بسم الله الرحمن الرحيم
الرایہ کے متفرقات – شمارہ 597
صفحہ اول کی پیشانی پر
اے افواج پاکستان! یہ سنہری موقع آپ کے ہاتھ میں ہے۔ خلافت کو قائم کریں، مشرق وسطیٰ کو اپنی قیادت تلے متحد کریں اور امریکہ کو مسلم علاقوں سے نکال باہر کریں۔ اللہ کا وعدہ اور اس کی نصرت آپ کے ساتھ ہے۔ دنیا ایک بہت بڑی تبدیلی کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ آپ اپنے ایمان کی طاقت سے انصار مدینہ کی سنت پر چلتے ہوئے دنیا کو اسلام کی حکمرانی سے پھر سے روشناس کروا دیں۔
===
صفحہ اول کے لیے
جب طاقت کا افسانہ دم توڑ جائے
ایران پر امریکہ اور یہودیوں کی حالیہ جنگ نے ایک ایسی بڑی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے جسے مغرب اور بالخصوص امریکہ ایک طویل عرصے سے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا: وہ یہ کہ طاقت صرف ریاست کے پاس موجود طیارہ بردار بحری جہازوں، ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیروں، یا رعب و دبدبے اور غلبے کی نمائش میں نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل راز امت کے پاس موجود عالمی زندگی، اس کی معیشت کی شہ رگوں، اور اس کی توانائی، خوراک اور تجارتی سلامتی پر حقیقی اثر و رسوخ کی چابیوں میں پوشیدہ ہے۔
یہ بات اب بالکل واضح ہو چکی ہے کہ اسلامی ممالک تاریخ کے حاشیے پر نہیں کھڑے اور نہ ہی وہ دوسروں کے دستِ نگر ہیں، بلکہ وہ اس دور کے طاقت کے عظیم ترین ذخائر پر براجمان ہیں: وہ سمندری گزرگاہیں جہاں سے عالمی تجارت گزرتی ہے، تیل، گیس اور کھاد کے بے پناہ ذخائر، وہ جغرافیائی محلِ وقوع جس پر مشرق و مغرب کی نقل و حرکت کا انحصار ہے، اور وہ عوام جن کے پاس ایسی انسانی اور ایمانی توانائی موجود ہے کہ اگر اس کا درست رخ متعین کر دیا جائے تو وہ دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے۔ آبنائے ہرمز اس کی محض ایک مثال ہے؛ کتنی ہی سپر پاورز ایسی ہیں جن کی مارکیٹیں کانپنے لگتی ہیں، جن کے حساب کتاب بگڑ جاتے ہیں اور جن کی معاشی سلامتی صرف ہماری امت کی کسی ایک گزرگاہ کو ملنے والی محض ایک دھمکی سے خطرے میں پڑ جاتی ہے!
یہ ایک حقیقت کو آشکار کرنے والا لمحہ ہے: جسے 'عظیم طاقت' (سپر پاور) کہا جاتا تھا، وہ ان اثر و رسوخ کے ذرائع کے سامنے کھوکھلی ثابت ہوئی جو اللہ نے مسلم ممالک میں ودیعت کیے ہیں۔ وہ نظام جو دہائیوں سے مستحکم دکھائی دیتا تھا، اب اس حقیقت کے سامنے دراڑیں محسوس کر رہا ہے کہ اسلامی ممالک کے پاس ایسے پتے (ذرائع) موجود ہیں جو اپنے اثرات میں مہلک ترین ہتھیاروں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں، کیونکہ ان کا تعلق دنیا کی زندگی کی بنیادوں سے ہے۔ ان ذرائع کا سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک طور پر بہتر استعمال انہیں ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ طاقتور بنا سکتا ہے، کیونکہ یہ وہ ہتھیار ہے جو تباہی مسلط کرنے سے پہلے اپنی شرائط و مساوات منواتا ہے۔
پس اے امتِ مسلمہ! اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ تمہارے پاس کیا کچھ ہے، اپنی نظریں اپنے حقیقی مقام کی طرف اٹھاؤ، اور وہم کی ان زنجیروں کو توڑ دو جنہوں نے تمہیں چھوٹا بنا کر رکھا ہے۔ تم کوئی کمزور امت نہیں ہو، بلکہ ایک ایسی امت ہو جسے معطل کر کے رکھا گیا ہے۔ طاقت کا توازن محض اعداد و شمار سے نہیں بدلتا، بلکہ طاقت کے عناصر کے ادراک، ان پر مکمل گرفت اور انہیں استعمال کرنے کی جرات سے بدلتا ہے۔ اور جب یہ امت اپنے شعور کے ساتھ بیدار ہوگی، تو پوری دنیا جان لے گی کہ امریکی برتری کا دور کوئی اٹل فیصلہ (تقدیر) نہیں ہے، بلکہ اسلام کی سر زمین سے ایک نئی صبح جنم لے سکتی ہے۔ (مجلہ الوعی، شمارہ 477)
