تاریخ اچانک نہیں گرتی، اور نہ ہی ریاستیں ایک ہی وار میں منہدم ہوتی ہیں، بلکہ زوال کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی رخ اپنی نظریاتی بنیاد سے ہٹ جاتا ہے، چاہے نام اور نعرے باقی ہی کیوں نہ رہیں
28 فروری 2026 کو جب خلیجِ عرب کے آسمان پر جنگ کے بادل چھائے اور لڑائی کا آغاز ہوا، تو دنیا کی توجہ طیارہ بردار بحری جہازوں کی سٹریٹیجک نقل و حرکت اور اس تصادم کے نتیجے میں ہونے والے بھاری جانی نقصان پر مرکوز رہی
شاید اس وقت سنیوں اور شیعوں کے درمیان مسلکی فتنے کو ہوا دینا، جب امریکہ اور یہودی وجود ایران پر ایک تباہ کن جنگ مسلط کر رہے ہیں، اس فکری اور سیاسی انحطاط کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے جس تک بعض نام نہاد علمی اور دانشور حلقے پہنچ چکے ہیں
قبلہ اول اور تیسرے حرم یعنی مسجدِ اقصی کی تالا بندی کے اس مجرمانہ فعل کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور مسلمانوں کو وہاں نماز کی ادائیگی اور اعتکاف کرنے سے روک دیا گیا ہے
کیا امریکہ کی طرف سے دھوکہ دہی، اور انتہائی تکبر و غرور کے ساتھ ان کے ملک (ایران) کو تنہا کر کے، اپنے پروردہ یہودی وجود (اسرائیل) کے ساتھ مل کر اس پر حملہ کرنے، اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اس کی طاقت کے ستونوں کو ختم کرنے کی کوششوں کے بعد اب ایرانی نظام کے قائدین کو یاد آیا ہے