السبت، 28 رجب 1447| 2026/01/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

روسی وزیر خارجہ لاروف خلافت کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتا ہے


قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ
"ان کی عداوت تو خود ان کی زبان سے بھی ظاہر ہو چکی ہے اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے"(اٰل عمران:118)

جمعہ 27ستمبر2013کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ لاروف نے خبردار کیا کہ "شام میں مسلحہ گروہوں میں سب سے زیادہ طاقتور جہادی ہیں جن میں کئی انتہا پسند بھی شامل ہیں جو دنیا بھر سے آئے ہیں اور وہ جس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی بنیاد ایک انتہاپسندانہ نظریہ حیات ہے، وہ سیکولر ریاست کا خاتمہ اور خلافت اسلامیہ کا قیام چاہتے ہیں"۔
اقوام متحدہ میں شامی کیمیائی اسلحہ کے خاتمے کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس سے واپسی پر اس نے کہا کہ "اس کا ملک جینوا 2کانفرنس میں مسلحہ شامی حزب اختلاف کی شمولیت کی مخالفت نہیں کرتا جب تک کہ وہ خلافت کے قیام کی سوچ نہ رکھتے ہوں"۔
لاروف کے اس بیان نے شام اور خطے میں جاری تنازعے کی حقیقت کو بے نقاب کردیا ہےکہ یہ تہذیبوں کے درمیان ایک نظریاتی ٹکراؤ ہے یعنی دین حق اسلام اورکرپٹ جابرانہ جمہوریت اور اللہ کو نہ ماننے والی سیکولرازم کے درمیان ایک جنگ ہے۔اس نے اپنے پوشیدہ مقاصد اور اسلام ، خلافت اور جہاد کے خلاف مغرب کی نفرت کو بھی بے نقاب کردیا ہے۔ اُس نے بتادیا ہے کہ اُس کی اسلام کے خلاف نفرت بشار الاسد سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔ اس نے اس بات کو بھی بے نقاب کردیا ہے کہ چین،روس، مغرب اور اسرائیل، مسلمانوں کو نشانہ بنانے میں بشار کے مددگار ہیں جو مسلمان مرد،عورتوں اور بچوں کے خلاف بھیانک قتل عام کرنے کے لیے ان کی مدد پر انحصار کرتا ہے۔
کفار کا خلافت اسلامیہ کےقیام کے انتہائی مقدس مقصد کے خلاف متحدہ محاذ ہمیں اللہ سبحانہ و تعالٰی کے اس فرمان کی یاد دلاتا ہے کہ :
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
"عنقریب اس جماعت کو شکست دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگے گی"(القمر:45)
جی ہاں ، یہ درست ہےکہ جب سے روس، مغرب اور یہود نے شام کی سرزمین سے خلافت کے نعرے سنیں ہیں جو ایک انقلاب کے مرحلے سے گزر رہی ہے، یہ اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں! جب انھوں نے اس مطالبے کی سنجیدگی اور اس کی واپسی کو یقینی جان لیا تو ان کے دن کا چین اور رات کا سکون برباد ہوگیا۔ انھیں اب سوائے اس بات کے کسی چیز کا ہوش نہیں کہ وہ کھل عام اور خفیہ طور پر اس انقلاب کی مخالفت کریں۔لیکن اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خلافت کی واپسی کی کس قدر مخالفت کرتے ہیں، ان کی ہر کوشش اللہ کے حکم سےضائع ہو جائے گی:
وَمَكْرُ أُولَئِكَ هُوَ يَبُور
"اور ان کا یہ مکر برباد ہوجائے گا"(فاطر:10)
چاہے وہ کتنا ہی اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کریں مگر اللہ ان کی کوشش کو کامیاب نہیں کرے گا بلکہ اپنے نور کو مکمل کرے گا چاہے کفار کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں:
يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ * هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ
"وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ تعالٰی انکاری ہےمگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گو کافر ناخوش رہیں۔اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اورتمام مذاہب پر غالب کردےاگرچہ مشرک برا مانیں"(التوبۃ:32-33)
خلافت کی سرزمین،سرزمین شام، اسلام کے گھر میں رہنے والے مسلمانو! لاروف، کہ جس نے مسلمانوں کو ان کے دین کے حوالے سے کھلا چیلنج دیا ہے، بشار کی ریاست کے سرکاری ترجمان کا کردار ادا کررہا ہے!اس نے ان گروہوں کے خلاف اپنی نفرت کا کھل کر اظہار کیا جو اسلامی خلافت کے قیام کی جدوجہد کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ " اس کا ملک جنو ا 2کانفرنس مںت مسلحہ شامی حزب اختلاف کی شمولتی کی مخالفت نہں کرتا جب تک کہ وہ خلافت کے قاجم کی سوچ نہ رکھتے ہوں"۔یہ وہ جماعتیں ہیں جن میں قومی شامی اتحاد کے سربراہ احمد الجربا بھی شامل ہے جس نے اقوام متحدہ کے اسی منبر سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی انتہاپسندوں پر الزام لگایا کہ وہ انقلاب کو چرا لینے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ ان مسلمانوں کا انقلاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان شخصیات میں اس کا سیکولر استاد مشال کیلو بھی شامل ہے جس نے یہ کہا کہ "ہمیں ان جماعتوں کی کوششوں کو کم اہمیت نہیں دینی چاہیے جو اس انقلاب کے خلاف کام کررہی ہیں۔۔۔۔۔ہمیں کسی بھی صورت ان کے خطرے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔یہ ایک انتہائی تباہ کن غلطی ہوگی اور اس کے ساتھ یہ بھی اتنی ہی تباہ کن غلطی ہو گی کہ ان کے ساتھ افکار کی بنیاد پر بات چیت کی جائے جو کہ حکومت کی خلاف مزاحمت کو اولین ترجیع قرار دیتے ہیں"۔
اسلام اور خلافت کے خلاف اس کھلم کھلا مخالفت کا تقاضع ہے کہ مسلمان بھی اس کا ایسا ہی منہ توڑ جواب دیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اعلان کریں کہ ان کا قائد اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور ان کا طریقہ ہی تبدیلی کا طریقہ ہے اور خلافت راشدہ کا قیام ہی ان کے انقلاب کا مقصد ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں:
مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ * وَلَا يُنْفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُون
"مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں۔ یہ اس سبب سے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور تکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لیے غصہ کو باعث بنا ہو اور دشمنوں کی جو خبر لی، ان سب پر ان کے نام(ایک ایک)نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ تعالٰی مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتے"(التوبۃ:120)

