مراکش اور امریکہ کے درمیان 2026 کے فوجی روڈ میپ معاہدے کے اہم نکات
بسم الله الرحمن الرحيم
ٹرمپ انتظامیہ نے 16 اپریل 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں مراکش کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کا عنوان "امریکہ-مراکش دفاعی تعاون کا روڈ میپ" ہے، اور اس کی مدت 2036 تک ہے۔ یہ دستخط امریکہ-مراکش دفاعی مشاورتی کمیٹی (DCC) کے چودہویں اجلاس کے اختتام پر ہوئے۔
مراکش اور امریکہ کے درمیان 2026 کے فوجی روڈ میپ معاہدے کے اہم نکات
تحریر: استاد منجی محمد
(ترجمہ )
ٹرمپ انتظامیہ نے 16 اپریل 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں مراکش کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کا عنوان "امریکہ-مراکش دفاعی تعاون کا روڈ میپ" ہے، اور اس کی مدت 2036 تک ہے۔ یہ دستخط امریکہ-مراکش دفاعی مشاورتی کمیٹی (DCC) کے چودہویں اجلاس کے اختتام پر ہوئے۔ فوجی تعاون کے اس روڈ میپ معاہدے کو 2020 کے "مشترکہ خطرات کے خلاف فوجی تعاون کے معاہدے" کی توسیع سمجھا گیا ہے، جس پر پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے دوران وزیر خارجہ مارک ایسپر نے خطہ مغرب (Maghreb) کے دورے کے بعد دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کی مدت دس سال تھی، یعنی 2020 سے 2030 تک۔
اگرچہ 2026 کے فوجی تعاون کے روڈ میپ معاہدے کو 2020 کے معاہدے کی توسیع سمجھا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ روایتی تعاون سے ہٹ کر ایک حقیقی "عملی انضمام" (Operational Integration) کی جانب منتقلی ہے، جس میں امریکی فوج قائد اور مراکشی فوج ایک ماتحت کے طور پر شامل ہے۔ یہ انضمام فوجی کارروائیوں کی مشترکہ اور فوری (رئیل ٹائم) ہم آہنگی اور فوجی ڈیٹا کے فوری تبادلے کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، یہ معاہدہ محض ایک تکنیکی توسیع نہیں ہے بلکہ امریکی غلبے کے ایک نازک موڑ پر امریکہ کا ایک نیا اسٹریٹجک ڈھانچہ ہے۔ اس کا مقصد مراکش کو مغربی بحیرہ روم میں امریکہ کے اسٹریٹجک حفاظتی ڈھانچے کا ایک حصہ بنانا ہے۔ اس کے مقاصد میں مراکشی فوج کو مکمل طور پر امریکی استعماری مفادات اور اسٹریٹجک اہداف کے تابع کرنا شامل ہے۔ اس بات کی بھی تصدیق ہو چکی ہے کہ اب یہ فوجی اور سیکورٹی شراکت داری باہمی سیاسی مرضی کے ذریعے 2036 تک کے لیے کھلی ہے، جس کا اصل مطلب مراکشی حکومت کا امریکی استعماری منصوبوں کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔
یہ معاہدہ مراکش کے ساتھ امریکی فوجی اور سیکورٹی معاہدوں کے اس سلسلے کا حصہ ہے جو حالیہ برسوں میں غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ صحرائے مراکش (Sahara) پر مراکشی خود مختاری کے بارے میں ٹرمپ کا اعتراف، مراکش میں امریکہ کے اسٹریٹجک نفوذ کی کلید ثابت ہوا، جسے مراکشی حکومت کی مکمل محکومی نے مزید آسان بنا دیا۔ سابقہ 2020-2030 فوجی معاہدہ اسٹریٹجک طور پر مغربی مسلم دنیا اور افریقہ میں نفوذ حاصل کرنے کے لیے تھا۔ پینٹاگون اسے دونوں ممالک کے درمیان اتحاد کی تجدید اور افریقہ میں امن کے سنگِ بنیاد کے طور پر دیکھتا تھا۔ تاہم، امریکی "امن" کا مطلب استعمار اور اس کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔ اس کے بعد مراکش میں زمینی فوجی مشقیں ہوئیں، جن میں سب سے نمایاں "افریقن لائن" (African Lion) مشقیں تھیں، جو افریقہ میں امریکہ کی سب سے بڑی اور وسیع ترین فوجی تربیتی مشقیں ہیں۔
