Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

 

متفرقات الرایہ – شمارہ 596

 

صفحہ اول کی سرخی

اس حقیقت کو بدلنے کا راستہ واضح ہے، اور یہ وہی راستہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت کے آغاز میں وحی کے نزول سے لے کر تاریخ کی عظیم ترین ریاست کی بنیاد رکھنے تک عمل کیا، اور یہی وہ راستہ ہے جس کی طرف حزب التحریر دنیا بھر کے مسلمانوں کو مسلسل پکار رہی ہے۔ لہٰذا، عہدوں، نشستوں اور کرسیوں کے ان تاجروں سے اپنا ہاتھ چھڑا لیں اور ہمارے ہاتھوں میں ہاتھ دیں تاکہ ہم معاملات کو ان کے اصل مقام پر واپس لائیں اور اسے نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کی صورت میں دوبارہ قائم کریں، جو قرآن کو وہی مقام عطا کرے گی جو رب العزت نے اس کے لیے پسند کیا ہے، یعنی ایک ایسا نور جس سے انسانیت روشنی حاصل کرے گی اور ایک ایسی ربانی ہدایت جو اس سے تنگی اور بدبختی کو دور کر دے گی۔

 

===

صفحہ اول کے لیے

 

 

کسٹم (محصولات) حرام ہے اور زندگی کو تنگ بنا دیتا ہے

 

سوڈان میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ نے کسٹم ڈالر کی قیمت میں 14 فیصد کا نیا اضافہ نافذ کیا ہے، اور کسٹم ڈالر درآمدات کی لاگت کا تعین کرنے میں ایک بنیادی عنصر اور اشیائے صرف اور پیداواری سامان کی قیمتوں میں اضافے کی براہ راست وجہ ہے۔ یہ حقیقت میں ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جسے آخر کار صارف ہی ادا کرتا ہے۔ جنوری 2025 سے اب تک کسٹم ڈالر کی قیمت میں نو بار اضافہ کیا جا چکا ہے، جو 2000 پاؤنڈ سے شروع ہو کر 3222.8 تک پہنچ گئی ہے، یعنی اس میں مجموعی طور پر 61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس نے جنگ کے سائے میں اشیاء کی قیمتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کا معیارِ زندگی گر گیا ہے اور ان کی قوتِ خرید میں شدید کمی آئی ہے۔

اس مصنوعی معاشی تباہی کی صورتحال کے پیشِ نظر، ریاست سوڈان میں حزب التحریر کے سرکاری ترجمان استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل) نے ایک پریس ریلیز میں درج ذیل نکات پر زور دیا:

 

اول: اسلام میں درآمدی سامان پر کوئی کسٹم نہیں لیا جاتا، کیونکہ یہ "مکس" (ناجائز ٹیکس) میں شمار ہوتا ہے جو کہ حرام ہے۔ اس بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لايَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ»(ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا) اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: «إِنَّ صَاحِبَ الْمَكْسِ فِي النَّارِ» (بے شک ٹیکس وصول کرنے والا آگ میں ہے)، اور یہاں "صاحبِ مکس" سے مراد ریاست ہے۔

 

دوم: سامان پر کسٹم لینا بالواسطہ ٹیکسوں کی ایک قسم ہے اور یہ حرام ہے کیونکہ یہ قیمتوں میں اضافے اور لوگوں کے لیے تنگی و مشقت کا باعث بنتا ہے۔ اس بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: «مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ لِيُغَلِّيَهُ عَلَيْهِمْ، كَانَ حَقّاً عَلَى اللَّهِ أَنْ يُقْعِدَهُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (جس نے مسلمانوں کی قیمتوں کے معاملے میں مداخلت کی تاکہ ان کے لیے نرخ بڑھا دے، تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ اسے قیامت کے دن آگ کی ایک بڑی چٹان پر بٹھائے)۔ اور آپ ﷺ نے یہ دعا بھی فرمائی: «اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئاً فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئاً فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ» (اے اللہ! جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور اس نے ان پر سختی کی، تو تو بھی اس پر سختی کر، اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور اس نے ان کے ساتھ نرمی کی، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما)۔

