بسم الله الرحمن الرحيم
ٹرمپ کا دورہ چین: امریکی بالادستی کے ٹوٹنے اور اس کے رعب و دبدبے کے زوال کا لمحہ!
تحریر: استاد مناجی محمد
(ترجمہ)
ریاستوں اور تہذیبوں کے عروج و زوال میں کچھ فیصلہ کن تاریخی ادوار اور اہم لمحات ہوتے ہیں، اور ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کا شمار تقریباً انہی تاریخی ادوار اور فیصلہ کن لمحات میں ہوتا ہے جہاں ایک غالب طاقت اپنی کمزوری کی تلخی اور اس شدید بگاڑ کا تجربہ کر رہی ہے جو اس کے اندرونی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے اور ریاست کے بکھرنے اور سلطنت کے زوال کی دھمکی دے رہا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ بالکل ویسی ہی ہے جیسے افغانستان کے خلاف سوویت یونین کی جنگ تھی، یہ وہ جنگ ہے جو ریاست کے مکمل طور پر بیٹھ جانے، حد سے بڑھی ہوئی مادی قوت کی محدودیت اور قابو پانے و مغلوب کرنے کے ذرائع کی شکست و ریخت کو بے نقاب کر رہی ہے۔
امریکہ آج اپنی جیو اسٹریٹجک الجھن اور گھٹن زدہ تاریخی اسٹریٹجک بحران کا شکار ہے۔ ایران کی جنگ اور اس کے الٹے نتائج اور امریکی اثر و رسوخ اور بالادستی پر اس کے تباہ کن اثرات نے فوجی طاقت کی محدودیت اور امریکی اسٹریٹجک مخمصے کی گہرائی کو ظاہر کر دیا ہے، کیونکہ نہ تو ایران کو مغلوب کیا جا سکا اور نہ ہی چین کا گلا گھونٹا جا سکا، بلکہ اس کے برعکس ایران کی جنگ امریکہ کے لیے ایک ایسی الجھن اور گھٹن زدہ بحران بن گئی ہے جس سے نکلنا مشکل ہے۔
اس زہریلی اسٹریٹجک صورتحال اور نازک وقت میں، جب امریکہ ایران کے خلاف تھکا دینے والی جنگ میں پھنسا ہوا ہے، اس کے صدر ٹرمپ نے امریکی سرمایہ داری کے بڑے بڑے مگرمچھوں کے لشکر کے ساتھ چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور اپنے مکمل اسٹریٹجک اندھے پن، کھوکھلے غرور اور سیاسی بصیرت کی کمی کی وجہ سے، وہ اپنی اسٹریٹجک الجھن کی سنگینی سے آنکھیں موندے بیٹھے رہے اور اس حقیقت سے غافل رہے کہ وہ ایک انتہائی نازک پوزیشن میں ہیں اور یہ کہ چین اس غیر معمولی اسٹریٹجک موقع کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دے گا کہ وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور کچھ فوائد حاصل نہ کرے، اور یہی وہ کچھ ہے جو چین کے صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ کے ساتھ کیا۔
اگر امریکہ کے پاس ذرا سی بھی اسٹریٹجک عقل باقی ہوتی تو اس نازک اور امریکی لحاظ سے تباہ کن صورتحال میں چین کا دورہ کبھی نہ کیا جاتا، لیکن یہ ٹرمپ کا اسٹریٹجک اندھا پن اور کھوکھلا غرور تھا۔ یہ دورہ اور دو روزہ سربراہی اجلاس امریکی بالادستی کے ٹوٹنے اور اس کی قیادت اور صدر ٹرمپ کے تکبر کے پاش پاش ہونے کی ایک علامت تھا۔
اس سربراہی اجلاس کا آغاز چینی صدر شی جن پنگ کی افتتاحی تقریر سے ہوا جس میں انہوں نے اس غیر معمولی اسٹریٹجک لمحے کی نوعیت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسے ایک عالمی طاقت کے طور پر چین کا وہ تاریخی لمحہ قرار دیا جہاں وہ امریکہ کے ساتھ دنیا کے مسائل پر بات کر رہا ہے نہ کہ صرف امریکہ کے مفادات پر۔ شی جن پنگ کا بیان غیر معمولی تھا: "چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے.... امریکہ اور چین تعاون سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور تصادم میں نقصان اٹھاتے ہیں.... آج دنیا افراتفری کا شکار ہے اور ہمیں چینی اور امریکی عوام اور دنیا کے تمام لوگوں کے مفادات کا خیال رکھنا چاہیے۔"
جہاں تک امریکہ کے ان مفادات کا تعلق ہے جن کے لیے ٹرمپ نے امریکی سرمایہ داری کے بڑے بڑے مگرمچھوں کا ایک لشکر تیار کیا تھا،جس میں ٹیسلا کے ایلون مسک اور اینویڈیا کے جینسن ہوانگ سے لے کر ایپل کے سی ای او ٹِم کُک تک شامل تھے،تو ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا تھا: "ہم اپنے ساتھ دنیا کے عظیم ترین، سب سے بڑے اور شاید بہترین کاروباری لوگ لائے ہیں، ہمارے ساتھ شاندار لوگ موجود ہیں اور وہ سب یہاں میرے ساتھ ہیں"۔ لیکن چین نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور انہیں پسِ پشت ڈال دیا۔ ان کی زیادہ سے زیادہ کامیابی بیجنگ کے 'گریٹ ہال آف دی پیپل' میں ایک سرکاری ضیافت میں شرکت تک محدود رہی!
