بسم الله الرحمن الرحيم
افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ: نئے عالمی نظام میں تنازعات کے نقشے
تحریر: استاد نبیل عبد الکریم
(ترجمہ)
تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں، بین الاقوامی اثر و رسوخ کی جنگیں اب صرف سرحدوں اور فوجوں تک محدود نہیں رہیں۔ توانائی بڑے تنازعات کا پوشیدہ محرک بن چکی ہے۔ دہائیوں تک، مشرقِ وسطیٰ، خاص طور پر خلیج اور ایران، اس عالمی کشمکش کا مرکز رہے ہیں، جہاں تمام تر توجہ تیل اور اس کی اہم تجارتی گزرگاہوں پر مرکوز تھی۔ تاہم، ابھرتی ہوئی جغرافیائی سیاسی (geopolitical) تبدیلیوں اور عالمی معیشت کی بدلتی ہوئی نوعیت کے ساتھ، بین الاقوامی مقابلے کا رخ ایک دوسرے براعظم کی طرف مڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو بے پناہ دولت اور بے مثال سٹریٹیجک صلاحیتوں کا حامل ہے: یعنی افریقہ۔
براعظم افریقہ اب محض ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ یا مراکزِ قدرت سے دور کوئی جغرافیائی حاشیہ نہیں رہا۔ یہ توانائی اور ان نایاب معدنیات (Rare Earth Elements) کا ایک عالمی ذخیرہ بن چکا ہے جن پر مستقبل کی صنعتوں کا انحصار ہے، چاہے وہ الیکٹرک گاڑیاں ہوں، مصنوعی ذہانت (AI) ہو یا فوجی ٹیکنالوجی۔ مشرقِ وسطیٰ میں کچھ روایتی تنازعات کے کم ہونے کے امکان کے ساتھ، ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا افریقہ 21ویں صدی کی توانائی اور وسائل پر ہونے والے بین الاقوامی تنازعات کا نیا میدان بنے گا؟ بلاشبہ، یہ تبدیلی صرف تیل کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اثر و رسوخ، اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں اور ان معدنیات کے لیے ایک وسیع تر جدوجہد ہے جو آنے والی دہائیوں میں عالمی طاقت کی صورتگری کریں گے۔
چنانچہ، براعظم افریقہ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا مرکز، اور شاید مستقبل کے تنازعات کا خطرناک ترین میدان بننے کے لیے تیار ہے۔ ہم ایک "لچکدار دو قطبی نظام" (flexible bipolarity) کی طرف منتقلی کا آغاز دیکھ رہے ہیں، اگرچہ یہ اپنے کلاسیکی مفہوم میں نہیں ہے۔
دہائیوں سے، خلیجِ عرب اپنے تیل کے وسیع ذخائر اور آبنائے ہرمز جیسی اہم بحری گزرگاہوں پر کنٹرول کی وجہ سے عالمی مرکزِ ثقل رہی ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ تاریخی طور پر، بڑی طاقتیں صنعتی دنیا کی سلامتی کو براہِ راست اس خطے کے استحکام سے وابستہ دیکھتی رہی ہیں۔ تاہم، حالیہ واقعات نے خطے کے استحکام کو متزلزل کر دیا ہے، اور یہ مغرب، بالخصوص ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مفاد میں ہے کہ اس عدم استحکام کو برقرار رکھا جائے۔ مغرب اس خطے کو اسلام کی نشاۃِ ثانیہ (دوبارہ ابھرنے) کے لیے ایک زرخیز زمین کے طور پر دیکھتا ہے، اور وہ بڑی علاقائی طاقتوں کو تقسیم کر کے، بعض خلیجی ریاستوں کو غریب (معاشی طور پر کمزور) کر کے، اور کلیدی آبناؤں پر امریکی کنٹرول اور ان کی ممکنہ ناکہ بندی کو برقرار رکھ کر اس خطے کو کمزور کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ تمام عوامل دنیا کو اس خطے سے باہر توانائی کے محفوظ ذرائع کی طرف دھکیل دیں گے۔
دیگر عوامل بھی اس براعظم میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا باعث بن رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:
اول: عالمی سطح پر توانائی کی بدلتی ہوئی نوعیت بیسویں صدی میں تیل کی حکمرانی تھی۔ آج دنیا ایک ایسے مختلف دور میں داخل ہو رہی ہے جس کی بنیاد الیکٹرک گاڑیاں، دیو ہیکل بیٹریاں، قابلِ تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت اور جدید تکنیکی صنعتیں ہیں۔ ان تمام صنعتوں کو محض تیل کے مقابلے میں سٹریٹیجک معدنیات کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، جیسے کہ کوبالٹ، لیتھیم، نکل، تانبا اور سترہ نایاب زمینی عناصر (REEs)۔ یہی وجہ ہے کہ براعظم افریقہ بڑی طاقتوں کی نظروں میں آ چکا ہے، کیونکہ یہ ان وسائل کا ایک بڑا حصہ رکھتا ہے۔
