بسم الله الرحمن الرحيم
خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)
03/08/2026
مسلمانوں کی مسلح افواج کو چاہیے کہ وہ امریکی فوجی اڈوں، بشمول امریکی اگلی چوکی "یہودی وجود"، پر درست نشانہ بنانے والے حملے کریں
ٹمپا، فلوریڈا — 28 جولائی کو امریکی سنٹرل کمانڈ اور سعودی عرب کی مسلح افواج نے عراق میں ایران نواز دہشت گردوں کے خلاف درست نشانہ بنانے والے حملے کیے، جنہیں اسلامی انقلاب کی پاسدارانِ کور (IRGC) نے امریکی افواج اور سعودی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے کرنے کی ہدایت دی تھی۔ (امریکی سینٹکام، 28 جولائی 2026)
https://www.centcom.mil/MEDIA/PUBLIC-RELEASES/Article/4558191/us-saudi-forces-strike-iran-backed-terrorist-sites-in-iraq/
تبصرہ
بزدلانہ افواج کی وجہ سے مفلوج امریکی فوجی قیادت ایران کے خلاف اپنی جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ فوجی اتحاد چاہتی ہے۔ اسی وقت، امریکی سیاسی قیادت علاقائی اتحادوں کا ایک ایسا جال بچھانے کے لیے ان فوجی اتحادوں کا استعمال کر رہی ہے جو فلسطین کی مقدس سر زمین پر مستقل یہودی قبضے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح ٹرمپ نے عالمِ اسلام میں اپنے ایجنٹوں کو متحرک کیا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اور اس کے ساتھ ساتھ یہودی وجود کے ساتھ بھی اتحاد بنائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں، جبکہ یہود و نصاریٰ اس پر جشن منا رہے ہیں۔
مسلمان کافروں کی سازشوں سے نقصان اٹھاتے رہیں گے جب تک کہ وہ رہنمائی کے لیے قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ کی طرف رجوع نہ کریں۔ اللہ ﷻ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ ﷻ نے ارشاد فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ "اے ایمان والو! تم یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست (اور مددگار) نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں سے جو بھی ان کو اپنا دوست بنائے گا، وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔" [ المائدہ: 51]
رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو کافر ریاستوں سے مدد (استعانت) مانگنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل کرنے سے منع فرمایا، جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: «لاَ تَسْـتَضِـيئُوا بـِنَارِ الْمُشْرِكِينَ» "مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو۔" [مسند احمد] یہاں "آگ" کا لفظ جنگ کے لیے بطورِ کنایہ استعمال ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: «فَإِنَّا لاَ نَسْـتَعِينُ بـِمُـشْـرِكٍ» "ہم کسی مشرک سے مدد حاصل نہیں کرتے۔" [صحیح ابن حبان]
اس طرح، اسلام نے کفار کے ساتھ اتحاد کرنے اور ان سے فوجی مدد مانگنے سے منع کیا ہے۔ ساتھ ہی، اسلام نے مسلمانوں کو ایک واحد خلیفہ کے ماتحت متحد ہونے کا حکم دیا ہے۔ ریاستِ خلافت ان تمام قوم پرست سرحدوں کو ختم کر دے گی جنہوں نے مسلمانوں کی سرزمینوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ مسلمانوں کے تمام وسائل کو ایک ہی بیت المال (ریاستی خزانے) میں جمع کرے گی۔ یہ تمام مسلمانوں کی مسلح افواج کو ایک ہی امیرِ الجہاد کے تحت متحد کرے گی۔
خلافت پوری امت کی مسلح افواج کی قیادت کرتے ہوئے ایک ایسے فوجی آپریشن کی رہنمائی کرے گی جس کا مقصد عالمِ اسلام کے اندر موجود تمام امریکی فوجی ڈھانچے بشمول یہودی وجود کا خاتمہ کرنا ہے۔