===
یہ بھی صفحہ اول کے لیے
اسلام ہی مسلمانوں کی آزادی کی ضمانت ہے
سوڈان میں جاری کشمکش درحقیقت ایک بین الاقوامی کشمکش ہے، جو ایک طرف فوجی قیادت کے ذریعے امریکہ کے درمیان ہے، اور دوسری طرف سویلینز (شہری قیادت) کے ذریعے یورپ اور بالخصوص برطانیہ کے درمیان ہے۔ ان دونوں فریقوں کو سوڈان کے لوگوں پر ٹوٹنے والی قتل و غارت، دربدری، بے گھری اور پناہ گزینی جیسی مصیبتوں سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ وہ ہمارے ملکوں میں اپنی سازشوں کی تکمیل کے لیے ان کے خون اور عزتوں کا سودا کر رہے ہیں۔ اس تمام معاملے میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ امریکہ خاص طور پر جنوبی سوڈان کو الگ کرنے کے بعد، اب دارفور کو کاٹ کر سوڈان کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش میں ہے۔
اس لیے سوڈان کے عوام کو ان ناپاک سازشوں کا ادراک کرنا چاہیے، اور انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ پرانے کافر استعمار یا نئے کافر استعمار کے ذریعے اپنے مسائل کے حل کی کوئی بھی بات محض ایک سیاسی خودکشی ہے۔
سوڈان کے لوگوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کو تقسیم اور بکھرنے سے بچانے کے لیے کافر استعمار کے اثر و رسوخ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اور یہ مقصد صرف ایک ایسی اصولی ریاست کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جو اسلامِ عظیم کے عقیدے پر قائم ہو، یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ، جو لوگوں کو اسلام کے احکام کی بنیاد پر یکجا اور متحد کرے اور ہمارے ملک کے خلاف سازش کرنے والوں اور ملک کے اندر موجود ان کے ایجنٹوں کے ہاتھ کاٹ کر رکھ دے۔ اس عظیم مقصد کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام لوگ جو صورتحال کی سنگینی کا شعور رکھتے ہیں؛ جن میں اہلِ قوت و اثر (اہلِ طاقت)، سیاست دان، میڈیا کے نمائندے اور سماجی مقتدر شخصیات شامل ہیں، وہ سب ایک ایسی جامع اور ہمہ گیر انقلابی تبدیلی کے عمل میں متحد ہو جائیں جو اسلام کو اس کی اصل اور پاکیزہ شکل میں اقتدار کی مسند تک پہنچا دے۔ کیونکہ اسلام ہی امت کی آزادی کی واحد ضمانت ہے جو ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی سے پوری دنیا کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، اور ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
===
مرکزی سرخی کے تحت
حزب التحریر/ ولایہ تیونس تیونس کی سرزمین پر امریکی فوجی مشقیں ایک جرم ہیں
جمعہ 17 اپریل 2026ء کو دارالحکومت تیونس میں نمازِ جمعہ کے بعد جامع الفتح کے سامنے سے ایک احتجاجی مارچ نکالا گیا، جس کا اہتمام حزب التحریر/ ولایہ تیونس نے اس عنوان کے تحت کیا تھا: "تیونس کی سرزمین پر امریکی فوجی مشقیں ایک جرم ہیں"۔
اس احتجاجی مارچ میں، جس میں تیونس کے عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، حزب التحریر کے ایک نوجوان نے نمازیوں کو اپنے مختصر پیغام میں بتایا کہ اس مارچ کا مقصد تیونس کی سرزمین پر امریکی فوجی مشقوں کی مذمت کرنا اور انہیں مسترد کرنا ہے۔ شرکاء نے مختلف کتبے (بینرز) اٹھا رکھے تھے جن میں سے مرکزی کتبے پر مارچ کا عنوان درج تھا، جبکہ دیگر پر درج تھا: "تیونس میں امریکی فوجی مشقیں... یہ ذلت کب تک؟!" اور "مسلمانوں کے ممالک میں امریکی فوج نامنظور"۔ شرکاء مارچ کے پورے راستے میں، جو دارالحکومت کی اہم شاہراہوں سے گزرا، ان مشقوں کی مذمت میں پرجوش نعرے بلند کرتے رہے۔