اسی طرح ایران کا معاملہ اور آبنائے ہرمز کا بحران، جو امریکہ کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے، اس سے چین نے ٹرمپ کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کے لیے انتہائی سرد مہری سے کام لیا۔ چین کی جانب سے اس حوالے سے کوئی عوامی عہد سامنے نہیں آیا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کی الجھن ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کھولنے میں امریکہ کی کوئی مدد کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ چین میں کوئی بھی اسٹریٹجک دماغ رکھنے والا شخص جنگ کے جاری رہنے ہی کی حمایت کرے گا، کیونکہ ایران کی جنگ امریکہ کے لیے ایک ایسی الجھن، ایک ایسا دم گھونٹنے والا پھندا اور تباہ کن جیو اسٹریٹجک بحران ہے جس سے نکلنا مشکل ہے۔ چین اس جنگ اور امریکہ کی اس مشکل کو اپنے طویل مدتی اسٹریٹجک مفادات کے حق میں دیکھتا ہے، جبکہ ایرانی تیل کی درآمدات کے لیے اس کے پاس آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر بحیرہ قزوین (کیسپین سی) کا راستہ بھی موجود ہے۔
ٹرمپ کے دورہ چین کا زیادہ سے زیادہ حاصل محض ایک چینی وعدہ تھا، نہ کہ کوئی ٹھوس معاہدہ، جس کے تحت بوئنگ کمپنی سے 200 طیارے خریدے جانے تھے۔ یہ ٹرمپ کی ان توقعات سے کہیں کم ہے جس میں وہ 500 طیاروں کی خریداری کی امید لگائے بیٹھے تھے، اور یہ اس 300 طیاروں کے معاہدے سے بھی کم ہے جس پر بیجنگ نے 2017 میں ٹرمپ کے پہلے دورہ صدارت کے دوران اتفاق کیا تھا۔ اس ناکامی کا عملی اظہار اس وقت ہوا جب سربراہی اجلاس کے بعد بوئنگ کے حصص (شیئرز) کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
علاوہ ازیں، اس سربراہی اجلاس میں سیمی کنڈکٹر چپس کے حساس اور خطرناک معاملے اور مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام میں ان کے کردار پر بھی محض سرسری اور ضمناً بات چیت ہوئی۔ یہ معاملہ دراصل امریکہ اور چین کے درمیان تکنیکی جنگ کی اصل بنیاد ہے، کیونکہ چین نے ٹیکنالوجی کو اپنی قومی خود مختاری کا ایسا مسئلہ بنا لیا ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک سویابین سے متعلق زرعی معاہدے کا تعلق ہے، تو جس بات پر اتفاق ہوا وہ اس مقدار کا محض نصف ہے جو چین بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکہ سے درآمد کر رہا تھا۔ یہ صورتحال ٹرمپ کی جانب سے ان درآمدی ڈیوٹیوں (ٹیرف) کے اعلان سے پہلے کی ہے جن کی وجہ سے سپلائی چین رک گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ کی لگائی گئی تجارتی پابندیوں کے الٹے نتائج برآمد ہوئے، کیونکہ نئے معاہدے نے صرف وہی آدھا حصہ بحال کیا جو پہلے سے موجود تھا، اور اسے کسی صورت کوئی بڑی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری طرف چین کی بڑی کامیابی یہ رہی کہ ٹرمپ نے امریکی حدود کے اندر چینی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے زرعی زمینوں اور فارموں پر قبضے یا ملکیت کے فائدے کا اعتراف کر لیا۔ چین میں سربراہی اجلاس کے دوران ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "غیر ملکیوں کو ان زمینوں کی فروخت پر پابندی سے زمین کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور کسانوں کا نقصان ہوگا"، اس طرح ٹرمپ نے اسی بات کی منظوری دے دی جو اوباما اور بائیڈن کے دور میں جائز اور نافذ العمل قانون کے مطابق تھی، حالانکہ ایسی کسی بھی فروخت پر پابندی لگانا ان کی انتخابی مہم کا ایک نمایاں نعرہ تھا۔ مزید برآں، ٹرمپ نے اجلاس کے دوران امریکی یونیورسٹیوں میں چینی طلبہ کے استقبال کی بھی کھل کر حمایت کی، اور اپنی انتظامیہ کی طرف سے ماضی میں لگائی گئی سخت پابندیوں سے واضح طور پر پیچھے ہٹ گئے۔ درحقیقت امریکی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے یہ چینی طلبہ چین کے مستقبل کا معمار ہیں، جو امریکی علم، تجربات اور ان لیبارٹریوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو خود امریکہ کے قرضوں سے چل رہی ہیں، تاکہ وہ چین کو مزید ترقی دے سکیں!
غرض یہ سربراہی اجلاس مکمل طور پر چین کے نام رہا۔ کیونکہ چین کے تمام بڑے اسٹریٹجک معاملات جیسے 'بیلٹ اینڈ روڈ' منصوبہ، تائیوان کا مسئلہ، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI)، یہ تمام سلگتے ہوئے مسائل جنہوں نے امریکہ کی نیندیں اڑا رکھی ہیں،چین نے ان پر ٹرمپ کے لیے بات چیت کے تمام دروازے بند کر دیے اور ان کے حصے میں صرف سویابین کے چند دانے اور بوئنگ کمپنی سے 200 طیاروں کی خریداری کا ایک ایسا مبہم اور غیر لازمی وعدہ آیا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
سب سے بڑا اسٹریٹجک تضاد یہ ہے کہ چینی صدر، جو پہلے چین کے مفادات کے تحفظ کی خاطر دو امریکی صدور سے ملنے خود امریکہ جایا کرتے تھے،جیسے 2014 میں واشنگٹن میں اوباما سے ملاقات اور 2023 میں سان فرانسسکو میں بائیڈن کے ساتھ سربراہی ملاقات، آج صورتحال یہ ہے کہ ٹرمپ خود امریکہ کے مفادات کے تحفظ کی خاطر بیجنگ آئے ہیں۔ یہ امریکی بالادستی کے ٹوٹنے کا واضح اشارہ اور اس کی عظیم سلطنت کے زوال کی الٹی گنتی کا آغاز ہے۔
یہی نہیں، بلکہ ٹرمپ کے بیجنگ میں سربراہی اجلاس کے فوراً بعد پیوٹن کا دورۂ بیجنگ کوئی محض اتفاق نہیں تھا، خصوصاً جب اس دورے کی دعوت خود شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب کو دی تھی۔ یہ امریکہ کے لیے چین کا ایک دو ٹوک پیغام ہے کہ چین اور روس کا وہ اتحاد جسے توڑنے کی امریکہ سر توڑ کوشش کر رہا ہے، اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ایک اسٹریٹجک پیغام ہے کہ اب امریکی دور ختم ہو چکا ہے اور اب وقت 'یوریشیا' کا ہے!
لیکن اسلام اور اس کی امت کے حوالے سے ایک الگ اسٹریٹجک حقیقت ہے جو حتمی بات اور حقائق کا نچوڑ ہے۔ وہ یہ کہ وقت کا پہیہ اب گھوم چکا ہے اور یقیناً اب یہ دور نہ امریکہ کا ہے، نہ یوریشیا کا اور نہ ہی چین کا، بلکہ یہ بلاشبہ عظیم اسلام اور اس کی خلافتِ راشدہ کا دور ہے، تاکہ تمام دورِ جاہلیت کے اندھیروں کو مٹا کر انسانیت کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ کے نور، ہدایت اور رحمت کی طرف لایا جا سکے۔




