بسم الله الرحمن الرحيم
اینگلو امریکن اشتراک کا خاتمہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک موقع ہے
تحریر: استاد مصعب عمیر، ولایہ پاکستان
(ترجمہ)
27 مارچ 2026 کو، برطانوی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی سے متعلق جوائنٹ کمیٹی نے سیشن 2024-26 کی چوتھی رپورٹ (HC 1045/HL Paper 281) جاری کی۔ اس دستاویز کے صفحہ نمبر 8 پر خاص طور پر یہ ذکر کیا گیا ہے کہ "حکومت نے ان عزائم کا خاکہ پیش کیا ہے کہ: ... ج۔ برطانیہ کی دفاعی صنعتی بنیاد کو دوبارہ تعمیر کرنے اور دوسروں پر انحصار کم کرنے کے ذریعے 'خودمختار اور غیر متناسب صلاحیتیں' پیدا کی جائیں۔"
جہاں تک "دوسروں پر انحصار کم کرنے" کا تعلق ہے، یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ برطانیہ نے امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے، کیونکہ وہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی کی جنگی مشینری کے ہاتھوں شدید زخمی ہوا تھا۔ ابھرتے ہوئے سوویت روس کی جانب سے اپنی نوآبادیات اور سابقہ نوآبادیات کو درپیش شدید چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے، برطانیہ کی 'ڈیپ اسٹیٹ' نے اپنے تمام دھڑوں کے ساتھ مل کر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا، جس نے اپنے خارجہ تعلقات کا آغاز برطانیہ کے دشمن کے طور پر کیا تھا، بشمول 1812 کی جنگ۔ 5 مارچ 1946 کو اپنی The Sinews of Peace نامی تقریر کے دوران، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم اور اس وقت کے اپوزیشن لیڈر ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ، "اس تاریخی لمحے میں جنگ کو روکنے اور ظلم و ستم کے خلاف مزاحمت کرنے کا واحد ذریعہ انگریزی بولنے والی اقوام کی 'برادرانہ انجمن' ہے۔ اس کا مطلب برطانوی دولت مشترکہ اور سلطنت اور امریکہ کے درمیان ایک خاص تعلق ہے۔" اس بحث سے قطع نظر کہ یہ 'خاص تعلق' محض ایک افسانہ ہے یا نہیں، اینگلو امریکن شراکت داری پر ایک پورا عالمی نظام قائم کیا گیا تھا، جس میں نیٹو (NATO) کی تشکیل اور 2001 میں افغانستان اور پھر 2003 میں عراق پر حملہ کرنے کے لیے بننے والے اتحاد شامل تھے۔
مزید برآں، جوائنٹ کمیٹی کی دستاویز میں درحقیقت نام لے کر امریکہ پر برطانیہ کے انحصار کو کم کرنے کی وضاحت کی گئی تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب برطانیہ مہنگائی، کمر توڑ قرضوں، یوکرین پر پیوٹن کی جنگ، اور ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو غیر مستحکم کیے جانے کی وجہ سے معاشی طور پر مفلوج ہے، وہ اس کے باوجود اپنی اہمیت کھونے سے بچنے کے لیے فوجی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ صفحہ 43 پر درج ہے کہ، "119۔ سفارش: جہاں تک ممکن ہو امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک تعاون جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ، حکومت کو نیٹو کی زیادہ سے زیادہ یورپی قیادت کی جانب منتقلی کے لیے دیگر یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک واضح منصوبہ بھی تیار کرنا چاہیے۔ کسی بھی بحران کی صورت میں ایک ایسی 'بدترین صورتحال' کے لیے تیار رہتے ہوئے جس میں یورپ اب امریکی حمایت پر بھروسہ نہیں کر سکتا، حکومت کو اس ممکنہ دستبرداری کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرنے کی خاطر یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔"
چنانچہ برطانیہ کی ڈیپ اسٹیٹ، بریکسٹ (Brexit) کے ذریعے تکبر کے ساتھ یورپ کے ساتھ شراکت داری کو کم کرنے کے بعد، اب یورپ کی طرف ذلت آمیز واپسی کی تجویز دے رہی ہے۔ تاہم، یورپی شراکت داری اس کی ہر ممبر ریاست کی شدید قوم پرستی کی وجہ سے ناقابلِ بھروسہ ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے کی یورپی تاریخ یورپی ریاستوں کے درمیان مسلسل جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ جہاں تک خود دوسری جنگ عظیم کا تعلق ہے، تو یہ بنیادی طور پر یورپی ریاستوں کے درمیان ایک جنگ تھی، جو نوآبادیات اور سابقہ نوآبادیات تک پھیلی ہوئی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی یورپی تاریخ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان مسلسل تناؤ اور دشمنی کی آئینہ دار ہے۔ اب، جرمنی، برطانیہ اور فرانس کی طرف سے دوبارہ عسکریت پسندی کی طرف واپسی کے بعد، ان کے صدیوں پر محیط تنازعات کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسی صدی کے اندر یورپی ریاستوں کے درمیان مسلح تصادم کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
اے مسلمانو اور ان کی افواج!
