بسم الله الرحمن الرحيم
گریٹر مڈل ایسٹ کے اندر امریکی فوجی ڈھانچے کو ختم کرو، جو مسلمانوں کے گھر میں ایک سانپ کی مانند ہے!
تحریر: استاد مصعب عمیر، ولایہ پاکستان
(ترجمہ)
عالمِ اسلام پر امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ حالیہ جنگوں کے جائزے سے، جو کہ 2001 میں افغانستان سے لے کر 2026 میں ایران تک پھیلی ہوئی ہیں، یہ بات عیاں ہے کہ امریکی فوج 'گریٹر مڈل ایسٹ' کے اندر ایک وسیع فوجی ڈھانچے کے بغیر مسلمانوں سے لڑنے کی ہرگز اہلیت نہیں رکھتی۔ 'گریٹر مڈل ایسٹ' وہ نام ہے جو امریکی سٹریٹجک ماہرین اور پالیسی سازوں نے مشرقِ وسطیٰ کے عرب خطے اور اس میں پاکستان اور افغانستان کے اضافے کے بعد دیا ہے۔ امریکہ کے لیے گریٹر مڈل ایسٹ میں اپنے اڈے اور بندرگاہیں برقرار رکھنا ایک انتہائی اہم ترجیح ہے، کیونکہ امریکی مشرقی ساحل اور نہر سویز کے درمیان، اور امریکی مغربی ساحل اور آبنائے ہرمز کے درمیان سمندری مواصلاتی راستے (SLOCs) انتہائی طویل اور ہر وقت خطرے کی زد میں ہیں۔ امتِ مسلمہ کے لیے امریکی فوجی ڈھانچہ ایک ایسے سانپ کی مانند ہے جو اس کے اپنے گھر کی گہرائیوں میں چھپا بیٹھا ہے، جسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے، کیونکہ ٹرمپ ایک ایک کر کے ہر مسلم ملک کو ڈس رہا ہے تاکہ وہ امریکی مفادات کے مطابق مسلم دنیا کو پرتشدد طریقے سے ایک نئی شکل دے سکے۔
گریٹر مڈل ایسٹ میں امریکہ کو فوجی ڈھانچے کی ضرورت
جہاں تک امریکی مشرقی ساحل کا تعلق ہے، تو ورجینیا میں واقع 'نیول اسٹیشن نورفولک' دنیا کا سب سے بڑا بحری اڈہ اور امریکی بحرِ اوقیانوس کے بیڑے (Atlantic Fleet) کا بنیادی کمانڈ سینٹر ہے۔ فورڈ کلاس کا ایک طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً 30 ناٹس کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتا ہے، جو کہ تقریباً 35 میل فی گھنٹہ بنتی ہے۔ ورجینیا کے نیول اسٹیشن نورفولک سے روانہ ہونے والے جہازوں کو نہر سویز تک پہنچنے کے لیے 5,000 سے 5,500 بحری میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ پھر ان جہازوں کو تنگ نہر، بحیرہ احمر اور خلیج کی نہر سے گزر کر بحیرہ عرب تک پہنچنا ہوتا ہے، جہاں امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنی کارروائیاں کرتی ہے۔ اس طرح، 35 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والا امریکی بحریہ کا ایک سپر کیریئر امریکہ سے مشرقِ وسطیٰ تک 10 دن سے بھی کم وقت میں پہنچ سکتا ہے، بشرطیکہ اسے روایتی یا غیر روایتی (asymmetric) بحری افواج کی جانب سے کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جہاں تک امریکی مغربی ساحل کا تعلق ہے، 'نیول بیس سان ڈیاگو' امریکی بحرِ الکاہل کے بیڑے (Pacific Fleet) کا بنیادی ٹھکانہ اور سطحِ سمندر پر چلنے والے بحری جہازوں کا دنیا کا دوسرا بڑا اڈہ ہے، جو بحری راستے کے لحاظ سے آبنائے ہرمز سے تقریباً 8,000 سے 8,500 بحری میل کے فاصلے پر واقع ہے؛ جبکہ تمام بحری راستوں کو بحر الکاہل اور بحر ہند سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے لیے امریکی بحریہ کے جہازوں کو عام طور پر 10 سے 14 دن درکار ہوتے ہیں۔ یہاں بھی یہ فرض کیا گیا ہے کہ روایتی یا غیر روایتی بحری افواج کسی بھی مرحلے پر اس پیش قدمی کو چیلنج نہیں کرتیں۔
چنانچہ، امریکی سر زمین سے مسلم دنیا کے قلب تک سمندری مواصلاتی راستے (SLOC) طویل ہیں، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ انتہائی غیر محفوظ ہیں اور بہت سے مسلم ممالک کی زد (striking distance) میں سے گزرتے ہیں، جن میں مصر، پاکستان اور انڈونیشیا جیسے بڑے لشکر رکھنے والے ممالک کے ساتھ ساتھ یمن اور صومالیہ جیسی انتہائی پرجوش غیر روایتی افواج رکھنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری امت کی سطح پر ایک مستقل بحری قوت کی موجودگی امریکی فوجی طاقت کو مؤثر طریقے سے اس کے اپنے وطن اور قریبی علاقوں کے دفاع تک محدود کر سکتی ہے، جیسا کہ منرو ڈاکٹرائن کے حوالے سے ٹرمپ کے نتائج (Trump Corollary) میں ہے، اور اسے مسلمانوں کے ممالک سے دور رکھ سکتی ہے۔ ایسی کسی بھی عسکری قوت کے پاس ہنگامی منصوبے (contingencies) ہونے چاہئیں تاکہ جب امریکہ کی جانب سے بحری تیاریوں میں تیزی آئے، تو کسی بھی حملے کو اس کے ہدف تک پہنچنے سے بہت پہلے روکا جا سکے یا اس کی شدت کو محدود کیا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی ڈھانچے کے اہم اثاثے
