بسم الله الرحمن الرحيم
مسئلہ فلسطین: کس سمت جا رہا ہے؟
تحریر: ڈاکٹر محمد جیلانی
(ترجمہ)
میں اپنی بات کا آغاز اس طرح کرنا چاہوں گا کہ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر جسے "مسئلہ فلسطین" کے نام سے پہچانا جاتا ہے، وہ اس مسئلے کی ایک درست تعبیر نہیں ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اہل فلسطین امتِ مسلمہ کا حصہ ہیں اور فلسطین تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے۔ لیکن اسلامی ریاست کے خاتمے اور اسے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کے ساتھ ہی، ان کے درمیان ایسی سرحدیں کھینچ دی گئیں جو کافر استعمار کے بنائے ہوئے نقشوں پر لکیریں تھیں۔ اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے جسے "مسئلہ فلسطین" کی اصطلاح دی گئی، تو وہ درحقیقت یہودیوں کا فلسطین پر غاصبانہ قبضہ اور مسلمانوں کے اس مبارک خطے میں مسخ شدہ یہود ی وجود کا قیام ہے۔
چونکہ یہودی ایک بہتان تراش قوم ہیں، اور وہ عیاری، بلیک میلنگ، مسلسل مطالبات کرنے اور جو کچھ انہیں مل جائے اس پر کبھی مطمئن نہ ہونے کے لیے مشہور ہیں، اس لیے ان کے وجود کے قیام اور اس کے قبضے کے مسئلے نے کئی پہلو اختیار کر لیے ہیں۔ یہودیوں نے عالمِ اسلام کے قلب میں اپنے وجود کے اس اسٹریٹجک محل وقوع کا فائدہ اٹھایا، جسے برطانیہ نے اس لیے منتخب کیا تھا تاکہ وہ کافر مغرب کے لیے ایک ہراول دستے کا کام دے سکے اور ریاستِ خلافت کے دوبارہ ظہور کو روکا جا سکے، جس کے خلاف برطانیہ نے اسی دور میں عرب اور ترک قوم پرستوں کے ساتھ مل کر سازش کی تھی جب اس ناجائز وجود کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ مسئلہ درحقیقت کفر کے سرغنہ برطانیہ کے حکم پر فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک وجود کے قیام، خطے میں اس کے عرب اور ترک ایجنٹوں کے ساتھ سستے گٹھ جوڑ اور باقی کافر مغربی ممالک کی رضامندی کا معاملہ ہے۔ اور 1948 میں فلسطین کی سرزمین کے ایک حصے پر یہودی وجود کے سرکاری قیام اور اسے حاصل ہونے والی باقاعدہ بین الاقوامی حمایت کے بعد سے، اس نے عالمِ اسلام کے دل میں کافر استعمار کے ہراول دستے کے طور پر اپنی بقا کے لیے کچھ ناگزیر تصورات بنائے ہیں۔ یہ تین امور پر مشتمل ہیں:
1- سرحدوں کی توسیع: جب سے برطانیہ نے 1948 میں اسے قائم کیا ہے، یہودی وجود فلسطین کی بقیہ زمین پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس کی موجودہ سرحدیں کمزور ہیں اور ان میں منسب اسٹریٹجک ڈیپتھ نہیں ہے، خاص طور پر جبکہ وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ دنیا بھر کے تمام یہودیوں کا وطن بنے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، اس نے پڑوسی ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے 1967 میں غزہ کی پٹی اور فلسطین کے بقیہ حصوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، اور مغربی کنارہ (جو کہ اردن کا حصہ تھا) بھی اس کے زیرِ اثر آ گیا۔ اگرچہ اس کی یہ توسیع "قبضے" کے نام سے جانی جاتی رہی، لیکن اس نے 1967 میں غصب کیے گئے علاقوں کو اپنا مستقل حصہ بنانے کے لیے ایک طویل مدتی حکمتِ عملی وضع کر لی تھی۔