اپنے دشمنوں اور ستم گروں کی حقیقت دیکھو! امریکہ نے آزادی کے لیے برطانوی استعمار کے خلاف لڑنے کے بعد، عالمِ اسلام کے اندر اپنے استعمار کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے دوبارا برطانیہ سے قربت اختیار کی۔ مگر اب جب امریکہ کو عالمِ اسلام کے استحصال کے لیے برطانیہ کی ضرورت نہیں رہی، تو اس نے برطانیہ کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور اب اسے ذلیل و رسوا کر رہا ہے۔ جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے، جس نے اپنے نوآبادیاتی دور کے عروج پر عالمِ اسلام کے ایک بڑے حصے پر ظلم کیا، اب اسے استعمار میں اپنے حریفوں، فرانس اور جرمنی کے ساتھ شراکت داری کرنی پڑ رہی ہے۔ کفر کی ریاستوں کی فطرت یہی ہے جو قوم پرستی اور مادی فائدے کی بنیاد پر متحرک ہوتی ہیں۔ کفار کے پاس ایسا کوئی اعلیٰ نظریہ نہیں ہے جو انہیں انسانیت کی بہتری کے لیے کام کرنے پر مجبور کرے، اسی لیے دیگر قوموں کے وسائل کے لالچ کی بنیاد پر دشمن، حلیف بن جاتے ہیں اور پھر دوبارہ دشمن بن جاتے ہیں۔ کفار کے درمیان شدید اختلافات کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ﴾
"ان کی آپس کی لڑائی بہت سخت ہے، تم انہیں متحد سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل ایک دوسرے سے جدا ہیں، یہ اس لیے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔" (سورۃ الحشر: 14)
تاہم، ان کی تقسیم اور مقابلوں سے قطع نظر، مسلمانوں کے حق میں نہ تو کفار کی آپس کی کشمکش میں جیتنے والوں سے کسی خیر کی توقع ہے اور نہ ہی ہارنے والوں سے۔ ایک طویل عرصے سے عالمِ اسلام وہ دسترخوان بنا ہوا ہے جس پر دشمن ہوس مٹانے کے لیے آپس میں لڑ رہے ہیں۔ یہ شدید اختلافات، بدلتے ہوئے اتحاد اور بین الاقوامی نظام میں تبدیلیاں استعماری استحصال سے نجات کا ایک موقع ہونی چاہئیں۔ تاہم، ایسی سوچ مسلمانوں کے موجودہ حکمرانوں کی سوچ سے بالاتر ہے، جو استعماری طاقتوں کے ایجنٹ اور پیروکار ہیں، اور اپنے آقاؤں کے احکامات اور مفادات سے آگے نہیں دیکھ سکتے۔
جہاں تک ایک بیدار ذہن رکھنے والی اسلامی قیادت کا تعلق ہے،تو وہ کفر کو پسپا کرنے اور دین کا غلبہ قائم کرنے کے لیے کفار کی فطرت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کمزوریوں سے آسانی سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ صرف ایسی قیادت ہی خلفائے راشدین (رضی اللہ عنہم) کے پاکیزہ نقشِ قدم پر چلنے کا عزم رکھتی ہے کہ جنہوں نے فارسی اور رومی سلطنتوں کو شکست دی، اور بے شمار قوموں کو اکٹھا کر کے ایک عظیم اسلامی امت تشکیل دی جس نے صدیوں تک دنیا پر حکمرانی کی۔ صرف وہی تیز رفتار عسکری تیاریوں کی بنیاد کے طور پر مشین سازی کی صنعت قائم کر سکتی ہے، جس سے غیر ملکی ہتھیاروں پر خطرناک انحصار کا خاتمہ ہوگا۔ صرف وہی کفار کی ریاستوں کو سود (ربا) کی ادائیگی بند کر کے، کرپٹ حکمرانوں اور عہدیداروں کی لوٹی ہوئی دولت واپس لے کر اور پوری امت کے وسیع توانائی، معدنی اور مالیاتی وسائل کو بروئے کار لا کر ایک صنعتی انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ صرف وہی جابروں کو چیلنج کر سکتی ہے اور تمام انسانیت کے لیے خدائی انصاف اور رحمت کا نظام قائم کر سکتی ہے۔
اے مسلمانو اور ان کی افواج! اپنی خاموش تابعداری ختم کرو اور اپنے اعمال کو درست سمت دو، یہاں تک کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اسلام کے دین کو تمکین (اقتدار و غلبہ) عطا فرما دے۔ حزب التحریر اسلام کو بطور نظامِ حکومت قائم کرنے کی دعوت پر استقامت سے قائم ہے، پس اس پکار پر لبیک کہو!