احتجاجی مارچ کا اختتام ایک جلسے پر ہوا جس میں حزب کے ایک نوجوان نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ "تیونس کی سرزمین پر ہونے والی یہ امریکی فوجی مشقیں اب محض کوئی اتفاقی واقعہ یا محدود تکنیکی تعاون نہیں رہیں، بلکہ بار بار ہونے اور دائرہ کار بڑھنے کی وجہ سے یہ امریکی فوجی موجودگی کے ساتھ ایک عملی نارملائزیشن کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جو کہ 2025 میں تیونس میں ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی 'افریقی لائن' (African Lion) مشقوں کی میزبانی کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی فوج جب بھی کسی ملک میں داخل ہوتی ہے تو اسے تباہ و برباد کر دیتی ہے اور وہاں کے رہنے والوں کو ذلیل و خوار کرتی ہے؛ عراق اور افغانستان میں ان کے جرائم اس کے گواہ ہیں، اور غزہ کے لوگوں کی نسل کشی میں یہودی وجود کے لیے ان کی غیر محدود حمایت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے"۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ "پھر ہم ان سب کے بعد کیسے ایک ایسے ظالم دشمن کو اپنی سرزمین، خضراء کی زمین، مجاہدین کی زمین، پر قدم رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں جو ہمارے بارے میں نہ کسی قرابت داری کا پاس رکھتا ہے اور نہ کسی عہد و پیمان کا؟" جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾
"اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر (غلبے کی) کوئی راہ نہیں دے گا۔" (سورۃ النساء: آیت 141)
آج اہل وطن اور اہل قوت و اثر (اہلِ طاقت) کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ملک سے مغرب کا اور بالخصوص اس فتنے کی جڑ 'امریکہ' کا مکمل خاتمہ کریں، کیونکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا پہلا دشمن ہے۔ اور یہ مقصد ان مشقوں کو مسترد کرنے اور ان فوجی معاہدوں کو منسوخ کرنے کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا جن پر باجی قائد السبسی نے دستخط کیے تھے، کیونکہ یہ معاہدے سراسر شر ہیں جن کے خطے اور اس کی آزادی پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح تیونس کے عوام پر لازم ہے کہ وہ ایک ایسی ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کریں جو قوت، شوکت اور رعب والی ہو، اور ایک ایسے تہذیبی منصوبے کا حصہ ہو جو امت کے عقیدے سے پھوٹتا ہو؛ جہاں اقتدارِ اعلیٰ امت کے پاس ہو اور حاکمیت شریعت کی ہو؛ جو اپنی طاقتور افواج کے ذریعے استعمار کی جڑ کاٹ دے، مسلمانوں کے مرکز و اساس کی حفاظت کرے اور دین کے دشمنوں کو شیطان کے وسوسے بھی بھلا دے، اور اس طرح ملک کی عزت اور امت کی سلامتی و آزادی کو برقرار رکھا جا سکے۔
===
اے اہل پاکستان! اپنے حکمرانوں کے دھوکے میں نہ آئیں، کیونکہ وہ امریکی منصوبوں پر عمل پیرا ہیں
اے پاکستان کے مسلمانو! اپنے حکمرانوں کے دھوکے میں نہ آئیں، یہ امن کے لیے کام نہیں کر رہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی نئی تشکیل کے لیے امریکی منصوبے کو نافذ کر رہے ہیں۔ ان حکمرانوں نے غزہ میں قتلِ عام روکنے کے لیے ایک گولی تک نہیں چلائی، بلکہ آلِ سعود کے تخت اور خطے میں امریکی اڈوں کی حفاظت کے لیے اپنی فوجی طاقت پیش کر دی، اور ٹرمپ کے 'امن کونسل' میں شامل ہو کر اسے غزہ میں افواج کی تعیناتی کے حوالے سے یقین دہانیاں کرائیں۔ آج وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ وہ 'نئے مشرقِ وسطیٰ' کے امریکی منصوبے کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، جیسا کہ وہ خود پہلے ہی جھک چکے ہیں۔ وہ امریکہ کے لیے اپنی ان خدمات کو 'امن کی کوششوں' کا نام دیتے ہیں تاکہ اپنے جرائم پر پردہ ڈال سکیں اور آپ کے غصے سے بچ سکیں۔
