بسم الله الرحمن الرحيم
نکبہ (عظیم تباہی) کے 78 سال: اب آگے کیا؟!
تحریر: استاد عبد الرحیم خلیل
(ترجمہ )
نکبہ (عظیم تباہی) ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جب کبھی اس کا ذکر ہوتا ہے، تو مسلمانوں کے ذہنوں میں فلسطین کا مسئلہ ابھر آتا ہے۔ سن 1948 میں، یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ کرنے اور وہاں کے باشندوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے لیے پیش قدمی کی، جس کے دوران انہوں نے خونریزی کی اور بچوں اور عورتوں کو بیدردی سے قتل کیا۔ جب عرب ریاستوں کو یہ خبر پہنچی، تو اردن، عراق، مصر، لبنان اور شام نے اپنی افواج کو فلسطین کی طرف روانہ کر دیا۔ یہودیوں کے خلاف جنگ میں شدت آگئی اور ان افواج میں موجود مخلص سپاہیوں نے تمام محاذوں پر بہادری سے مقابلہ کیا، یہاں تک کہ یہودیوں کی چیخ و پکار اقوام متحدہ کی سرکردگی میں مغرب کے کفار تک جا پہنچی۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے غداری کا آغاز ہوا۔ تمام فریقین نے ایک ماہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کر لیا! عرب افواج ایک ایسی جنگ بندی پر کیسے راضی ہو سکتی تھیں جبکہ وہ فتح یاب ہو رہی تھیں اور یہودیوں کے مکمل خاتمے کے قریب تھیں؟! تاہم، اس سے بھی زیادہ حیران کن حقیقت یہ جاننا ہے کہ عرب اردنی فوج کا کمانڈر ایک برطانوی افسر "گلوب پاشا" (جان باگوٹ گلوب) تھا! اسی طرح، دیگر عرب فوجی کمانڈروں اور صدور نے بعض علاقوں سے پیچھے ہٹنے کے احکامات جاری کیے، حالانکہ وہ فتح کی حالت میں تھے۔ جبکہ ان پر لازم شرعی فریضہ یہ تھا کہ وہ دشمن کے خلاف آگے بڑھیں، نہ کہ پیچھے ہٹیں! طے شدہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی یہودیوں نے اس کی خلاف ورزی کر دی۔ مسلسل 26 دنوں تک مغرب سے فوجی ساز و سامان کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی، جس نے یہودیوں کو اس قابل بنا دیا کہ وہ عرب افواج کا محاصرہ کریں اور ان سے مقابلہ کریں، یہاں تک کہ انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا۔
جیسے جیسے واقعات اور سال گزرتے گئے، 1964 میں مصر میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کا اعلان کیا گیا جسے فلسطینی عوام کا واحد سرکاری نمائندہ قرار دیا گیا۔ اس کا مقصد فلسطین کے باقی ماندہ حصوں کو غاصب وجود کے حوالے کرنا تھا، تاکہ حرام کو جائز قرار دیا جا سکے۔ پی ایل او کی سب سے بڑی "کامیابی" اوسلو معاہدہ تھا، جس نے فلسطین کی 78 فیصد زمین پر یہودی وجود کی موجودگی کو تسلیم کر لیا اور بقیہ 22 فیصد پر مذاکرات کیے۔ اس بقیہ علاقے میں سے بھی اب صرف 14 فیصد ہی باقی بچا ہے، جس کا "سہرا" اس فلسطینی اتھارٹی کے سر ہے جو غدارانہ اوسلو معاہدے کے بطن سے پیدا ہوئی۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے 'فتح' کی آٹھویں جنرل کانفرنس کے دوران اپنی تقریر میں اوسلو معاہدے کو "خیانت" (غداری) قرار دیتے ہوئے کہا: "اوسلو معاہدہ غداری ہے، لیکن ہم اسے چاہتے ہیں... ہم اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں!" تو پھر ایک ایسے معاہدے کو برقرار رکھنے کا کیا مقصد ہے جو بذاتِ خود ایک غداری ہے؟ درحقیقت، اس تحفظ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے جو اس معاہدے نے یہودی وجود کو فراہم کیا؟ اس معاہدے کو 22 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن یہودیوں کے کرتوتوں میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی: قتل و غارت، بے دخلی، محاصرہ، گھروں کی مسماری اور گرفتاریاں مسلسل جاری ہیں۔ بلکہ، یہودی وجود نے القدس، الخلیل اور دیگر مقامات پر مقدس مقامات پر حملے کر کے اپنے گھناؤنے اقدامات میں مزید تیزی پیدا کر دی ہے۔ ابھی حال ہی میں، یہودیوں نے مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں میں تلمودی دعائیں مانگیں، جس نے زمین پر بسنے والے ہر مسلمان کو مشتعل کر دیا۔ پھر مغربی کنارے کے ان آباد کاروں کا کیا ذکر کریں جو نہتے لوگوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کی رقم، زمین اور مویشی چھین رہے ہیں، اور وہاں کے باشندوں کو مار پیٹ، تذلیل، اغوا اور قتل کا نشانہ بنا رہے ہیں؟ خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان، کوئی بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں رہا۔ یہ سب کچھ اوسلو معاہدے پر دستخط کرنے والوں کی نظروں کے سامنے ہو رہا ہے، جو کہ ذلت، کرپشن اور غداری کی ایک دستاویز ہے۔ ہمیں ایک ایسے معاہدے کو کیوں برقرار رکھنا چاہیے جس کا مقصد فلسطینی اتھارٹی کے اندر ایک مخصوص گروہ کی طاقت کو مضبوط کرنے کے علاوہ کچھ نہیں رہ گیا، تاکہ وہ ٹیکسوں اور فیسوں کے ذریعے عوام کے وسائل کو نچوڑ سکیں؟ یا پھر اس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں یہودی وجود، امریکہ اور یورپ کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا، اسلامی تصورات کو پاش پاش کرنا اور انہیں تعلیمی نصاب سے نکال باہر کرنا ہے؟
یروشلم (بیت المقدس) کی آزادی (تحریر) میں 78 سال کی تاخیر نہ ہوتی اگر وہ مجرمانہ سائیکس-پیکو معاہدہ نہ ہوتا، جس نے خلافتِ عثمانیہ کے کھنڈرات پر مسلمانوں کی زمینوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مغربی ایجنٹوں کی حکمرانی میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں تخلیق کر دیں۔ ان ریاستوں کے اندر رہنے والا ہر مسلمان ایک قوم پرستانہ وفاداری میں جکڑ دیا گیا، اور مسلمانوں نے اس بابرکت سرزمین کو محض ایک جذباتی وابستگی سے زیادہ کچھ نہ سمجھا، جس کا ذکر آنے پر بس چند آنسو بہا دیے جاتے ہیں۔ مسلم دنیا میں قوم پرستی اور وطن پرستی کے تصورات جتنے زیادہ راسخ ہوتے گئے، کفار مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کی طرف پیش قدمی کو مؤخر کرنے کے لیے وقت حاصل کرنے میں اتنے ہی کامیاب ہوتے گئے۔
78 سال سے زائد عرصے سے، یہودی وجود نے اپنی کارروائیاں اسی رفتار سے جاری رکھی ہوئی ہیں، بلکہ قتل و غارت، فاقہ کشی، زمینوں پر قبضے اور مقدسات کو یہودی رنگ دینے (Judaization) میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ یہ سب سائیکس-پیکو اور ان عرب حکمرانوں کی بدولت ہے جو اس مساوات کو بدلنے میں کامیاب رہے کہ اس وجود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے اور اسے ختم کرنے کے ذرائع کیا ہونے چاہئیں، اور اس کی جگہ وہ اس پر آ گئے کہ معاہدوں اور تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کے ذریعے اس کے ساتھ کیسے رہا جائے، جو کہ زمین اور آسمان دونوں کو غصہ دلانے والا فعل ہے۔
ہم مسلمانوں کے لیے، ہماری سب سے بڑی مصیبت وہ دن تھا جب ہماری خلافت کو تباہ کر دیا گیا، ہماری سرزمین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا، اور ہر دور و نزدیک کے دشمن نے ہم پر دستِ درازی شروع کر دی۔ اس عظیم تر تنازعے میں فلسطین محض ایک کڑی ہے۔ خلیفہ عبد الحمید دوم (رحمہ اللہ) کا وہ تصور حقیقت بن کر سامنے آیا جب انہوں نے ہرزل سے کہا تھا کہ: "میرے لیے یہ زیادہ آسان ہے کہ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں، بجائے اس کے کہ میں فلسطین کی ایک انچ زمین سے بھی دستبردار ہو جاؤں۔ یہ میری ذاتی جائیداد نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی ملکیت ہے۔ میں جیتے جی اپنے جسم کی چیر پھاڑ پر راضی نہیں ہو سکتا... یہودی اپنی دولت سنبھال کر رکھیں، کیونکہ اگر خلافت ختم ہو گئی تو تم فلسطین کو کسی قیمت کے بغیر ہی ہتھیا لو گے"۔ اور بعینہٖ ایسا ہی ہوا۔
ارضِ مقدس فلسطین کے مسئلے کا حل اسے مسلمانوں کے ایک مشترکہ مقصد کے طور پر اس کے حقیقی رخ کی طرف موڑنے میں ہے، اور اسے ان قومی و قوم پرستانہ لغویات اور بین الاقوامی اداروں سے نجات دلانے میں ہے جنہیں گزرتے برسوں نے محض ایک سراب، دھوکہ اور وقت کا ضیاع ثابت کیا ہے۔ مسلمانوں کی اس تباہی کے حل کی ابتدا ان کا ایک ہی 'رایہ' (جھنڈے) تلے متحد ہونا، اور ان لوگوں کے ساتھ مل کر تگ و دو کرنا ہے جو نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام اور امت کے چھینے ہوئے اقتدار کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ تب افواج مسجدِ اقصیٰ کی طرف کوچ کریں گی اور یہودی وجود کو ختم کر دیں گی، تاکہ امت اپنی عظمتِ رفتہ، وقار اور اپنی پہچان دوبارہ حاصل کر لے۔ یقیناً، یہ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