الإثنين، 30 رجب 1447| 2026/01/19
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

افواجِ پاکستان کوجمہوریت کی حمایت کرنے کی بجائے خلافت کے قیام کے لئے نُصرہ فراہم کرنی چاہیے


پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہونے والی طویل اور پرتشدد محاذ آرائی کے دوران امریکہ نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ وہ جمہوریت کی حمایت کرتا ہے۔ جب یہ بحران پروان چڑھ رہا تھا تو اس دوران پاکستان میں موجود امریکی سفیر مد مقابل جماعتوں سے ملاقاتوں میں مصروف تھا اور اس نے سب پر واضح کیا کہ وہ صرف ایسی تبدیلی کی حمایت کرے گا جو جمہوریت کے آئین کے مطابق ہو گی۔ پھر جب بحران سنگین ہوتا چلا گیا تو امریکی دفتر خارجہ کے نائب ترجمان نے 22 اگست 2014 کو بیان دیا کہ "امریکی سفیر کی پاکستان میں کئی عہدیداروں سے اکثر ملاقاتیں رہتی ہیں" اوراس بیان کے دوران امریکی نائب ترجمان نے ایک مرتبہ پھر جمہوریت کے آئین پر عمل کرنے پر زور دیا۔ اس کے بعد 29 اگست 2014 کو جب پرتشدد ٹکراؤکا خطرہ منڈلا رہا تھا، امریکی دفتر خارجہ نے پھر اس بات پر زور دیا کہ "پر امن مظاہرے اور آزادیٕٔ اظہار...جمہوریت کے اہم پہلو ہیں "۔
جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے کہ جن کے ذریعے امریکہ پاکستان اور اس کی افواج کو کنٹرول کرتا ہے تو انہوں نے بھی اپنے آقا کی بات کوہی دہرایا کہ وہ جمہوریت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ راحیل-نواز حکومت نے یکم ستمبر 2014 کوآئی.ایس.پی.آر (ISPR) کے ذریعے یہ بیان دیا کہ "فوج ایک غیر سیاسی ادارہ ہے جو کئی موقعوں پر جمہوریت کی حمایت کا واضح اظہار کرچکا ہے"۔ جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کا تعلق ہے تو اس نے اعلان کیا کہ اس کی جدوجہد جمہوریت ہی کے لیے ہے اور یوں اس نے خود کو پاکستان کے عوام کے سامنے بے نقاب کردیا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرح وہ بھی پاکستان پر حکمرانی کرنے کی اہل نہیں ہے۔یکم ستمبر 2014 کو عمران خان نے بڑے فخر سے کہا کہ "میری اٹھارہ سال کی جدوجہد انصاف اور 'جمہوریت' کے لیے ہے"۔
پس امریکہ نے براہِ راست بھی اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بھی اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ جمہوریت ہی کی حمایت کی جائے گی کیونکہ آمریت کی طرح جمہوریت بھی پاکستان میں امریکہ کے مفادات کو یقینی بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 12 دسمبر 2012 کو بی.بی.سی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے پورے اعتماد سے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں "ہمارا گھوڑا جمہوریت ہے"۔ جی ہاں ! یقینا، یہ جمہوریت ہی ہے جسے امریکہ اپنے مفاد کے مطابق چلاتا ہے چاہے کوئی بھی اس گھوڑے کا سوار بن جائے ، خواہ وہ پی پی پی ہو، پاکستان مسلم لیگ (ن) ہو یا پاکستان تحریک انصاف۔
جمہوریت کی باگ ڈور حقیقتاً امریکہ ہی کے ہاتھوں میں ہے کیونکہ جمہوریت اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے بغاوت کا نظام ہے۔جمہوری نظام اسمبلیوں میں موجود مرد و خواتین کو قانون ساز قرار دیتا ہے اور انہیں اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ ان احکامات کو پسِ پشت ڈال دیں جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نازل کیا ہے اور اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق قوانین بنائیں جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرما چکا ہے: (وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ) "(اے محمدﷺ) ان کے درمیان اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق حکمرانی کریں اور ان کی خواہشات کی پیروی ہرگز نہ کیجئے گا اور خبردار رہیں کہ کہیں یہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ بعض احکامات کے بارے میں آپ کو فتنے میں نہ ڈال دیں" (المائدہ:49)۔ امریکہ پاکستان کے حکمرانوں اور اسمبلیوں کے اراکین سے مسلسل رابطے رکھتا ہےاور ان کے ذریعے پاکستان کے قوانین کو اپنے مفادات کے مطابق بنواتا ہے۔ لہٰذا یہ جمہوریت ہی ہے جس نے پاکستان میں اسلام کے نفاذ کو روک رکھا ہے اور اس کی بجائے امریکی مفادات کے حصول کو یقینی بنارہی ہے۔
پس جمہوریت کے ذریعے امریکہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ نجکاری کے ذریعےپاکستان کے توانائی کے وسیع ذخائراور معدنیات کی دولت کی لوٹ کھسوٹ جاری ر ہے اور پاکستان ایک طاقتور معاشی طاقت کے طور پر نہ ابھرسکے۔ جمہوریت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ پاکستان کی طاقتور افواج کو مغربی مفادات کی تکمیل کے لئے تودنیا کے کونے کونے میں بھیجا جائے لیکن جب کشمیر و فلسطین کے مسلمان اپنی افواج کو پکاریں تو انہیں بیرکوں میں ہی پڑا رہنے دیا جائے۔ آج جمہوریت ہی پاکستان میں امریکہ کے قائم کردہ وسیع جاسوسی اور نجی فوجی نیٹ ورک کو کام کرنے کی اجازت دیے ہوئے ہے جو ہماری افواج پر حملے کرواتی ہیں تا کہ ان حملوں کو جواز بنا کرپاکستانی افواج کو امریکہ کی جنگ لڑنے کے لئے قبائلی علاقوں میں بھیجا جاسکے۔ اس کے علاوہ اس لاحاصل اور تباہ کن جدوجہد کا بندوبست کرکے کہ کون اس امریکی گھوڑے یعنی جمہوریت پر سواری کرے گا، امریکہ مسلمانوں کے رخ کو پاکستان میں خلافت کے قیام کے ذریعے امریکی راج کے خاتمے سے پھیرنا چاہتا ہےکیونکہ صرف خلافت ہی پاکستان کے وجود کو امریکی موجودگی اور اس کے اثرو نفوذ کی غلاظت سے پاک کرسکتی ہے۔
