' (سابقہ حکومت) کے اہم مہروں میں شمار ہوتا تھا، جہاں اس نے ان مسلح تحریکوں کے خلاف حکومت کا ساتھ دیا جو آج 'مشترکہ افواج' کے نام سے موجودہ حکومت کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہیں۔ سابق صدر عمر البشیر نے 2008 میں اسے وفاقی وزارت میں مشیر بھی مقرر کیا تھا۔
موسیٰ ہلال نے 2014 میں 'انقلابی بیداری کونسل' کی بنیاد رکھی، لیکن بعد ازاں اس کے حکومت کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے۔ یہ اختلافات خاص طور پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے ظہور کے بعد بڑھے، جس کی قیادت محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کر رہا ہے، جو کبھی موسیٰ ہلال کی ملیشیا میں ایک عام سپاہی تھا۔ 2017 میں ہلال اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان مسلح تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں اسے گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور جیل بھیج دیا گیا، تاہم 2021 میں خودمختار کونسل کے معافی نامے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے اسے کیوں قربان کیا اور اس کی مدد میں سستی کیوں برتی، جس کی وجہ سے ریپڈ سپورٹ فورسز اس وقت یہ کارروائی کرنے میں کامیاب ہوئیں؟۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکہ کا منصوبہ اس جنگ کے ذریعے اپنے ایجنٹ محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کے ہاتھوں دارفور کو سوڈان سے الگ کرنا ہے۔ حالیہ عرصے میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ بندی کی باتیں کثرت سے ہو رہی ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی نیت پورے دارفور کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے حوالے کرنے کی ہے۔ اس تناظر میں، دارفور میں موسیٰ ہلال کی موجودگی، جو ایک مسلح قوت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک بااثر قبائلی سربراہ بھی ہیں، مستقبل کے کسی بھی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی تھی۔ اسی لیے امریکہ نے اپنے ایجنٹ حمیدتی کو انہیں راستے سے ہٹانے کا اشارہ دیا، تاکہ دارفور میں ان کے مقابلے میں کوئی نہ رہے اور صرف 'طینہ' جیسے چند چھوٹے سرحدی علاقے باقی بچیں جن پر قبضہ کرنے کے لیے ریپڈ سپورٹ فورسز کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے، کیونکہ یہ علاقے مناوی اور جبریل کی افواج کے مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
جہاں تک دیگر محاذوں کا تعلق ہے، خاص طور پر کردوفان میں، تو وہاں گزشتہ دو ماہ سے جنگ تقریباً تھمی ہوئی ہے، سوائے ڈرونز اور فضائیہ کی اکا دکا کارروائیوں کے۔ اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ ایک غیر اعلانیہ جنگ بندی موجود ہے، باوجود اس کے کہ فوجی قیادت بار بار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے مکمل خاتمے سے قبل کسی بھی مذاکرات کو قبول نہیں کریں گے۔ تاہم، امریکہ اس بات پر بضد ہے کہ اس جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی فریق عسکری طور پر جیت سکے گا، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ دارفور کی علیحدگی کے اپنے مجرمانہ منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
رہی بات اس کی کہ مسعد بولس کی جانب سے بار بار تذکرے کے باوجود امریکہ نے اب تک جنگ بندی کیوں نافذ نہیں کی، تو اس کی وجہ لوگوں کو جنگ بندی قبول کرنے کے لیے اس 'نہ جنگ نہ امن' کی طویل ہوتی ہوئی صورتحال کے سائے میں ذہنی طور پر تیار کرنا ہے جو آج تک میدانِ جنگ پر حاوی ہے۔ امریکی صدر کے عرب اور افریقی امور کے سینئر مشیر، مسعد بولس نے جمعہ 20 فروری 2026 کو سوڈان کے بحران پر بحث کے لیے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران جنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی ہم آہنگی کے پانچ نکات طے کیے تھے۔ اس نے 'ایکس' پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں ایک ہزار سے زائد دنوں سے جاری اس لاحاصل تنازع کو ختم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ اس نے مزید کہا کہ برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی صدارت میں سلامتی کونسل نے ایک واضح اور متحدہ پیغام دیا ہے کہ: "اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اب لڑائی ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے"۔