گریٹر مڈل ایسٹ پر اپنا غلبہ برقرار رکھنے اور اسے اپنے مفادات کے مطابق نئی شکل دینے کے لیے، امریکہ اس خطے میں ایک وسیع فوجی ڈھانچے پر انحصار کرتا ہے، تاکہ کسی بھی مسلم ملک کے ساتھ فعال جنگ کے دوران اپنے مواصلاتی راستوں (Lines of Communication) کی طوالت اور ان کے خطرے کی زد میں ہونے کے پہلو کو کم کر سکے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے اہم اڈے اور اثاثے درج ذیل ہیں:
· بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (5th Fleet) کا ہیڈ کوارٹر۔
· قطر کے دارالحکومت دوحہ کے باہر صحرا میں واقع 24 ہیکٹر پر محیط 'العدید ایئر بیس'، جو امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا فارورڈ ہیڈ کوارٹر ہے اور یہاں تقریباً 10,000 فوجی مقیم ہیں۔
· کویت میں امریکی آرمی سینٹرل کا فارورڈ ہیڈ کوارٹر 'کیمپ عارفجان'۔
· کویت میں واقع 'علی السالم ایئر بیس'۔
· کویت میں 'کیمپ بوہرنگ'؛ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے جنوب میں واقع 'الظفرہ ایئر بیس' جو امریکی فضائیہ کا ایک انتہائی اہم اڈہ ہے۔
· عراق کے مغربی صوبے انبار میں 'عین الاسد ایئر بیس'؛ اور شمالی عراق میں واقع 'اربیل ایئر بیس' جو امریکی افواج کے ایک مرکز (hub) کے طور پر کام کرتا ہے۔
· سعودی عرب کے شہر ریاض سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب میں واقع 'پرنس سلطان ایئر بیس'، جہاں امریکی فوجی مقیم ہیں۔
· اردن کے دارالحکومت عمان سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں ازرق کے مقام پر 'موفق السلطی ایئر بیس'، جو امریکی ایئر فورس سینٹرل کے '332 ویں ایئر ایکسپڈیشنری ونگ' کی میزبانی کرتا ہے۔
· پھر امریکہ کے لیے سب سے اہم 'ایڈوانس بیس' یہودی وجود (اسرائیل) ہے، جو ایک ایک کر کے مسلم ممالک پر ضربیں لگا کر گریٹر مڈل ایسٹ کو امریکی مفادات کے مطابق ڈھالنے میں امریکہ کی فعال مدد کر رہا ہے۔ یہ مغرب میں ٹرمپ کی پالتو ریاست ہے، جو مشرق میں اس کی دوسری پالتو ریاست یعنی 'ہندو ریاست' (بھارت) کی مدد کرتی ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ امریکہ، یہودی وجود اور ہندو ریاست کے درمیان گہرا اشتراکِ عمل موجود ہے، اور یہ سب مسلم ریاستوں کے کمزور ہونے سے براہِ راست فائدہ اٹھانے والے ہیں۔
· علاوہ ازیں، ہنگامی پھیلاؤ کے پیشِ نظر ان مضبوط مسلم ممالک میں بھی اڈے موجود ہیں جہاں امریکہ کے پیروکار اور ایجنٹ حکمران ہیں، جنہیں امریکہ نے فعال جنگوں کے دوران استعمال کیا ہے؛ جیسا کہ 2001 میں افغانستان پر حملے کے لیے ترکی اور پاکستان میں واقع اڈے استعمال کیے گئے۔ امریکی فوج مسلمانوں کے خلاف کسی بھی فعال جنگ میں، چاہے وہ افغانستان جیسا چھوٹا ملک ہو یا ایران جیسا بڑا ملک، مسلم دنیا میں اپنے ایجنٹوں اور پیروکاروں کے فراہم کردہ لاجسٹک راستوں کے بغیر گزارا نہیں کر سکتی۔
· اپنے فوجی ڈھانچے کی ایک اہم مستقل توسیع کے طور پر، جسے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، امریکی فوج گریٹر مڈل ایسٹ میں واقع بڑے امریکی سفارت خانوں کے اندر موجود نگرانی اور مواصلاتی مراکز پر بھی انحصار کرتی ہے، جن میں بغداد (عراق) اور اسلام آباد (پاکستان) کے سفارت خانے شامل ہیں۔ امریکہ کی حملہ کرنے اور جوابی حملہ کرنے کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے کسی بھی منصوبے میں ان جاسوسی مراکز (spy posts) کا خاتمہ لازمی شامل ہونا چاہیے، جو سفارتی مشنوں کے بھیس میں چھپے ہوئے ہیں، تاکہ امریکی فوج کو اندھا اور بہرا کیا جا سکے۔