اے پاکستان کے مسلمانو! جمہوریت سے منہ موڑ لو، اس سے کوئی امید نہ لگاؤکیونکہ یہ کفر کا نظام ہے، جسے تمہارے سروں پر اس لیے نافذ کیا گیا ہے تاکہ تمہاری اعلیٰ تمناؤں اور عظیم صلاحیت کو کچلا جا سکے۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کریں کہ وہ جمہوریت کے خاتمے اور خلافت کے قیام کے لئے کام کریں۔ اور آپ پر یہ بھی لازم ہے کہ حزب التحریر میں شمولیت اختیار کریں جس کا نظریہ حیات اسلام ہے اور جو رسول اللہﷺ کے طریقے کے مطابق خلافت کے قیام کی جدوجہد کررہی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (وَلْتَكُنْ منكُمْ أمّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ ويَأمُرُونَ بِالمَعْرُوفِ ويَنْهَوْنَ عَنِ المُنْكَرِ وَأُولئكَ هُمُ المُفْلِحُون) "اور تم میں کم ازکم ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے اور یہی لوگ کامیاب ہیں" (آل عمران:104)۔
اے افواج پاکستان! یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی آپ پر ہی منحصر ہے اور باقی مسلم دنیا کی بھی یہی حقیقت ہے۔ مصر کی افواج کی رضامندی اس بات کا سبب بنی کہ مرسی کو جمہوری گھوڑےکے سوار کے طور پر لایا گیا اور پھر مصری افواج کے حرکت میں آنے کے نتیجے میں ہی مرسی کےا قتدار کا خاتمہ ہوا اور پھر جمہوریت کے گھوڑے پر سواری کے لیے ایک نیا سوارجنرل سیسی آگیا۔ ترکی میں بھی جمہوریت فوج کے کندھوں پر کھڑی ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو آج ہمارے لوگ اس لیے مصائب کا شکار ہیں کیونکہ آپ کی قیادت میں موجود غدار آپ کی طاقت کو جمہوریت کے امریکی گھوڑے کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تو آپ کس طرح اس بات کی اجازت دے سکتے ہیں کہ آپ کی طاقت کو جمہوریت کے کفریہ اور اللہ سے بغاوت پر مبنی نظام کی خاطر استعمال کیا جائے؟!
اے افواج پاکستان ! جان لیں کہ یہ آپ کی قیادت میں موجود غدار ہی ہیں جو جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنائے ہوئے ہیں اور اسلام کی واپسی کو روکے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غدار ہر اس آفیسر کو ترقیاں دیتے ہیں اور انعامات سے نوازتے ہیں جو ہمارے دشمن امریکہ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار ہو اور دنیا کے مال و دولت کے بدلے اپنے لوگوں اور اپنے دین کو بیچ دے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی قیادت میں موجود غدار ہر اس آفیسر کو سزا دیتے ہیں جواسلام کا مضبوط حامی ہو جیسا کہ بریگیڈئر علی خان جیسی معزز شخصیت ، جنہیں پندرہ مہینے تک محبوس رکھنے کے بعد قید کی سزا سنائی گئی اور وہ اب تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خلافت کے قیام کے جشنِ استقبال میں انہیں کندھوں پر اٹھایا جاتا ۔ تو آپ کیسے اپنی طاقت و قوت کے موجودہ غلط استعمال کو قبول کرسکتے ہیں جبکہ آپ نے اللہ کے سامنے یہ قسم اٹھا رکھی ہے کہ آپ اس ملک اور اس کے لوگوں کی حفاظت کریں گے؟!
جان لیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک خاص طریقہ کار پر چلتے ہوئے اسلامی ریاست قائم کی اور تمام تر مشکلات و مصائب کے باوجود آپﷺ اس طریقہ کار سے پیچھے نہیں ہٹے اور وہ طریقہ کار یہ تھا کہ طاقت و قوت کے حامل لوگوں سے اسلامی ریاست کے قیام کے لئے نُصرہ طلب کی جائے۔ پس رسول اللہﷺ ذاتی طور پر عرب قبیلوں کے جنگجو سرداروں سے ملے اور ان سے دین کے مکمل اور فوری نفاذ کے لئے نصرۃ طلب کی۔ اے افواجِ پاکستان یہ آپ کےآباؤ اجداد تھے اور آج آپ ان کے جانشین ہیں۔ رسول اللہ ﷺ صبر و استقامت کے ساتھ اسی طریقہ ٔکار پر کاربند رہے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے اور نہ ہی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پروا کی یہاں تک کہ اللہ نے انصارِ مدینہ کے مختصر لیکن مخلص اور بہادر جنگی گروہ کے ذریعے آپﷺ کی مدد کا اہتمام فرما دیا جنہوں نے عقبہ کے مقام پر آپﷺ کو بیعت دی، جو کہ اس دین کے نفاذ و تحفظ کی خاطر لڑنے کی بیعت تھی ۔
رسول اللہﷺ کا اختیار کردہ طریقہ کار اس بات کو فرض بناتا ہے کہ اسلام کو حکمرانی اور ریاست کے طور پرقائم کرنے کے لئےنصرۃ دی جائے۔ لہٰذا آج حزب التحریر آپ کے سامنے موجود ہے اور آپ سے خلافت کے قیام کے لئے نصرۃ کا مطالبہ کررہی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے کہ جس سے آپ اس دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں عزت حاصل کریں گے،جب آپ ظلم کی حکمرانی کا خاتمہ کریں گے اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کو قائم کردیں گے۔ امام احمدبن حنبل روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ((ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ)) "پھر ظلم کی حکمرانی ہو گی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ اس کا خاتمہ کردے گا جب وہ چاہے گا۔ اور پھر خلافت قائم ہوگی نبوت کے نقشِ قدم پر۔ اس کے بعد آپﷺ خاموش ہوگئے"۔

Read more...

