Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اردنی فوج کی نئی ساخت: استعماری مفادات کے دفاع میں نظام کے کردار کا تسلسل

 

 

تحریر: ڈاکٹر خالد الحکیم

 

(ترجمہ)

 

شاہ عبداللہ دوم نے 24 جنوری 2026 کو چیف آف اسٹاف سے فوج کی نئی تشکیل کا مطالبہ کیا تاکہ اگلے تین سالوں کے دوران اردنی مسلح افواج میں ایک بنیادی ساختی تبدیلی لائی جا سکے، اس نئی ساخت کے اہم ترین نکات درج ذیل تھے:

 

       ·          جدید جنگی طریقوں اور عصری ہائبرڈ و غیر روایتی جنگوں کی نوعیت کے مطابق فوج کی ازسرنو تشکیل۔

       ·          اسٹریٹجک اور آپریشنل مراکز کے تحفظ کے لیے ایک چست، لچکدار اور معیاری مسلح افواج کی تعمیر۔

       ·          دفاعی اور جارحانہ سائبر آپریشنز کے دائرہ کار میں وسعت اور بغیر پائلٹ کے نظام (ڈرونز) اور مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی کا استعمال۔

       ·          مسلح افواج اور پبلک سیکیورٹی، خاص طور پر جینڈرمیری فورسز (درک)، اسپیشل پولیس یونٹس اور پبلک سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے ماتحت بارڈر گارڈز کے درمیان مکمل ہم آہنگی کی اہمیت پر زور۔

·     اردن سینٹر فار ڈیزائن اینڈ ڈویلپمنٹ (JODDB) کی صلاحیتوں میں اضافہ تاکہ وہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری کا مرکز بن سکے۔

·     مسلح افواج کے ماتحت ٹرسٹ فنڈز، سرمایہ کاری کمپنیوں اور ان کے انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو ترتیب۔

اس نئی ساخت کی وضاحت میں سرکاری اور مقامی سطح پر یہ دلائل اور وجوہات پیش کی گئی ہیں:

·     کہ یہ چھٹی نسل کے جنگی نظریے (6th Generation Doctrine) کو اپنانے کی جانب ایک اسٹریٹجک قدم ہے، جو کہ ایک جدید عسکری رجحان ہے جس کا مقصد فوج کو چھوٹا، تیز رفتار اور زیادہ موثر بنانا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈرون سسٹم پر منحصر ہو۔

·     غیر روایتی جنگوں کی طرف منتقلی کے عمل میں شامل ہونا جو "چست اور موثر" کے اصول پر مبنی ہیں۔

·     عالمی افواج، بشمول اردن، کے درمیان مشترکہ جنگی کارروائیوں کو فعال کرنا، جسے "مشترکہ آپریشنز" کہا جاتا ہے، جہاں گزشتہ سال عمان میں نیٹو (NATO) کا رابطہ دفتر کھلنے کے بعد اردن عسکری طور پر نیٹو کے مزید قریب ہو گیا ہے۔

 

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ اردنی فوج کی نئی ساخت کا یہ مطالبہ جنوری 2026 میں امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے جاری کردہ "امریکی قومی دفاعی حکمت عملی" کی دستاویز کے محض چند دن بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ: "جبکہ امریکی افواج اپنی سرزمین اور ہند-بحرالکاہل (Indo-Pacific) کے دفاع پر توجہ مرکوز کریں گی، ہمارے اتحادی اور شراکت دار اپنی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھائیں گے، جس میں امریکی افواج کی جانب سے بنیادی لیکن محدود تعاون حاصل ہو گا"۔ اس طرح امریکی فوج کا جنگی نظریہ طویل المدتی تھکا دینے والی جنگوں سے بدل کر ایک ایسی لچکدار قوت میں تبدیل ہو رہا ہے جو براہِ راست اقتصادی اور سیکیورٹی اہداف کے لیے کام کرے، جبکہ میدانِ جنگ کا مالی اور عسکری بوجھ اتحادیوں پر چھوڑ دیا جائے۔ واشنگٹن ٹائمز نے امریکی فوج کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ایلکس ملر کا قول نقل کیا ہے کہ: "ہم سپاہیوں کو پہلی لائن میں نہیں کھڑا کر رہے۔ ہم خون کے بدلے فولاد کا استعمال کر رہے ہیں، فولاد ہماری طرف ہو گا اور خون ان کی طرف سے"۔

 

اس بنا پر، اردن کی اس جدید سازی کے قدم کو خطے میں امریکی سیکیورٹی اور عسکری چالوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ امریکہ اس وقت خطے میں اپنی نئی صف بندی کر رہا ہے اور ایران کے خلاف جنگ اور اپنے دیگر مفادات کے لیے خود کو فارغ کر رہا ہے۔ جیسا کہ اس نے شام میں اپنے اڈوں سے انخلاء کے ذریعے کیا، اور اب شام میں نئے نظام کو ایک پائیدار عسکری و سیکیورٹی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے اردن کا کردار امریکی نزدیک ناگزیر ہے تاکہ مقامی آلات کے ذریعے اپنی بالادستی کو برقرار رکھا جا سکے جیسا کہ نئی دفاعی حکمت عملی میں درج ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل اردنی وفد (وزیر خارجہ، چیف آف اسٹاف اور انٹیلی جنس ڈائریکٹر) کا 12 مارچ 2026 کو دورہ شام اور شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات ہے، جہاں دونوں جانب سے دفاعی و سیکیورٹی تعاون اور "دہشت گردی" کے خاتمے یعنی اسلام کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کی گئی۔

 

1957 میں امریکی امداد کے آغاز کے بعد سے، جس میں عسکری امداد بھی شامل ہے، اردنی فوج کی تشکیل اور اس کے سازوسامان امریکی سیکیورٹی، عسکری اور انٹیلی جنس مفادات کے تقاضوں کے مطابق ہوتے چلے گئے ہیں، اگرچہ یہ برطانوی سرپرستی اور کنٹرول میں تھا۔ اس کی سب سے بڑی دلیل برطانوی عسکری مشیر ایلکس میکنٹوش کی موجودگی ہے جو برطانوی فوج کے نمائندے کے طور پر اردنی فوج میں مشیر اور شاہ کے قابلِ اعتماد تھا۔ اسے حفتر کے لیبیا کے ساتھ ہتھیاروں کے سودے کے اسکینڈل کے بعد، 20 برطانوی فوجیوں کے گروہ کے ساتھ 5 سال کی خدمات کے بعد برطرف کر دیا گیا تھا۔

 

سنہ 2000 سے اب تک اردن کو ملنے والی امریکی عسکری امداد 9.8 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ "چست اور سبک رفتار" فوج کے دعووں کے باوجود، 2026 کا بجٹ اخراجات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ اردنی حکومت نے 2026 کے بجٹ میں عسکری اور سیکیورٹی اداروں کے لیے تقریباً 3.295 بلین دینار مختص کیے ہیں۔ جہاں تک اخراجات اور سازوسامان کے درمیان فرق کا تعلق ہے، تو اس کی وضاحت "انسانی استحکام کی لاگت" اور تھکا دینے والے ماحول میں اعلیٰ درجے کی جنگی تیاری برقرار رکھنے سے کی جاتی ہے۔

 

فوج کو "چست اور سبک رفتار" بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اصل قوت یعنی روایتی جنگوں کی پوشیدہ طاقت یعنی بکتر بند دستوں، ٹینکوں اور پیادہ فوج کو ختم کر دیا جائے۔ سیکیورٹی اداروں اور جینڈرمیری (درک) کو فوج کے ساتھ منسلک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیرونی دشمن کے خلاف فوج کے جنگی نظریے کو ختم کر دیا جائے اور اسے ملک کے اندرونی معاملات میں الجھا دیا جائے تاکہ قرضوں کے بوجھ، مہنگائی اور بیرونی دباؤ کے نتیجے میں ہونے والے عوامی احتجاج کو نظر میں رکھا جائے اور انہیں دبایا جا سکے۔ خاص طور پر ریٹائرڈ فوجیوں کی صفوں میں اس کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ ہتھیار استعمال کرنے کا ہنر رکھنے والا یہ طبقہ غیر ملکی سیکیورٹی کمپنیوں اور کرائے کے جنگجوؤں کے گروہوں جیسے کہ امریکہ کی "بلیک واٹر"، روس کی "ویگنر" اور غزہ میں امداد کی تقسیم کی نگرانی کرنے والی امریکی کمپنیوں میں ملازمت کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