سوڈانی وزارت خارجہ نے بولس کے بیانات پر ایک بیان میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تجویز کا پیش کیا جانا لازمی طور پر حکومت کی جانب سے اس کی قبولیت یا منظوری کے معنی میں نہیں ہے۔ لیکن یہ زبان انکار کے معنی میں نہیں ہے، کیونکہ جملہ "لازمی طور پر قبولیت یا منظوری نہیں" سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسے قبول کیا بھی جا سکتا ہے اور منظور بھی کیا جا سکتا ہے، جہاں اس جملے کو یوں بھی پڑھا جا سکتا ہے کہ "لازمی طور پر اس کا مسترد ہونا مراد نہیں"۔ کیونکہ اگر وہ بولس کی پیش کردہ جنگ بندی کو مسترد کرنا چاہتے تو واضح طور پر کہتے کہ وہ کسی بھی بیرونی فریق کی طرف سے پیش کردہ کسی بھی تجویز یا منصوبے کو قبول نہیں کرتے۔ خاص طور پر جبکہ وزارت خارجہ کا بیان ملک کے وسیع تر مفاد، سوڈان کی قومی سلامتی، مکمل قومی خودمختاری، سوڈانی زمین کی وحدت، اس کے اداروں کے اتحاد اور اس کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ سوڈانی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ سوڈان ایک خودمختار ریاست ہے اور اپنے فیصلے اور موقف اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر طے کرتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ایسی خودمختاری اور آزادانہ فیصلوں کی بات کیسے کی جا سکتی ہے جبکہ امریکہ سوڈان کو نکیل ڈال کر بالکل جنوبی سودان والے منظرنامے کے تحت تقسیم اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی طرف لے جا رہا ہے، یہاں تک کہ اسے مذاکرات اور ایسے ایجنڈوں کے ذریعے علیحدگی تک پہنچا دیا گیا جو ملک کے حکمرانوں پر مسلط کیے گئے تھے، جیسا کہ اس وقت کے صدر البشیر نے خود اعتراف کیا تھا کہ: "امریکہ ہی وہ ہے جس نے جنوب کو الگ کیا"!
ہم نہیں چاہتے کہ کچھ عرصے بعد یہ جملہ سنیں کہ "امریکہ ہی نے دارفور کو الگ کیا"، لہٰذا سوڈان کی وحدت اور اس کے فیصلوں کی حقیقی آزادی کے تمام بہی خواہوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دارفور کی علیحدگی کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں، اور نادان نہ بنیں کہ امریکہ سوڈان کی دھجیاں اڑانے کے اپنے شیطانی منصوبے پر عمل درآمد کر سکے!
بطور مسلمان اصل اصول یہ ہے کہ ہم حالات جیسے بھی ہوں، اپنے معاملات میں کافر کی مداخلت ہرگز قبول نہ کریں، کیونکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے، خاص طور پر امریکہ جس کے ہاتھوں ہم پہلے بھی ڈسے جا چکے ہیں، تو ہم اسے دوبارہ ڈسنے کا موقع کیسے دے سکتے ہیں؟! ایک مسلمان اپنے معاملے میں کافر کی مداخلت قبول نہیں کرتا۔ جب اسلام کی عزت و غیرت مسلمانوں کے ذہنوں پر غالب تھی، تو حضرت معاویہؓ نے قیصرِ روم کی مدد لینے سے انکار کر دیا تھا جس نے حضرت علیؓ بن ابی طالب اور ان کے درمیان جنگ اور دشمنی کی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ قیصر نے حضرت معاویہؓ کو خط بھیجا جس میں لکھا تھا: "ہمیں معلوم ہوا کہ آپ کے اور علیؓ بن ابی طالب کے درمیان کیا ہو رہا ہے، اور ہماری نظر میں آپ ان کے مقابلے میں خلافت کے زیادہ حقدار ہیں، اگر آپ حکم دیں تو میں آپ کی طرف ایک لشکر بھیجوں جو آپ کو علیؓ کا سر لا کر دے"۔ حضرت معاویہؓ نے قیصرِ روم کو ان الفاظ میں منہ توڑ جواب دیا: "دو بھائیوں کا آپس کا جھگڑا ہے، تم اس میں مداخلت کرنے والے کون ہوتے ہو؟ اگر خاموش نہ ہوئے تو میں تمہاری طرف ایسا لشکر بھیجوں گا جس کا اگلا حصہ تمہارے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس، وہ تمہارا سر لا کر دیں گے جو میں علیؓ کی خدمت میں پیش کروں گا"۔
ایسی ہوتی تھی عزت اور ایسی ہوتی ہے خودمختاری۔ ہم استعماری کافر مغرب کے سامنے جھکنے والے اور اس کے فیصلوں اور سازشوں کے تابع ان انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کے سائے میں کبھی حقیقی خودمختاری کا لطف نہیں پا سکتے، جب تک کہ ہم اپنے اسلام کی طرف نہ لوٹ جائیں اور اپنی زندگی کی بنیاد اس پر نہ رکھ دیں، اور وہ بھی اس کی ریاست یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائمخلافتِ راشدہ کے سائے میں۔
حزب التحرير ولایہ سوڈان کے ترجمان