مھنا الجبیل کے مقالے کا جواب کیا یہ ممکن ہے کہ امت کی وحدت کو حاصل کرنے کے لئے جمہوریت خلافت کا متبادل ہو سکتی ہے؟

پریس ریلیز
الجزیرہ ویب سائیٹ نے 23 اگست 2014 کو المعرفۃ سیکشن میں استاد مھنا الجبیل کا مقالہ شائع کیا جس کا عنوان تھا : "وحدت ،خلافت اور جمہوریت"۔ اس مقالے کو لکھنے والے نے ان مسلمان نوجوانوں کو قدامت پسند کے نام سے مخاطب کیا جو جمہوریت کو قبول کرنے سے گھبراتے ہیں یا اسلامی وحدت کے حصول کے لیے اس کا تجربہ کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ یہ وحدت بلاشبہ کتاب اللہ اور سنت متواتر کے مطابق فرض ہے۔
لکھنے والے نے یہ سوچ عام کرنے کی کوشش کی ہے کہ "جمہوری دستوری نظام کو سمجھنے بڑی تشنگی پائی جاتی ہے جبکہ یہ دستوری نظام ہی مختلف ادیان اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو قومی دستوری حق کی ضمانت دیتا ہے"۔ وہ مزید کہتا ہے کہ "وہ ممالک جو جمہوریت کے زیر سایہ ہیں دوسرے غیر جمہوری ممالک کے بنسبت اسلامی وحدت کے مفہوم اور پیمانے سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں"۔
اس پر زور دینے کے بعد کہ جمہوریت ہی وحدت کے حصول کا زیادہ قابل عمل طریقہ ہے، لکھنے والے نے اشاروں اور کنایوں میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اصطلاحی خلافت کے مفہوم کا شرع میں کوئی وجود نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ خلافت ایک تاریخی نام ہے جس کو وراثت میں حکمرانی پانے والوں کے لیے استعمال کیا گیا جو اس کے مستحق نہیں تھے۔ پھر اس نے خلافت کا یہ تصور دیا کہ چند علاقائی ممالک کی فیڈریشن بنا کر اس اتحاد کے سربراہ کو خلیفہ قرار دیا جائے!
لکھنے والےنے آخر میں اس کا یہ خلاصہ کیا ہے کہ شرع اور مسلمانوں کی تاریخ میں خلافت کی اصطلاح فکری پیچیدگی ،ظاہری فہم اور پھر دور حاضر کی سیاست میں اس کے نتائج ایسے نہیں جو بعض نوجوان سمجھتے ہیں،اس لیے کسی بھی مسلم قوم کے لیے وطن کو سیاسی اور اجتماعی قوت بنا نے اور آزادی کی خاطر قانونی مزاحمت کے لیے اس سیاسی ڈھانچے کو مسترد کر نے کا یہ کوئی معقول بہانہ نہیں ہے جو جمہوریت میں بن چکا ہے چنانچہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے ملکوں کے درمیان وحدت کے حصول کے لیے جمہوری منصوبے پر ہی کاربند رہیں۔۔۔
اس مضمون میں جو کچھ کہا گیا ہے اس پر ہم یہ تبصرہ کریں گے:"جمہوری ریاست" کی اصطلاح گھڑ نے اور اس کو رواج دینے اور کسی ریاست کو جمہوری قرار دینے کے لئے مغرب نے تین من گھڑت،خیالی اور ناکام پیمانوں پر اعتماد کیا (Constitutional definition، Substantive measure، Procedural)۔ یہ تین اپنے تیئں خود تضادات کا مجموعہ اور عملاً خیالی ہیں !۔۔۔چنانچہ جمیکا جیسے ملک کسی حد تک جمہوری ملک قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ یسے انتخابات کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو جمہوریت پسندوں کو پسند آئے حالانکہ جمیکا اپنے شہریوں سے زیادتی کرتا رہتا ہے جو کہ خود مغرب کےمطابق "جمہوری آزادیوں" کے خلاف ہے۔اسی طرح انہوں نے عراق جیسے ملک کو جمہوریت میں بے مثال قرار دیا حالانکہ حال ہی میں المالکی کی حکومت جرائم میں صدام حکومت کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ! ۔۔۔ جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد مصر کے انتخابات جن کے نتیجے میں مرسی حکومت بنی تھی اور جن کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ انتخابات شفاف تھے پھر فوج کی جانب سے سب کچھ الٹ دیا گیا اور مرسی کو برطرف کر دیا گیا اور یہ جمہوریت کے چیمپئن امریکہ کی آشیر باد سے کیا گیا!
ان زمینی حقائق اور جمہوری ماڈل کے مکمل ناکام ہو نے کے بعد ہم اس لکھنے والے کے ہدف کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ ایک ایسے خیالی، تضادات سے بھر پو اور ناقابل عمل نظام پر اعتماد اور اسے اختیار کرنے کی دعوت اور امت کے عقیدے سے پھوٹنے والے نظام خلافت جس کی جڑیں تاریخ میں گہری ہیں جو تقریباً چودہ صدیوں تک نافذ رہا ، کو ترک کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا لکھنے والا یہ نہیں سمجھتا کہ ایک ایسے ناکام اور خیالی نظام سے چمٹے رہنا جو ناقابل عمل ہے ایسا ہی ہے جیسا کہ ایسی رسی سے لٹکنا جو ہوا میں معلق ہو اور کیا یہ ایک خیالی چیز کے پیچھے بھاگنا نہیں۔۔۔؟
اس کے بعد مقالے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ جمہوریت لوگوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے مثالی نمونہ ہے حالانکہ زمینی حقائق اس کے بر عکس ہیں اور جمہوری ممالک کی صورت حال اس کے خلاف ہے۔ فرانس کو ہی لیں جہاں مسلمانوں عورتوں کے سکارف اوڑھنےپر پابندی ہے، سوئٹزر لینڈ میں مناروں پر پابندی لگائی گئی ہے، امریکی ڈرون جو افغانستان، پاکستان، یمن اور صومالیہ میں مسلمانوں کا خون بہارہے ہیں ۔۔۔بلکہ وہ صر ف مسلمان ہونے کی وجہ سے بغیر کسی منصفانہ عدالتی فیصلے کے خود اپنے مسلمان شہریوں کو قتل کرتے ہیں، امریکی خفیہ ایجنسیوں کو پیشگی قتل کی اجازت کا قانون جس کی اوباما نے بھی توثیق کردی ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے ۔۔۔ پھر جمہوری مغرب کی جانب سے سب سے بڑا جرم جس کو (اسرائیل ) کہا جاتا ہے کی سرپرستی، ابوغریب کی شرمناکیاں، گونتاناموبے کی رسوائیاں اور اس کے ساتھ ویتنام میں امریکہ کی روسیاہی، پھر دیکھیں دوسری عالمی جنگ میں جو کچھ ہوا ۔۔۔آخر میں ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ جمہوریت نے انسانیت کو شر، قتل و غارت گری اور کرپشن کے سوا کیا دیا؟
خلافت ایک شرعی حقیقت ہے اور یہ شرعی وحدت بھی ہے ، کتاب اور سنت کے نصوص اس کے ذکر سے بھرے ہیں، اس کے قواعد کو بیان کرتے ہیں۔ خلافت کی فرضیت کے بارے میں امت یا آئمہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا﴾ "کسی مؤمن مرد اور مؤمن عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کریں تو ان کو اس میں کوئی اختیار ہو اور جس نے اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کی تو کھلی گمراہی میں مبتلا ہو گیا " (الاحزاب:36)۔
خلافت صرف بیعت کے ذریعے خلیفہ کا انتخاب نہیں بلکہ یہ خلافت ایک مکمل نظام حیات ہے جس میں معاشرتی نظام، اقتصادی نظام، حکمرانی کا نظام، عدالتی نظام، تعلیمی نظام، سزاوں کا نظام اور دیگر نظام ہائے حیات پائے جاتے ہیں۔ یہ نظام اس اسلامی ریاست میں صدیوں تک موجود تھے جو اسلام کو نافذ کرتی تھی، اسی لیے وہ ریاست دنیا کے لیے ایک آئیڈیالوجیکل ریاست تھی جس نے نور اور عدل کے علم کو بلند کیا، جس نے امت ، اس کے عقیدے اور اس کے مقدسات کی حفاظت کی ضمانت دی ۔۔۔
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاك إِلَّا رَحْمَة لِلْعَالَمِينَ﴾ "اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے" (الانبیاء:107)