 

سوم: مقامی کرنسی  کو ڈالر کے ساتھ جوڑنا ہی وہ عمل ہے جس نے ریاست کو مالی طور پر غلام بنا دیا ہے اور وہ اپنی معیشت پر اختیار نہیں رکھتی۔ اس طرح وہ کافر ممالک کے ان اداروں کے رحم و کرم پر آ گئی ہے جن کے دلوں میں کوئی رحم نہیں ہے اور وہ ہمارے بارے میں کسی عہد و پیمان یا اخلاق کا لحاظ نہیں رکھتے، جیسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک۔ اصل اصول یہ ہے کہ ریاست کی کرنسی کو سونے اور چاندی کے ساتھ جوڑا جائے کیونکہ ان کی اپنی ایک ذاتی قدر ہوتی ہے، اس کے علاوہ یہ کہ بہت سے شرعی احکام بھی سونے اور چاندی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جبکہ سوڈان سونے کا ملک ہے جسے حکومت کی ان پالیسیوں کی وجہ سے لوٹا اور ضائع کیا جا رہا ہے جن کی نظر صرف لوگوں کی جیبوں پر ہے۔

 

استاد ابو خلیل نے اپنے بیان کا اختتام ان الفاظ پر کیا: سوڈان کے لوگ جان لیں کہ وہ جس مشقت اور معیشت کی تنگی کا شکار ہیں اس کی وجہ ملک کی غربت نہیں ہے، بلکہ کافر مغرب کے نظاموں یعنی لالچی سرمایہ داری (Capitalism) کا نفاذ ہے۔ ہمیں اس تنگ دستی کی حالت سے صرف اسلام کی طرف واپسی اور مال و معیشت وغیرہ کے متعلق اس کے احکام کا نفاذ ہی نکال سکتا ہے، اور یہ صرف اسلامی ریاست یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے سائے میں ہی ممکن ہے۔ وہی واحد ریاست ہے جو اس مصنوعی غربت کی حالت کو آسانی، خوشحالی اور باعزت زندگی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

===

صفحہ اول کے لیے ایک اور تحریر

 

روہنگیا مسلمان: ایک بھولا بسرا المیہ

 

کھلے سمندر میں 200 سے زائد مہاجرین لاپتہ ہو گئے ہیں جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے، جو ظلم و ستم اور دربدری سے دور امن اور زندگی کی تلاش میں ایک مایوس کن سفر پر نکلے تھے کہ ان کی کشتی الٹ گئی۔

الرایہ: روہنگیا مسلمانوں کے حالات انتہائی افسوسناک ہیں، جن کی اکثریت کو میانمار کی مجرم بدھ مت حکومت نے قتلِ عام کا نشانہ بنایا اور دوسروں کو ان کے گھروں سے نکال دیا تاکہ وہ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پناہ گزینوں کی زندگی گزاریں۔ یہ واقعہ روہنگیا مسلمانوں کی واحد تکلیف نہیں ہے، بلکہ موت کی کشتیوں میں یہ سفر اکثر گمشدگی، ڈوبنے اور بقا کی ایسی دردناک کہانیوں میں بدل جاتے ہیں جہاں ایک ماں اپنے آخری لمحات میں اپنے بچے کو سینے سے لگائے ہوئے ہوتی ہے، ایک باپ اپنے خاندان کے مستقبل کی تلاش میں ہوتا ہے اور نوجوان اپنی آنکھوں میں خواب لیے سمندر کی ان لہروں پر سوار ہوتے ہیں جنہیں ان پر ذرا بھی ترس نہیں آتا۔

 

روہنگیا کا بحران اور مسلمانوں پر آنے والی دیگر مصیبتوں نے ایک بات ثابت کر دی ہے کہ خلافت کے خاتمے کے بعد مسلمان کمزور اور بے بس ہو چکے ہیں، کیونکہ خلافت ہی ان کی ڈھال تھی جو ان کی حفاظت کرتی اور ان کا خیال رکھتی تھی۔

===

 