فتنے کے اس بڑھتے ہوئے دور میں، مسلمانوں پر شرعی فرض یہ ہے کہ وہ طریقۂ نبوت پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
پاکستان کے حکمرانوں کیجانب سے "اسٹریٹجک ریسٹرینٹ" (تزویراتی ضبط) کی امریکی پالیسی کو اپنانا ہی بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کی اصل وجہ ہے
"حکومتِ پاکستان جموں و کشمیر کے تنازع کے تناظر میں بھارتی وزیرِ دفاع کے انتہائی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔"
27/07/26 دفترِ خارجہ، پاکستان
https://mofa.gov.pk/press-releases/pakistan-condemns-remarks-of-indian-defense-minister
تبصرہ
دفترِ خارجہ کا یہ کمزور ردِعمل پاکستان کے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ان بیانات کی کوئی وقعت نہیں کیونکہ ان کی پشت پر ہندو ریاست کے خلاف کوئی عسکری اقدام موجود نہیں—وہ ہندو ریاست جس نے مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ قبضہ کر رکھا ہے اور اب آزاد کشمیر پر بھی قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ پاک بھارت تنازع کی تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف فوجی قوت کے استعمال نے ہی بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنی سازشوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔
تاہم، واشنگٹن کی اطاعت گزاری میں پاکستان کے حکمران "اسٹریٹجک ریسٹرینٹ" (تزویراتی ضبط) کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جس نے ہندو ریاست کو ایک وسیع اسٹریٹجک اور تزویراتی میدان فراہم کر دیا ہے۔ جب کہ پاکستان میں ٹرمپ کے ایجنٹ بھارت کے ساتھ مذاکرات اور ضبط و تحمل کا راگ الاپتے رہتے ہیں، بی جے پی کی قیادت میں قائم بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف اپنی ان تمام دھمکیوں اور پالیسیوں پر عمل درآمد کر دکھایا ہے جن کا اعلان انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں کیا تھا۔
ہندو—جو کہ مکر و فریب اور سازشوں کے ماہر ہیں—نے جموں و کشمیر کے تنازع سے متعلق تمام قواعد و ضوابط کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کو بھی غصب کرنے کی کھلم کھلا دھمکیاں دے رہی ہے۔ مغربی استعمار پسندوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں ہمیشہ ہندو ریاست کی سرپرستی کی ہے، لہٰذا یہ سوچنا ہی فضول ہے کہ نام نہاد "عالمی برادری" مسلمانوں کے کسی مقصد یا موقف کو آگے بڑھائے گی۔
اس طرح پاکستان کے خائن حکمرانوں نے کشمیر کو بالکل تنہا چھوڑ دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے ان کے پاس کوئی سنجیدہ پالیسی موجود نہیں، جس سے بھارت کو کشمیری مسلمانوں کی مزاحمت کو کچلنے کا موقع میسر آ رہا ہے۔
اسٹریٹجک ریسٹرینٹ کو اپنانے کی خاطر جہاد کو ترک کر دینا مسلمانوں اور ان کے مقاصد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ اللہ ﷻ کے فضل و کرم سے مئی 2025ء میں ایک سنہری موقع میسر آیا، جب ہماری بہادر مسلح افواج نے چار روزہ جنگ کے دوران بھارتی جارحیت کو ناکام بنا کر اسے شکست فاش دی۔ لیکن اس کے باوجود، عسکری قیادت نے تمام مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے پیش قدمی نہیں کی؛ اس کے بجائے انہوں نے متکبر ٹرمپ کے حکم کی تعمیل کی اور بھارت کو شکست اور رسوائی سے بچانے کے لیے جنگ بندی کی راہ اپنائی۔
پاکستان کو ایک ایسے سیاسی اور فکری انقلاب کی اشد ضرورت ہے جس کا نتیجہ خلافت کے قیام کی صورت میں نکلے۔ اللہ ﷻ کی شریعت کا نفاذ ہماری عسکری فکر کو پاک کر دے گا، جو فی الوقت قوم پرستی، مصلحت پسندی اور سیکولرزم سے آلودہ ہے اور جس نے ٹرمپ کے کارندوں کو مسلمانوں کے مفادات سے خیانت کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
جہاد کا اسلامی عسکری عقیدہ منافقین کو بے نقاب کرے گا، ہماری تمام تر صلاحیتوں کو بیدار کرے گا اور امتِ مسلمہ کو کفار کے ہاتھوں مظالم سہنے کے بجائے عالمی منظر نامے کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنائے گا۔ پاکستان کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مسلح افواج سے مطالبہ کریں کہ وہ اپنی قیادت میں موجود غداروں کا خاتمہ کریں اور منہاج النبوۃ (طریقہ نبوت) پر خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے "نصرت" فراہم کریں۔
مسلمانوں کا خلیفہ مقبوضہ کشمیر سمیت پورے جنوبی ایشیا کو دوبارہ "دارالاسلام" بنانے کی جدوجہد کرے گا۔
بھارت میں تعلیمی بحران کا واحد حل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کا نظام ہے
بھارت کے وزیرِ تعلیم، دھرمیندر پردھان، ایک ہفتے تک جاری رہنے والے ملک گیر عوامی احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے… یہ احتجاج ایک نئی قائم ہونے والی نوجوانوں کی سیاسی جماعت، کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)، کی جانب سے منظم کیا گیا… سی جے پی اور اس کے حامیوں کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ امتحانی پرچہ افشا ہونے کے سنگین اسکینڈل پر دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں، کیونکہ اس سانحے نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو تباہ کر دیا اور ایک درجن سے زائد طلبہ کو خودکشی پر مجبور کر دیا۔
(25/07/2026)
تبصرہ:
بھارت میں حالیہ تعلیمی اسکینڈل محض ایک انتظامی کوتاہی یا وقتی بدانتظامی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ان بے شمار شواہد میں سے ایک ہے جو ریاستِ ہند کی تعلیم کی فراہمی میں ناکامی کو آشکار کرتے ہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ کو آگاہ کیا گیا کہ 15-2014ء سے 25-2024ء کے دوران 89,000 سے 94,000 سرکاری اسکول بند ہو چکے ہیں، جبکہ 65,000 سے زائد اسکول ایسے ہیں جہاں طلبہ کی تعداد دس سے بھی کم رہ گئی ہے، اور 5,000 سے زیادہ اسکولوں میں داخلے کی تعداد بالکل صفر ہے۔ اسی عرصے کے دوران تقریباً 43,000 نئے نجی تعلیمی ادارے قائم ہوئے، جو اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ تعلیم، جو ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے تھی، بتدریج ایک ایسی مراعات یافتہ سہولت میں تبدیل ہو چکی ہے جو صرف صاحبِ استطاعت افراد ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ نجی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی ایک نشست کی قیمت اب تقریباً ایک کروڑ بھارتی روپے تک پہنچ چکی ہے، جو تقریباً 103,916 امریکی ڈالر کے مساوی ہے، اور جو ایک تیسری دنیا کے ملک کے بیشتر خاندانوں کی مالی استطاعت سے کہیں بڑھ کر ہے۔
مزید برآں، بھارت میں سرکاری تعلیمی نظام کی ناکامی پاکستان اور بنگلہ دیش کی صورتِ حال سے کچھ مختلف نہیں۔ تینوں ریاستوں میں بحران کی نوعیت ایک جیسی ہے، کیونکہ اس کی بنیادی وجہ بھی ایک ہی ہے، یعنی وہ نوآبادیاتی نظام جو برطانوی استعمار نے شریعت پر مبنی نظامِ حکمرانی کو منہدم کرنے کے بعد اپنے پیچھے چھوڑا۔ برطانوی یلغار سے قبل، شریعت پر قائم نظامِ حکمرانی نے ابتدائی مکاتب، قرآنِ کریم کی تعلیم کے لیے کُتّاب، اعلیٰ تعلیم کے لیے مدارس، اور مقامی سطح پر قائم ایسے تعلیمی مراکز کا ایک غیرمرکزی اور ہمہ گیر جال قائم کر رکھا تھا جو دور دراز دیہات تک پھیلا ہوا تھا۔