ڈائریکٹرمرکزی میڈیاآفس
حزب التحریر

Read more...

بہن زولفیا امانوف کے خلاف عدالتی کاروائیوں کے مضمرات (قَدْ بَدَتْ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ) "بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ( عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ " (آل عمران:118)

22 اگست کوجمہوریہ کرغستان کے شہر اوش میں ضلعی عدالت میں بہن زولفیا امانوف کا مقدمہ اختتام کو پہنچا۔ اس سے پہلے کویا توف ایلار، میرزا بائیکوف بولات، عبدالداییف الماس پر مشتمل عدالتی بنچ نے جج کوجامکولاف رمضان کی طرف سےیکم جون 2014 کو لگائے گئے الزامات سے بہن کو بری قرار دیا تھا جس میں بہن کے بارے میں 50 ہزار سوم جرمانہ اور ایک سال جیل کی سزا کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔ ماہرین اور تحقیق کاروں کی عدم حاضری کی بنا پر عدالتی کاروائی بار بار ملتوی ہونے کے باعث تاخیر کا شکار بنی رہی اور 13 مئی سے اس حوالے سے میٹنگ کو آٹھ دفعہ ملتوی کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ ہماری بہن زولفیا اور اس کے خاندان کا مذاق اُڑارہے ہیں۔
گزشتہ سماعت کے دوران اٹارنی جرنل ریمکولافا ایم نے ہماری بہن زولفیا پر انتہا پسندانہ سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے جج سے مطالبہ کیاتھا کہ اسے مجرم قرار دیا جائے اور 5 سال جیل کی سزا دی جائے ۔
ہم پوچھتے ہیں کہ بہن زولفیا پر یہ الزامات اور سزائیں ججز اورایوان عدالت کے اراکین کی جانب سے ذاتی اقدامات کی بنیاد پر عائد کیے جارہے ہیں؟ یا یہ سب کچھ ازبکستان کی اس مجرم حکومت کے احکامات کی پیروی میں کیا جارہا ہے جس نے زولفیا کے والد امانوف حمید اللہ شہید کو اغواء کیا تھا اور ان کومسلسل 14 سال تک قیدخانوں میں تشدد کا نشانہ بنائے رکھااور جب انہیں پتہ چلا کہ امانوف کے ارادے مضبوط ہیں جنہیں توڑا نہیں جاسکتا تو ان کو درندگی سے قتل کرڈالا؟ یا پھر یہ کاروائیاں کرغستان کے اندر تشکیل پانے والی اس نئی حکومت کی طرف سے عمل میں لائی جارہی ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ لڑنے میں اپنے پڑوسیوں کی پیروی کرتی ہے؟ یہ وہ حکومت ہے جس نے انتہائی بے شرمی سے اپنے عوام کی آزادی سلب کرلی ہے، وہ حکومت جو لوگوں کے اندر شراب نوشی اور گھٹیا طرزِ زندگی کو رواج دے رہی ہے، وہ حکومت جس نے اپنی قوم کو روٹی کے ٹکڑوں کو حاصل کرنے کے لئے دور دراز کے ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبو ر کیاہے، اور یہ وہ حکومت ہے جو بے چاری عورتوں پر ظلم ڈھاکر ان کو جیلوں میں قید کردیتی ہے اور ان کے شوہروں کو قتل اور بچوں کو یتیم بنادیتی ہے ۔
ہم آپ لوگوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ تم کس بنیاد پر ہماری بہن زولفیا پر یہ الزامات تھوپ رہے ہو جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ڈرتی ہے ؟ اور کس وجہ سے تم ہماری ان پاکباز اور متقی بہنوں کو جیلوں میں قید کرتے ہو ؟ تم نہیں جانتے کہ مسلمان خواتین کا پیچھا کرنا اور کوئی بھی ایسا عمل جو ان کی ایذا رسانی کا باعث بنے حرام ہے حرام ہے؟ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے قرآن کریم میں مؤمنین اور مؤمن عورتوں کو ایذا پہنچانے پر سخت تنبیہ کی ہے اور فرمایا ہے ، وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا "اور جو لوگ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو اُن کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، اُنہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے " (الاحزاب:58
)۔
اور اے ججوں اور اٹارنی جنرلو اور تجھے بھی اے اتامبایوف ! ہم اللہ تعالیٰ کے اس قول سے خبردار کرتے ہیں وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا "اور جو لوگ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو اُن کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، اُنہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے " (الاحزاب:58