2- ریاست کی یہودیت: مقامی اور عالمی صیہونی تحریک نے یہودی وجود کو صرف یہودیوں کا قومی وطن قرار دینے اور اس وجود کے یہودی تشخص کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہودیوں نے اس سٹریٹیجک ہدف کو چھپایا نہیں بلکہ 1948 سے ہی طاقت کے زور پر اہل فلسطین کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا شروع کر دیا، جہاں یہودیوں نے ایسے قتلِ عام کیے جس سے خوف و ہراس پھیل گیا، جیسے کہ کفر قاسم اور دیر یاسین وغیرہ میں ہونے والے واقعات۔ غزہ کی پٹی پر حالیہ جنگ کے دوران زبردستی بے دخلی (ترکِ وطن) کی باتیں زور پکڑ گئیں، اور مغربی کنارے میں تشدد، قتل و غارت اور گھروں کو مسمار کرنے کے واقعات کے ذریعے وہاں کے لوگوں کو ان کی زمینوں اور گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا اختتام حال ہی میں مغربی کنارے کے بعض علاقوں کی زمینوں کو رجسٹر کرنے کے فیصلے پر ہوا، تاکہ وہ براہِ راست یہودی وجود کے کنٹرول میں آ جائیں اور عملی طور پر انہیں باقاعدہ طور پر اپنے وجود میں شامل کر لیا جائے۔
3- سٹریٹیجک برتری: یہودی وجود اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ وہ خطے میں سٹریٹیجک فوجی برتری حاصل رکھے، تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے اور کسی بھی ایسی فوجی کارروائی کو روک سکے جو اس کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔ یہودی وجود فضائی دفاعی نظام، ہوا بازی، میزائلوں اور ڈرونز کے لحاظ سے ایک زبردست روایتی فوجی قوت رکھتا ہے، اس کے علاوہ ایٹمی ہتھیاروں کا نظام بھی اس کے پاس موجود ہے جو کسی بھی ایسی جنگ کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو اس کے وجود کو خطرے میں ڈال دے۔ سٹریٹیجک برتری کی یہ حکمتِ عملی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خطے کی کوئی بھی ریاست ایسے ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے جیسے کہ ایران کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔
فلسطین کے مسئلے کی اصل بنیاد یہی ہے۔ یہ پناہ گزینوں کا مسئلہ نہیں ہے، اور نہ ہی یہ محض فلسطین یا اہل فلسطین کا مسئلہ ہے، بلکہ یہ یہودیوں اور ان کےناجائز وجود کا، اس کی توسیع کا، اہل فلسطین کو ان کے علاقوں سے نکال باہر کرنے کا، اور سٹریٹیجک برتری بالخصوص ایٹمی برتری کا مسئلہ ہے۔ بین الاقوامی نظام میں عالمی اور علاقائی سطح پر اس مسئلے کو "مسئلہ فلسطین" کی اصطلاح دے دی گئی ہے، جس کا بنیادی مواد دو باتوں پر مشتمل ہے۔ پہلی: فلسطینیوں کے لیے ایک ایسی ریاست کا قیام جسے اہل فلسطین اور خاص طور پر عرب ممالک تسلیم کریں، کہ یہ ان فلسطینیوں کی ریاست ہے جنہیں ان کی زمینوں اور ملک سے نکالا گیا تاکہ انہیں "ریاستِ فلسطین" نامی جگہ پر بسایا جا سکے۔ اور دوسری بات پناہ گزینوں کا مسئلہ ہے جسے اب تک 78 سال بیت چکے ہیں، اور جسے "فلسطین" نامی ایک ریاست کے ذریعے ختم کرنا ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے کو خطے کا مرکزی مسئلہ بنا کر، یہودی وجود ان سرخ لکیروں سے تجاوز کر گئی ہے جو اس وجود کے خاتمے اور فلسطین کی پوری زمین کو اس کے اصل وارثوں یعنی امتِ مسلمہ (جس کا اہل فلسطین ایک بنیادی حصہ ہیں) کو واپس کرنے کا تقاضا کرتی ہیں۔