تعلیم کی سرپرستی اور کفالت ریاست کی ذمہ داری تھی، جس میں عربی زبان، فقہِ شریعت، فارسی زبان کے ساتھ ساتھ علمِ ہیئت، طب اور ریاضیات کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ خواندگی کا دائرہ دیہات تک وسیع تھا، جبکہ اعلیٰ معیارِ تعلیم نے دنیا بھر سے اہلِ علم اور دانشوروں کو اپنی جانب متوجہ کر رکھا تھا۔ تاہم، برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے کارندوں نے مقامی تعلیمی ڈھانچے اور معاشرتی تعلیمی مراکز کو تباہ کر دیا اور ان کی جگہ متبادل تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے کوئی اقدام نہ کیا۔ برطانوی استعمار نے عربی اور فارسی زبانوں کے ساتھ ساتھ مؤثر عوامی نظامِ تعلیم کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اور اس کی جگہ انگریزی زبان اور ایسے محدود تعلیمی نظام کو رائج کیا جس کا مقصد صرف ایک مختصر مغرب زدہ اشرافیہ تیار کرنا تھا تاکہ وہ عوام پر حکمرانی کر سکے۔ چنانچہ 1947ء میں برطانوی استعمار برصغیر کو اس حال میں چھوڑ کر گیا کہ مجموعی شرحِ خواندگی صرف 16 فیصد، جبکہ خواتین کی شرحِ خواندگی محض 8 فیصد تھی۔
برصغیر کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ شریعت پر مبنی نظامِ حکمرانی کی طرف رجوع ہے۔ شریعت میں تعلیم ان بنیادی خدمات میں شامل ہے جن کی فراہمی ریاست پر لازم ہے۔ اس کی دلیل صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع (اجماعِ صحابہؓ) سے ملتی ہے کہ بیت المال سے اساتذہ کے لیے مقررہ اجرت فراہم کی جائے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے مشرک قیدیوں کے فدیے کو اس امر سے مشروط فرمایا کہ ہر قیدی دس مسلمان بچوں کو تعلیم دے، حالانکہ یہ فدیہ اموالِ غنیمت میں سے تھا، جو تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت شمار ہوتا ہے۔ شریعت پر مبنی نظامِ حکمرانی کے صدیوں پر محیط دور میں عالمِ اسلام دنیا کے بہترین مدارس، جامعات اور علمی مراکز کا گہوارہ رہا۔ اسلامی امت نے تعلیم کے تقریباً ہر شعبے میں دنیا کی قیادت کی اور ان بے شمار علوم و فنون کی بنیادیں استوار کیں جن پر آج کا جدید علمی سرمایہ قائم ہے۔ لہٰذا برصغیر کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے نبوت کے طریقے پر قائم ہونے والی خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
اسلامی دنیا میں دہشت گردی کا شرعی اور سیاسی حل: اللہ ﷻ کے قانونِ شریعت کا نفاذ
تہران، ارنا (IRNA) – ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ٹانک میں پولیس کی چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے.... بقائی نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور مستقل مقابلے کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
(26/07/2026)
https://en.irna.ir/news/86219351/Iran-condemns-terrorist-attack-in-Pakistan
تبصرہ
پاکستان فوج اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اندرونی عسکری تنازعات کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ساتھ بھی کشیدگی میں الجھی ہوئی ہے۔ پوری اسلامی دنیا میں مسلمانوں کے درمیان، مسلم ریاستوں کے اندر اور مسلم ریاستوں کے ما بین روزمرہ جنگ و جدل کی صورت حال ہے۔ یہ ایک سنگین سیکیورٹی بحران ہے، جو مسلمانوں کی افواج کو کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں میں الجھا کر امتِ مسلمہ کو اس کے کافر دشمنوں کے سامنے کمزور کر رہا ہے۔