· آخر میں، یہ ذکر کرنا اہم ہے کہ امریکہ کے پاس اپنے پھیلاؤ کے منصوبے ہیں۔ ایک اہم مثال کے طور پر، امریکہ افغانستان میں بگرام ایئر بیس کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ 18 ستمبر 2025 کو ٹرمپ نے کہا، "ہم بگرام کو اپنے پاس رکھنے والے تھے، وہ بڑا ایئر بیس—جو کہ سب سے بڑے فضائی اڈوں میں سے ایک ہے... ہم اسے واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں ہم سے چیزیں درکار ہیں۔ ہم وہ بیس واپس چاہتے ہیں۔" یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ ٹرمپ نے مشرق میں اپنی پالتو ریاست، 'ہندو ریاست' کو متحرک کر دیا ہے تاکہ وہ افغانستان کے مجاہدین اور پاک فوج کے درمیان فتنہ کھڑا کرے اور بگرام ایئر بیس کے حوالے سے کوئی رعایت حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ بات مدِ نظر رہنی چاہیے کہ اگر بگرام ایئر بیس کبھی امریکی فوج کے قبضے میں چلا گیا، تو اسے نہ صرف ایٹمی چین بلکہ ایٹمی پاکستان پر ضرب لگانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا، امریکی فوجی ڈھانچے کے سانپ کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے امت کی سطح پر کسی بھی منصوبے میں نہ صرف اس کے موجودہ ڈھانچے بلکہ اس کی شاخوں اور مستقبل کے متوقع پھیلاؤ کو بھی شاملِ حساب رکھنا ہو گا۔
اپنی سرزمین سے امریکی فوجی ڈھانچے کو ختم کرنا امتِ مسلمہ پر ایک ناگزیر فریضہ ہے
امتِ مسلمہ کے گھر کے اندر امریکی فوجی ڈھانچے کی موجودگی ایک عجیب حقیقت ہے۔ اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ چین اور روس جیسی غیر مسلم ریاستیں کسی بھی وجہ سے اپنی سرزمین پر اتنے وسیع امریکی فوجی ڈھانچے کی اجازت دیں گی۔ مسلمانوں کی زمین پر امریکی فوج کی موجودگی ایک ایسے سانپ کی مانند ہے جس نے بار بار ڈسا ہے، مگر پھر بھی اس کے زہریلے دانت نکالنے، اس پر ضرب لگانے اور اسے ختم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ اس مہلک غفلت کا "قومی مفاد" کے اس زاویے سے بھی کوئی جواز نہیں بنتا جس سے چمٹے رہنے کا دعویٰ مسلم حکمران کرتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ امریکی فوجی ڈھانچہ مسلم ممالک کو کمزور کرنے کے لیے ان پر ایک ایک کر کے حملہ کر کے مشرقِ وسطیٰ کو ٹرمپ کی منشا کے مطابق نئی شکل دینے کے منصوبے کے لیے نہایت ضروری اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ ٹرمپ کی پالتو ریاست کے سربراہ نیتن یاہو نے 'شیعہ بلاک' (Axis) کو ختم کرنے کے بعد اب 'سنی بلاک' کو ختم کرنے کی ضرورت کے بارے میں بات کی ہے۔ اتوار 22 فروری 2026 کو نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ: "یہاں مقصد ایسی ریاستوں کا ایک بلاک بنانا ہے جو انتہا پسند بلاکوں کے خلاف حقیقت، چیلنجز اور اہداف پر ہم آہنگ ہوں، خواہ وہ انتہا پسند شیعہ بلاک ہو جسے ہم نے بہت زوردار ضرب لگائی ہے، یا ابھرتا ہوا انتہا پسند سنی بلاک ہو"۔ یہ بات ترکی، مصر اور ایٹمی پاکستان جیسی مضبوط سنی افواج کے تمام مخلص عناصر کے لیے خطرے کی گھنٹی ہونی چاہیے۔
ایٹمی پاکستان کے معاملے میں، اضافی تشویش کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ 18 مارچ 2026 کو، 'آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس' نے اپنی "امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کا 2026 کا سالانہ خطرات کا جائزہ" جاری کیا، جس میں صفحہ 25 پر درج تھا کہ: "پاکستان تیزی سے جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو ایسے میزائل نظام بنانے کے ذرائع فراہم کرتی ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اگر یہ رجحانات برقرار رہے تو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) تیار ہو سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے خطرہ بن جائیں گے"۔ یہ ٹرمپ کے 31 اکتوبر 2025 کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ "پاکستان تجربات کر رہا ہے"۔ انٹرویو لینے والے نے اس کی رائے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا، "میری سمجھ کے مطابق ایٹمی ہتھیار نہیں"؛ جس پر ٹرمپ نے وثوق سے کہا، "یقیناً وہ (ایٹمی تجربات) کر رہے ہیں"۔ یہ 20 مارچ 2026 کو امریکی وزیرِ دفاع کے اس اعلان کے بعد بھی سامنے آیا جب انہوں نے کہا تھا کہ: "ایران جیسی دیوانی حکومتیں، جو نبوی اسلامی واہموں (delusions) پر تلی ہوئی ہیں، ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتیں"۔ ٹرمپ کی جانب سے گریٹر مڈل ایسٹ کی تشکیلِ نو کے دوران، پاکستان پر امریکی توجہ انتہائی کلیدی ہے۔ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے خلیج، ایران اور مصر کی افواج کو ایک حفاظتی دفاعی چھتری (deterrent umbrella) فراہم کر سکتا ہے، تاکہ امتِ مسلمہ کی افواج مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سکیورٹی نظام کو جڑ سے اکھاڑ سکیں۔