ہشام البابا
ولایہ شام میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے سربراہ

Read more...

ازبکستان میں دعوت کے شہسوار بدستور اپنے لہو سے شجر اسلام کی آبیاری پر اصرار کر رہے ہیں!

 

پریس ریلیز

تاشقند کا ایک اور فرزند سمرالدین سراج دینوفیتش35 سال کی عمر میں اللہ کی مشیت سے شہادت کے رتبے پر فائز ہو گیا.یہ فرزند امت ازبکستان کے طاغوت کریموف کی حکومت کو جڑھ سے اکھاڑ پھینک کر اس کی جگہ نبوت کے نقش قدم پر دوسری خلافت راشدہ کے قیام کے لیے حزب لتحریر کی صفوں میں سرگرم عمل تھا۔
سمرالدین رحمہ اللہ بچپن سے ہی اپنی محنت،جدوجہد اور ذہانت کی وجہ سے ممتازتھے۔آپ اپنے سکول کی تعلیم کے زمانے سے ہی اپنے تمام ساتھیوں میں لائق اور فائق تھے۔اسی طرح یونیورسٹی کے مراحل میں بھی آپ ہمیشہ نمایاں رہے اورتاشقند کے الامام البخاری یونیورسٹی کے شعبہ دینیات سے امتیازی درجے میں فراغت حاصل کی۔اپنی ذہانت ،حساسیت اوربیدارمغزی سے ازبک حکومت کی کرپشن اور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھانپ لیا اور یہی حزب لتحریر سے آپ کے تعارف کا سبب بن گیا۔اس کے افکار کو اپنا نےاور اس نصب العین کے حصول کے لیے حزب کے صفوں میں شامل ہو گئے اورکسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ کیے بغیر اور ظالموں کے خوف کو خاطر میں لائے بغیر اسلامی زندگی کی واپسی کی جدوجہد کرتے رہے۔
1999 م میں مجرم زمانہ یہودی کریموف کی اسلام دشمن اور مسلمانوں کے خون کی پیاسی حکومت نے سمرالدین کو گرفتار کر کیا اور 17 سال قید کی سزا سنائی،یوں شیر کو پنجرے میں بند کر دیا گیا ۔آپ کوزرفشان شہر کےبدنام زمانہ "جسلیق"جیل اور کالونی نمبر48/64 کے درمیان منتقل کیا جاتا رہا۔مجرم حکومت کے کارندوں نے حسب عادت سمرالدین کو اپنے عقیدے اور افکار سے دستبردار کرنے یا اپنے مشن سے روکنے کے لیے ہر وہ خبیث اور گھٹیا اسلوب اختیار کیا جو ان کی مجرم عقل اور مریض ذہن میں آتا،لیکن ایک ایسے چٹان جیسے آدمی کے سامنے جس نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے وقف کر رکھا ہو ان کو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملاان کی امیدیں خاک میں مل گئیں،جس کی وجہ سے ان کے سینے بغض اور حسد سے بھر گئے اور انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس پر عمل بھی کر لیا۔
21 اکتوبر 2013 کی رات کے آخری حصے میں شیخانتور اسپیشل فورس اور مقامی پولیس کے افراد نے شہید کی جسد خاکی کو ان کے ورثا کے حوالے کرنے آئے۔آپ کے پاک جسم پر زخموں اور مار پیٹ کے نشانات واضح تھےجبکہ انہی دنوں میں آپ کے رشتہ داروں اور آپ کے ساتھی قیدیوں نے آپ کو دیکھا تھا اور آپ کی صحت بالکل ٹھیک تھی کوئی شکایت نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے رشتہ داروں نے آپ کی لاش کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا جس کی رپورٹ خوف ناک تھی۔رپورٹ میں ہے کہ سمرالدین کو دماغ میں چوٹیں لگی ہیں،کھوپڑی ٹوٹی ہوئی ہے،مغز خون آلود ہے،سارے جسم میں ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔اس شرمناک جرم کو چھپانے کے لیے سرکش کریموف کے غنڈوں نے سمرالدین کو فجر کی نماز کے فورا بعد دفنانے کا مطالبہ کیا ،بلکہ خود ہی ان کو غسل دینے قبر کھودنے اور دفن کر نے کی پیش کش کی ۔انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر گھروالوں نے ان کے احکامات پر عمل نہیں کیا تو ان کو بھی گرفتار کیا جائے گا جس کی وجہ سے گھروالوں نے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے آنے سے پہلے ہی ان کو دفنادیا۔
ہم اللہ سے دعاگو ہیں کہ اللہ ہمارے بھائی سمرالدین کی شہادت کو قبول فرمائے اوران کو سید الشہداء کا مرتبہ عطا فرمائے،ان کے اہل وعیال کو صبر جمیل اور اجر عظیم سے نوازے اورآپ کو قیامت کے دن ان کے لیے شفاعت کا ذریعہ بنائے۔ابن حبان نے اپنے صحیح میں ابو درداء سے روایت کی ہے کہ :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(الشہید یشفع فی سبعین من اھل بیتہ)"شہید اپنے گھروالوں میں سے ستر آدمیوں کی شفاعت کرے گا"۔
مجرم یہودی کریموف ،اس کے ہرکاروں اور کارندوں سے ہم کہتے ہیں کہ یاد رکھو خلافت دروازے پر ہے ۔ہوش میں آؤ اور کریموف سے ہاتھ کھنچ لو،مسلمانوں کوایذا اور عذاب دینے سے ہاتھ روک لو،ورنہ اگر تمہارے اس حال میں ہوتے ہوئے خلافت قائم ہوگئی تو تمہیں معاف نہیں کیا جائے گا اور تم پر تر س نہیں کھا یا جائے گا۔اس ذلیل ہو کر گڑگڑانے سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا اوریہ تو دنیا میں ہوگا جبکہ آخرت کا عذاب تو شدید اور دردناک ہے،اللہ سبحانہ و تعالی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔
﴿وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾
"اوراسی طرح تمہارے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو پکڑ تا ہے تو اس کی پکڑ شدید ترین ہو تا ہے"۔(ہود:101)