مسلمانوں کے درمیان ان تنازعات کا حل موجودہ مسلم ریاستوں کے باہمی تعاون کو مزید بڑھانے میں نہیں ہے۔ یہ مسلم ریاستیں دہشت گردی کے خلاف مغرب کے سیکولر اور قوم پرستانہ تصور پر عمل پیرا ہیں، جو مسلمانوں کے درمیان کبھی بھی صلح و آشتی نہیں لا سکتا۔ مغرب کا انسدادِ دہشت گردی کا نظام اس نظریے پر قائم ہے کہ صرف ایک سیکولر اور قوم پرست ریاست ہی جائز ریاست ہے۔ اسی لیے، مغرب کا یہ انسدادِ دہشت گردی کا فریم ورک سیکولرازم اور قوم پرستی کے کسی بھی انکار کو ریاست کے لیے ایک ایسا خطرہ سمجھتا ہے جسے قانون یا طاقت کے زور پر کچلنا ضروری ہے۔
امتِ مسلمہ مغربی اقوام سے بالکل منفرد اور الگ ہے، بالکل اسی طرح جیسے شریعتِ اسلامیہ مغربی سیکولر قوانین سے اور خلافتِ راشدہ کا نظام موجودہ مسلم سیکولر قوم پرست ریاستوں سے ممتاز ہے۔ مدینہ منورہ کے قبائل کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل کا اسوہ مسلمانوں کے درمیان باہمی جنگ و جدل کو روکنے کا بہترین اور مؤثر ترین حل فراہم کرتا ہے:
• رسول اللہ ﷺ نے اسلامی معاشرے کی بنیاد اسلامی عقیدے پر رکھی۔ آپ ﷺ نے جاہلیت کے تعصب اور دھڑے بندی کی کسی بھی شروعات کا سدِ باب فوراً اور مؤثر انداز میں کیا۔ یوں مدینہ کے اوس اور خزرج، مکہ کے مہاجرین، فارس کے سلمان (رضی اللہ عنہ)، روم کے صہیب (رضی اللہ عنہ) اور افریقہ کے بلال (رضی اللہ عنہ) کے بھائی بن گئے۔
• رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے تمام تنازعات کا فیصلہ اللہ ﷻ کی شریعت کی بنیاد پر فرمایا۔ حکمرانی کے شرعی نظام میں تمام حل قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ سے اخذ کیے جاتے ہیں، جس سے مسلمانوں کے دل و دماغ اطمینان پاتے ہیں۔ تنازعات کے فیصلے کبھی بھی انسانوں کے بنائے ہوئے اکثریت کی رائے کے محتاج قوانین کے تحت نہیں کیے جاتے، جو صرف اقلیتی گروہوں میں بغض و عناد پیدا کرتے ہیں۔
• جب مدینہ کے انصار اور مکہ کے مہاجرین کے درمیان مالی عدم مساوات ابھری—جس سے بدگمانی جنم لے سکتی تھی—تو آپ ﷺ نے خود بلا واسطہ مداخلت فرمائی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انصار کی بہ نسبت مہاجرین کی غربت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے غنیمت کا مال ترجیحی بنیادوں پر مہاجرین میں تقسیم فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور مالی شعبوں میں اللہ ﷻ کی شریعت کا نافذ العمل ہونا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دولت کبھی بھی کسی ایک طبقے یا نسل کے ہاتھوں میں مرکوز نہ ہو کر رہ جائے۔
مسلمانوں اور ان کی مسلح افواج کو نظامِ حکومت میں شریعتِ الٰہی کے قیام کے لیے مل کر جدوجہد کرنی چاہیے۔ یہی واحد حل ہے جو مسلمانوں کے درمیان جاری باہمی جنگ و جدل کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ نبوت کے طریقہ کار پر قائم خلافتِ راشدہ ہی وہ واحد نظام ہے جو مسلمانوں کو کافر دشمنوں کے مقابلے میں ایک حقیقی اور مضبوط اخوت و بھائی چارے میں پرُو کر متحد کر سکتا ہے۔
Latest from
- اللہ ﷻ کی شریعت کی بنیاد پر شناخت، آئین اور ریاست ہی پاکستان میں استحکام کو یقینی بنانے کا واحد ذریعہ ہے
- سوڈان کی صورتحال اور امریکی مقاصد
- ولایہ سوڈان: جولائی 2026ء کے دوران سرگرمیاں اور پروگرام
- کشمیر جل رہا ہے: بے گناہ شہریوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن "قومی ریاست" اور سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے
- پاکستان کے داخلی سیکیورٹی بحران کی وجہ "قومی ریاست" اور اس پر مبنی شناخت کی ناکامی ہے، جو مختلف نسلوں اور علاقائی شناختوں کو ایک واحد اکائی میں ضم کرنے سے قاصر ہے