چنانچہ، اگر 'قومی مفاد' کے محدود پیمانے سے بھی دیکھا جائے، تو امریکی فوجی ڈھانچے کا خاتمہ ایک ایسی سکیورٹی ترجیح ہے جو بقا کے خطرے کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ، مسلم زمینوں پر امریکی فوجی ڈھانچے کی موجودگی کی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اُس شریعت میں قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے جس پر امتِ مسلمہ ایمان رکھتی ہے۔ امت کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ دوسری ریاستوں کے ساتھ فوجی معاہدے کرے، جیسے کہ باہمی دفاعی معاہدے، باہمی سکیورٹی کے معاہدے، یا اس سے متعلق کوئی بھی فوجی سہولت کاری، مثلاً فوجی اڈے، ہوائی اڈے یا بندرگاہیں کرائے پر دینا۔ اسی طرح کفار کی ریاستوں اور ان کی افواج سے مدد (استعانت) حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں ہےاور اسلام میں ایسے تمام معاہدے حرام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کے لیے کفر کے جھنڈے تلے، کفر کی خاطر، یا کسی کافر ریاست کی طرف سے لڑنا، یا مسلمانوں اور سرزمینِ اسلام پر کسی کافر کو اختیار و غلبہ دینا حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو کافر ریاستوں سے مدد (استعانت) لینے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل کرنے سے منع کیا تھا، جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:«لاَ تَسْـتَضِـيئُوا بـِنَارِ الْمُشْرِكِينَ» "مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو"۔ [مسند احمد]۔ یہاں آگ سے مراد 'جنگ' کا کنایہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: «فَإِنَّا لاَ نَسْـتَعِينُ بـِمُـشْـرِكٍ» "بے شک ہم کسی مشرک سے مدد حاصل نہیں کرتے"۔ [صحیح ابن حبان]۔اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَآأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنࣰا مُّبِينًا﴾
"اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست (مددگار) نہ بناؤ، کیا تم چاہتے ہو کہ (ایسا کر کے) اپنے خلاف اللہ کی صریح حجت قائم کر لو؟"[ سورۃ النساء:آیت 144]۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمت سے بڑی کوئی حکمت نہیں ہے۔ لہٰذا، شریعت میں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے یا امریکی فوج کو مسلمانوں کے اڈے استعمال کرنے دینے کی کوئی بنیاد نہیں ہے، چہ جائیکہ امریکہ کے ساتھ مل کر اس کے مفادات کے مطابق گریٹر مڈل ایسٹ کی تشکیلِ نو کے لیے لڑا جائے۔
وہ مادی عوامل جو امریکی فوجی ڈھانچے کے خاتمے کو ممکن بناتے ہیں
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عشروں کی تکالیف کے بعد موجودہ نسل کے مسلمانوں کو امریکی فوجی انفیکشن (وباء) سے چھٹکارا پانے کا ایک سنہرا موقع عطا کیا ہے۔
· ایران پر حملے کے ابتدائی ہفتوں کے اندر ہی، یورپ میں امریکہ کے روایتی اتحادیوں نے اسے تنہا چھوڑ دیا اور جنگ میں شامل ہونے کی امریکی پکار کو مسترد کر دیا۔ یہ اس وقت ہوا جب امریکہ ان 66 بین الاقوامی اداروں سے علیحدگی اختیار کر چکا تھا جو یورپ کو عالمی امور پر اختیار دیتے تھے۔
· جہاں تک چین اور روس کا تعلق ہے، وہ امریکہ کو اس دلدل میں دھنستا دیکھ کر خوشی سے نہال تھے، کیونکہ اس سے پہلے امریکہ نے روس کو یوکرین کی دلدل میں پھنسایا تھا اور چین کا محاصرہ کر کے اس کی تیل اور نایاب معدنیات (Rare Earth Elements) تک رسائی کاٹ دی تھی۔
· جہاں تک خلیجی ریاستوں کے مسلمانوں کا تعلق ہے، انہوں نے امریکی سکیورٹی ضمانتوں کی لرزہ خیز حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ انہوں نے خود مشاہدہ کیا کہ مسلم حکمران تو درحقیقت امریکی فوجی ڈھانچے کے محافظ بنے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی اڈے صرف امریکی اور یہودی افواج کے تحفظ کے لیے وہاں موجود ہیں، اگرچہ وہ ابتدائی ایرانی حملوں کی تاب نہ لا سکے اور بری طرح ناکام رہے۔