اسی لیے دنیا بھر کے ممالک، خواہ وہ پہلی صف کے ہوں جیسے برطانیہ، فرانس، روس اور چین، یا دوسری صف کے جیسے باقی یورپی ممالک، یا تیسری صف کے جیسے افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے ممالک جن میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں، یہ سب مسلسل اور بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ اہل فلسطین کے لیے ایک ریاست بن جائے۔ یہ اس لیے نہیں کہ ان کا اصل مسئلہ ان کا عنوان ہے، بلکہ اس لیے کہ "فلسطینی ریاست" کے نام سے ایک ادارے کا قیام یہودی وجود کو ایک مستحکم وجود بنا دے گا، جس سے قبضے کی حیثیت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور اسے کسی دوسرے کی زمین پر جارح قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، اگر تمام اہل فلسطین کے لیے کوئی ریاست بنتی ہے (خواہ وہ اندرونِ ملک ہوں یا اردن، شام اور لبنان کے کیمپوں میں یا دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہوں)، تو یہودیوں کی طرف سے ایک اور مسئلہ کھڑا کر دیا جائے گا، اور جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ وہ ایک بہتان تراش قوم ہیں۔
یہ مسئلہ اس تصور سے پیدا ہوگا کہ اس علاقے میں (جسے یہودی ریاست سمجھا جاتا ہے) اہل فلسطین کی سابقہ موجودگی کو "یہودیوں کی زمین پر فلسطینیوں کا قبضہ" قرار دیا جائے گا۔ یعنی بجائے اس کے کہ یہودی فلسطین کے غاصب کہلائیں، الٹا اہل فلسطین کو "یہودا اور سامرہ" اور تاریخی فلسطین کی زمین پر قابض بنا دیا جائے گا۔ اور یہودیوں سے یہ بعید نہیں کہ وہ اس بنیاد پر غیر معینہ مدت تک مالی معاوضوں کا مطالبہ شروع کر دیں۔
اب رہا یہ سوال کہ اہل فلسطین کے لیے یہ ریاست کیسے بنے گی، کہاں بنے گی اور اس کی شکل کیا ہوگی، تو یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ امریکہ کی رائے میں مغربی کنارے کی 30 فیصد زمین کا یہودی وجود میں انضمام معقول ہے اور باقی زمین پر ریاست قائم کر دی جائے۔ جبکہ یہودی وجود کا خیال ہے کہ مشرقی اردن، جہاں فلسطینیوں کی آبادی 60 فیصد سے زیادہ ہے، فلسطینی ریاست کے لیے موزوں جگہ ہے، خواہ مکمل طور پر یا اہل اردن کے ساتھ شراکت داری میں۔ رہی بات عرب ممالک اور اردن کی، تو ان کی رائے، قبولیت یا انکار کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ ایسی چھوٹی ریاستیں ہیں جنہوں نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اپنے مغربی آقاؤں کی مکمل غلامی قبول کر لی ہے۔ وہی مغربی طاقتیں جنہوں نے یہودی وجود کو اپنا ہراول دستہ بنا کر قائم کیا تاکہ اسے اسلام کے پرچم تلے اس خطے کی قوت کی کسی بھی بحالی کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
یہی وہ منصوبہ ہے جو کافر استعماری ممالک بنا رہے ہیں، یہی وہ چیز ہے جو خطے میں یہودی چاہتے ہیں، اور یہی وہ سازش ہے جس میں مسلمان حکمران غداروں کے طور پر شریک ہیں۔ جہاں تک امتِ مسلمہ کی خواہش کا تعلق ہے، تو وہ بلاشبہ یہودی وجود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے، بلکہ عالمِ اسلام میں موجود ان تمام کاغذی ریاستوں کا مکمل خاتمہ کر کے ان کی جگہ ایک ایسی واحد مخلص ریاست کا قیام ہے جو اسلام کے عقیدے اور نظام پر قائم ہو، اسلام کے علم اور پرچم کو تھامنے والی ہو، رب العالمین کی وفادار ہو اور سوائے اللہ واحد و قہار کے کسی کو خاطر میں نہ لاتی ہو۔