ریاستِ خلافت اسلام اور مسلمانوں کی عزت بحال کرے گی اور کفر و کافروں کو ذلیل و رسوا کرے گی

 

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے موجودہ حکمرانوں میں کوئی خیر نہیں، اور اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ راہِ راست پر آ جائیں۔ لہٰذا، اب صرف امتِ مسلمہ پر ہی بھروسہ کیا جا سکتا ہے جب وہ اپنی ریاست قائم کرے اور پھر ایک ہوش مند سیاسی قیادت اور فولادی عزم کے تحت ایک ریاست یعنی خلافتِ راشدہ میں متحد ہو جائے۔ ان کے کارنامے تاریخ کے صفحات میں درج ہیں، انہوں نے چند ہی برسوں میں وقت کی دو عظیم ترین سلطنتوں، فارس اور روم کو شکست دی تھی۔ انہوں نے زمین کے مشرق و مغرب میں اپنی فتوحات جاری رکھیں یہاں تک کہ اقوام ان کے تابع ہو گئیں، بڑے بڑے لشکر ان کے سامنے ڈھیر ہو گئے اور بادشاہوں، شہنشاہوں اور قیصر و کسریٰ کے تاج ان کے قدموں میں آ گرے۔ امریکہ کا مقدر بھی یہی ہے جہاں وہ اللہ کے حکم سے ٹوٹ جائے گا اور اپنے فوجی اڈے بند کرنے اور اپنی افواج کو بحرِ اوقیانوس کے پار واپس بلانے پر مجبور ہو جائے گا، تاکہ وہ شکست اور ذلت کا بوجھ اٹھا سکے، اور اس طرح اس کے ٹرمپ اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی ناک مٹی میں رگڑی جائے گی۔﴿قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾ "کافروں سے کہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے، اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے" (سورۃ آل عمران: 12)

 

یہ درست ہے کہ ایران خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کر رہا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ اس نے اسی طرح کے حملے یہودی وجود (اسرائیل) پر بھی کیے ہیں، اور یہ حملے کسی حد تک طاقتور بھی ہیں، لیکن ایرانی حکمران امریکہ کو شکست دے کر اسے پیچھے دھکیلنے کی طاقت نہیں رکھتے جب تک کہ خلافت قائم نہ ہو، جو اللہ کی مدد کرے اور اس کے احکام نافذ کرے، تو وہ اللہ کے حکم سے نصرت یافتہ ہوگی، اپنے عدل اور جہاد سے دنیا کو روشن کرے گی اور اللہ اسے اپنی فتح و نصرت سے نوازے گا۔ ﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ "اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا" (سورۃ محمد: 7)

 

اس کے بعد امریکہ کو ایک کے بعد ایک سبق سکھایا جائے گا یہاں تک کہ اس کی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ آج امریکہ مسلمانوں کی زمینوں اور ہوائی اڈوں سے مسلمانوں ہی کے خلاف لڑ رہا ہے اور اپنے ایجنٹوں کو یہودی وجود کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہا ہے، لیکن ریاستِ خلافت ان غداروں کے قلعوں میں گھس کر انہیں بدترین طریقے سے نکال باہر کرے گی، اور خلافت اپنے راستے میں مسلم عوام کو منظم کرے گی جس سے اس کی طاقت ایک ایسے سیلاب کی طرح بڑھ جائے گی جو مسلمانوں کے علاقوں سے باہر امریکی اڈوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ پھر ایک ایسا طوفان اٹھے گا جو راستے میں آنے والے حکمرانوں کے تخت و تاج کو ملیا میٹ کر دے گا، فلسطین کو آزاد کرائے گا اور یہودی وجود کو پیروں تلے روند ڈالے گا۔ یہ اللہ کے حکم سے بہت آسان اور ممکن ہے، اگرچہ بہت سے لوگ اسے محض ایک خواب سمجھتے ہیں، کیونکہ امت کے پاس ایک ایسا عقیدہ موجود ہے جو دریا کی طرح متحرک ہے، اور اس کے دل میں امریکہ اور یہودیوں کے شدید ترین اور مسلسل بڑھتے ہوئے ظلم کی وجہ سے ان کے خلاف گہری نفرت بھری ہوئی ہے۔ نصرت کے ان مناظر کا دیکھنا اللہ کے حکم سے دور نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی عظیم فتح کا اذن دے گا، اور اس وقت امتِ مسلمہ جو کچھ کرے گی اور میدانِ جنگ سے جو آوازیں بلند ہوں گی وہ آج قلم کے ذریعے بیان کیے جانے والے الفاظ سے کہیں زیادہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنا دستور ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: ﴿وَكَانَ حَقّاً عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ "اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے" (سورۃ الروم: 47)

 

(امیر حزب التحریر، جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے جاری کردہ سوال و جواب "ایران پر جنگ" سے اقتباس)

===

 

مسلم ممالک کی تقسیم ایک عظیم جرم ہے، جس میں حصہ لینے والا ہر شخص اس کے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا

 

یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے کہ شر کی جڑ، استعماری کافر امریکہ، اپنے ان ایجنٹوں کے ذریعے سوڈان میں انسانی جانیں لینے والی جنگ مسلط کرنے میں کامیاب ہے جو علانیہ اور کھلے عام اس کے منصوبوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ اس جرم میں ایک سازشی و گمراہ کن میڈیا اور وہ مفاد پرست سیاست دان بھی ان کے مددگار ہیں جن کا مقصد ان بوسیدہ کرسیوں پر براجمان رہنے کے سوا کچھ نہیں جنہیں استعماری کافر ہی کنٹرول کرتا ہے۔

 

مسلمانوں کے ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ایک سنگین جرم ہے، جس میں شریک ہر شخص گناہ کا مرتکب ہو گا۔ حضرت عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ، يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ، أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ، فَاقْتُلُوهُ» ( "تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جب تم سب ایک شخص (خلیفہ) پر متحد ہو، اور وہ تمہاری قوت کو توڑنا یا تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہے، تو اسے قتل کر دو" - صحیح مسلم)۔ اسی طرح امام مسلم نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:«إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ، فَاقْتُلُوا الآخِرَ مِنْهُمَا» ( "جب دو خلفاء کی بیعت کر لی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو")۔ یہ احادیث امت کی وحدت برقرار رکھنے اور تفرقے سے بچنے کے وجوب کی تاکید کرتی ہیں۔

 

لہٰذا، فوج کے مخلص افسران اور اہلِ قوت و اثر پر یہ لازم ہے کہ وہ اس مکروہ جرم کو روکیں، اور امریکہ سمیت تمام استعماری ممالک اور ان کے آلہ کاروں کو ہمارے ملکوں میں اپنے تباہ کن منصوبوں پر عمل کرنے سے باز رکھیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے امت کے عظیم منصوبے کی نصرت کریں، کیونکہ یہی واحد راستہ اور نجات کا ذریعہ ہے۔

===

 

پاک فوج کے مخلص سپاہیوں کے نام

 

اے پاکستان کے مسلمانوں اور پاک فوج کے مخلص سپاہیوں! آپ اہلِ اسلام ہیں اور جنگی مہارت و قوت کے مالک ہیں۔ آپ ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس خطے میں روسیوں اور انگریزوں کو شکست دی، اور آپ ہی آج امریکہ کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح مسلمانوں کی ایک واحد  قوت اپنے قومی مفادات کے تحفظ میں امریکہ کو رسوا کرنے، اس کے پروردہ یہودی وجود (اسرائیل) کو تکلیف پہنچانے اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تو ذرا سوچیں کہ اس وقت کیا عالم ہوگا جب امریکہ کا سامنا خلافت کی قیادت میں ایک ایسی متحد اسلامی قوت سے ہوگا جو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں کو کنٹرول کرے گی اور یہودی وجود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی؟ اور اس وقت کیا منظر ہوگا جب یورپی ممالک ایک ایک کر کے تیل کی فراہمی کے لیے آپ کی شرائط تسلیم کریں گے اور آپ کے ملک کے اندر تجارت کے لیے آپ کی شرائط پر معاہدوں پر دستخط کریں گے؟

 

امریکی تسلط کا جبر آج ہی ختم ہو سکتا ہے اگر آپ ان ایجنٹ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کر دیں جو امریکہ کی اصل طاقت کا منبع ہیں۔ آپ کے درمیان حزب التحریر موجود ہے جس کے پاس خلافت کا مکمل منصوبہ ہے، جو تمام مسلم ممالک کو اس کے سائے تلے متحد کرنے اور امت کی تمام تر قوتوں اور وسائل کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاکہ یہ امت نہ صرف اسلامی ممالک میں بلکہ پوری دنیا میں ایک غالب عالمی قوت بن کر ابھرے۔

 

پس، اپنی مجاہد پاک فوج کے بیٹوں کو پکاریں کہ وہ حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں تاکہ وہ سب کچھ حاصل ہو سکے جس کی آپ تمنا کرتے ہیں، یعنی دنیا میں فتح اور آخرت میں کامیابی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾"اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا"۔ (سورہ محمد، آیت نمبر 7)

===

 

اسلامی ممالک اور دنیا کا حقیقی حل سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے میں پنہاں ہے

 

مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے حقیقی حل یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظریے (Capitalism) کا کردار ختم ہو جائے، اور دنیا ایک ایسے نئے نظریے کی طرف نظریں جمائے جو اس کرہ ارض پر انصاف اور انسانیت کو بحال کر سکے۔ اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا نظریہ موجود نہیں ہے، جس کی عملی شکل نبوت کے نقشِ قدم پر قائم ہونے والی خلافتِ راشدہ ہے، کیونکہ صرف وہی اس سیارے پر انصاف کا نقشہ بدلنے اور اس کا نور پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے قدم کی ضرورت ہے، اور وہ اسے بین الاقوامی سطح پر خلافت کی صورت میں قائم کرنا ہے، اور یہ ذمہ داری ہم مسلمانوں کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ایسی جماعت موجود ہو جس کے پاس اس ریاست کے لیے مکمل منصوبہ ہو، جو اس کی کشتی کو ساحلِ مراد تک لے جانے کی اہل ہو، اور سرمایہ دارانہ نظام کے باقی ماندہ اثرات کا مقابلہ کر کے اسے مکمل طور پر ختم کر سکے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج حزب التحریر موجود ہے جس کے پاس وہ تمام تیاریاں اور منصوبے موجود ہیں جو اس مقصد کے لیے درکار ہیں۔ اب صرف یہ کسر باقی ہے کہ افواج اس جماعت کی نصرۃ (عسکری مدد) کے لیے حرکت میں آئیں اور اسے اپنا منصوبہ نافذ کرنے کے لیے بااختیار بنائیں، تاکہ نبوت کے نقشِ قدم پر اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز ہو سکے۔ ہماری اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جنہیں وہ زمین پر خلافت و اقتدار عطا کرتا ہے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جنہیں وہ دوسروں سے بدل دیتا ہے۔ اے اللہ! ہمیں ان کاموں میں استعمال فرما جو تجھے پسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَإِن تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْماً غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئاً إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ﴾"پھر اگر تم منہ پھیر لو گے تو میں نے تمہیں وہ پیغام پہنچا دیا ہے جس کے ساتھ میں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں، اور میرا رب تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکو گے، بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے" (سورة ہود: 57)

===

ہمیں عزت صرف اسی راستے سے مل سکتی ہے جس سے ہمارے اسلاف کو عزت ملی تھی

، جنہوں نے حق کے ذریعے دنیا کو فتح کیا اور عدل کے ذریعے باطل کو ذلیل و رسوا کیا

 

انسانیت جس گہری کھائی میں گری ہے وہ غیر منصفانہ اور ظالمانہ قوانین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا نتیجہ ہے، جس کی بنا پر امتِ مسلمہ پر یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ ان تمام انسان ساختہ نظاموں کو جڑ سے مسترد کر دے، اور ہر اس شخص سے اپنی لاتعلقی اور برأت کا اظہار کرے جو امت کے ذہنوں میں یہ زہریلے افکار انڈیل رہا ہے۔ آج کا بنیادی فریضہ اور جڑ سے حل یہ ہے کہ اس بات کا پختہ یقین کر لیا جائے کہ بین الاقوامی قانون 'سافٹ وار' (نرم جنگ) کا ایک ایسا ہتھیار ہے جو امت کو اس کے اسلحے اور جہادی عقیدے سے محروم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، کیونکہ امت کی اس بیداری سے ظلم کے ایوان لرزنے لگتے ہیں۔ ہر وہ مسلمان جو لوگوں کے بجائے صرف اللہ سے ڈرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ مخلص کارکنوں کے ساتھ مل کر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے فوری طور پر سنجیدہ جدوجہد میں شامل ہو جائے۔ یہ وہ ربانی نظام ہے جو اپنی حاکمیت وحی سے حاصل کرتا ہے اور ایک جامع عقیدے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے تاکہ وہ لوگوں کے مفادات کی ایسے کامل عدل کے ساتھ نگہبانی کر سکے جو نہ تو خواہشات کے پیچھے چلتا ہے اور نہ ہی کسی طاقتور کی طرفداری کرتا ہے۔ ہمارا یہ ایمان کہ یہ دین اللہ کی طرف سے تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے، ہمیں اس بات کا پابند بناتا ہے کہ ہم اپنے عقیدے اور عمل کے ذریعے مخلصین کے ساتھ مل کر ایک راشدہ اسلامی ریاست کے قیام کی بھرپور کوشش کریں۔ ایسی ریاست جو ظالموں کو اپنے عدل کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دے، سرکشی کی کمر توڑ دے اور غلامی کی ان زنجیروں کو پاش پاش کر دے جو جدید اور خوشنما ناموں کے لبادے میں امت کی گردنوں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ ہم آج کھلے عام بین الاقوامی طاغوتی نظام کا انکار کرتے ہیں اور صرف اللہ کی شریعت کی حاکمیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمیں وہی چیز عزت دلا سکتی ہے جس نے اگلوں کو عزت بخشی تھی؛ یعنی وہ لوگ جنہوں نے ایمان لانے کے بعد استقامت دکھائی، پھر حق کے ذریعے دنیا کو فتح کیا اور عدل و انصاف کے ذریعے باطل کو ذلیل و خوار کیا۔

===

 

سود خور قرضوں کے جال اور ان سے نجات کا راستہ

 

مصری وزیر خارجہ، بین الاقوامی تعاون اور بیرون ملک مقیم مصریوں کے امور کے وزیر بدر عبد العاطی نے منگل، 14 اپریل کو واشنگٹن کے دورے کے موقع پر، ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے موسم بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے دوران، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے مینیجنگ ڈائریکٹر مختار دیوب سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ نے مصر میں نجی شعبے کی مدد اور اسے بااختیار بنانے میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے کردار کو سراہا (وزارت خارجہ)۔

 

اس حوالے سے حزب التحریر کے ولایہ مصر کے میڈیا دفتر کے رکن استاد سعید فضل نے مرکزی میڈیا دفتر کے ریڈیو کے لیے اپنے تبصرے میں کہا: "یہ ملاقات اور اس میں توانائی، کان کنی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نجی شعبے کو بااختیار بنانے کے جو وعدے کیے گئے ہیں، وہ حقیقت میں اس 'سفارتی بھیک' کی پالیسی کا تسلسل ہے جس میں یہ نظام مہارت رکھتا ہے۔ یہاں 'ساختی اصلاحات' اور 'لچکدار شرحِ مبادلہ' جیسے دلکش الفاظ کے پردے میں ریاستی اثاثوں کی فروخت اور آنے والی نسلوں کی دولت کو رہن رکھنے کی تلخ حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے"۔

اے اہلِ مصر! ان اجلاسوں میں جو کچھ طے پایا جا رہا ہے وہ آپ کے بچوں کے معاشی مستقبل کے لیے سزائے موت کے مترادف ہے۔ نجی شعبے کو بااختیار بنانے کا جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت غیر ملکی سرمایہ کاروں اور خودمختار فنڈز (Sovereign Funds) کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ ریاست کے کلیدی شعبوں پر قابض ہو جائیں۔ اس کے نتیجے میں مقامی شہری شعبہ محض ان مقتدر اداروں اور فوجی کمپنیوں کا بیگار مزدور بن کر رہ جائے گا جو بڑے منصوبوں کو ہڑپ کر لیتی ہیں اور عام ٹھیکیداروں کو ایسی قیمتوں پر کام کے چھوٹے ٹکڑے دیتی ہیں جو ان کی لاگت بھی پوری نہیں کرتیں، جس کی وجہ سے وہ بقا کی خاطر رشوت اور تکنیکی دھاندلی کے جال میں پھنسنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

 

ہم آپ کو پکارتے ہیں کہ اپنی آواز بلند کریں اور مصری فوج کے مخلص افسران سے مطالبہ کریں کہ وہ آپ کے وسائل کے ساتھ ہونے والے اس کھلواڑ کو روکیں۔ وہ حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں تاکہ وہ تبدیلی کے اس حقیقی منصوبے کی قیادت کرے جو مصر کو اس کی خودمختاری اور امت کو اس کی عزت واپس دلائے اور اسے استعمار کے حکم ناموں اور ان کے آلہ کاروں سے نجات دلائے۔

===

 

برطانیہ دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے ذریعے تنزانیہ میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے

 

8 اپریل 2026 کو دولتِ مشترکہ کے خصوصی ایلچی اور ملاوی کے سابق صدر ڈاکٹر لازارس چکویر، 29 اکتوبر 2025 کے عام انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کو فروغ دینے کی غرض سے دارالسلام پہنچے۔

 

تنزانیہ میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن استاد سعید بیتوموا نے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے اپنے تبصرے میں کہا: "چونکہ تنزانیہ استعماری دور سے لے کر 1961 میں اپنی (نام نہاد) آزادی تک برطانیہ کے زیرِ اثر رہا ہے، اس لیے برطانیہ نے ایک بااثر قوت کے طور پر ہمیشہ دولتِ مشترکہ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی بحرانوں میں مداخلت کی ہے۔ اس کا مقصد اپنے اثر و رسوخ کو بچانا اور امریکہ کو مداخلت سے روکنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر 1996 میں جب زنجبار میں سیاسی تناؤ پیدا ہوا تو دولتِ مشترکہ نے اپنے اس وقت کے سیکرٹری جنرل ایمیکا انیاوکو کو بطور سفارتی ثالث بھیجا تاکہ دو حریف جماعتوں کے درمیان اقتدار کی شراکت کا معاہدہ کرایا جا سکے"۔

مزید برآں، یہ ایلچی اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ افریقہ اور دیگر خطوں کے نام نہاد ترقی پذیر ممالک نہ تو آزاد ہیں اور نہ ہی خود مختار، بلکہ وہ اپنے مسائل حل کرنے میں بالکل عاجز ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی علاقائی تنظیمیں، جیسے مشرقی افریقی برادری (EAC) اور براعظمی تنظیمیں جیسے افریقی یونین (AU)، اپنے ممالک کو بچانے یا کوئی حقیقی حل تلاش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، بلکہ وہ لندن، واشنگٹن اور پیرس کے استعمار سے احکامات اور جھوٹے حل وصول کرتی ہیں۔

 

اب وقت آ گیا ہے کہ افریقہ کے عوام اسلام کے دین کو اپنائیں اور اس کی حمایت کریں۔ اسلام اپنی ریاست 'خلافت' کے ذریعے ہی امن اور عدل لائے گا، مسلمانوں اور انسانیت کے استحصال اور خون خرابے کو روکے گا، اور تمام استعمار کو اسی طرح نکال باہر کرے گا جیسے سترہویں صدی عیسوی میں مشرقی افریقہ سے پرتگالیوں کو نکال کر ان کے قبضے کا خاتمہ کیا گیا تھا۔

 

 

Last modified onجمعرات, 23 اپریل 2026 14:19

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.