)۔
ہماری بہادر بہن زولفیا اپنا حق مانگتی ہے کہ اس کے والد کی لاش اس کے سپرد کی جائے اور اس کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ یہ حق اس کو اللہ عز وجل اس کے خالق نے دیا ہے کہ خون کا بدلہ خون سے لیا جائے اور اس کے اس موقف کا مکمل احترام ہونا چاہئے تھا ۔
ہم تم سے پوچھتے ہیں! تم اپنی ذمہ داریاں کیوں نبھاہ نہیں رہے ہو اور ان مجرموں کو بے نقاب کیوں نہیں کرتے ہو جنہوں نے ہمارے بھائی امانوف حمید اللہ کے ساتھ خیانت کی اور اس کے اغواء کی اجازت دی؟ اور اسی وقت تم نے امانوف حمید اللہ کی رہائی کامطالبہ کیوں نہیں کیا؟ جبکہ تب بھی تم جج اور اٹارنی جرنل کے عہدوں پرفائز تھے ؟ یہی تمہاری ذمہ داری تھی! تم کس طرح ایک کمزور اور بے بس مسلمان کی عزت پر دست درازی پر خاموشی کواختیار کرتے ہو؟ اس کی حمایت کے لئے تم لوگ حرکت میں کیوں نہیں آئے ؟ بے شک مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی ایذا رسانی پر خاموشی عظیم ظلم ہے اور اس کی وجہ سے آدمی گناہ کے اندھیر وں میں غرق ہو جاتا ہے۔
آخر میں ہم حزب التحریر والے اس بات پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں کہ اللہ کی نصرت اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا دوبارہ قیام نزدیک ہے .....وہ خلافت جو حق اور عدل کی روشنی سے چمکتی ہوگی .....تب اپنی عدالت میں ہر اس ظالم کو کھڑا کر دے گی جس نے اس امت کے لوگوں پر دست درازی کی ہوگی تاکہ اسے اپنے کئے کی سزا مل جائے .....اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل امرنہیں۔
﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾
"اوراس روز مومن خوش ہوجائیں گے، اللہ کی مدد سے، وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب اور مہربان ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کاوعدہ فرمایاہے، وہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں فرماتا، لیکن اکثر لوگ (اللہ کے تصرفات کو) نہیں جانتے " (الروم:4-5)

ڈائریکٹرمرکزی میڈیاآفس
حزب التحریر



Read more...

حقیقی تبدیلی خلافت کا قیام ہے افواج پاکستان سے نصرۃ کے حصول اور خلافت کے قیام کے لئے حزب التحریر نے مظاہرے کیے

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے پاکستان بھر میں مظاہرے کئے۔ یہ مظاہرے افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران سے یہ مطالبہ کرنے کے لئے کئے گئے کہ وہ جمہوریت و آمریت کی حمائت سے دست بردار ہو جائیں اور خلافت کے قیام کے لئے نصرۃ فراہم کریں۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ : "اے پاک فوج! جمہوریت اور آمریت کی حمائت ترک کرو، اللہ کے دین کے انصار بنو! خلافت کو قائم کرو"، "نیا نظام نئی قیادت، حزب التحریر اور خلافت"۔
مظاہرین کا یہ کہنا تھا کہ اس ملک کے قیام سے لے کر آج تک عوام جمہوریت اور آمریت کے تماشے دیکھ رہے ہیں۔ ہر بار لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے اور ان سے یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ وہ نئے آنے والے حکمرانوں کو خوش آمدید کہیں کیونکہ نئے حکمران ان کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی کا باعث ثابت ہوں گے۔ لیکن لوگوں نے اس جمہوریت اور آمریت کے تماشے کو بہت دیکھ لیا ہے اور نہ صرف ان دونوں نظاموں سے تنگ آچکے ہیں بلکہ ان سے چھٹکارہ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
مظاہرین نے واضح کیا کہ صرف خلافت کا قیام ہی عام انسانوں کی زندگی میں تبدیلی اور انقلاب لائے گا اور امت کو موجودہ ذلت کے اندھیروں سے نکال کر کے ایک باعزت بلند مرتبے پر فائز کرے گا۔

Read more...

ڈاکٹر اسماعیل شیخ کو رہا کرو مہم ڈاکٹر اسماعیل کی بیوی نے حکومتی غنڈوں کی مذمت کی جو اسلام کے نام پر قائم پاکستان کا مذاق اڑارہے ہیں