· جہاں تک امریکہ کے ناقابلِ شکست ہونے کے افسانے کا تعلق ہے، تو اسے ایران کے مسلمانوں نے چکنا چور کر دیا، جس سے پوری امتِ مسلمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
· جہاں تک خود امریکی 'ڈیپ سٹیٹ' (خفیہ مقتدرہ) کا تعلق ہے، تو اس کے اندر ایک بااثر دھڑے نے اس جنگ کو 'تھکا دینے والی لامتناہی جنگ' قرار دے کر اس کی اہمیت کو کم کیا، جو امریکہ کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ جہاں تک ٹرمپ انتظامیہ کا تعلق ہے، وہ ٹائم لائنز پر نظر ثانی کرنے اور مزید افواج جمع کرنے سمیت دیگر اقدامات پر مجبور ہو گئی۔ چنانچہ، ٹرمپ نے مذاکرات کا وہ انداز اپنایا جسے وہ یقینی شکست سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے، تاکہ افواج کو اکٹھا کرنے کے لیے وقت حاصل کیا جا سکے اور مذاکرات کی میز پر وہ کچھ حاصل کیا جا سکے جو اس کی فوج میدانِ جنگ میں کبھی حاصل نہیں کر سکی تھی۔ ٹرمپ نے مسلم دنیا میں اپنے ایجنٹوں کو بھی حکم دیا کہ وہ مختلف بیانیوں کا سہارا لیتے ہوئے اس کی طرف سے جنگ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو جائیں، جن میں سے بعض بیانیوں میں صرف زبانی حد تک اسلام کا نام استعمال کیا گیا۔
· جہاں تک مجموعی طور پر امتِ مسلمہ کا تعلق ہے، اس کی مسلح افواج کو اپنی ہی زمینوں کے اندر تمام امریکی فوجی ڈھانچے، اس کی شاخوں اور توسیع شدہ اڈوں تک مختصر اور محفوظ مواصلاتی راستے حاصل ہیں۔ اڈوں پر بڑے پیمانے پر زمینی حملے کے لیے دفاعی چھتری (deterrent cover) فراہم کرنے کے حوالے سے امتِ مسلمہ کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اور ہائپر سونک میزائل بھی موجود ہیں۔ امتِ مسلمہ کے فوجیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اور اسلام اور مسلمانوں کی خاطر لڑنے کے لیے تیار صحت مند اور توانا مردوں کی تعداد کروڑوں سے تجاوز کر جاتی ہے۔
چنانچہ، مادی نقطہ نظر سے وہ تمام مادی عوامل جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عطا کیے ہیں، وہ امتِ مسلمہ کے حق میں ہیں۔ یہ سب مسلمانوں کے ان موجودہ حکمرانوں کو ہٹانے کے بعد ممکن ہے، جو امریکی فوجی ڈھانچے اور اس کے سہولت کاروں کے لیے دفاع کی پہلی لائن بنے ہوئے ہیں۔
سب سے اہم عنصر، فوجیوں کا عقیدہ
امریکی فوجی ڈھانچے کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کی مدد کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فراہم کردہ مادی عوامل کو جاننے کے بعد، اب وقت آ گیا ہے کہ اس سب سے اہم عنصر پر بات کی جائے جو جنگ کا فیصلہ کرتا ہے، اور وہ ہے 'فوجیوں کا عقیدہ'۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو فوجی تشکیل کی بنیاد بنتا ہے اور اسے جوڑے رکھتا ہے، اسے بکھرنے اور شکست سے بچاتا ہے اور فتح کی جانب پیش قدمی کے لیے اس کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ کسی بھی اسلامی سیاسی منصوبے کی بحث اسلام کے عقیدے سے جڑے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ ایک وسیع سیاسی منصوبہ حقائق کے مطالعے، شرعی ترجیحات کے تعین، تیاری اور امکانات کے جائزے، اور ہنگامی منصوبوں کی تشکیل کے بعد بھی نامکمل رہتا ہے۔ ایک سیاسی منصوبہ اس وقت تک بے جان ہے جب تک ایسے مردِ مومن موجود نہ ہوں جو اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنا وقت، صحت، مال اور جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مزید برآں، جب امت غزہ، لبنان، شام، یمن، قطر اور ایران کے خلاف متحرک ہونے والے امریکی ڈھانچے پر ضرب لگانے میں ناکام رہی، تو اب کوئی بھی منصوبہ بندی اسلامی عقیدے پر بحث کیے بغیر ادھوری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، امتِ مسلمہ کو کافروں یعنی امریکیوں، یہودی وجود اور ہندو ریاست پر واضح برتری حاصل ہے۔
دشمن کا کمزور، بودا اور متزلزل عقیدہ
جہاں تک دشمن یعنی امریکہ کا تعلق ہے، تو امریکی فوجی کمانڈروں نے ایران پر حملے کو، جو 28 فروری 2026 کو شروع ہوا، ایک مذہبی جنگ کے طور پر پیش کیا تاکہ وہ اپنے فوجیوں کے اندر پائے جانے والے خوف کو قابو کر سکیں۔ 3 مارچ 2026 کو امریکی تنظیم 'ملٹری ریلیجیس فریڈم فاؤنڈیشن' (MRFF)، جس کا مقصد امریکی فوج کے اندر چرچ اور ریاست کی علیحدگی کو برقرار رکھنا ہے، نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا: "ایم آر ایف ایف کو ان خوش باش کمانڈروں کے خلاف شکایات کے انبار موصول ہوئے ہیں جو فوجیوں کو بتا رہے ہیں کہ ایران کی جنگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے 'خدا کے الٰہی منصوبے کا حصہ' ہے"۔