Read more...

خلافت کا قیام افواج میں موجود مخلص افسران کی جانب سے نُصرَۃ(مادّی مدد)فراہم کرنے سےہی ہوگا

 

اے پاکستان کے مسلمانو! ہم میں سے ہر شخص اس بات سے آگاہ ہے کہ کیانی و شریف حکومت ہویا ماضی کی حکومتیں،پاکستان مسلسل معاشی بدحالی اورخارجی معاملات میں ذلت و رسوائی کے راستے پر گامزن ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہم لوگ اس صورتِ حال سےباخبر ہیں بلکہ ایک طویل عرصے سےہم اس کا مزہ بھی چکھ رہے ہیں۔ اورہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ پچھلے تین انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومتیں اتنی ہی کرپٹ اورنااہل تھیں جتنا کہ فوجی بغاوت کے ذریعے قائم ہونے والی آمرانہ حکومتیں۔ لہٰذا اب پاکستان میں اس بحث کوبہت اہمیت حاصل ہو گئی ہے کہ حقیقی تبدیلی کیسے لائی جائے؟ کس طرح ہم اس چیز کو ممکن بنائیں کہ ہمارے اوپر مخلص حکمرانوں کا سایہ ہو جواسلام کی بنیاد پر حکمرانی کریں ؟ کس طرح سے ہم وہ حقوق حاصل کرسکیں جو اللہ سبحانہ و تعالی اور اس کے رسول صلى الله عليه و سلم نے ہمارے لیےطے کیے ہیں؟ اور اس حقیقی تبدیلی کو لانے میں ہماراکردار کیا ہو تا کہ اس خوشحالی اور سکون و اطمینان کی زندگی میں مزید تاخیر نہ ہو جس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے؟
بھائیو اور بہنو! جمہوریت کے تحت ہونے والے انتخابات کبھی بھی اِس نظام کا خاتمہ نہیں کریں گے، جو کہ مسلسل بدعنوان اور کرپٹ حکمران پیدا کررہا ہے، چاہے پاکستان کی زندگی کے اگلے ستر سالوں کے دوران بھی الیکشن در الیکشن کا سلسلہ جاری رہے۔ پاکساین کی ہر حکومت اور واشنگٹن میں بیٹھے ان حکومتوں کے آقا یہ کہہ کر پاکستان کے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ تبدیلی لانے کا واحد ذریعہ صرف جمہوریت کے تحت انتخابات ہی ہیں۔ مغرب اور ان کے ایجنٹ حکمران ،عوام اور افواجِ پاکستان سے اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جمہوریت کے تسلسل کی یقین دہانی کرائیں اگرچہ جمہوریت پاکستان کی سالمیت اور خوشحالی کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ لہٰذا مغرب کی حمایت سے قائم کردہ آمرانہ حکومتوں سے جان چھڑانے کے لیے ،مغرب اور ان کے ایجنٹ پاکستان کے مسلمانوں کواپنے دوسرے جال یعنی جمہوریت کی دعوت میں پھنسا دیتے ہیں جیسا کہ انھوں نے مصر ،ترکی اور دوسرے مسلم ممالک میں کیا۔
اے پاکستان کے مسلمانو! ہم پر لازم ہےکہ ہم اپنے دشمنوں کے جھوٹ کو مسترد کردیں اور اپنے دین کی طرف رجوع کریں تا کہ اس بدحالی اور مایوسی کی صورتحال سے نکل سکیں۔ جی ہاں، اسلام نے اس بات کو فرض قرار دیا ہے کہ امت کا حکمران امت کی مرضی اور اس کے انتخاب کے ذریعے بنایا جائے۔ جی ہاں ، ایک بار جب رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کردی تو انتخاب ہی وہ طریقہ تھا جس کے ذریعے رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے بعد خلفاء راشدین کو حکمرانی کے لیے چُنا گیا تھا۔ لیکن اسلام میں وہی شخص حکمران بن سکتا ہے اور حکمران رہ سکتا ہےجو اسلام اور اس کی شریعت کی بنیاد پر حکمرانی کرے نہ کہ جمہوریت اور اس کے کفر کی بنیاد پر۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کفار نے آپ صلى الله عليه و سلم کو اپنی پارلیمنٹ، دارالندوہ، میں شمولیت اور اس کا سربراہ تک بننے کی پیشکش کی لیکن رسول اللہﷺنے مضبوطی سے اس پیشکش کو رد کر دیا۔ اللہ کے نازل کردہ نظام کے سوا کسی بھی دوسرے نظام کو اللہ سبحانہ و تعالی نے "طاغوت " قرار دیا ہے اورموجودہ جمہوریت اسی کی ایک شکل ہےکہ جس میں قانون وفیصلے کا اختیار شریعت کی بجائے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے عوامی نمائندوں کے پاس ہوتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آَمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ﴾"کیا آپ صلى الله عليه و سلم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعوی کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں ، اس پر جو آپ صلى الله عليه و سلم پراور آپ صلى الله عليه و سلم سے پہلے نازل ہوا، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت(غیر اللہ) کے پاس لے جائیں حالانکہ ان کو حکم ہوچکا ہے کہ طاغوت کا انکار کردیں"(النساء:60)۔
