بسم الله الرحمن الرحيم
اللہ ﷻ کی شریعت کی بنیاد پر شناخت، آئین اور ریاست ہی پاکستان میں استحکام کو یقینی بنانے کا واحد ذریعہ ہے
خبر:
”ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کے روز کہا کہ یہ تاثر پیدا کرنے کی دانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ بلوچستان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے... بریفنگ کے آغاز میں، فوج کے ترجمان نے بتایا کہ اس سال 40,348 انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز (IBOs) کیے گئے ہیں... ان کا کہنا تھا کہ ان آپریشنز میں سے اکثر بلوچستان میں کیے گئے، جن کی تعداد 31,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔“ (ڈان اخبار، 31 جولائی 2026)
تبصره:
پاکستان کے مسلمان بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے اضلاع میں عدم استحکام سے اس حد تک دہل چکے ہیں کہ کچھ لوگوں نے تکالیف، الجھنوں اور کسی واضح حل کی عدم موجودگی کے باعث خبریں دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ ایک طرف پاکستان کے حکمران پاکستانی شناخت کی بنیاد پر فرائض کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو دوسری طرف مظاہرین اور مسلح گروہ اپنی قوم پرست اور لسانی شناختوں کی بنیاد پر حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مزید برآں، مغربی طاقتیں جلتی پر تیل چھڑکنے کی جی توڑ کوششیں کر رہی ہیں، جبکہ ہندوستانی ریاست (ہندو سٹیٹ) بھی اپنی شرارتوں سے باز نہیں آ رہی۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان، مسلمانوں سے لڑ رہے ہیں اور انہیں قتل کر رہے ہیں، اور اس فتنے کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آ رہا۔
فتنے کا سدباب اللہ ﷻ کی شریعت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں منافقین اور یہود مدینہ المنورہ میں عدم استحکام چاہتے تھے۔ انہوں نے اسلام سے پہلے کے دور کی عصبیت اور قبائلیت کی بنیاد پر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔ وہ بری طرح ناکام رہے کیونکہ مدینہ میں شناخت، قوانین اور اقتدار تمام تر اللہ ﷻ کی شریعت پر مبنی تھے۔ مدینہ کے مسلمانوں کی شناخت اس کی زمین اور سرحدوں کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ ان کی شناخت اس چیز پر مبنی تھی جس نے مدینہ کو ”منورہ“ بنایا— یعنی اللہ ﷻ کی شریعت کا نور۔ مدینہ کے تمام قوانین قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی سے ماخوذ تھے، جنہوں نے تمام لوگوں کو—خواہ ان کی نسل اور مذہب کچھ بھی ہو—عدل، خوشحالی اور سیکیورٹی فراہم کی۔ مدینہ کا اقتدار/حکمرانی مسلمانوں پر حکومت کرتی، ان کی شکایات کا ازالہ کرتی اور ان کے تنازعات کا حل اس دین کی بنیاد پر کرتی تھی جس پر وہ ایمان رکھتے تھے۔
تو پھر ہم ایک ایسے معاشرے میں امن و امان کی توقع کیسے کر سکتے ہیں جس کی شناخت زمین اور سرحدوں سے وفاداری پر مبنی ہو، جس کے قوانین ناقص انسان کے بنائے ہوئے قوانین سے ماخوذ ہوں، اور جس کا اقتدار و حکمرانی مسلمانوں پر سیکولرازم کی بنیاد پر قائم ہو—جو اللہ ﷻ کے دین کو شناخت، قانون اور آئین سے جدا کرتا ہے؟
اے پاکستان کے مسلمانو! گہرے ہوتے ہوئے سیکیورٹی بحران کا ایک حل موجود ہے، اور وہ ہے اللہ کی شریعت کا نفاذ اور پاکستانی قوم پرستی، علاقائی قوم پرستی (ذیلی قوم پرستی)، سرمایہ داری اور سیکولرازم کا خاتمہ۔ اے پاکستان کے مسلمانو! دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے جدوجہد کرو جو اکیلی ہی فتنے کی آگ کو بجھا سکتی ہے اور دشمنی کو اخوت و بھائی چارے میں بدل سکتی ہے!
اللہ ﷻ کا فرمان ہے :
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا﴾
”اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے؛ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔“ [ترجمہ مفہوم قرآن - سورہ آلِ عمران: 103]
مصعب عمير – ولاية باكستان
Latest from
- خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا) 03/08/2026
- سوڈان کی صورتحال اور امریکی مقاصد
- ولایہ سوڈان: جولائی 2026ء کے دوران سرگرمیاں اور پروگرام
- کشمیر جل رہا ہے: بے گناہ شہریوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن "قومی ریاست" اور سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے
- پاکستان کے داخلی سیکیورٹی بحران کی وجہ "قومی ریاست" اور اس پر مبنی شناخت کی ناکامی ہے، جو مختلف نسلوں اور علاقائی شناختوں کو ایک واحد اکائی میں ضم کرنے سے قاصر ہے