آج ڈاکٹر اسماعیل شیخ کی بیوی اور ان کے وکیل جناب عمر حیات سندھو ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ایڈوکیٹ عمر حیات سندھو نے میڈیا کو ڈاکٹر اسماعیل شیخ کے اغوا اور اب تک کی عدالتی کاروائی سے آگاہ کیا۔
ڈاکٹر اسماعیل شیخ کو جمعہ 18 اپریل 2014 کی صبح تقریباًنو بج کر تیس منٹ پر راحیل-نواز حکومت کی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ان کی گاڑی سمیت اغوا کرلیا جب وہ اپنے گھر سے نکلے ہی تھے۔ پھر اسی دن تقریباً دو بجے دوپہر بارہ سے تیرہ سادہ لباس اہلکار کلاشنکوفوں سے لیس بلٹ پروف جیکٹوں میں ملبوس پولیس موبائلوں میں ڈاکٹر اسماعیل شیخ کے گھر پہنچےاور زبردستی گھر میں داخل ہوگئے جبکہ ان کے ساتھ کوئی خاتون اہلکار بھی نہیں تھیں۔ ان لوگوں نےڈاکٹر اسماعیل شیخ کی تمام فیملی کے اصل پاسپورٹ، ڈاکٹر اسماعیل اور ان کی بیوی کے لیپ ٹاپ،ان کے موبائل فون، دو گاڑیوں کی اصل رجسٹریشن کاپیاں، گھر کی اصل ملکیتی دستاویزات، کچھ نقدی اور زیورات قبضے میں لے لیے ۔
ایڈوکیٹ عمر نے کہا کہ21 اپریل 2014 کو ایک رٹ پٹیشن نمبر 2094 سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی جس کی باقاعدہ سماعت 22 اپریل 2014 کو سندھ ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ میں ہوئی۔ اس ڈویژنل بینچ نے متعلقہ حکام اور اداروں کو نوٹس جاری کیے اور یہ حکم دیا کہ 30اپریل 2014 کو ڈاکٹر اسماعیل شیخ کو پیش کیا جائے۔ اس وقت سے کئی پیشیاں ہو چکی ہیں لیکن حکومتی غنڈوں نے انہیں آج پیش نہیں کیا جو کہ پاکستان کے عدالتی نظام کا مذاق اڑا نے کے مترادف اور توہین عدالت ہے۔ یہ حکومتی غنڈے مسلسل ڈاکٹر اسماعیل کے گھر کی خواتین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے رہے تا کہ وہ ان کی رہائی کی کوششوں سے باز آجائیں۔ دراصل راحیل-نواز حکومت کے غنڈوں نے خلافت کے داعی ڈاکٹر اسماعیل شیخ کی زبان بندی کی کو شش کر کےپاکستان کے وجود کا مذاق اڑایا ہے جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر اسماعیل کی بیوی اور ان کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر اسماعیل ایک مشہور و معروف ڈینٹل سرجن ہیں جن کی خدمات سے ہزاروں طالب علم اور مریض فیضیاب ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی کو اسلام اور اس کی امت مسلمانوں کے لئے وقف کررکھا ہے۔ وہ فکری و سیاسی جدوجہد پر یقین رکھنے واے شخص ہیں اور کبھی بھی کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں رہے۔ مسز منیرا اور ان کے وکیل نے میڈیا، انسانی حقوق اور وکلاء کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈاکٹر اسماعیل کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم کو اجاگر کریں اور ان کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اگر آپ اس ظلم کے خلاف خاموش رہے تو یہ غنڈوں اور مجرموں کو تقویت بخشنے کا باعث ہو گا۔
وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلاَّ أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
"یہ لوگ اُن ایمان والوں سے کسی چیز کا بدلہ نہیں لے رہے تھے سوائے یہ کہ وہ اللہ غالب لائقِ حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے" (البروج:8)

 

 

 

Read more...

عراق اور شام میں لڑنے والی تنظیموں اور قبائل کو پکار : آپس میں نہ لڑو!!!امریکہ تمہار ی آپس کی لڑائی سے فائدہ اٹھا کر تمہارے علاقوں میں عسکری مداخلت کر تا ہے

 