اور رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے ایسا اقتدار لینے سے انکار کردیا جس میں اقتدار کے بدلے اسلام کے کسی بھی معاملےپر سمجھوتےکی شرط عائد کی گئی ہوجیسا کہ یہ شرط کہ آپ صلى الله عليه و سلم کے بعد اقتدارکسی ایک مخصوص گروہ کو منتقل کیا جائے گا۔ پس رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے بَنُو عامر بن صَعْصَعَةکے وفد کی اس پیش کش کو مسترد کردیا جب انھوں نے آپ صلى الله عليه و سلم کو اقتدار دینے کے بدلے یہ شرط عائد کی کہ آپ صلى الله عليه و سلم کے بعد یہ اقتدار انھیں منتقل ہوجائے گا۔ رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے فرمایا کہ((الأمر لله يضعه حيث يشاء)) "حکمرانی اللہ کی ہے اور وہ جسے چاہے گااسے دے گا"۔ تو پھر ان لوگوں کے متعلق کیا خیال ہے جو جمہوری نظام ، اس کی پارلیمنٹ اور وزارتوں میں شرکت کرکے اگر پورےاسلام سے نہیں تو اس کے بیشتر حصے سے دستبردار ہوجاتے ہیں؟ یقیناً رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کا طریقہ ان تمام مسلمانوں کے لیے ایک واضح سبق ہے، جو اَب بھی جمہوری نظام کے مغربی جال کی طرف اندھا دھندبھاگے چلے جارہے ہیں اور لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اسلام، اس کی شریعت اور اس کی خلافت کے قیام کے لیے کوشش کررہے ہیں، چاہے ان لوگوں کا تعلق پاکستان سے ہو یا مصرسے، ترکی سے ہویا کسی اور مسلم ملک سے ۔ توکیا یہ لوگ سبق حاصل کریں گے!
پس رسول اللہﷺکفریہ نظام کو تبدیل کرنے کے لیے اسی کفریہ نظام کا حصہ نہیں بنے،اگرچہ انھیں اس نظام کا سربراہ بننے کی دعوت دی گئی تھی۔ اور رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے ایسےاقتدار کو بھی قبول نہیں کیا جس کے بدلے میں آپ صلى الله عليه و سلم سےاسلام کے کسی ایک معاملے پر بھی سمجھوتے کا مطالبہ کیا گیاتھا۔ اس کی جگہ رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے کفر کی حکومت کے خاتمے کے لیے پورےمعاشرے سے اس کفریہ حکومت کی حمایت اور قوت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نےلوگوں کی طرف سے کفرکی حمایت کو ختم کیا اور اس کے لیے آپﷺنے کفر کے نظام کو کھلم کھلاچیلنج کیا ،اس کی حقیقت کو بے نقاب کیااور لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا۔ اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے کفر کی حکمرانی کو اس مادّی سہارے سے محروم کیاجواسے تحفظ فراہم کیے ہوئے تھا۔ رسول اللہﷺ نے ذاتی طور پر ان لوگوں سے ملاقاتیں کیں جو جنگی طاقت رکھتے تھے اور ان سے مطالبہ کیاکہ وہ ایمان قبول کرنے کے ساتھ ساتھ دینِ اسلام کو نُصرَۃ(مادّی مدد)فراہم کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے طویل سفر کیے، مشکلات اٹھائیں تا کہ اسلام کو ایک ریاست کی شکل میں قائم کرنے کے لیے نُصرۃ کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔ رسول اللہ ﷺجن لوگوں سے نصرۃ کا مطالبہ کرتے تھے، ان کی مادّی قوت کو بھی معلوم کرتے تھے۔آپ صلى الله عليه و سلم ان سے سوال کرتے تھے:((و هل عند قومك منعة؟))"کیا تمھارے لوگ طاقت و اسلحہ رکھتے ہیں؟" اور آپﷺنےان لوگوں کی پیش کش کو قبول نہ کیاجن میں اسلام کے دشمنوں سے اسلام کا دفاع کرنے کی طاقت موجود نہیں تھی۔ رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے کئی قبائل سے ملاقاتیں کیں جن میں بَنُو كلب،بوکحَنِيفَةُ، بنو عامر بن صَعْصَعَة، بنو كدْعةُ اور بنوشيبان شامل تھے۔ اوررسول اللہ ﷺاسی طریقہ کار پر صبر و استقامت کے ساتھ کاربند رہے یہاں تک کے اللہ تعالی نے نصرۃ کے حصول میں کامیابی عطا فرمادی جب انصار کے ایک چھوٹے مگر مخلص اور اہلِ قوت گروہ نے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے نبی کریم صلى الله عليه و سلم کو نُصرۃ فراہم کر دی۔ لہٰذا اسلام کی حکمرانی کے لیے نصرۃ کا حصول رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کی سنت اور طریقہ ہے، اس طریقے پر چل کر نبی صلى الله عليه و سلم نے یثرب کے تقسیم شدہ معاشرے کو اسلام کے قلعے،مدینۃالمنورہ میں تبدیل کردیا۔
اے پاکستان کے مسلمانو! حزب التحریر ہمارے درمیان رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے طریقے پر چلتے ہوئے ہی خلافت کے قیام کی جدوجہد کررہی ہے۔ اس کے شباب ہمیں کفر سے خبردار کرتے ہیں اورہم سے اسلام اور اس کی خلافت کی مددوحمایت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور حزب التحریر کے امیر، اعلیٰ پائے کے فقیہ اور رہنما، شیخ عطا بن خلیل ابو الرَشتہ ، اپنی جان خطرے میں ڈال کراس دین کے لیےمسلم افواج سے نصرۃ حاصل کرنےکی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔ اب یہ ہم میں سے ہر ایک پر لازم ہے کہ ہم حزب التحریر میں شامل ہوجائیں اوررسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے طریقے پر چلتے ہوئے خلافت کو قائم کردیں اور ظلم کی حکمرانی کے خاتمے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ امام احمدبن حنبل نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے فرمایا کہ:((ثُمَّ تَکُونُ مُلْکاً جَبْرِیَّةً، فَتَکُونُ مَا شَائَ اللّٰہُ اَنْ تَکُونَ ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا ِذَا شَائَ اَنْ یَرْفَعَھَا۔ ثُمَّ تَکُونُ خِلَافَةً عَلَی مِنْھَاجِ النُّبُوَّة ثُمَّ سَکَتَ)) "پھر ظالمانہ حکومت کا دَور ہو گا جو اُس وقت تک رہے گا جب تک اللہ چاہے گا، پھر جب اللہ اسے ختم کرنا چاہے گا تو اسے ختم کر دے گا۔ پھرنبوت کے نقشِ قدم پر خلافت قائم ہو گی۔ یہ کہہ کر آپ صلى الله عليه و سلم خاموش ہوگئے"۔
اےافواج میں موجود مسلمانو! اے اہلِ نُصرۃ! اے موجودہ دور کے انصارو! رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کا طریقہ کار اسلام کے قیام کے لیے اہلِ قوت سے نُصرۃ(مادّی مدد)حاصل کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور تم میں سےہر ایک یہ نُصرۃ دینے کی قابلیت رکھتا ہے۔ تمھارے بیٹے، ییٹیاں، بھائی،بہنیں اور مائیں تمیںے پکارتی ہیں کہ تم اپنی ذمہ داری کو پورا کرو۔ نصرۃ کا معاملہ تماررا ہے اور یہ وقت بھی تماہرا ہے ، لہذا اگر تم اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے اپنی ذمہ داری کو پورا کرو گے تو تم یقیناً کامیاب رہو گے۔ کفریہ جمہوریت کی حمایت کر کے، جسے لوگوں کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے، اپنی امت اور اپنے حلف سے غداری مت کرو۔ کیانی و شریف اوران کا ٹولہ کہ جس نے اپنے حلف سے غداری کی ہے ،اور جنہوں نے ہماری قیادت کی صفوں کو داغدار کر دیا ہے ؛ ایسے لوگوں کی زندگی کی خاطر اپنی آخرت کوبرباد مت کرو! حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کرکےرسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے طریقے پر خلافت کوقائم کردو ۔ اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب رہے اور کفر اور ان کے لوگوں پر غالب آ گئے تو تمہارا یہ عمل تمہاری اور امتِ مسلمہ کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دے گا۔
﴿إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾
" اگر اللہ تعالی تمھاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمھاری مدد کرے؟ ایمان والوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے"(آل عمران:160)

