Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

#FreeNaveedButt

 

11 مئی: نوید بٹ کے اغوا کی برسی

 

 

جمعہ، 11 مئی 2012 کو، نوید بٹ، جو چار بچوں کے ایک شفیق اور وفادار والد تھے، پاکستان کے شہر لاہور میں اُس وقت اغوا کر لیے گئے جب وہ اپنے کم عمر بچوں کو اسکول سے لینے کے بعد گھر واپس آ رہے تھے۔ نوید بٹ کو حکومتی سکیورٹی اہلکاروں نے اغوا کیا، جیسا کہ پڑوسیوں اور اہلِ خانہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہیں پاکستان میں دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے ایک دہائی سے زائد عرصے تک بے خوف، انتھک اور مسلسل جدوجہد کے بعد اغوا کیا گیا۔

 

نوید بٹ نے بے خوف ہو کر حق بات کہی۔ انہوں نے کشمیر، فلسطین، عراق اور افغانستان سے غداری کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے آئی ایم ایف، جس نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دیا، کے سامنے جھک جانے کے خلاف آواز اٹھائی۔  انہوں نے میڈیا اور تعلیمی پالیسی کے ذریعے مغربی لبرل اور فاسد اقدار کے پھیلاؤ کے خلاف آواز بلند کی۔ نوید بٹ نے حق کے لیے آواز اٹھائی، مگر ظالموں کا جواب یہ تھا کہ انہیں خاموش کر دیا جائے، حالانکہ حق بات کہنا شریعت کی رو سے مسلمانوں پر فرض بھی ہے اور اُن کا حق بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ»"لوگوں کا خوف تم میں سے کسی کو اس بات سے نہ روکے کہ وہ حق بات کہے جب وہ اسے دیکھے یا اس کا مشاہدہ کرے، کیونکہ حق بات نہ تو عمر کو کم کرتی ہے اور نہ ہی رزق میں کمی کا سبب بنتی ہے۔" [احمد]

 

پھر کئی برسوں پر محیط طویل اور تکلیف دہ جدوجہد کے بعد، نوید بٹ کے اہلِ خانہ اُن کے جبری اغوا کے سرکاری اعتراف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 4 جنوری 2018 کو، پاکستان کے "کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز" نے نوید بٹ کے حوالے سے ایک پروڈکشن آرڈر جاری کیا، جس کا حوالہ نمبر ColoED ID No. 860-P تھا۔ اس حکم نامے میں کہا گیا: "اس مقدمے کی کارروائی کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر کمیشن کو شبہ ہے کہ لاپتہ شخص نوید بٹ کو خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے اور اپنی غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے، لہٰذا کمیشن ہدایت کرتا ہے کہ نوید بٹ کو کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے۔"

 

اس حکم کے باوجود، اہلِ خانہ اور دوست آج تک نوید بٹ کے مقام یا اُن کی خیریت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

 

یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ صرف نوید بٹ کے لیے آواز کیوں اٹھائی جائے، دوسروں کے لیے کیوں نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں اغوا کیے گئے ہزاروں افراد میں سے ہر ایک کے رشتہ داروں اور دوستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے لیے آواز بلند کریں۔ اسی طرح ہر نیک بیٹا اور بیٹی اپنی نیکی کی وجہ سے پہچانے جائیں گے، نہ کہ محض ایک طویل فہرست میں درج ایک نام کے طور پر، اور اس طرح پاکستان کے حکمرانوں کے ظلم کو بے نقاب کیا جائے گا۔ یہ بلند ہونے والی آوازیں ایک چھوٹے سے دھارے سے بڑھ کر ایک خوفناک سیلاب بن جائیں گی، جو اللہ ﷻ کے حکم سے اس ظلم، جبر اور اہلِ ایمان کے خلاف دشمنی کے خاتمے کا سبب بنے گی۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:

 

﴿إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ﴾

"بے شک جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ظلم ڈھاتے ہیں، پھر توبہ نہیں کرتے، اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور اُن کے لیے جلتی آگ کا عذاب ہے۔" [سورۃ البروج 85:10]

 

رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیثِ قدسی میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ» "جو شخص میرے کسی دوست سے دشمنی کرے، تو میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیتا ہوں۔" [صحیح بخاری]

 

یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ نوید بٹ کے اغوا کو نمایاں کیوں کیا جائے جبکہ اس سے ظالموں کا خوف پھیلتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک نیک مومن کا ظالموں کے خلاف بہادرانہ مؤقف دوسرے نیک مسلمانوں کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ وہ اللہ ﷻ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ، فَقَتَلَهُ» "شہداء کے سردار حمزہ بن عبدالمطلب ہیں، اور وہ شخص بھی جو ایک ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہوا، اسے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا، پھر اُس حکمران نے اسے قتل کر دیا۔" [الحاکم]

 

بے شک، اپنے اغوا سے پہلے نوید اس یقین کے حامل تھے کہ پاکستان کے مسلمانوں کو ظالموں کے سامنے خاموش سرِ تسلیم خم کرنے سے روکنے اور انہیں بیدار کرنے کے لیے صرف ایک یا دو شہداء ہی کافی ہوں گے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

 

نوید بٹ نے اللہ ﷻ کی رضا کے لیے ظالموں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا راستہ اختیار کیا، اور ہمیں بھی یہی کرنا چاہیے۔ ہماری خاموشی صرف ظلم کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے اور دنیا و آخرت میں ہمارے حالات کو مزید بدتر کرتی ہے۔ ہمیں ظالموں کے خلاف اپنی آوازیں بلند کرنی چاہییں، یہاں تک کہ اللہ ﷻ ظلم کا خاتمہ فرما دے۔ اللہ ﷻ فرماتے ہیں:

 

﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لاَ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾

"اور اُس فتنے سے ڈرو جو صرف تم میں سے ظالموں ہی تک محدود نہیں رہے گا، اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ [سورۃ الانفال 8:25]

 

بے شک، ظالم حکمرانوں کا ظلم صرف اُن لوگوں کو خاموش کرانے تک محدود نہیں جو حق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ انہی ظالموں نے دو سال سے زائد عرصے تک غزہ کی حمایت میں افواج کو متحرک ہونے سے روکے رکھا۔ پھر یہ ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" میں شامل ہو گئے، جو دراصل یہودی وجود کے خلاف مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا بورڈ ہے۔ مئی 2025 میں جب ٹرمپ نے بھارت کے خلاف جنگ بندی کا حکم دیا تو ان ظالموں نے اُس کی اطاعت کی، حالانکہ اللہ ﷻ نے اہلِ ایمان کو فضائی برتری عطا کر دی تھی، جس کے بعد کشمیر کی آزادی ایک ناگزیر معاملہ بن چکی تھی۔ ان ظالموں نے ایران کے مسلمانوں کو، جو امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کی سرزمین ہے، اُس وقت تنہا چھوڑ دیا جب امریکہ اور یہودی وجود نے اُن پر حملہ کیا۔ پھر یہی حکمران ٹرمپ کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گئے اور دن رات مذاکرات کے ذریعے ایران کو دھوکا دینے میں مصروف رہے۔ یہ ظالم امریکہ کے آلۂ کار آئی ایم ایف کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور غربت و تنگ دستی کا سیلاب جاری کیے ہوئے ہیں، حالانکہ پاکستان کے پاس نایاب معدنی عناصر (Rare Earth Elements) سمیت بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ اور اسلام کے خلاف امریکہ کی عالمی جنگ میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے یہی حکمران نوجوانوں میں مغربی فاسد اقدار کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ جامعات اور کالجوں میں بے حیائی اور منشیات کے فروغ کی بھی اجازت دے رہے ہیں۔

 

اے پاکستان کی مسلح افواج کے مسلمانو!

 

تم طاقت اور حفاظت والے لوگ ہو۔ اس وقت ظالم حکمران تمہاری قوت کو اپنے ظلم کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ حالانکہ تم پر شرعی فرض یہ ہے کہ تم ان ظالموں کو ہاتھ سے روکو، کیونکہ تم اس کی قدرت رکھتے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إنَّ النَّاسَ إَذا رَأوُا الظَّالِمَ فَلمْ يَأْخُذُوا عَلى يَدَيْهِ أوْشَكَ أن يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بعِقَاب» "جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں اور اُس کے ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ اُن سب کو اپنے عذاب میں لپیٹ لے۔" [ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ]

 

ان ظالموں کو پکڑو اور اُن کے ظلم کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دو، اور حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرتے ہوئے نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام میں اپنا کردار ادا کرو۔

 

مصعب عمیر،ولایہ پاکستان

 

Last modified onجمعرات, 14 مئی 2026 19:22

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.