Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

جدید استعمار: مغربی غلبے اور منصوبۂ خلافت کے درمیان حقِ حاکمیت کا معرکہ

 

 

تحریر: استاد محمود اللیثی

 

(ترجمہ)

 

آج کے دور میں استعمار کو لازمی طور پر زمین پر قبضہ کرنے والے سپاہی، محل میں بیٹھے کسی ہائی کمشنر یا اداروں پر لہراتے جھنڈے کی ضرورت نہیں رہی۔ اگرچہ ذرائع اور طریقے بدل چکے ہیں، مگر حقیقت اب بھی وہی ہے: یہ کشمکش دراصل حقِ حاکمیت کی کشمکش ہے کہ آیا یہ حاکمیت شریعت کی ہو گی یا بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کی؟ کیا فیصلہ امت کے عقیدے سے نکلے گا یا مغرب کے ارادے کے تابع ہو گا؟

 

دونوں عالمی جنگوں کے بعد، یورپی استعماری قوتیں بہت سے مسلم ممالک سے پیچھے ہٹ گئیں، "آزاد" ریاستوں کا اعلان ہوا، قومی پرچم لہرائے گئے اور نئے دساتیر (آئین) تیار کیے گئے۔ لیکن یہ آزادیاں فاتحین کے وضع کردہ ایک ایسے بین الاقوامی نظام کے فریم ورک میں پیدا ہوئیں جو قومی ریاست (نیشن سٹیٹ)، مقامی معیشتوں کو عالمی سرمایہ دارانہ منڈی سے جوڑنے اور سیاسی فیصلوں کو بین الاقوامی طاقت کے توازن کی مساواتوں کے تابع کرنے پر مبنی ہے۔ اس طرح استعمار براہِ راست قبضے سے نکل کر بالواسطہ غلبے (Hegemony) کی شکل اختیار کر گیا۔

 

قدیم استعمار زمین پر قبضہ کرتا تھا اور اپنے سپاہیوں اور اہلکاروں کے ذریعے اسے چلاتا تھا، جبکہ جدید استعمار زیادہ خطرناک ذرائع یعنی بین الاقوامی معاہدوں، مالیاتی اداروں، عسکری وابستگی اور مغربی تہذیبی نمونے سے فکری لگاؤ کے ذریعے فیصلے (Decision-making) پر قبضہ کرتا ہے۔ اب استعمار کو خود حکومت کرنے کی ضرورت نہیں رہی، جب تک کہ مقامی سیاسی نظام اسی دائرے کے اندر کام کرتا رہے جو اس نے کھینچا ہے، اور حکمرانی، معیشت اور معاشرت میں وہی تصورات اپنائے رکھے۔

 

جدید استعمار کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ غلامی اور تابعداری کو خود مختاری کا لباس پہنا دیتا ہے۔ ریاست کے پاس جھنڈا، فوج، قومی ترانہ اور اقوامِ متحدہ کی رکنیت تو ہوتی ہے، لیکن جب وہ کوئی اسٹریٹجک معاشی فیصلہ کرنا چاہتی ہے تو اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کی شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب وہ اپنی مانیٹری یا تجارتی پالیسی بدلنے کا سوچتی ہے، تو وہ وعدوں اور معاہدوں کے ایسے جال سے ٹکراتی ہے جو اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیتے ہیں۔ اور جب وہ سیاسی طور پر طے شدہ لائن سے ہٹنے کی کوشش کرتی ہے، تو اسے سفارتی دباؤ، معاشی پابندیوں یا حفاظتی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

حقیقت میں مسئلہ صرف بیرونی دباؤ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ موجودہ سیاسی ڈھانچے کی بنیاد تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ قومی ریاستیں جو خلافت کے خاتمے کے بعد وجود میں آئیں، اسلامی عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ وطن پرستی اور قوم پرستی کی بنیاد پر بنائی گئیں جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں اور ہر خطے کے مفادات کو دوسروں سے الگ کر دیتی ہیں۔ اس طرح ایک امت ایسے متصادم وجودوں میں بدل گئی جن میں سے ہر ایک پر الگ الگ اثر انداز ہونا آسان ہو گیا۔

 

1924ء میں خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ امت کی تاریخ کا ایک اہم ترین موڑ تھا، کیونکہ اس نے اس جامع سیاسی وجود کو ختم کر دیا جو اپنے آخری مراحل میں کمزوری کے باوجود مسلمانوں کی سیاسی وحدت کی علامت تھا۔ اس وقت سے مسلم ممالک کی دوبارہ تشکیل ان حدود کی بنیاد پر ہوئی جو استعمار نے کھینچی تھیں اور ان مفادات کی بنیاد پر ہوئی جنہیں وہ برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تمام خطوں میں سیاسی فیصلہ سازی ایک ایسے مغربی سرمایہ دارانہ نظام سے جڑ گئی جو نہ تو امت کے عقیدے سے نکلتا ہے اور نہ ہی اس کے مفادات سے۔

 

آج معاشی غلبہ مقامی کرنسیوں کو ڈالر سے جوڑنے، معیشت کو سودی قرضوں پر منحصر کرنے اور بازاروں کو مغربی مصنوعات کی کھپت کا مرکز بنانے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے، امت کی دولت اور وسائل کی منظم لوٹ مار تو اس کے علاوہ ہے۔ وہ ممالک جو تیل، گیس اور معدنیات کی بے پناہ دولت کے مالک ہیں، وہ بھی دائمی مالیاتی خسارے، ٹیکنالوجی کی غلامی اور اسٹریٹجک مینوفیکچرنگ میں کمزوری کا شکار ہیں! یہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ اس معاشی ڈھانچے کا نتیجہ ہے جو ان ممالک کو ایک تابع اور غلام کی حیثیت میں رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

