بسم الله الرحمن الرحيم
حزب التحریر کے شباب پر مقدمہ، سوڈانی حکومت کی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کی تصدیق کرتا ہے
تحریر: استاذ یعقوب ابراہیم - ولایہ سوڈان
(ترجمہ)
ایک ایسے وقت میں جب جنگ کے اثرات کے باعث سوڈانی عوام کو درپیش بحران سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں، یہ جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور سوڈان دنیا کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹیں سوڈانی معیشت کے 30 سال پیچھے چلے جانے کی وارننگ دیتی ہیں جبکہ سوڈان میں تقریباً تین کروڑ چالیس لاکھ افراد، جو کہ کل آبادی کا تقریباً دو تہائی ہیں، امداد کے سخت ضرورت مند ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ نوے لاکھ افراد خوراک کی شدید عدم دستیابی کا شکار ہیں اور بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے اس صورتحال کا خلاصہ کرتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران اور بھوک و بے گھری کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے۔
لڑائی کی شدت کردوفان اور بلیو نائل (نیلِ ازرق) کے علاقوں تک پھیل چکی ہے، جہاں مسلسل حملوں کی اطلاعات ہیں، خاص طور پر الابیض کے مضافات میں جہاں جنگ زدہ علاقوں سے فرار ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے۔ اس کے بجائے کہ حکومت اس منحوس جنگ کو ختم کرتی، دارفور کی علیحدگی کو روکتی اور سوڈان کے رستے ہوا زخم کو بھرتی، اس کے سیکورٹی اداروں نے 16 جنوری 2026 کو الابیض کی قدیم مسجد کے اندر سے حزب التحریر کے چار ارکان کو گرفتار کر لیا، اور وہ یہ ہیں: النذیر محمد حسین، امین عبدالکریم، عبدالعزیز ابراہیم، اور احمد موسیٰ۔ ان کی گرفتاری حزب کے شباب کی جانب سے سقوطِ خلافت کی 105 ویں برسی کے موقع پر ایک پرامن احتجاجی مظاہرے کے تناظر میں عمل میں آئی، جس سے استاذ النذیر محمد نے خطاب کیا تھا۔ چنانچہ ان کے خلاف دفعہ 69 "امنِ عامہ اور نظم و ضبط میں خلل ڈالنے" کے تحت رپورٹ درج کر دی گئی، جس کا اس مبینہ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور استغاثہ اور پھر عدالت نے شباب کو ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا۔
حکومت کی ناانصافی میں مزید شدت آگئی، اور اس کے عدالتی، قانونی اور سیکورٹی اداروں نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں۔ 5 فروری 2026 کو استغاثہ نے تین مزید مجرمانہ الزامات کا اضافہ کر دیا اور شباب کو حراست میں رکھا، انہیں ان کے ضمانت کے حق سے محروم کر دیا گیا، جس کی راہ میں ذلیل کرنے اور اسلام کی دعوت دینے والوں کو سزا دینے اور ان کی تذلیل کی بے لگام خواہش کے سوا کوئی قانونی رکاوٹ نہیں تھی۔ 22 فروری 2026 کو پہلی سماعت کی تاریخ پر، رضاکار وکلاء کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں، شکایت کنندہ کو سننے کے بعد (جو اس بات سے بے خبر تھا کہ وہ ایک بند گلی کی دیوار سے ٹکرا رہا ہے)، مہم کی دفاعی ٹیم کے سربراہ، مایہ ناز وکیل اور قانونی ماہر فقیر حاج نے جج کو دعوت کے علمبرداروں کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست پیش کی۔ تاہم، ناانصافی اور بہتان طرازی کے ایک اور فعل میں، جج نے درخواست کو اگلی سماعت تک ملتوی کر دیا اور شباب کو حراست میں رکھا۔ جج نے اپنے ہی قوانین اور اس اصول کو نظر انداز کر دیا کہ ملزم جب تک مجرم ثابت نہ ہو جائے بے گناہ ہوتا ہے، اور وہ اپنے دین کے شرعی احکامات کو بھی بھول گیا۔ یہ اسلام کی دعوت کو دبانے پر حکومت کے اصرار کو ظاہر کرتا ہے۔
پھر 12 اپریل 2026 کو، سب سے بڑے مجرم، الابیض کی جنوبی اور مغربی فوجداری عدالت میں اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے غور و خوض کیا اور سازشیں کیں، پھر اپنی ہی خوش فہمیوں میں اندھے ہو کر ان چاروں داعیانِ حق کو سزا سنا دی۔ اس تاریک دن ان کا سیاہ فیصلہ ہر ایک کے لیے تیس لاکھ سوڈانی پاؤنڈ (تقریباً 750 ڈالر) جرمانہ، یا عدم ادائیگی کی صورت میں ایک ماہ قید کی سزا تھی، جس کا اطلاق عدالتی فیصلے کی تاریخ سے ہونا تھا؛ انہوں نے اس ایک ماہ سے زائد عرصے کو یکسر نظر انداز کر دیا جو وہ پہلے ہی حراست میں گزار چکے تھے۔ اس فیصلے پر خود ان سب سے بڑے مجرموں یعنی عدالت کے جج نے دستخط کیے۔
کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو مساجد اور عوامی چوکوں میں لوگوں سے خطاب کرتے ہیں، انہیں امتِ مسلمہ کی وحدت کی بحالی کی دعوت دیتے ہیں، وہ وحدت جسے ملعون کافر استعمار نے پارہ پارہ کیا، اور جو منحوس 'سائیکس-پیکو' معاہدے کے ذریعے تقسیم کے بعد اب بھی ہماری سرزمینوں میں خون ریزی کے ذریعے توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، انہیں مجرم قرار دیا جائے؟ انہوں نے کافر مغرب کے حکم پر پہرے دار مقرر کر رکھے ہیں تاکہ امتِ مسلمہ کو کمزور، ذلیل اور منتشر رکھا جائے! کیا یہ ممکن ہے کہ دین کی اشاعت کی دعوت کو ایک ایسے ملک میں جرم قرار دیا جائے جہاں کے اکثر باشندے مسلمان ہیں؟ ایک ایسا ملک جو ہمارے آقا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے سے اسلام کے داخلے سے فیضیاب ہوا، ایک ایسا ملک جسے پورے سب صحارا افریقہ میں پہلی مسجد کی سعادت ملی، ایک ایسا ملک جو ڈونگولہ مسجد میں قرآنِ کریم کے نور سے روشن ہوا؟! یہ واقعی حیران کن ہے!
یہ شباب، جنہیں ناانصافی اور ظلم سے سزا سنائی گئی، انہوں نے صرف وہی کہا جس کا اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) اور اس کے معزز رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے: یعنی مسلمانوں کی اپنے دین کے نظامِ حکومت کی طرف واپسی، جو کہ خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوہ ہے۔ انہوں نے اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کے گھروں میں سے ایک گھر میں کلمہ حق بلند کیا، اور حاضرین نے ان کی دعوت پر لبیک کہا، نعرے لگائے اور خلافت کے قیام کے لیے کوشاں اپنے بھائیوں کی حمایت میں اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کی حمد و ثنا کی۔ اس بات نے ایجنٹوں اور منافقوں کو مشتعل کر دیا، جنہوں نے پھر اپنی طاقت جمع کی۔ جو لوگ باطل کے ذریعے بڑائی چاہتے ہیں وہ یقیناً مایوس ہوں گے۔ یہ شباب، جنہیں سزا دی گئی، محض ایک شرعی فریضہ ادا کر رہے تھے جو اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) نے تمام مسلمانوں پر فرض کیا ہے۔
یہ جج اور اس کے حواری جان لیں کہ اسلام مسلمانوں کو شرعی فرائض کی ادائیگی پر سزا نہیں دیتا۔ اس کے بجائے، یہ ان لوگوں کو سزا دیتا ہے جو اپنے شرعی فرائض میں غفلت برتتے ہیں، حرام کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں، یا اسلام اور مسلمانوں کے فائدے کے لیے خلافتِ راشدہ کی جانب سے جاری کردہ کسی بھی قطعی حکم یا ممانعت کی نافرمانی کرتے ہیں۔ ان تین صورتوں کے علاوہ، اسلامی ریاست کی رعایا کو کسی بھی فعل پر سزا نہیں دی جاتی۔ ان سزا یافتہ افراد کے لیے زیادہ موزوں یہ ہوتا کہ انہیں انعام و اکرام اور عزت سے نوازا جاتا، نہ کہ قید کے ذریعے ذلیل کیا جاتا؛ جبکہ وہ مجرم جنہوں نے ہتھیار اٹھائے، قتل کیا، بے گھر کیا، لوٹ مار کی اور خواتین کی آبروریزی کی، جنہوں نے ہر تصوراتی جرم کا ارتکاب کیا، انہیں ریاست نے اعلیٰ عہدوں سے نوازا اور اقتدار کے زہریلے لقمے میں شامل کیا! اسلام ایسے لوگوں کو سزا دیتا ہے، تو پھر آپ ایسا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟!
خلافت میں نظامِ عدلیہ کا مقصد لوگوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنا، معاشرے (جماعت) کے حقوق کو پہنچنے والے نقصان کا سدِ باب کرنا، اور افراد اور حکومتی ادارے کے کسی بھی رکن، خواہ وہ حکمران ہوں یا ملازمین، کے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ کرنا ہے۔ یہ وہ دائرہ کار ہے جس میں اسلام میں جج ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسے مسلمانوں کے اس کام میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے جس کے لیے وہ پیدا کیے گئے ہیں: یعنی اسلام کی دعوت، اس کے پیغام (رسالہ) کو پہنچانا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ ججوں کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجاً أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ﴾
"جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) روکتے ہیں اور اس میں کجی (ٹیڑھاپن) تلاش کرتے ہیں، یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں"۔ (سورۃ ابراہیم: 3)
خلافت میں عدلیہ اور سیکورٹی فورسز کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ﴾
"اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے مقابلے میں انہیں نیچا دکھانے (عاجز کرنے) کی کوشش کی، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے"۔ (سورۃ سبا: 5)
حق کی دعوت کو دبانے کی کوئی بھی کوشش نہ تو کوئی ہمدرد کان پائے گی اور نہ ہی اسے کوئی مددگار ملے گا، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ یقیناً اپنے مقصد (دین) کی نصرت فرمائے گا، چاہے مجرم اسے کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کریں۔
ظلم کرنے والے جان لیں کہ حزب التحریر کے شباب گرفتاریوں، مقدمات یا جرمانوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ وہ اپنی دعوت پر بلند و بالا پہاڑوں کی طرح ثابت قدم رہیں گے، یہاں تک کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی پکار کو غالب کر دے اور اسے ایک فاتحانہ اقتدار (سلطانًا نصيرا) عطا فرما دے، اور یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