دوم: خلیج کی توانائی کی اجارہ داری میں کمی اگرچہ خلیج کی اہمیت برقرار رہے گی، لیکن عالمی سطح پر توانائی کے ذرائع میں تنوع اور نئے خطوں میں گیس کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے دنیا نے اس پر اپنا خصوصی انحصار کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہمیں اپنے شیل آئل (shale oil) کو فروغ دینے کی امریکی کوششوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، جیسا کہ امریکہ-چین معاہدے میں دیکھا گیا ہے، جس کے تحت امریکہ چین کو تیل فراہم کرے گا۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ دنیا اپنی معاشی سلامتی کو کسی ایک انتہائی غیر مستحکم خطے سے وابستہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہے،اور یہی بالکل وہی چیز ہے جو امریکہ چاہتا ہے۔
سوم: افریقہ مقابلے کے لیے ایک کھلا میدان ہے خلیج میں، سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ دہائیوں سے تقریباً طے شدہ رہا ہے۔ تاہم، افریقہ اثر و رسوخ کا ایک غیر مستحکم دائرہ ہے، جو تاحال غیر استعمال شدہ وسائل سے مالا مال ہے اور اس کے بیشتر ممالک سیاسی کمزوری کا شکار ہیں۔ یہاں روایتی فوجی اڈوں اور اتحادوں کی بھرمار بھی کم ہے، جو بڑی طاقتوں کو نیا اور طویل مدتی اثر و رسوخ قائم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
چہارم: افریقہ کا جغرافیائی محل وقوع افریقہ نہ صرف قیمتی وسائل کا حامل ہے بلکہ یہ اہم بحری گزرگاہوں جیسے کہ آبنائے باب المندب، نہر سویز، اور بحرِ اوقیانوس و بحرِ ہند کے ساحلوں پر بھی کنٹرول رکھتا ہے۔ افریقہ پر کنٹرول کا مطلب عالمی تجارت اور توانائی کی گزرگاہوں پر اثر انداز ہونا ہے۔
پنجم: آنے والا تنازع مستقبل کی معدنیات پر ہوگا امریکہ، چین اور یورپ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ جو کوئی افریقی معدنیات پر کنٹرول حاصل کرے گا، اسے بے پناہ معاشی اور تکنیکی برتری حاصل ہو جائے گی۔ دنیا کے کوبالٹ کے زیادہ تر ذخائر جمہوری جمہوریہ کانگو میں واقع ہیں، جنوبی افریقہ نایاب زمینی عناصر (REEs) میں سب سے مالا مال خطہ ہے، اور نائجر یورینیم سے بھرا ہوا ہے، جبکہ موزمبیق میں گیس کے وسیع ذخائر کا تو ذکر ہی الگ ہے۔ اس لیے، افریقہ کا تعلق براہِ راست مستقبل کی صنعتوں سے ہے، نہ کہ صرف دنیا کو روایتی ایندھن فراہم کرنے سے۔ چنانچہ، ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا خود کو مشرقِ وسطیٰ کے ان تنازعات سے دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے جنہوں نے اسے تھکا دیا ہے، اور ایسے خطوں کی تلاش میں ہے جو سیاسی اور فوجی لحاظ سے کم مہنگے ہوں اور براہِ راست فوجی مداخلت کے بجائے معاشی اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہوں۔
بڑی طاقتیں اس وقت خلیج کی طرف اس لیے رخ نہیں کر رہیں کہ تیل کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، بلکہ اس لیے کہ دنیا ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اب تنازعات محض تیل تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان کا دائرہ توانائی، ٹیکنالوجی، معدنیات اور سپلائی چینز (رسد کی ترسیل) تک پھیل چکا ہے۔ افریقہ ان میں سے زیادہ تر وسائل کا مالک ہے۔ اسی وجہ سے، ہم آنے والے دنوں میں بین الاقوامی مقابلے کے مراکز کو خلیج اور ایران سے بتدریج افریقی براعظم کی طرف منتقل ہوتے دیکھ سکتے ہیں، جسے مستقبل کے وسائل کا ایک سٹریٹیجک ذخیرہ تصور کیا جاتا ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکی پالیسیاں اس کی حساسیت کی وجہ سے اس خطے کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی خواہش ظاہر کرتی ہیں۔ اس نے کلیدی ریاستوں کو کمزور کر دیا ہے، افواج اور حکومتوں کو تحلیل کر دیا ہے، خطے کو معاشی طور پر تھکا دیا ہے، اور ان آمرانہ حکمرانوں کو ہٹا دیا ہے جو یا تو اس کے اپنے پیدا کردہ تھے یا طویل عرصے سے اقتدار پر قابض تھے۔ اس نے برسوں سے سوئی ہوئی کشیدگیوں کو ہوا دی ہے، مسلکی، لسانی اور ترقیاتی تقسیم پیدا کی ہے، اور علاقائی استحکام کا خاتمہ کر دیا ہے۔ 2003 میں عراق پر حملے سے لے کر 2026 تک، اور ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش تک،جو واضح طور پر تیز رفتاری سے جاری ہے، اس سب کا مقصد پورے خطے کے وسائل کو نچوڑنا اور "یہودی وجود" (صیہونی ریاست) کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہودی وجود خلافت کے قیام کو روکنے کے لیے کس قدر بے چین ہے، جس کے آنے کے بارے میں انہیں بخوبی علم ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے ظہور کے لیے مشرقِ وسطیٰ بہترین جگہ ہے۔
وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ایک ایسی پھیلتی ہوئی طاقت کے ظہور کو روکنے کے لیے متحد ہو جائیں جو ان کے مفادات کو خطرے میں ڈال سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ توانائی کے تحفظ اور بحری گزرگاہوں کو یقینی بنانا، طاقت کا توازن اپنے کنٹرول میں رکھنا اور یہ ذمہ داری یہودی وجود کے سپرد کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ان کے کنٹرول کے بغیر کسی بھی معاشی یا فوجی طور پر خود مختار بلاک کی تشکیل کو روکا جا سکے۔
"تخلیقی تخریب" (creative destruction) اور "تخلیقی انتشار" (creative chaos) کا نظریہ، جس کا اعلان 2006 میں اس وقت کی امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کیا تھا، اس خیال سے جڑا ہوا ہے کہ یہ ایک پہلے سے تیار شدہ نظریہ تھا، یا پھر جنگوں میں امریکہ کی شمولیت کا مقصد اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انتشار پھیل گیا، اور اب امریکہ اپنے مفادات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا اعلان کر رہا ہے۔
نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کا قیام اب قریب ہے، اور اللہ کے حکم سے یہ ان کی نظروں کے سامنے قائم ہوگی، جب وہ اپنی دولت خرچ کر چکے ہوں گے۔ ان تمام سازشوں کے بعد، اللہ کے حکم سے انہیں شکست ہوگی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ﴾
"بے شک جو لوگ کافر ہیں وہ اپنے مال اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روک دیں، سو وہ اسے خرچ کرتے رہیں گے، پھر وہی (مال) ان کے لیے باعثِ حسرت بنے گا، پھر وہ مغلوب ہو جائیں گے، اور جو لوگ کافر ہیں وہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔"( سورۃ الانفال: 36)
لہٰذا، ہم روئے زمین کے ہر مسلمان اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے خلاف بنی جانے والی ان سازشوں سے ہوشیار رہیں۔ ان کی طاقت کفار کے سامنے سجدہ ریز ہونے میں نہیں ہے تاکہ وہ اپنی ہی امت کے خلاف ان کے منصوبوں کو نافذ کریں؛ بلکہ حقیقی طاقت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے دین کی طرف لوٹنے میں ہے، وہ دین جو دنیا پر حکمرانی کرے گا، اس سیارے سے سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) کے اثرات کو مٹا دے گا اور اپنے عقیدے، روشنی اور عدل و انصاف کو پھیلائے گا۔
اے مسلمانوں! اے اہل قوت اور نصرت (فوجی طاقت رکھنے والو)! اس دین کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑے ہو! کیونکہ ہماری آپسی دشمنی کا فائدہ صرف ہمارے دشمنوں کو پہنچے گا۔ ایک ریاست میں، ایک ہی خلیفہ کی قیادت میں ہمارا اتحاد—جہاں اللہ کے نازل کردہ تمام احکامات کے مطابق حکمرانی ہو اور جو ہماری زندگیوں کو شریعت کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دے، ہمیں دوبارہ وہی 'بہترین امت' بننے کا موقع فراہم کرے گا جو انسانیت (کی فلاح) کے لیے نکالی گئی ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْراً لَهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ﴾
"تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے نکالی گئی ہو، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب (بھی) ایمان لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو ایمان والے ہیں لیکن ان کے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔"( سورۃ آلِ عمران: 110)