 

جہاں تک عسکری غلبے کا تعلق ہے، تو وہ اسلحہ سازی کے ان معاہدوں میں نظر آتا ہے جو افواج کو ہتھیار برآمد کرنے والے ممالک کے اسپیئر پارٹس، دیکھ بھال اور اپ گریڈیشن کا مستقل محتاج بنا دیتے ہیں، نیز مغربی عسکری نظریات سے وابستگی اور ان اتحادوں میں شرکت میں نظر آتا ہے جن کی ترجیحات امت کی مرضی سے باہر طے کی جاتی ہیں۔ اس طرح وہ فوج جسے امت اور اس کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، وہ بین الاقوامی توازن کے اس نظام کا حصہ بن جاتی ہے جس میں امت کے پاس فیصلے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

 

اسلام کے نقطہ نظر سے اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ حقِ حاکمیت (بالادستی) شریعت کی نہیں بلکہ بین الاقوامی نظام کی ہے۔ اسلام میں حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ قانون سازی اور حکمرانی کا سرچشمہ قرآن اور سنت ہو، اور ریاست اندرون ملک اسلامی احکام کے نفاذ کی پابند ہو اور اسے پوری دنیا تک پہنچائے۔ لیکن جب قوانین انسانوں کے بنائے ہوئے دساتیر سے لیے جائیں، دین کو حکومت سے الگ کر دیا جائے، اور پالیسیوں کو بیرونی احکامات کے تابع کر دیا جائے، تو پھر نام نہاد "مکمل آزادی" کی باتیں محض رسمی بن کر رہ جاتی ہیں۔

 

آج کی کشمکش محض اثر و رسوخ کی جنگ نہیں بلکہ دو ماڈلز کے درمیان ایک تہذیبی تصادم ہے: ایک سرمایہ دارانہ ماڈل جو صرف مادی فائدے اور محدود مفاد پر مبنی ہے، اور دوسرا اسلامی ماڈل جو عقیدے پر قائم ہے اور سیاست کو شرعی احکام کے مطابق لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال قرار دیتا ہے۔ چنانچہ حقیقی آزادی موجودہ فریم ورک کے اندر کچھ پالیسیوں کی جزوی تبدیلی سے حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ خود اس ڈھانچے کو جڑ سے تبدیل کرنے سے ہی ممکن ہے۔

 

جدید استعمار کا توڑ جذباتی نعروں یا وقتی ردعمل سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک ایسے اصولی سیاسی منصوبے کی ضرورت ہے جو ریاست کی تعمیرِ نو اسلام کی بنیاد پر کرے۔ ایک ایسا منصوبہ جو حاکمیت شریعت کو دے اور اقتدار امت کے سپرد کرے، اور ایک ایسا خود مختار معاشی نظام قائم کرے جو سود کے خاتمے، قدرتی وسائل کی عوامی ملکیت اور دولت کی منصفانہ تقسیم پر مبنی ہو، اور سیاسی فیصلوں کو استعماری بین الاقوامی اداروں کی غلامی سے آزاد کرائے۔

 

یہ مقصد موجودہ جغرافیائی تقسیم (قومی ریاستوں) کے سائے میں حاصل نہیں ہو سکتا، کیونکہ  چھوٹا ملک ہمیشہ دباؤ اور بلیک میلنگ کا شکار رہے گا۔ اصل طاقت امت کی وحدت میں ہے، یعنی ایک ایسی واحد سیاسی ریاست کے وجود میں جو امت کی انسانی، معاشی اور فوجی توانائیوں کو اکٹھا کر دے اور اسے بین الاقوامی معاملات میں ایک اہم اور ناقابلِ تسخیر قوت بنا دے۔ اسی لیے خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کا قیام کوئی محض تاریخی یا جذباتی مسئلہ نہیں، بلکہ فیصلوں کی آزادی اور حقِ حاکمیت کی واپسی کے لیے ایک سیاسی ضرورت ہے۔

 

حقیقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فوجیں تو پیچھے ہٹ سکتی ہیں، لیکن غلبہ تب تک باقی رہتا ہے جب تک اس کی فکری اور سیاسی بنیادوں کو جڑ سے نہ اکھاڑ دیا جائے۔ وہ استعمار جو قرضوں، معاہدوں اور فکری وابستگیوں کے ذریعے کام کرتا ہے، وہ فوجی استعمار سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے؛ کیونکہ یہ ریاست کے ثقافتی، قانونی اور معاشی ڈھانچے میں سرایت کر جاتا ہے، اور اشرافیہ و نسلِ نو کے شعور کی نئی صورت گری کرتا ہے۔

 

آج امتِ مسلمہ کو خود سے جو بنیادی سوال پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ: اصل میں فیصلے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ کیا ان عوام کے پاس جو اسلام کے مطابق حکمرانی چاہتے ہیں، یا بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کے پاس؟ اس کشمکش کی نوعیت کو سمجھنا آزادی کی راہ میں پہلا قدم ہے۔ جبکہ فیصلہ کن مرحلہ ایک ایسی جامع سیاسی ریاست کے قیام کے لیے شعوری اور منظم جدوجہد ہے جو امت کو اس کی وحدت واپس دلائے، اسے غلامی کے دائرے سے نکال کر حاکمیت کے مقام پر فائز کرے، اور اسے فیصلوں کی تعمیل کرنے والے کے بجائے  "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے پرچم تلے فیصلے صادر کرنے والے کے مقام پر کھڑا کر دے۔

ولایہ مصر میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

Last modified onجمعرات, 19 مارچ 2026 22:25

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.