عراق اور شام میں پے در پے واقعات رونما ہو رہے ہیں، دوسری طرف 18 اگست 2014 کو اوبامانے ایک تقریر کی، جبکہ22 اگست 2014 کوامریکہ کے وزیرِ دفاع چَک ہیگل اورچیف آف اسٹاف جنرل ڈیمپسی کی جانب سے پریس کانفرنس میں خطے میں اوباما کی طویل مدت کے لیےعسکری مداخلت کی پالیسی کا ذ کر کیا گیا۔۔۔ اورامریکی مداخلت کی مدد کے لیے بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی جانب اقدامات کا بھی اشارہ دیا گیا۔۔۔ یہ سب اقدامات خطے ہی کے بعض سیاسی اور عسکری افراد کی جانب سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے امریکہ کو مداخلت کی دعوت دینے کے بعد سامنے آئے! امریکہ نے بھی عملاً عراق میں عسکری مداخلت شروع کر دی۔۔۔شامی اتحادی کونسل نے 16 اگست 2014 کوامریکہ سے التجا ءکی کہ وہ عراق کی طرز پر شام میں بھی مداخلت کرے اور اس کے سامنے آہ و زاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوہرا معیار کیوں، کہ امریکہ عراق میں تو مداخلت کرتا ہے اور شام میں نہیں !
عراق اور افغانستان پر وحشیانہ حملوں اور پاکستان اور یمن میں ڈرون حملوں کے بعد خطے کے لوگوں اور مسلمانوں نے امریکہ کو مسترد کر دیا تھا۔۔۔ اب کچھ لوگ پھر اسی سے خیر کی امید کر کے خوشی خوشی عسکری مداخلت کے لیے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ رہے ہیں! یہ شر انگیزی کی انتہا ہے۔ یہ آ بیل مجھے مار ہے! یہ ایسا ہی ہے کہ کسی شخص پر سانپ حملہ کرے اور وہ اُس کو ہزار بار خوش آمدید کہے اور خود اس کو اپنے گھر میں داخل ہونے دے تاکہ وہ سانپ اُس کو، اُس کے بچوں کو اور تمام گھر والوں کو ڈس کر قتل کردے! ایسا لگتا ہے کہ امریکی آگ سے چنگاری مانگنے والوں کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہواہے، ان کے کانوں پر مہر لگا دی گئی ہے اور یہ آنکھوں کے اندھے ہیں!
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس چیز نے حالات کو اس قدر ناگفتہ بہ صورت حال تک پہنچا دیا ؟ آخر امریکہ اس کے لیے کیوں تیار ہوا کہ منصوبے اور سازشیں بنا کر مداخلت کا ارادہ کرے۔۔۔کس چیز نے خطے کے بعض لوگوں کی جانب سے یہ قدم اٹھوایا کہ وہ بغیر کسی شرم و حیا کے دن دیہاڑے یہ مطالبہ کر رہے ہیں ؟ اس ساری صورت حال پر غور کرنے والا یہ دیکھ سکتا ہے کہ شام اور عراق میں انقلاب کے لیے کھڑی ہو نے والی تحریکیں آپس میں خون خرابے پر اتر آئیں جس سے امریکہ نے فائدہ اٹھایا۔۔۔شروع میں یہ تحریکیں ظالم اور جابر حکمرانوں کو برطرف کر نے کے لیے بر پا ہوئی تھیں، پھر یہ راستے سے ہٹ گئیں، سوائے ان کے کہ جن پر اللہ کا رحم وکرم رہا، ان میں سے اکثر استعماری کفار سے لڑنے یا ظالم حکومتوں کو ہٹانے کی بجائے آپس میں ایک دوسرے کا خون بہانے لگے! اس سب کے باوجود بھی اِن تنظیموں نے اپنے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ آخر کیوں ہم حکومتوں کے ہاتھوں سے نکلے ہوئے علاقوں میں آپس ہی میں لڑرہے ہیں؟ آخر یہ لڑائی اِن آزاد علاقوں میں ہی ایک دوسرے کے خلاف کیوں ہو رہی ہے اور آخر ہم باقی علاقوں کو کیوں ان ظالم حکومتوں سے آزاد نہیں کرارہے؟!
اے مسلمانو! حزب التحریرمیں ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم تنظیمِ داعش (I.S.I.S)، دوسری مسلح اسلامی تحریکوں اور قبائل کو آپس کی لڑائی روکنے اور باہم صلح کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور ان سب سے کہتے ہیں کہ ظالموں کی طرف مائل مت ہو ورنہ آگ تمہیں چھو لے گی۔۔۔ہم مسلمانوں کے مفاد میں ان سے مخاطب ہیں، یہ مناظر ہمارے دلوں کو چیر کر رکھ دیتے ہیں کہ جب ہم تنظیمِ داعش (I.S.I.S) اور دوسری اسلامی جماعتوں کو ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے ہوئے، دونوں جانب سے تکبیریں بلند کر تے ہوئے اور ساتھ ہی ایک دوسرے کو ذلیل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں! ہم انتہائی رنج و الم کی حالت میں ان سے مخاطب ہیں اورہم آرزو اور امید کے سا تھ ان سے مخاطب ہیں:
اولاً: تنظیمِ داعش (I.S.I.S) سے کہ اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کو قتل مت کرو۔ اللہ کے نزدیک مسلمان کا خون انتہائی عظیم ہے اور خلافت کے ناحق اور جھوٹے اعلان سے رجوع کرو، خلافت قائم کرنے کا طریقہ مجہول نہیں بلکہ معلوم ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنی سیرت طیبہ میں ریاست قائم کرنے کے طریقے کو واضح انداز سے بیان کیا ہے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ کسی ایسے ملک میں جس کے اندر ریاست کے تمام لوازمات موجود ہوں، اہل قوت سے نصرہ طلب کرنا اور پھر اس ملک کے باشندوں کی جانب سے برضا و رغبت بیعت حاصل کرنا۔۔۔تنظیمِ داعش نے شریعت کے طریقے کی کوئی پابندی نہیں کی اور جو بھی کام شرع کو پس پشت ڈال کر کیا جائے گا اس میں تنازعات اور فتنے پیدا ہوں گےاور ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ تنظیمِ داعش اور دوسری عسکری تنظیموں میں خون خرابہ ہو گیا، ان کے تعلقات خون آلود ہو گئے، حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ تنظیمِ داعش جس علاقے میں پہنچتی ہے لوگ اس کے سائے میں امن اور خوشی محسوس کر نے کی بجائے وہاں سے گھر بار چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔۔۔اس تنظیم کو چاہیے کہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے اور غلطی سے رجوع کرنا فضیلت والی بات ہے۔
دوئم: ہم اُن تحریکوں سے مخاطب ہیں، جو امریکہ، مغرب اور ان کے ایجنٹوں اور بغل بچوں سے مدد مانگ رہے ہیں، کہ استعماری کفار سے مدد مانگنا تمہاری غلطی اور بصارت اور بصیرت سے محروم ہو نے کا ثبوت ہے۔امریکہ اور مغرب کیونکر ان ایجنٹوں کو برطرف کر نے میں تمہاری مدد کریں گے جن کو انہوں نے خود اس منصب پر بِٹھا یا ہے؟ ہاں وہ صرف اس صورت میں ایسا کریں گے اگر تم ان سے بھی بڑے ایجنٹ بن کر ان کی کمی کو پورا کرو۔ ہر عقل والا شخص جانتا ہے کہ ان سے مدد مانگنا سراب کے پیچھے بھاگنا ہے تو کیا تم میں عقل والے لوگ نہیں؟