اس مضمون میں ایک نان کمیشنڈ آفیسر کا حوالہ دیا گیا ہے جس نے اپنی فوجی یونٹ کے 15 ارکان کی جانب سے لکھتے ہوئے کہا: "آج صبح ہمارے کمانڈر نے جنگی تیاری کی بریفنگ کا آغاز ہمیں اس بات پر آمادہ کرتے ہوئے کیا کہ ہم ایران میں جاری اپنی جنگی کارروائیوں کے حوالے سے 'خوفزدہ' نہ ہوں۔ اس نے ہم پر زور دیا کہ ہم اپنے فوجیوں کو بتائیں کہ یہ سب 'خدا کے الہی منصوبے کا حصہ' ہے اور اس نے خاص طور پر 'مکاشفہ کی کتاب' (Book of Revelation) کے متعدد حوالوں کا ذکر کیا جو ہرمجدون (Armageddon) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جلد واپسی سے متعلق تھے۔ اس نے کہا کہ 'صدر ٹرمپ کو حضرت عیسیٰ نے ایران میں (جنگ کی) آگ بھڑکانے کے لیے منتخب کیا ہے تاکہ ہرمجدون کا معرکہ بپا ہو اور زمین پر ان کی واپسی کی راہ ہموار ہو'۔" اور 25 مارچ 2026 کو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پینٹاگون میں پہلی ماہانہ مسیحی عبادتی تقریب کی قیادت کی، جس میں انہوں نے "ان لوگوں کے خلاف شدید ترین پرتشدد کارروائی کی اپیل کی جو کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں"۔
درحقیقت، میدانِ جنگ میں ایران کی طاقتور اور تربیت یافتہ مسلم فوج کا سامنا کرتے ہوئے امریکی فوجی "خوفزدہ" ہیں۔ امریکی فوجی اس وقت بھی "خوفزدہ" تھے جب ان کا سامنا افغانستان میں کم ہتھیاروں والے مجاہدین کے چھوٹے گروہوں سے تھا۔ ان کا خوف اس قدر غالب تھا کہ انہوں نے جنگ میں اپنے دشمنوں کا سامنا کرنے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دی۔ جنوری 2013 میں "جرنل آف ہیلتھ اکنامکس" میں شائع ہونے والی ایک تحقیق، جس کا عنوان تھا "جنگ کی نفسیاتی قیمت: فوجی لڑائی اور ذہنی صحت"، میں بتایا گیا کہ: "جولائی 2012 میں ریکارڈ 38 فوجیوں نے خودکشی کی (امریکی محکمہ دفاع، 2012) اور جون 2012 تک، افغانستان کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب وہاں جنگی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں (1950) کے مقابلے میں کہیں زیادہ امریکی فوجی اہلکار خودکشی (2676) کے نتیجے میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں"۔ لہٰذا، یہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی کہ امریکی فوج 30 اگست 2021 کو افغانستان سے مکمل انخلاء پر مجبور ہو گئی۔ امریکی فوجی کمانڈروں کی اپنی مسلح افواج کو مسیحی مذہب کے ذریعے متحرک کرنے کی کوششیں افغانستان کے مسلمانوں کے سامنے ناکام ہوگئیں۔
بنیادی طور پر، کوئی بھی امریکی فوجی تشکیل اپنے عقیدے کی وجہ سے مفلوج ہے۔ مسیحیت امریکی فوج کو اس طرح مضبوط نہیں کر سکتی جس کی اس کے فوجی کمانڈروں کو مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضرورت ہے۔ موجودہ مسیحی مذہب وہ دین نہیں ہے جو عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ پادریوں نے وحی میں اس وقت تک تحریف کی جب تک کہ وہ موجودہ مسیحیت بن گئی۔ مسیحیت کے عقیدے کے پاس اپنے عقائد کے لیے کوئی قطعی دلائل نہیں ہیں، اس لیے ایک فوجی نظریے کی بنیاد کے طور پر یہ کمزور اور غیر مستحکم ہے۔ مسیحیت میں اس حد تک تحریف کی گئی کہ اس نے اپنے پیروکاروں کے اندر قربانی، مزاحمت اور ثابت قدمی کے جذبے کو ختم کر دیا۔
یہاں، فاشسٹ اور سفید فام نسل پرست ٹرمپ کو اپنے جدِ امجد ہٹلر کے الفاظ پر غور کرنا چاہیے۔ کتاب "Inside the Third Reich" میں، ہٹلر کے ماہرِ تعمیرات اور وزیرِ حرب و ضرب البرٹ سپیئر نے ہٹلر کا یہ قول نقل کیا ہے: "تم دیکھو، یہ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ہمیں غلط مذہب ملا۔ ہمارے پاس جاپانیوں جیسا مذہب کیوں نہیں تھا، جو مادرِ وطن کے لیے قربانی کو سب سے بڑی بھلائی سمجھتے ہیں؟ دینِ محمدی (اسلام) بھی مسیحیت کے مقابلے میں ہمارے لیے بہت زیادہ موافق ہوتا۔ اسے مسیحیت ہی کیوں ہونا تھا جس میں عاجزی اور کمزوری بھری پڑی ہے؟"۔