www.hizb-pakistan.com

Read more...

سوال وجواب:  امریکہ میں بجٹ اورقرضوں کی حد اونچی کرنے کے حوالے سے حالیہ رسہ کشی کی حقیقت

سوال: اس وقت یونائیٹڈ اسٹیٹس میں ایک طرف اوباماانتظامیہ اورڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان اوردوسری طرف حریف ریپبلکن پارٹی کے درمیان زبردست رسہ کشی عروج پرہے.یہ کشمکش بجٹ اورقرضوں کی حد اونچی کرنے کے حوالے سے ہے.اوباماحکومت قرضوں کی حد کو بڑھانے کا شدید تقاضاکررہی ہے ۔ بجٹ منظورکرنے میں ناکامی کے باعث بحران میں اس حد تک شدت آئی کہ وفاقی حکومت کےلاکھوں ملازمین کونوکریوں سے فارغ کرناپڑا، اس کو…
Read more...

سوال وجواب: شخصیہ کے عربی شمارے، جلد نمبر3صفحہ 129 پر موجود ایک اصطلاح 'کلی مُشکِّک' کی وضاحت

سوال: شخصیہ کے عربی شمارے ، جلد نمبر3صفحہ 129نیچے سےسطرنمبر2پیراگراف کے آخرمیں آیاہے :"۔۔۔ اوراگرکلی معنی (Whole) اپنے افراد کے اندرمختلف اندازمیں پایاجاتا ہو، تواس کوکلی مُشکِّک (causing of doubt) کہتے ہیں، مثلاً الوجود(موجود ہونا ) اورالابيض(سفید) کالفظ، چاہے یہ اختلاف وجوب (obligation) اورامکان (ability) کااختلاف ہویابے نیازی اورمحتاجی کے اعتبارسے، یا کمی اورزیادتی کے اعتبارسے ہو، پہلی قسم کی مثال ، جیسے وجود، کیونکہ یہ باری تعالیٰ کیلئے واجب(obligation)…
Read more...

يُخَادِعُونَ ٱللهَ وَٱلَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلاَّ أَنْفُسَهُم وَمَا يَشْعُرُونَ "وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اورایمان والوں کو دھوکہ دیں، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں مگرسمجھتے نہیں" (البقرۃ:9)  

کچھ عرصے سے امریکہ افغانستان سے اپنی افواج کی واپسی کی بات کررہا ہے۔ یکم دسمبر 2009ء کو امریکی صدر اوبامہ نے ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ "ہماری افواج گھر واپس آنا شروع ہو جائیں گی"۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے بارہ سال تک یہ جنگ اس لیے نہیں لڑی کہ وہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کیے بغیر افغانستان سے نکل جائے جبکہ اس جنگ کے نتیجے میں اس کی افواج کا شیطانی روپ بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا اور اس کی معیشت اس حد تک خراب ہوگئی کہ ایک وقت پرایسا لگنے لگا کہ اس کی معیشت بالکل ہی ڈوب جائے گی۔ اس وقت امریکہ خطے میں اپنے اثرو رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی مدد پر انحصار کررہا ہےبالکل ویسے ہی کہ جس طرح امریکہ پاکستان کی مدد سے ہی افغانستان میں فوجیں داخل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ لیکن امریکہ کوئی ٹھوس وجہ بیان کر کے اس جنگ کے لیے پاکستان کے مسلمانوں کی حمایت اور تائید حاصل کرنے سے قاصرہے، بلکہ کوئی ٹھوس اور سچی وجہ تو کیا وہ کوئی جھوٹا جواز پیش کرکے ہمیں قائل کرنے سے بھی قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے پاکستان میں بم دھماکوں اور قتل وغارت گری برپا کرنے کا حربہ استعمال کیاکہ کسی طرح پاکستان کے مسلمان اس جنگ کو اپنی جنگ مان لیں، ایسے دھماکے اورقتل و غارت گری کہ جس سے نہ توہمارے فوجی محفوظ ہیں اور نہ ہی عام شہری، ہمارے بازار ہوں یا عبادت گاہیں ، یہاں تک کہ عورتیں ، بچے، بوڑھے، مسلمان ، غیر مسلم، کوئی بھی ان حملوں سے محفوظ نہیں ہے۔ پس جب یہ بم دھماکے اور قتل و غارت گری ہوتی ہے تو امریکہ کے ایجنٹ فوراًیہ پکارنے لگتے ہیں "دیکھو، یہ ہماری ہی جنگ ہے"۔ یہ ہے وہ شیطانی دھوکہ اور سازش کہ جس کی عمارت لوگوں کی لاشوں پر کھڑی کی گئی ہے اورمسلمانوں کے خون سے اس عمارت کی بنیادوں کو پختہ کیا گیا ہے!

یہ بات عقل و بصیرت رکھنے والے لوگوں کے مشاہدے میں ہے کہ امریکہ ہمیشہ ان بم دھماکوں اور قتل و غارت گری کے واقعات کو نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان کی عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یکم دسمبر 2009 کو اوبامہ نے کہا کہ "ماضی میں پاکستان میں ایسے لوگ رہے ہیں جو یہ کہتے تھے کہ انتہاپسندوں کے خلاف جدوجہد اُن کی جنگ نہیں...لیکن پچھلے چند سالوں میں جب کراچی سے اسلام آباد تک معصوم لوگ قتل ہوئے...تو یہ بات واضح ہو گئی کہ پاکستان کے لوگوں کو انتہاء پسندی سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے"۔ اور پھر ان بم دھماکوں اور قتل و غارت گری کی شروعات کےتین سال بعد 12 اکتوبر 2012ء کو امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان ویکٹوریہ نولینڈ نے کہا کہ "لہٰذا ظاہر ہے کہ پاکستان کے لوگ جتنا زیادہ اِن کے خلاف ہونگے اتنا ہی اُن کی حکومت کو اِن کے خلاف کام کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ شاید اس بھیانک المیے کا ایک مثبت پہلو ہے"۔

عقل و بصیرت رکھنے والے لوگوں کے مشاہدے میں یہ بات بھی ہےکہ ان حملوں میں ہمارے بازاروں، گھروں،افواج اور لوگوں کو تونشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ملک میں موجود سی.آئی.اے اور ایف.بی.آئی کے دفاتر، امریکی فوجی اڈے، بلیک واٹر کی رہائش گاہیں اورامریکی قونصل خانےحملے اور تباہی سےمحفوظ رہیں ۔ حقیقت پر غور کرنے والےاس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ ملک میں امریکہ کے داخل ہونے سے قبل ہم کبھی بھی اس قدر تباہی و بربادی کا شکار نہیں ہوئے تھے۔ اور یہ بات بھی واضح ہے کہ کوئی بھی مخلص اور سمجھ بوجھ رکھنے والا مسلمان اس قسم کی دہشت گرد کاروائیوں کی منصوبہ بندی نہیں کرسکتا جو کہ واضح اسلامی احکامات کے خلاف ہے۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایاہے : ((وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ ٱللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً))"اور جو کوئی کسی ایمان والے کو جانتے بوجھتے قتل کرڈالے ، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہےاوراس پر اللہ کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے"(النساء:93)۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ان غیر مسلم ذمیوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے کہ جو مسلمانوں کے تحفظ کے تحت ہوں ، اور فرمایا ہے کہ ((أَلا مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ ٱللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدْ أَخْفَرَ بِذِمَّةِ اللهِ، فَلا يُرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا)) "جس کسی نے ایسے شخص (اہلِ معاہد) کو قتل کر ڈالا کہ جس کے پاس اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی جانب سے تحفظ کا وعدہ موجود ہو تو اُس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کیا ہوا وعدہ توڑڈالا ۔ پس ایسا شخص جنت کی خوشبو کو بھی نہ پاسکے گا جبکہ اس کی خوشبو ستر سالوں کے سفر کی دُوری سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے"۔(ترمذی)

درحقیقت، پاکستان میں امریکی موجودگی کا ایک اہم مقصد پاکستان بھر میں بم دھماکے اور قتل کروانا ہے۔ پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت میں موجود مشرف اور کیانی، اورزرداری و نواز شریف جیسے چند مُٹھی بھر غداروں کی مدد سے امریکہ نے پہلے پاکستان کےدروازےاپنے لیے کھلوائے اور پھر انھیں مسلسل کھلا رکھاگیا تا کہ امریکی فوجی، بلیک واٹر جیسی نجی سیکورٹی کمپنیوں کے کارندے اور انٹیلی جنس کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک پاکستان میں داخل ہوسکے اور اپنے قدم جما سکے۔ اس قسم کے امریکی نیٹ ورک لاطینی امریکہ سے لے کر مشرق بعید تک افراتفری پھیلانے کے حوالے سے پوری دنیا میں بدنام ہیں۔ بم دھماکے اور شخصیات کوقتل کروانا اُن کی روز مرہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایجنٹوں کو تیار کر کے مقامی گروہوں میں داخل کرتے ہیں تا کہ آپ کی نگاہوں میں اُس مزاحمت کی قدرو قیمت کو ختم کردیا جائے جو افغانستان میں امریکہ کے قبضے کے خلاف جاری ہے۔ یہ دھوکہ دہی امریکی جنگ کا طرہ امتیاز ہے اور ایسے حملے False flag attacks کے نام سے جانے جاتے ہیں، یعنی خود کاروائی کر کے اس کا الزام دشمن پر ڈال دینا تاکہ اپنی جنگ کےحق میں عوامی حمایت حاصل کی جائے۔