مریکہ نے صحرائے مراکش پر مراکشی خود مختاری کے اپنے اعتراف کو مراکش میں براہ راست نفوذ حاصل کرنے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا، اور مراکشی حکومت کی مکمل محکومی کے ذریعے، اس نے ساحل (Sahel) اور پھر پورے افریقہ کی مغربی اسلامی دنیا میں داخلہ حاصل کیا۔ مراکش اب امریکہ کے تمام استعماری منصوبوں میں شامل ہو چکا ہے، اور اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ مراکش کے قلب میں افریقہ کے لیے اپنی استعماری فوجی کمانڈ (AFRICOM) قائم کرنے کے لیے انتھک کوششیں کر رہا ہے۔ 'ہیسپریس' (Hespress) ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق مراکشی حکومت نے اس کمانڈ کی میزبانی کے لیے کئی شہروں کے نام تجویز کیے، جیسے کہ العیون، الداخلہ، بوجدور اور اگادیر، لیکن امریکیوں نے تاریخی، تکنیکی اور لاجسٹک وجوہات کا بہانہ بنا کر قنیطرہ (Kenitra) یا قصر الکبیر کو ترجیح دی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے رباط سے محض چند میل کے فاصلے پر مراکش کے عین وسط میں اپنی افواج کو تعینات کرنا چاہتا ہے۔ جہاں تک فوجی تعاون کے اس روڈ میپ معاہدے کا تعلق ہے، جس پر 16 اپریل 2026 کو امریکی انڈر سکریٹری آف وار ایلبرج کولبی نے دستخط کیے تھے اور جو توسیع کے امکان کے ساتھ 2036 تک جاری رہے گا، اس کی استعماری جہتوں اور اسٹریٹجک اہداف کو وسعت دے کر بحیرہ روم کے شمالی ساحل بالخصوص جبل الطارق (Strait of Gibraltar) تک پھیلا دیا گیا ہے۔ شمالی ساحل میں یہ اچانک دلچسپی ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ سے متعلق موجودہ حالات اور ٹرمپ انتظامیہ کی اسٹریٹجک اور جیو اسٹریٹجک مشکل کا نتیجہ ہے۔ اسپین اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان تنازع سے پیدا ہونے والے اضافی آپریشنل اور لاجسٹک بحران نے اس مشکل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسپین مغربی صحرا اور لاطینی امریکہ کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں کو اپنے ان استعماری علاقوں (جو مغربی صحرا کے ساحل کے قریب جزیروں پر مشتمل ہیں) اور لاطینی امریکی ممالک خصوصاً کولمبیا میں اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے پیڈرو سانچیز کی قیادت میں ہسپانوی حکومت نے ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں امریکی فوج کے لیے 'روٹا' (Rota) ایئربیس کو لاجسٹک سپورٹ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ نتیجے کے طور پر، ٹرمپ انتظامیہ کو وسائل، آلات، گولہ بارود اور رسد کی فراہمی کے مراکز کی کمی کے ساتھ ایک آپریشنل اور لاجسٹک بحران کا سامنا ہے، جس نے اس کی اسٹریٹجک مشکل کو مزید گہرا کر دیا ہے اور اسپین میں اپنے فوجی اڈوں کو برقرار رکھنے کی افادیت پر بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔
امریکہ کی اس نازک صورتحال نے مراکشی حکومت کے ساتھ فوجی اور سیکورٹی معاہدے کی توسیع میں تیزی پیدا کر دی ہے اور اس کی اسٹریٹجک جہتوں اور مقاصد کو بحیرہ روم کے شمالی ساحل تک وسعت دے دی ہے۔ امریکہ مراکش کو اپنے لاجسٹک بحران کے ایک متبادل حل کے طور پر دیکھتا ہے، جو ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ٹرمپ کی مشکلات کی وجہ سے ابھرا ہے۔ امریکہ کے لیے اس نازک موڑ پر، شمالی مراکش میں واقع 'قصر صغیر' (Ksar Sghir) بحری اڈے کے بارے میں بات چیت شروع ہو چکی ہے، جسے مراکشی فوج کا سب سے اہم بحری اڈہ سمجھا جاتا ہے اور یہ پانچ بحری اڈوں میں سے ایک ہے۔ بات چیت کا مرکز امریکی افواج کے لیے اسے 'روٹا' بحری اڈے کے ممکنہ متبادل کے طور پر استعمال کرنا ہے، جس کے تحت امریکی فوجیوں، بحری جہازوں، طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور فوجی ریڈاروں کو شمالی مراکش میں بحیرہ روم کے جنوبی ساحل پر منتقل کیا جائے گا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 'قصر صغیر' (Ksar Sghir) بحری اڈہ، جس کا افتتاح 2010 میں ہوا تھا، مراکشی فوج کے اہم ترین بحری اڈوں میں سے ایک ہے۔ جبل الطارق (Strait of Gibraltar) پر اپنی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل مقام کے علاوہ، اسے جدید ترین معیارات پر ڈیزائن کیا گیا ہے؛ اسے چٹان کو تراش کر بنایا گیا ہے اور یہ ایسے جغرافیائی خطے سے گھرا ہوا ہے جو اسے خطرات کے خلاف بلند درجے کی قدرتی حفاظت فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، آبنائے کے تنگ ترین مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس کے درمیان جہاز رانی کی نگرانی، کنٹرول اور انتظام کرنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتا ہے۔
اس اڈے پر امریکہ کا کنٹرول درحقیقت اسے جبل الطارق، بحیرہ روم کے مغربی ساحلوں اور خطہ مغرب (Maghreb) پر کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے امریکہ کو جس دم گھٹتے ہوئے اسٹریٹجک اور جیو اسٹریٹجک بحران کا سامنا ہے، اس کے پیشِ نظر جبل الطارق پر قبضہ کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کی اس کی استعماری خواہشات میں مزید شدت آگئی ہے۔ مراکشی حکمران ٹولہ، جو امریکہ کی تمام استعماری شرائط کے سامنے سرنگوں ہے، (صحرائے مراکش پر مراکشی خود مختاری کے امریکی) اعتراف کے بہانے کو اپنے ان اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
مراکشی صحرا کے حوالے سے ٹرمپ کے منحوس عزائم اس کے لیے یہ سب کچھ حاصل کرنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس محکوم حکومت نے اسلام کے خلاف امریکہ کی جنگ کو مکمل طور پر گلے لگا لیا ہے، غاصب صہیونی وجود کے ساتھ غدارانہ 'ابراہم معاہدوں' میں شامل ہو گئی ہے، اور "بورڈ آف پیس" (Board of Peace) کا حصہ بن گئی ہے،بلکہ یہ اس کے بنیادی مالی معاونین میں سے ایک تھا۔ اس نے غزہ کے عوام کی نسل کشی میں غاصب صہیونی وجود کی حمایت کی اور مجرم امریکی فوج کو مراکش کی سرزمین پر اپنی مشقیں کرنے کی اجازت دی۔ اس وقت مراکش کے قلب میں استعماری 'امریکی افریقہ کمانڈ' (AFRICOM) کے ہیڈ کوارٹر کے قیام کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ یہ ایجنٹ حکومت اپنی بقا کے بدلے 'قصر صغیر' کا اڈہ اور جبل الطارق کی چابی امریکہ کے حوالے کر دے۔
فوجی تعاون کے 2026 کے روڈ میپ معاہدے کی اپنی ایک استعماری جہت اور اسٹریٹجک مقصد ہے۔ سابقہ معاہدوں کے ذریعے صحرا، ساحل اور افریقہ میں امریکہ کے استعماری منصوبوں کے سامنے جھکنے کے بعد، اب امریکہ کے عزائم میں وسعت آ رہی ہے تاکہ مراکش کا شمالی ساحل، بحیرہ روم اور جبل الطارق بھی اس میں شامل ہو جائیں۔ یہ ایجنٹ حکومت اس کی کلید ہے، اور یہ معاہدہ اس رسوائی کو چلانے والا ایک ڈھانچہ ہے۔ ہم مسلمانوں کے سلگتے ہوئے مسائل ہمارے بدترین دشمنوں کے ہاتھوں میں ہیں، کیونکہ ہمارے اپنے ہی کم ظرف لوگوں نے ان مسائل کو استعمار کی خدمت، ہمارے اسلام سے لڑنے، ہمارے ممالک کو نوآبادی بنانے اور مجرم امریکہ کو ان پر مسلط کرنے کے منصوبوں میں بدل دیا ہے۔