 

فوج کی یہ نئی ساخت اسٹریٹجک دفاع، اردن کی فضائی حدود کے تحفظ، اہل وطن کی حفاظت یا جبری ہجرت کو روکنے کے لیے نہیں ہے جیسا کہ نظام اور چیف آف اسٹاف دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی افواج ملک کے چپے چپے اور فضائی حدود میں موجود ہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل ایران کے خلاف جنگ کے آغاز میں اردن کے "موفق السلطی" بیس پر موجود 300 ملین ڈالر مالیت کے جدید امریکی ریڈار کی تباہی ہے، جو دور مار میزائلوں کی نشاندہی اور انہیں روکنے کے لیے "تھاڈ" (THAAD) سسٹم کو فعال کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ چنانچہ یہ عسکری جدید کاری، اگر مکمل ہو جاتی ہے، تو یہ امریکہ اور صہیونی ریاست (کیانِ یہود) کے عسکری مفادات کی تکمیل کے لیے ہے، جیسا کہ آج ایران پر امریکہ اور صہیونی حملوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے؛ چاہے وہ صہیونی ریاست یا اردن میں موجود امریکی افواج کی طرف آنے والے میزائلوں کو روکنا ہو، یا ان اڈوں کو حملوں کے لیے استعمال کرنا ہو یا ایک مسلمان ملک کی تباہی کے لیے ان کا راستہ دینا ہو۔

 

اسلامی ممالک کی موجودہ روایتی افواج کی حقیقت یہ ہے کہ وہ قومی سرحدوں اور غیر ملکی سیاسی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں، جس کی بنیاد علاقائی خودمختاری کے منطق، فرضی آزادی اور دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت پر ہے۔ اسی طرح یہ افواج ایسے وضعی دساتیر کے تحت کام کرتی ہیں جو دین کو جنگی امور سے الگ کرتے ہیں، اور یہ الگ تھلگ حکمرانوں کے تابع ہیں جن کے عسکری اتحاد حکمران نظام کی سیاسی وابستگی کے مطابق علاقائی یا بین الاقوامی ہوتے ہیں۔ یہ افواج باہر سے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی درآمد پر انحصار کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا عسکری فیصلہ برآمد کنندہ ممالک کی منظوری کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔

 

اس کے برعکس، فوج کی تعمیر کے حوالے سے حزب التحریر کا نظریہ خالصتاً اسلامی عقیدے پر مبنی ہے، جو کہ اسلامی ریاست کا سیاسی عقیدہ ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جو عسکری نظریہ تشکیل دیتی ہے اور اسلامی ریاست کی عسکری پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ اس میں فوج کا مقصد جہاد کے فرض کو پورا کرنا اور دعوت کی اشاعت ہے، اور اس کا مقصد مصنوعی سرحدوں کی حفاظت نہیں بلکہ اسلام کی اشاعت اور مسلمانوں کے علاقوں کو متحد کرنے کی راہ میں حائل مادی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ فوج براہِ راست خلیفہ کی قیادت میں ہوتی ہے جو کہ سپہ سالارِ اعلیٰ ہوتا ہے، وہی جہاد کے معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے اور فوج، پولیس، جنگی مہمات اور خود کفیل عسکری صنعت کی نگرانی کرتا ہے تاکہ فیصلے کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور کفار کو مسلمانوں کے ہتھیاروں پر قابض ہونے سے روکا جا سکے۔

 

یہاں عسکری ادارے، جو کہ اپنے مفادات اور نظاموں کے تحفظ کے لیے استعمار کی پیداوار ہے، اور سپاہیوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے، کیونکہ سپاہی امتِ مسلمہ کا حصہ ہیں، وہ امت کے عقیدے اور دین کی غیرت میں برابر کے شریک ہیں اور کفار کی جارحیت اور شر سے متاثر ہوتے ہیں۔ وہ حکمرانوں کی فوج نہیں بلکہ امت کی فوج ہیں، لہٰذا ان سے دوسرے مسلمانوں کی طرح خطاب کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ بھی عقیدے اور شرعی احکامات کے پابند ہیں اور ان پر اپنی وفاداری (ولا و براء) کو تبدیل کرنا فرض ہے۔

 

 

Last modified onپیر, 30 مارچ 2026 05:09

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.