اے پاکستان کی مسلح افواج! وہ قیادت جو امریکہ کے مفاد میں خطے میں امریکی سیکیورٹی ڈھانچے کی ازسرِ نو تنظیم اور اسے مضبوط کرنے کی تگ و دو کر رہی ہے، وہ اسے توڑنے کے لیے کام کیوں نہیں کرتی؟ اور وہ جنگجو کفار، جو دنیا بھر میں مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں، پاکستان کے حکمرانوں کی تعریفیں کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ بات واضح نہیں ہے کہ امریکہ خطے میں ہر اس مسلح قوت کو ختم کر دینا چاہتا ہے جو اس کے نظام کو چیلنج کر سکے؟ اگر خطے میں امریکی اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو گیا تو پاکستان، ترکی یا کسی بھی دوسری اسلامی طاقت کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور کیا پاکستان کی مجاہد مسلح افواج ایسی قیادت کی مستحق ہیں؟
اگر ایران کے بعض فوجی کمانڈر خطے میں امریکی تنصیبات کو تباہ کرنے، جدید ترین جنگی ساز و سامان کو مار گرانے، یہودی وجود کو شکست پر مجبور کرنے، امریکی بیڑوں کو پسپائی پر مجبور کرنے اور امریکی میزائل دفاعی نظام کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تو جدید ترین میزائلوں اور بحری جہازوں سے لیس پاکستان کی ایٹمی افواج کیا کچھ نہیں کر سکتیں؟ لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آپ خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم نہیں کرتے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم مشن سونپا ہے، اور وہ ہے اس زمین پر اسلام کو غالب کرنا، نہ کہ برطانوی استعمار کی کھینچی ہوئی ان تنگ سرحدوں کا دفاع کرنا!
===
کیا کوئی ذی ہوش انسان اپنے ملک کو استعمار کے حوالے کرنے پر راضی ہو سکتا ہے؟!
سوڈان کے وزیراعظم کامل ادریس نے ہفتہ 28 اپریل 2026ء کو خرطوم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسٹریٹجک منصوبوں کا ایک مجموعہ شروع کرنے والی ہے، جس میں جنگ سے تباہ حال سوڈان کی تعمیرِ نو اور ملک کو اپنی بڑی اقتصادی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانے کے لیے "سوڈان مارشل پلان" سرِ فہرست ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ حکومتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا اور مختلف شعبوں میں سوڈان کے جغرافیائی محلِ وقوع اور وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا بھی شامل ہے۔
حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے ایک تبصرے میں، جسے ریاست سوڈان میں حزب التحریر کے نائب ترجمان جناب محمد جامع (ابو ایمن) نے لکھا ہے، کہا گیا ہے: "مارشل پلان، جسے امریکی وزیر خارجہ جارج مارشل نے 1947ء میں ہاورڈ یونیورسٹی میں اپنی مشہور تقریر میں دوسری عالمی جنگ سے تباہ ہونے والے یورپ کی تعمیرِ نو کے لیے پیش کیا تھا، درحقیقت یورپ پر کنٹرول حاصل کرنے اور اس کی گردن میں غلامی کے طوق ڈالنے کا ایک شیطانی امریکی منصوبہ تھا"۔
آج سوڈان کے حکمران اللہ سے ڈرتے ہیں نہ اہلِ ایمان سے حیا کرتے ہیں، کیونکہ برہان نے واضح طور پر امریکہ اور اس کی دولت لوٹنے والی سرمایہ دار کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ کے بعد سوڈان کی تعمیرِ نو کے لیے یہاں آئیں! یہ مطالبہ انہوں نے 26 نومبر 2025ء کو وال اسٹریٹ جرنل میں لکھے گئے ایک مضمون میں کیا، جس میں انہوں نے کہا: "سوڈان امریکہ کا ایک مضبوط شراکت دار بننا چاہتا ہے؛ تاکہ وہ علاقائی استحکام کے تحفظ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور تباہ شدہ شہروں و بستیوں کی تعمیرِ نو میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ تعمیرِ نو، سرمایہ کاری اور طویل مدتی ترقی میں امریکی کمپنیوں کا اہم کردار ہوگا"۔
سوڈان کے عوام پر لازم ہے کہ وہ امریکہ کے اس منصوبے کو سمجھیں اور اسے ناکام بنائیں، کیونکہ امریکہ کوئی خیراتی ادارہ نہیں بلکہ ایک شریر ریاست ہے جو غریبوں کا خون چوستی ہے اور اسے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ماضی اور حال میں عراق، ویتنام، افغانستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں اس نے جو شر انگیزی کی ہے، وہ سب کے سامنے واضح ثبوت اور گواہیاں ہیں۔
===
وہ واحد چیز جس کی پیروی امتِ مسلمہ کرتی ہے
وہ واحد چیز جس کے سامنے امتِ مسلمہ، اپنے تمام تر مختلف گروہوں اور نسلوں کے باوجود، سرِ تسلیم خم کر سکتی ہے اور جس کے تحت اس کی بکھری ہوئی قوتیں متحد ہو سکتی ہیں، وہ اس کا دین ہے؛ کیونکہ اس امت کے پاس اسلام کے سوا ایسی کوئی بنیاد نہیں جس پر یہ اکٹھی ہو سکے، اور اسلام کے علاوہ ہر دوسری پکار تفرقہ اور تقسیم کا باعث ہے؛ اگر وہ پکار کچھ حصوں کو جمع کرتی ہے تو دوسرے اس سے باہر نکل جاتے ہیں، چاہے وہ پکار وطنیت کی ہو، قوم پرستی کی ہو یا کوئی اور۔ لیکن کیا یہ وھدت ممکن ہے؟
جواب یہ ہے کہ ہاں، یہ ممکن ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ رب العالمین کی طرف سے ایک واجب فرض ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً﴾
"اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت کے باعث بھائی بھائی بن گئے"۔ (سورۃ آلِ عمران: آیت 103)
اور رسول اللہ ﷺ کا قبیلہ خزرج کے ان چند لوگوں کے ساتھ معاملہ ہی کافی ہے جب آپ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو ان کا جواب تھا: "ہم اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ ان کے درمیان جتنی دشمنی اور برائی ہے اتنی کسی اور قوم میں نہیں ہے، امید ہے کہ اللہ ان کو آپ کے ذریعے اکٹھا کر دے گا، ہم ان کے پاس جا کر انہیں آپ کے اس کام کی دعوت دیں گے اور ان کے سامنے وہ دین پیش کریں گے جسے ہم نے قبول کیا ہے، پس اگر اللہ انہیں آپ (کی قیادت) پر متحد کر دے تو آپ سے زیادہ معزز کوئی شخص نہ ہوگا"۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔
اسلام کا عقیدہ آج بھی مسلمانوں کی زندگی میں وہی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جیسا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں اوس اور خزرج کو اکٹھا کرنے میں ادا کیا تھا یہاں تک کہ وہ 'انصار' بن گئے؛ اسی بنا پر، نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کی واپسی کا ایک مطلب یہ بھی ہوگا کہ امت اور اس کی تمام تر قوتیں اکٹھی ہو کر اس کے سائے تلے متحد ہو جائیں گی۔
===
جدید عالمی بحران کا حل: اسلام
اسلامی نظریہ، جو تمام سطحوں پر ایک نایاب توازن رکھتا ہے، آج دنیا کے سوالوں کا صرف کوئی بنا بنایا جواب ہی پیش نہیں کرتا بلکہ ایک ایسا تہذیبی افق بھی فراہم کرتا ہے جو اپنے تاریخی حالات و واقعات کا منتظر ہے۔ محض کسی نظریے کا درست ہونا کافی نہیں ہوتا، اور نہ ہی صرف عدل و انصاف کی باتیں خود بخود نافذ ہو جاتی ہیں، جب تک کہ انہیں ایک ایسے عملی نمونے میں نہ ڈھالا جائے جو اس دور کی پیچیدگیوں اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کا مقابلہ کر سکے۔
یہیں حزب التحریر اپنے پروگرام اور اس منظم گروہ کے ساتھ سامنے آتی ہے جو اس منصوبے کو نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم اسلامی ممالک پر مسلط اس کفر کے دور میں ہر مسلمان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس عظیم جماعت کے ساتھ مل کر اپنی جدوجہد تیز کر دے، جس نے اپنی روشن فکری اور انتھک محنت سے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے ہر چیز تیار کر لی ہے۔ یہ جماعت امت کے بیٹوں کا ہاتھ تھامتی ہے تاکہ وہ اپنے اصل مقصد یعنی 'اسلامی طرزِ زندگی کے احیاء' کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ (قضیہ مصیریہ) بنا لیں اور اس کے لیے وہ اقدامات کریں جو بقا کے لیے ضروری ہیں؛ تاکہ وہ 'دارالاسلام' قائم کریں، مسلمانوں کے تمام علاقوں کو متحد کریں اور ایک خلیفہ کے سائے میں 'امتِ واحدہ' کے تصور کے ساتھ آگے بڑھیں۔ وہ سچے ایمان، بصیرت اور شعور کے ساتھ اپنے رسول ﷺ کے اس قول کو دہرائیں: «يَا عَمِّ لَوْ وَضَعُوا الشَّمْسَ فِي يَمِينِي وَالْقَمَرَ فِي شِمَالِي عَلَى أَنْ أَتْرُكَ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يُظْهِرَهُ اللَّهُ أَوْ أَهْلِكَ فِيهِ مَا تَرَكْتُهُ»"اے چچا! اللہ کی قسم، اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں، تو بھی میں اسے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ اللہ اسے غالب کر دے یا میں اس راہ میں ہلاک ہو جاؤں"۔
===
آج اجنبیت ہے تو کل اللہ کے حکم سے غلبہ و تمکنت ہوگی
اسلام کا راستہ دو باطلوں میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں ہے، اور نہ ہی یہ اپنے مفادات کے لیے لڑنے والے گروہوں میں سے کسی ایک کی طرف داری کا نام ہے، بلکہ یہ ایک آزاد، واضح اور مضبوط راستہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ چلے تھے۔ آپ ﷺ نے نہ تو قریش سے کوئی سودے بازی کی اور نہ ہی کسریٰ کی طاقت کے سامنے سر جھکایا، بلکہ آپ ﷺ اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہے یہاں تک کہ اللہ کی مدد آ پہنچی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
"اور تم سچوں کے ساتھ ہو جاؤ" (سورۃ التوبہ: آیت 119)
نجات نہ تو حالات میں گھل مل جانے میں ہے، نہ ہی رنگ بدلنے میں اور نہ ہی فاسد معاشرے کی پیروی کرنے میں، بلکہ نجات حق پر ڈٹے رہنے اور لوگوں کی پیدا کردہ خرابیوں کی اصلاح کے لیے کام کرنے میں ہے۔
اے مسلمانو! تم کوئی ہاری ہوئی اقلیت نہیں ہو، بلکہ تم ان لوگوں کا تسلسل ہو جنہوں نے اس دین کو اس وقت تھاما تھا جب یہ اجنبی (غریب) تھا، پس انہوں نے صبر کیا اور ثابت قدم رہے، تو اللہ نے ان کی مدد فرمائی اور انہیں زمین پر غلبہ و تمکنت عطا کی۔ تم وہ لوگ ہو جو اس وقت اصلاح کرتے ہو جب لوگ بگڑ جائیں، جب ترازوں کے پلڑے ڈگمگا جائیں تو تم ثابت قدم رہتے ہو، اور حق کا بوجھ اٹھاتے ہو چاہے وہ کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ لہٰذا کثرت سے دھوکہ نہ کھاؤ، نہ ہی باطل کے شور و غل سے ڈرو اور نہ ہی اس کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہو، کیونکہ بہترین انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ...﴾
"تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے، اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت (اقتدار) عطا فرمائے گا..." (سورۃ النور: آیت 55)
یہ اللہ کا وہ وعدہ ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتا، لیکن اس تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے؛ سچا ایمان، مخلصانہ عمل اور ایسی ثابت قدمی جس میں لرزش نہ آئے۔ پس جمے رہو، کیونکہ یہ اجنبیت محض ایک مرحلہ ہے، انجام نہیں؛ اور صبر کرو کیونکہ پو پھٹنے کا وقت اندھیرے کے بطن ہی سے جنم لیتا ہے۔ اس دین کو اسی طرح تھامو جیسے اسے پہلی بار تھاما گیا تھا، بالکل خالص اور پاکیزہ، جس میں نہ کوئی ملاوٹ ہو اور نہ ہی وہ خواہشات کے تابع ہو۔ پس آج اگر اجنبیت ہے تو کل اللہ کے حکم سے غلبہ و تمکنت ہوگی۔
﴿لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَاباً فِيهِ ذكركُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾
"یقیناً ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ذکر (تمہاری عزت و بزرگی) ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟" (سورۃ الانبیاء، آیت: 10)
===