Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

مضيقِ ہرمز کی بندش اور اس کے عالمی اثرات

 

 

تحریر: پروفیسر حسن حمدان

 

(ترجمہ)

 

اوّل: محلِ وقوع اور جغرافیائی اہمیت

 

مضيقِ ہرمز وہ واحد بحری راستہ ہے جو خلیجی عرب ممالک کو سمندر اور پھر وہاں سے پوری دنیا سے جوڑتا ہے کیونکہ عراق میں بصرہ، کویت میں برآمدی مراکز، سعودی عرب میں راس تنورہ اور جبیل کی بندرگاہوں، اور متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی برآمدی تنصیبات جیسی اہم جگہوں سے نکلنے والے جہازوں کو عمان کی خلیج اور پھر بحر ہند پہنچنے سے پہلے لازمی طور پر اسی راہداری سے گزرنا پڑتا ہے۔

 

عالمی جہاز رانی کے معیار کے مطابق یہ مضيق زیادہ چوڑا نہیں ہے، کیونکہ ایرانی ساحل اور عمان کے جزیرہ نما مسندم کے درمیان اپنے تنگ ترین مقام پر اس کی چوڑائی تقریباً 21 بحری میل (تقریباً 33 کلومیٹر) ہے۔ البتہ، تجارتی جہازوں کے استعمال میں آنے والی اصل بحری گزرگاہ اس سے کہیں زیادہ تنگ ہے، اور یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جو اسے خطرے میں ڈالنے یا بند کرنے کی صلاحیت پر بحث کرتے وقت اہمیت رکھتا ہے۔

 

اس راستے پر چلنے والے دیو ہیکل جہازوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے، بحری حکام نے جہاز رانی کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کا ایک نظام قائم کیا ہے۔ جس کے تحت خلیج کی طرف جانے والے جہاز داخلے کے لیے مخصوص دو بحری میل چوڑی گزرگاہ سے گزرتے ہیں، جبکہ واپس آنے والے جہاز اسی چوڑائی کی ایک متوازی راہداری استعمال کرتے ہیں، اور دونوں طرف کی آمد و رفت کے درمیان دو بحری میل کا ایک بفر زون (خالی علاقہ) حائل ہوتا ہے۔

 

اس بنا پر، دنیا کے عظیم الشان جہاز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں گھرے ہوئے محدود رقبے کے اندر آہستہ رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔ لاکھوں بیرل تیل لے جانے والے یہ بڑے بحری ٹینکر اپنا راستہ بدلنے کے لیے کئی کلومیٹر کا فاصلہ لے سکتے ہیں، اور ان کی تیزی سے مڑنے یا چال بدلنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہوتی ہے۔

 

دوم: توانائی کی عالمی شہ رگ (اعداد و شمار کی زبان میں)

 

بین الاقوامی توانائی ایجنسیوں کے تخمینے بتاتے ہیں کہ "سال 2024 میں اس مضيق سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل خام تیل، کنڈنسیٹ اور پیٹرولیم مصنوعات گزریں، جو دنیا بھر میں تیل کی مجموعی کھپت کے تقریباً پانچویں حصے اور سمندر کے ذریعے ہونے والی تیل کی تجارت کے ایک چوتھائی سے زیادہ کے برابر ہے"۔

 

خام تیل کے علاوہ، یہاں سے ڈیزل، پیٹرول اور ہیوی فیول جیسی صاف شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی بھی بھاری مقدار گزرتی ہے، کیونکہ خلیجی ممالک کی ریفائنریاں ایشیا، افریقہ اور یورپ کی منڈیوں کو ایندھن برآمد کرتی ہیں، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی تقسیم کے لیے اس مضيق کی اہمیت ایک کلیدی شہ رگ کے طور پر مزید مستحکم ہو جاتی ہے۔

 

جہاں تک مائع قدرتی گیس (LNG) کا تعلق ہے، قطر دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ کا مالک ہونے کی وجہ سے ایک مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ سال 2025 میں، مضيقِ ہرمز سے تقریباً 110 ارب کیوبک میٹر مائع گیس گزری، جو عالمی مائع گیس کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہے۔ چونکہ گیس کی ترسیل خصوصی جہازوں کے ذریعے کی جاتی ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی رکاوٹ سپلائی چین (رسد کے نظام) کو براہ راست متاثر کرے گی، جو مضيقِ ہرمز کو عصرِ حاضر میں توانائی کے لیے دنیا کا سب سے اہم بحری دروازہ بناتی ہے۔

 

سوم: کیا مضيقِ ہرمز کو بند کرنا ممکن ہے؟

 

جون 2025 میں، ایران نے مضيق کو بند کرنے کی دھمکیاں دیں، لیکن یہ معاملہ محض ایک سیاسی فیصلے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس پر پیچیدہ عوامل اثر انداز ہوتے ہیں:

 

        ·          ایران کا معاشی انحصار: ایران کی معیشت کا بنیادی انحصار توانائی کے شعبے پر ہے، جہاں تیل کی آمدنی اس کی کل آمدنی کا تقریباً 85 فیصد ہے، اور اس کے برآمدی مراکز کی اکثریت خلیج میں واقع ہے۔ لہذا، یہ مضيق ایران کے لیے بھی زندگی کی لکیر ہے، جو اسے بند کرنے کے فیصلے کو ایک معاشی خودکشی بناتا ہے، تاہم ایران اسے مالی حسابات سے ہٹ کر ایک وجودی مسئلہ کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔

        ·          عملی پیچیدگی: مضيق کو بند کرنا نظریاتی طور پر آسان لیکن عملی لحاظ سے انتہائی پیچیدہ ہے۔ یہ خلل عالمی منڈیوں میں ایک زبردست جھٹکا پیدا کرے گا اور جہاز رانی کے اخراجات اور زندگی کی لاگت میں شدید اضافے کا باعث بنے گا۔

       ·          مالیاتی معمہ (زری بحران): دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو 'اسٹیگ فلیشن' (افراطِ زر کے ساتھ جمود) کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جہاں مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوگا جس کی وجہ سے وہ شرح سود (ربا) بڑھانے پر مجبور ہوں گے، اور یہ عمل معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا اور گہرے عالمی معاشی بحران کا باعث بنے گا۔

 

چوتھا: لاجسٹک اثرات اور عالمی نتائج

 

ایران کی دھمکی کا مقصد اپنے ذاتی بحران کو ایک عالمی بحران میں تبدیل کرنا ہے تاکہ امریکہ پر دباؤ ڈالا جا سکے، اور یہ اثرات مندرجہ ذیل صورتوں میں سامنے آئیں گے:

 

        ·          راستوں کی تبدیلی: بحری جہاز پورے جزیرہ نما عرب کے گرد چکر لگانے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے ایندھن کا استعمال بڑھے گا، ہزاروں بحری میل کا فاصلہ زیادہ طے کرنا پڑے گا اور سامان کی ترسیل میں ہفتوں کی تاخیر ہو گی۔

        ·          صنعتوں کا مفلوج ہونا: خام مال کی آمد میں تاخیر عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ کی رفتار کو سست کر دے گی اور اشیاء کی قلت پیدا ہو جائے گی۔

       ·          بندرگاہوں کی تنہائی: خلیج عرب کی بندرگاہیں بحری تجارت سے مکمل طور پر کٹ جائیں گی، انشورنس کمپنیاں وہاں سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گی اور اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ لاکھوں مزدوروں کی برطرفی تک نوبت پہنچ جائے گی۔

 

پانچواں: متاثر ہونے والے فریق

 

بعض حلقوں کے پروپیگنڈے کے برعکس، بشمول ٹرمپ کے اس بیان کے کہ امریکہ کو اب خلیج کے تیل کی ضرورت نہیں رہی، امریکہ ان اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہوگا:

 

        ·          بین الاقوامی ساکھ کا خاتمہ۔

        ·          اندرونی انتشار اور مغربی بلاک کی تقسیم میں اضافہ۔

       ·          عالمی قیمتوں سے جڑے ہونے کی وجہ سے مقامی طور پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، جو امریکی مینوفیکچرنگ کے اخراجات کو بڑھا دے گا۔

 

جہاں تک ایشیائی ممالک (چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا) کا تعلق ہے، تو وہ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ کیونکہ اس مضيق سے گزرنے والے تیل کے 84 فیصد اور گیس کے 83 فیصد جہاز ایشیائی منڈیوں کی طرف جاتے ہیں۔

 

یورپ کے لیے صورتحال انتہائی تباہ کن ہے۔ کیونکہ وہ پہلے ہی یوکرین کی جنگ اور روسی گیس کی بندش کے اثرات جھیل رہا ہے۔ آسٹریا کے سپلائی چین انفارمیشن انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ویانا کے سائنسی اداروں اور ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے تعاون سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، تحقیق کے مصنف اسٹیفن تھرنر کا کہنا ہے کہ: "معاشی نتائج کا انحصار زیادہ تر ایرانی بندش کی مدت پر ہے، اور اگر یہ بندش چار ہفتوں سے زیادہ طویل ہوئی تو عالمی سپلائی چین میں شدید خلل پیدا ہو سکتا ہے،" یہ رپورٹ جرمن خبر رساں ایجنسی "ڈی پی اے" نے نقل کی ہے۔ مضمون "یورپ کی سلامتی: مضيقِ ہرمز کی بندش کی صورت میں یورپ کو کن خطرات کا سامنا ہے؟" میں کہا گیا ہے: "اگر ایران مضيقِ ہرمز کو بند کرنے کا قدم اٹھاتا ہے، تو یورپ کو کئی دہائیوں کے سب سے پیچیدہ اور کثیر الجہتی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کا اثر صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ معیشت، سلامتی، خارجہ پالیسی اور یہاں تک کہ بعض یورپی ممالک کے اندرونی استحکام تک پھیل جائے گا"۔

 

اختتام:

 

موجودہ جنگ نے پوری دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک نئے عالمی نظام کی شدید ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام کی کمزوریاں اور اس کے اداروں اور ریاستوں کی کرپشن بے نقاب ہو چکی ہے۔ اس تبدیلی کی قیادت کے لیے امتِ مسلمہ سے بڑھ کر کوئی اور حقدار نہیں ہے جو اسلام کے ربانی نظام کے ذریعے انسانوں کو مادی لالچ اور ہوس کی تنگی سے نکال کر اسلام کے عدل اور اس کی رحمت کی وسعتوں میں لے آئے۔

Last modified onپیر, 30 مارچ 2026 05:19

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.