مزید برآں، امریکی ڈیپ سٹیٹ اور امریکیوں کی موجودہ نسل مسیحیت کے بجائے سرمایہ داریت (Capitalism) پر یقین رکھتی ہے۔ جہاں تک امریکی ڈیپ سٹیٹ کا تعلق ہے، تو وہ امریکی سرمایہ دار اشرافیہ، اپنی فوج، تیل، معدنیات اور ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کے لیے مادی فوائد کے حصول کی تگ و دو کرتی ہے، جبکہ اپنے فوجیوں کو متحرک کرنے کے لیے مسیحیت کا استحصال کرتی ہے۔ ڈیپ سٹیٹ اپنے ان مفادات کی خاطر کی جانے والی کوششوں کو "قومی مفاد" کا لبادہ پہنا کر پیش کرتی ہے تاکہ اپنی فوج کو اپنے مفادات کے لیے قربانی دینے پر آمادہ کر سکے۔ تاہم، یہ منافقت اب ڈھکی چھپی نہیں رہی بلکہ بے نقاب ہو چکی ہے، جو بذاتِ خود مجموعی طور پر امریکی معاشرے اور خاص طور پر اس کی فوج میں بددلی اور حوصلہ شکنی کا باعث بن رہی ہے۔ جہاں تک امریکیوں کی موجودہ نسل بشمول ان کے فوجیوں کا تعلق ہے، تو وہ اپنے ان مذہبی آباؤ اجداد کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے اپنے مذہب کو بچانے کی خاطر یورپ چھوڑا اور سمندر پار کر کے بیابانوں میں نئے گھر بسائے تھے۔ نہیں، بلکہ افسروں کی موجودہ نسل تو سرمایہ داریت، مادہ پرستی، لذت پرستی، انفرادیت پسندی، راحت طلبی اور ذاتی بقا کی سوچ کی پیداوار ہے۔ افسروں کا ایسا کوئی طبقہ مسلمانوں کے ساتھ کسی شدید اور طویل جنگ میں فوجی ڈسپلن اور صف بندی کو کیسے برقرار رکھ سکتا ہے؟۔ یہ تو بس وقت کی بات ہے کہ ایک انتہائی پرعزم اور جذبوں سے سرشار قوت ان کی صف بندی کو توڑ دے گی۔
اسلامی فوجی تشکیل کا قطعی اور غیر متزلزل عقیدہ
امت کو چاہیے کہ وہ اپنی افواج کو اسلامی عقیدے کے مطابق متحرک کرے اور انہیں مسلم حکمرانوں کی غلط رہنمائی سے نجات دلائے۔ اسلام میں فوجی تشکیل کی بنیاد "قومی مفاد" نہیں ہے۔ جہاں تک قوم پرستی کا تعلق ہے، تو اسلام میں قوم پرستی کی کوئی جگہ نہیں، اور امت کے معاملات انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک ہر مسلمان کے اپنے معاملات ہیں۔ ایران، فلسطین، کشمیر، لبنان، شام اور یمن میں مسلمانوں کا قتلِ عام ان کا اپنا مسئلہ ہے، اور ان کی افواج اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور اپنے ردِ عمل (جواب) کی ذمہ دار ہیں۔ جہاں تک "مفاد" کی بات ہے، تو اسلام سے باہر یا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کے خلاف مسلمانوں کا کوئی مفاد نہیں ہے۔ اسلام افواج کو حکم دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی ان کے دین میں مدد کریں۔ اسلام افواج کو حکم دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی مقبوضہ زمینوں کو آزاد کرائیں۔ اسلام افواج کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ فوجی اتحاد میں بندھیں، جو مسلمانوں کی زمینوں پر قابض ہیں یا قبضے میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ اسلام کفار کے فوجی قبضے کو ختم کرنے کا حکم دیتا ہے، چاہے وہ کوئی امریکی اڈہ ہو یا امریکہ کا سب سے بڑا اڈہ یعنی یہودی وجود۔
عقیدے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو امریکی فوجی اس چیز کی امید نہیں رکھتے جس کی امید اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی راہ میں لڑنے والے مسلمان رکھتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾
"اور (دشمن) قوم کے تعاقب میں سستی نہ کرو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی اسی طرح تکلیف اٹھاتے ہیں جیسے تم تکلیف اٹھاتے ہو، اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، اور اللہ علم والا حکمت والا ہے"۔ [سورۃ النساء:آیت 104]
ابن کثیر اپنی تفسیر میں کہتے ہیں: فأنتم إذ كنتم موقنين من ثواب الله لكم على ما يصيبكم منهم، بما هم به مكذّبون أولى وأحرَى أن تصبروا على حربهم وقتالهم، منهم على قتالكم وحربكم، وأن تجِدُّوا من طلبهم وابتغائهم، لقتالهم على ما يَهنون فيه ولا يَجِدّون "چونکہ تم ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر اللہ کے ثواب کا یقین رکھتے ہو، جس کا وہ (دشمن) انکار کرتے ہیں، لہٰذا تم ان کے خلاف جنگ اور لڑائی پر ثابت قدم رہنے کے ان سے زیادہ حقدار اور لائق ہو، بہ نسبت ان کے جو تمہارے خلاف لڑائی اور جنگ پر صبر کریں۔ تم ان کی تلاش اور تعاقب میں تندہی دکھانے کے زیادہ حقدار اور لائق ہو، تاکہ ان سے اس (عقیدے) پر لڑو جس میں وہ کمزور پڑ جاتے ہیں اور جس کے لیے وہ جدوجہد نہیں کرتے"۔
اسلام کا عقیدہ نہ صرف لڑنے والے مسلمانوں کو قربانی کا جذبہ عطا کرتا ہے، بلکہ یہ مسلمانوں کی افواج کو اللہ کی نصرت آنے تک ثابت قدم رہنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ﴾
"پس تم ہمت نہ ہارو اور صلح کی پکار نہ کرو جبکہ تم ہی غالب رہنے والے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے، اور وہ ہرگز تمہارے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا"۔ (سورۃ محمد:آیت 35)۔
امام طبری اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:لا تضعفوا عنهم وتدعوهم إلى الصلح والمسالمة, وأنتم القاهرون لهم والعالون عليهم ( وَاللَّهُ مَعَكُمْ ) يقول: والله معكم بالنصر لكم عليهم "تم ان کے سامنے کمزوری نہ دکھاؤ اور انہیں صلح و آشتی کی دعوت نہ دو، جبکہ تم ان پر غالب اور برتر ہو۔ 'اور اللہ تمہارے ساتھ ہے' کا مطلب ہے کہ اللہ تمہارے لیے ان پر فتح و نصرت کے ساتھ تمہارے ساتھ ہے"۔ یقیناً، صلح اور مذاکرات کی پکار، ایسے وقت میں جب امریکہ لڑکھڑا چکا ہو اور اسے ایک فیصلہ کن شکست سے کچلا جا سکتا ہو، دین کے ساتھ صریح تضاد ہے۔
روئے زمین پر کسی بھی فوج کے پاس وہ سرمایہ نہیں جو اسلامی فوج کے پاس ہے۔ اسلام کا عقیدہ قطعی ہے اور عقلی و نقلی دلائل سے ثابت شدہ ہے۔ یہ یقین کا عقیدہ ہے جس میں وہم و گمان کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی مسلمانوں کی افواج کے عسکری نظریے (military doctrine) کی ٹھوس بنیاد ہے۔ اسلامی عقیدہ، اسلامی فوجی کلچر کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ اسلامی فوجی تشکیل کا ایک کلیدی ستون ہے۔ یہ اسلام کے ثقافتی اور فکری ماحول کا حصہ ہے، اور فوجی کمانڈروں کے احکامات کا ایک نمایاں وصف ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے قابل بناتا ہے، چاہے ان کے دشمنوں کے پاس اسلحہ اور قدم جمانے کے ٹھکانے کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔
خاتمہ: امریکی فوجی استعمار سے آزادی (تحریر) کی طرف پہلا قدم
اے امتِ مسلمہ اور اس کی افواج!
گریٹر مڈل ایسٹ کے اندر امریکی فوجی ڈھانچے کو ختم کر دو، جو مسلمانوں کے گھر میں ایک سانپ کی مانند ہے! اس نے بار بار مسلم ممالک کو ڈسا ہے اور یہ تب تک ڈستا رہے گا جب تک اس کے زہریلے دانت نکال کر اسے مفلوج اور ختم نہ کر دیا جائے۔ عالمی منظرنامہ، علاقائی حالات اور مسلمانوں کی مادی صلاحیتیں سب امتِ مسلمہ کے حق میں ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امتِ مسلمہ اور اس کی افواج اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر ایمان رکھتی ہیں۔ صدیوں کے دوران، مسلمانوں کی افواج نے صلیبیوں اور منگولوں سمیت اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور دشمنوں کو شکست دی ہے۔ حالیہ تاریخ میں بھی افغانستان، عراق، صومالیہ، کشمیر، یمن، فلسطین اور ایران کے میدانِ جنگ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی راہ میں لڑنے والے مسلمانوں کی طاقت کے گواہ رہے ہیں۔ چنانچہ، مسلمانوں کی افواج کو چاہیے کہ وہ پوری قوت کے ساتھ امریکی فوجی موجودگی کا مقابلہ کریں اور دو بھلائیوں میں سے ایک، یعنی فتح یا شہادت، کی طلبگار بنیں۔
اور مسلمانوں کی افواج کے لیے پہلا قدم ان موجودہ حکمرانوں کو ہٹانا ہے جو اسلامی عقیدے کی ضد ہیں اور ہر قدم پر دشمن کے لیے سہولت کاری کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی افواج کو پھر ایسی قیادت کو برسرِ اقتدار لانا ہوگا جو اسلامی عقیدے پر مبنی ریاست کا نظام چلائے۔ جی ہاں، امریکی فوجی ڈھانچے کو ختم کرنے کی طرف سب سے پہلا قدم مسلم افسران کی جانب سے نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحریر کو 'نصرۃ' (عسکری مدد) فراہم کرنا ہے۔ تبھی ایک خلیفہ راشد فیصلہ کن جنگ میں ان افواج کی قیادت کرے گا تاکہ مسلم دنیا کو ناپاک امریکی فوجی ڈھانچے سے پاک کیا جا سکے، جس میں کفار ذلیل و رسوا ہوں گے اور دینِ اسلام کو عزت و سربلندی ملے گی۔