اورامریکہ کا کوئی ارادہ نہیں کہ وہ اس قسم کی گٹھیا اور شیطانی دہشت گردی کی کاروائیاں روک دے ۔ امریکہ 2014 ءکے بعد بھی پاکستان اور افغانستان میں اپنی افواج، انٹیلی جنس اور کرائے کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ بلکہ امریکہ اپنی موجودگی کو مزید بڑھا رہا ہے اور اسی لیے وہ اسلام آباد میں ایک قلعہ نما سفارت خانہ تعمیر کررہا ہے، جو دنیا میں امریکہ کا دوسرا بڑاسفارت خانہ ہے۔ دوسری طرف وہ اٖفغانستان میں اپنے لیے 9 اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان اور افغانستان میں ایک لاکھ بیس ہزار نجی سیکورٹی اہلکاروں کی تعینا تی اس کے علاوہ ہے۔ لہٰذا امریکہ پاکستان کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا کیونکہ اس امرکے باوجود کہ ہماری قیادت میں اس کے لیے کام کرنے والے غدار موجود ہیں،پھر بھی وہ ہم پر اور ہماری افواج اور انٹیلی جنس اداروں پربھروسہ نہیں کرتاہے۔ امریکہ اس بات سے پوری طرح باخبر ہے کہ ہم سب میں اسلامی جذبات مضبوطی سے پیوست ہیں اور ہمارے اندرامریکہ کےظلم وجبرکے خلاف شدید غم وغصہ پایا جاتاہے۔ اس کے علاوہ کافر استعماری طاقتیں یہ دیکھ رہی ہیں کہ پوری امت خلافت کے قیام کے لیے کھڑی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ شام ، پاکستان اور دیگر اسلامی علاقوں کی یہ صورتِ حال کفار کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہے۔ لہٰذا یہ بم دھماکے دوہرا کام کرتے ہیں ،ایک تو امریکہ ان بم دھماکوں کے ذریعے اسلام کے خلاف اپنی جنگ کے لیے ہماری حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ ان بم دھماکوں کو ایک دباؤ کے طور پر استعمال کرتا ہے تا کہ ہم اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں اور وہ امن مذاکرات کے ذریعے مسلم دنیا کی سب سے طاقتور ریاست پاکستان، کی دہلیز پر اپنی موجودگی میں اضافہ کر سکے۔

اے پاکستان کے مسلمانو! ہم اس وقت تک امن کا منہ نہیں دیکھ سکیں گے جب تک امریکہ ہمارے درمیان موجود ہے۔ ہماری قیادت میں موجود غداراپنے آقاؤں کی ہدایت پر ہمیں دھوکہ دینے کے لیے اس صورتحال کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی اس کی بنیاد ی وجہ کی طرف انگلی نہیں اٹھاتے، اور یہ بنیادی وجہ ہمارے درمیان امریکہ کی موجودگی ہے۔ آپ جان لیں کہ امریکہ کبھی بھی خود بخودہمارے خطے سے نہیں نکلے گا کیونکہ وہ ہماری سرزمین اور ہمارے وسائل کو اپنا سمجھتا ہے کہ انہیں جیسے چاہے لوُ ٹتا رہے۔ امریکہ کولازماً قوت و طاقت کے ذریعے ہی نکالنا ہو گا۔ جب تک امریکہ کو ہم پر دسترس حاصل رہے گی خواہ وہ ایک فوجی اڈےیاقونصل خانےیاانٹیلی جنس دفتر کی صورت میں ہی ہو، وہ ہمارے درمیان شر اور فساد پھیلاتا رہے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ...إِنْ يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ)) "اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے اور خود اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، تم تو دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو...اگر وہ کہیں تم پر قابو پالیں تو وہ تمھارے (کھلے)دشمن ہو جائیں اور برائی کے ساتھ تم پر دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں اور خواہش کرنے لگیں کہ تم بھی کفر کرنے لگ جاؤ" (الممتحنہ:1-2)۔

اے افواجِ پاکستان کے افسران! آپ نے اس اسلامی سرزمین اور اس میں رہنے والوں کی حفاظت کی قسم کھائی ہے ۔ جو صورتحال اب تک بن چکی ہے اور بنتی نظرآرہی ہے وہ اب آپ کی گردن پرہے۔ اب بھی پانی سر سے اونچا نہیں ہوا اور بچاؤ عین ممکن ہے۔ پس امریکہ کی جنگ کو اس کے منہ پر دے مارو، اس کے دھوکے اور سازشوں کو ناکام بنا دو، اورپاکستان کی سرزمین کو امریکہ کی نجاست سے پاک کردو۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ حزب التحریر کو خلافت کے قیام کے لیے نصرت دیں،جو ایک قابل فقیہ اورمدبر سیاست دان عطا بن خلیل ابورَشتہ کی قیادت میں سرگرمِ عمل ہے ۔ اُسی صورت میں آپ کا حرکت میں آنا آپ کے دین کی خواہش کے مطابق ہو گا،اور آپ پاکستان اور اس خطے سے صلیبیوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیےحرکت میں آسکیں گےاور ان کے فوجی اڈوں ، انٹیلی جنس دفاتر، قونصل خانوں اور سفارت خانوں کا خاتمہ ہو سکےگا۔ تب ہم سے نفرت کرنے والے یہ دشمن یہ جان لیں گے کہ وہ اس امت کی حقیقت کے متعلق اپنے آپ کو ہی دھوکے میں ڈالے ہوئے تھے ۔ حزب التحریر نے خلافت کے قیام کا عَلم بلند کررکھا ہے اور اس کی یہ دعوت آپ کے ہر گوشے میں پہنچ چکی ہے ۔ تو کیا آپ جواب دیں گے؟! ((إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ))"اس میں ہر اس شخص کے لیے عبرت ہے جو سمجھنے والاقلب رکھتا ہو اور وہ متوجہ ہو کر کان لگائے" (ق:37)

 

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک