Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ایران - امریکہ کے مابین رسہ کشی :

امریکہ کی شدید بے تابی کہ جلد از جلد کوئی معاہدہ طے پا جائے جبکہ ایران کی طرف سے مزاحمت !

 

(عربی سے ترجمہ)

 

تحریر : أستاذ أسعد منصور

 

امریکی صدر، ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئےشدید بے صبرے پن اور بے تابی کا اظہار کر رہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کوشش میں ٹرمپ نے 11 اپریل، 2026ء کو اپنے ملک کے دوسرے اعلیٰ ترین عہدیدار، یعنی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) کو پاکستان بھیجا تاکہ اس معاہدے کو طے کیا جا سکے، مگر وہ ناکام رہا۔ اسی طرح ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیاکہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے، 21 اپریل، 2026ء کو جے ڈی وینس کو دوبارہ پاکستان بھیجے گا، لیکن ایران نے اس دور میں شرکت کرنے سے ہی انکار کر دیا جس سے ٹرمپ شدید مایوسی کے عالم میں بے بس ہو گیا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ 25 اپریل، 2026ء کو اپنے نمائندہ خصوصی، اسٹیو وِٹکوف (Steve Witkoff) اور اپنے داماد کوشنر (Kushner) کو پاکستان بھیجے گا، لیکن ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان سے باہر چلے جانے کے بعد ٹرمپ کو ان کا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔

 

چونکہ ایران نے امریکی وفد سے ملاقات کے لئے اپنی کسی آمادگی کا اظہار ہی نہیں کیا، چنانچہ اس کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ ’’وزیر خارجہ، عباس عراقچی پاکستان کے دورے پر ہیں اور انہوں نے پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں جنگ بندی، جنگ کے خاتمے سے متعلق پیش رفت اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے پاکستانی حکام تک تہران کا مؤقف بھی پیش کیا اور تحفظات بھی پہنچائے‘‘۔

 

خبر رساں ادارے، رائٹرز نے ایک پاکستانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ ’’عراقچی نے امریکی مطالبات پر ایران کے مطالبات اور تحفظات پیش کر دئیے ہیں، اور اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے مابین آئندہ کسی بھی قسم کی ملاقات کا کوئی پلان نہیں ہے‘‘۔ اسی طرح فارس نیوز ایجنسی نے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے‘‘۔

 

اس کے بعد عباس عراقچی نے عمان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ ایران مذاکرات کو پاکستان سے عمان منتقل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ کیونکہ اس اقدام کو عمان کے حوالے سے ایسے دیکھا جا رہا ہے تاکہ عمان ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرے، نہ کہ اس طرح کے مذاکرات کے ادوار جو 28 فروری، 2026ء کو ایران پر امریکہ اور یہودی وجود کی جارحیت سے پہلے ہوتے رہے تھے۔ اس سے قبل بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا ہو چکی تھی، جب 2015ء کے جوہری معاہدے (JCPOA) پر دستخط ہونے تک امریکی اور ایرانی وفود عمان میں ملاقاتیں کرتے رہے تھے۔ ایران آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے متعلق مذاکرات میں عمان کو بھی شامل کر کے اسے بھی بات چیت کا ایک فریق بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ، 26 اپریل، 2026ء کو ایرانی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ ’’عراقچی نے سلطان آف عمان کے ساتھ ملاقات کی اور ان سے آبنائے ہرمز میں بحری نقل وحمل کی سکیورٹی اور خلیج و بحیرۂ عمان کی سکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا‘‘۔ یوں عمان کو شامل کر کے ایران کا مقصد اپنے مذاکراتی مؤقف کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

 

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان، امریکی مطالبات تسلیم کرنے کے لئے ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ پاکستان کے مطلق العنان حکمران، آرمی چیف عاصم منیر نے 15 اپریل، 2026ء کو ایران کا تین روزہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے متعدد ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں، ان سے مشاورت کی اور مذاکرات کے نئے دور کے حوالے سے امریکہ کا پیغام گوش گذار کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ عاصم منیر ایرانی سیاست کے اصل مہروں کی شناخت کرنا چاہتے تھے اور اپنے آقا، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے صورتحال واضح کرنا چاہتے تھے۔ ٹرمپ نے بروزجمعرات، 23 اپریل، 2026ء کو بیان دیا کہ، ’’وہ سب الجھن کا شکار ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ ان کا لیڈر کون ہے۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں، ہم نے حقیقت میں ان کی قیادت کی تین صفوں کوختم کر ڈالا ہے۔ اور حتیٰ کہ وہ تمام لوگ بھی جو ان کے بالکل قریب تھے... اس لئے انہیں یہ سمجھنے میں سخت دشواری ہو رہی ہے کہ آخر کون ان کے ملک کی طرف سے بات کر سکتا ہے۔ انہیں کچھ بھی تو پتہ نہیں چل رہا‘‘۔

 

24 اپریل، 2026ء کو ٹرمپ نے کہا کہ، ’’تہران ہمارے مطالبات مان لینے کے مقصد سے ایک پیشکش پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور پھر ہم اس حوالے سے دیکھیں گے ... لیکن ہم نہیں بتانا چاہتے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ تاہم، ہم اس وقت ذمہ دار افراد کے ساتھ ڈیل کر رہے ہیں‘‘۔ یہ بات اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان انہیں ایران کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا ہے۔ اور جب ٹرمپ نے دیکھا کہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے نمائندوں، وٹکوف اور کوشنر سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ہے، تو اس نے یہ بیان دیتے ہوئے 25 اپریل، 2026ء کو ان کا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا کہ، ’’نہیں، میں نے کہہ دیا ہے کہ وہ 18 گھنٹے کا سفر کر کے وہاں نہیں جائیں گے‘‘۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’’ایرانی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اور یہ کہ تمام پتے اس کے ہاتھ میں ہیں جبکہ ایرانیوں کے پاس کچھ بھی نہیں، اور وہ جب بھی بات کرنا چاہیں تو انہیں صرف ہمیں کال کرنا ہوگی، لیکن آپ لوگ (اس کے نمائندے) محض بے معنی بات چیت کے لئے آئندہ 18 گھنٹے کا سفر کر کے وہاں نہیں جاؤ گے‘‘۔ یہ صورتحال ٹرمپ کی اس ناکامی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اب تک ایران کو اپنی شرائط پر معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے مجبور نہیں کر سکا۔

 

امریکہ کے برعکس، ایران کے انداز سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ایران کسی معاہدے کو طے کرنے کے لئے بالکل بھی بے تاب نہیں ہے اور نہ ہی اسے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی ہے، بلکہ وہ لڑنے کے لئے تیار ہے۔ جیسا کہ ایرانی ٹیلی ویژن نے اعلیٰ فوجی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے نشر کیا ہے کہ، ’’اگر امریکی افواج نے خطے میں اپنی ناکہ بندی اور بحری قزاقی جاری رکھی تو ہم انہیں منہ توڑ جواب دیں گے‘‘۔ نیز ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے 25 اپریل، 2026ء کو کہا کہ، ’’امریکہ بغلیں جھانک رہا ہے تا کہ جنگ کی دلدل سے نکلنے کی کوئی راہ مل سکے‘‘۔

 

چنانچہ ایران اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ امریکہ کو معاہدے پر دستخط کرنے کی کتنی سخت ضرورت ہے، اور وہ ٹرمپ کے نائب سے دوبارہ ملنے اور اس کے نمائندگان سے ملاقات کرنے سے انکار کر کے اپنے موقف کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ ٹرمپ کے لئے سبکی کا باعث بنا ہے اور اس کے منہ پر طمانچہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے وہ کمزور پوزیشن میں نظر آیا۔ اور اس صورتحال نے عالمی سطح پر نہ صرف ایران کی ساکھ کو بلند کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی امریکہ اور اس کے چیلے، صیہونی وجود کے ساتھ دوبارہ جنگ چھیڑنے کے لئے ایران کی تیاری کو بھی ظاہر کیا ہے۔ جبکہ ایران نے واشنگٹن کو واشگاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ وہ کسی قسم کے انتہائی مطالبات کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

 

یہ تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ عباس عراقچی روس کا دورہ کریں گے، کیونکہ ایران روس کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ان مذاکرات پر امریکہ کی اجارہ داری کو توڑ سکے اور اس کے پریشر کو کم کر سکے۔ لیکن امریکہ نے روس کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے، اور روس میں بھی اتنی جرأت نہیں کہ وہ امریکہ کو چیلنج کرے یا مذاکرات میں شمولیت کے لئے اس پر دباؤ ڈالے۔ بلکہ روس اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ امریکہ کو چیلنج کرنے یا اسے اشتعال دلانے سے بچے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یوکرین کے معاملے میں امریکہ اس کے خلاف ہی نہ ہو جائے۔ کیونکہ امریکہ نے یوکرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان علاقوں سے دستبردار ہو جائے جن پر روس نے قبضہ کر رکھا ہے، جو کہ روس کے مفاد میں ہے اور اسے وہاں اپنی جنگ جیتنے کی امید نظر آتی ہے، اور اسے وہ اپنے لئے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ لہٰذا، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ روس ایران کی خاطر امریکہ پر دباؤ ڈالے گا۔

 

ٹرمپ کو مذاکرات کے لئے جو چیز بے تاب کر رہی ہے، وہ ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کی خواہش ہے جو اسے ایک فاتح کے طور پر ظاہر کرے، تاکہ اس کی اور اس کی پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہو سکے، کیونکہ داخلی سطح پر اس کے ملک میں اس کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ ٹرمپ کو خوف ہے کہ نومبر میں ہونے والے کانگریس کے مڈٹرم الیکشن میں اس کی پارٹی کو شکست نہ ہو جائے، جو دو سال بعد ہونے والے صدارتی انتخابات پر منفی طور پر اثر انداز ہوگی۔

 

مزید برآں، عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی عالمی معاشی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری خود امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ 26 اپریل، 2026ء کی خبروں کے مطابق، آبنائے ہرمز کے آس پاس 600 سے زائد بڑے تجارتی بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں، کیونکہ ایران مطالبہ کر رہا ہے کہ آبنائے کو دوبارہ کھولنے سے پہلے اس کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کو ختم کیا جائے۔

 

امریکہ اب شش و پنچ کا شکار ہو چکا ہے؛ کیونکہ اگر وہ اپنی جارحیت دوبارہ شروع کرنا چاہے تو کیا وہ اپنے مقاصد حاصل کر بھی سکے گا یا نہیں، جبکہ وہ پہلے ہی چالیس دن تک یہ کوشش کر کے دیکھ چکا ہے؟ خود امریکہ کو بھی اپنے مقاصد کے حصول ہو جانے کے بارے میں شک ہے۔ لہٰذا، اس نے مذاکرات پر توجہ مرکوز کرنے اور ان کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دی، تاکہ مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں دوبارہ جارحیت شروع کرنے کی شرمندگی سے بچا جا سکے۔

 

ایسا لگتا ہے کہ ایران اس بات کو سمجھ گیا ہے، اسی لئے اس نے ٹرمپ کے نائب صدر اور اس کے نمائندگان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے سے انکار کر دیا تھا، اور وہ تمام محاذوں پر اپنے موقف کو مضبوط بنانے کے لئے کام کر رہا ہے۔ تاہم، ایران اس میدانِ عمل میں تنہا کھڑا ہے، جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، مسلم دنیا کی کمزور اور باہمی طور پر الگ تھلگ ریاستوں میں تقسیم کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

 

یہیں سے اس امر کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ تمام اسلامی ممالک کو ایک ریاست، یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت راشدہ کے سائے تلے متحد ہونا چاہیے، تاکہ امریکہ اور یہودی وجود کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوا جا سکے اور انہیں بدترین شکست سے دوچار کیا جا سکے۔

 

Last modified onہفتہ, 02 مئی 2026 02:09

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.