سوئم: قبائل سے اور صاحب مروت مردوں اور اسلامی جذبات کے حاملین سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ لوگ تمہاری قدر اور احترام کرتے ہیں، تم آپس میں لڑنے والی ان مسلمان تنظیموں میں سے کسی ایک کی طرف داری مت کرو کیونکہ یہ استعماری کفار سے تو لڑہی نہیں رہے۔ اگرچہ انہوں نے سرکش حکومتوں کو برطرف کر نے کے لیے ان کے خلاف خروج کا اعلان کیا تھا لیکن یہ ان حکومتوں کے خلاف اکھٹے نہیں ہو رہے بلکہ سازش کے تحت ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔اس لیے آہنی ہاتھوں سے ان کو پکڑو اور ان کو ہدایت کی طرف لوٹاؤ تاکہ ان کا اسلامی تشخص پھر بحال ہو اور یہ سب ایک ہو کر خلافت راشدہ کے سائے میں آئیں جس کے سائے میں لوگ خوف نہیں امن محسوس کریں گے۔تقسیم، بندر بانٹ اور علاقائیت کے بت کو پاش پاش کردو۔۔۔
چہارم: اوران لوگوں سے جو اس آیت سے مطابقت رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں: ﴿اِلاّ مَنْ رَحِمَ رَبُّکَ﴾ "سوائے ان کے کہ جن پر تمہارے رب نے رحم فرمایا" (ہود:119)۔ جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو نبھا یا ہے اورخلافت راشدہ کے قیام کے لیے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مدد کا عہد کر رکھا ہے۔۔۔جنہوں نے دوسری اسلامی تحریکوں سے دست وگریبان ہو نے سے اپنے آپ کو بچا یا، اور وہ جس مقصد کے لیے نکلے تھے اس کے حصول کی جدو جہد میں مصروف ہیں۔۔۔تم جس حق پر ہو اس پر ثابت قدم رہو، کسی کا یہ کہنا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کہ تمہاری جمعیت ان تنظیموں سے کم ہے جو ایک دوسرے کا خون بہارہی ہیں کیونکہ اللہ کے ہاں چھوٹی سچائی کا وزن بڑی برائی سے زیادہ ہے اور اچھا انجام متقین کے لیے ہے ﴿وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ﴾ "ہمارا ارادہ ہے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جن کو زمین میں ستایا گیا ہے اور ہم ان کو راہنما اور روئے زمین کا وارث بنا نا چا ہتے ہیں" (القصص:5)۔
اے مسلمانو! حزب التحریر ساٹھ سال سے زیادہ عرصے سے اِس حق پر ثابت قدم ہے جس کی طرف وہ دعوت دیتی ہے۔ حزب روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے رسول اللہﷺ کے طریقہ کار پر کاربند ہے اور اس سے بال برابر بھی نہیں ہٹتی، حالانکہ بے سرو پا باتیں بھی کی گئیں اور یہ پرو پیگنڈا بھی کیا گیا کہ طلبِ نصرہ ایک لمبا راستہ ہے اور اس کی بجائے حکمرانی کو لوگوں پر بزورِ قوت مسلط کر نے کا طریقہ زیادہ قریب اور مختصر ہے لیکن جن لوگوں نے یہ باتیں کیں وہ یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ مسئلہ کسی بھی طرح اقتدار پر قابض ہونے کا نہیں اور نہ ہی اپنی مرضی سے کوئی سا بھی راستہ اختیار کر نے کا ہے بلکہ مسئلہ خلافت علٰی منہاج ِنبوت کا ہے اور اس کا طریقہ وہ ہے جس کو رسول اللہﷺ نے اختیار کیا اور اللہ سبحانہُ العزیز الحکیم کی نازل کردہ وحی کے ذریعے واضح کر دیا۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اگر اقتدار تک جلدی پہنچا بھی دےتو ایسا اقتدار بیمار اور دردناک ہو گا جس سے اللہ، اس کے رسولﷺ اور مومنین راضی نہیں ہوں گے۔۔۔اس لیے خلافت کسی خالی خولی نعرے کا نام نہیں جس کا زمین پر کوئی وجود تک نہ ہو۔۔۔ بلکہ خلافت امن اور اطمینان کا نام ہے۔ لوگ اس سے بھاگیں گے نہیں بلکہ اس کی طرف دنیا بھر سے ہجرت کریں گے۔ اس کے سائے میں امن اور عافیت سے رہیں گےاور اس کے خوف اور ظلم سے فرار نہیں ہوں گے۔۔۔خلافت میں لوگوں کی جان مال عزت و آبرو اور گھربار محفوظ ہوں گے، خلافت میں خون نہیں بہا یا جائے گا، عزتیں پامال نہیں ہوں گی، گھر نہیں گرائے جائیں گے، لوگوں کے مال پر دست درازی نہیں کی جائے گی۔۔۔ خلافت خیر کو صرف مسلم علاقوں میں ہی نہیں پھیلائے گی بلکہ اپنی تہذیب کو چار دانگ عالم تک پہنچائے گی، خلافت میں مسلم اور غیر مسلم دونوں امن سے رہیں گے اور ہر کوئی عدل اور اطمینان سے اپنا حق لے گا۔
بے شک حزب التحریر ہی وہ قائد ہے جو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتی، جو کہ تم ہی میں سے ہے اور تمہارے ساتھ ہے اور اس پکار کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہے اور ہر اس دل والے اور عقل والے کو پکار تی ہے جو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ اپنی بھر پور کوشش کرے خواہ یہ کوشش کسی چھوٹے سے عمل کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو، وہ مسلمانوں کے درمیان اِس خونریزی کو روکے جو خونریزی تنظیمِ داعش اور دوسرے گروپوں کے درمیان یا قبائل کے ساتھ ہو رہی ہے۔۔۔ممکن ہے کوئی ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائے۔۔۔اور مسلمان ایک دوسرے کا خون بہانے سے باز آجائیں۔۔۔حز ب پکارتی ہے کہ تم عسکری اتحاد کی جانب سے اس مداخلت، جو امریکہ کی قیادت میں ہونے جا رہی ہے، کے خلاف شانہ بشانہ، صف بستہ کھڑے ہوجاؤ جس سازش کی قیادت امریکہ کر رہا ہے، تاکہ اس اتحاد کا مقابلہ مقتل میں یکجا ہو کر کیا جاسکے اور اس کے شر سے بچا جاسکے۔۔۔ یہ پکار اللہ کے اذن سے پرخلوص اور سچی ہے، ہم اس کے ذریعے ہر اس شخص سے مخاطب ہیں جس کے پاس دل ہے یا وہ سن کر گواہی دے سکتا ہے، جس کا اسلام اور مسلمانوں کی مدد میں موثر کردار ہو گا اور جو کافروں کے مکر کو ناکام بنا دے گا۔۔۔ جولوگ سنتے ہی نہیں اور دیکھتے ہی نہیں ان کے بارے میں القوی العزیز نے ہمیں بتا دیا ہے ﴿إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ﴾ "بے شک اللہ کے نزدیک وہ لوگ بدترین جانور ہیں، کہ جو گونگے بہرے ہیں اور وہ عقل بھی نہیں رکھتے" (الانفال:22)۔

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک