الأحد، 30 ذو القعدة 1447| 2026/05/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اخبار الرایہ سے متفرق مضامین - شمارہ نمبر 599

 

 

صفحہ اول کی پیشانی کے لیے

 

امتِ مسلمہ کی عزت اور قوت صرف اس کی اس واحد سیاسی اکائی  یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کی واپسی کے ذریعے ہی بحال کی جا سکتی ہے جو اس کی توانائیوں کو مجتمع کرے، اس کے مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کرے اور اس کی سرزمینوں کا تحفظ کرے۔ اسی کے ذریعے امت اپنا وقار دوبارہ حاصل کرے گی، امت کے دشمنوں کا قلع قمع ہو گا اور وہ امت کے خلاف جارحیت کی جرات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

"اے ایمان والو! صبر سے کام لو اور مقابلے میں ثابت قدم رہو اور سرحدوں پر ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔" (سورۃ آلِ عمران: 200)

 

===

 

 

 

حزب التحریر کی مہم: "مسلمان نارملائزیشن (تعلقات کی بحالی) کے خلاف ہیں"

 

لبنانی اتھارٹی کی جانب سے ان براہِ راست مذاکرات میں شمولیت کی روشنی میں جو یقیناً غاصب اور مجرم یہودی وجود کے ساتھ امن اور نارملائزیشن (تعلقات کی بحالی) پر منتج ہوں گے، اور حزب التحریر / ولایہ لبنان کی جانب سے سیاست دانوں، مفتیوں، علماء، سیاسی حلقوں اور عوامی شخصیات کے دوروں کی مہم کے ایک حصے کے طور پر، مرکزی رابطہ کمیٹی اور علاقائی سرگرمیوں کی کمیٹیوں کے وفود نے دورے کیے۔

 

ان دوروں کا آغاز جنوبی لبنان کے شہر صیدا سے ہوا جہاں رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر اسامہ سعد، جو کہ پاپولر ناصری آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل ہیں، سے ملاقات کی گئی اور صیدا و اس کے مضافات کے مفتی شیخ سلیم سوسن سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد دارالحکومت بیروت میں ہائر اسلامک شیعہ کونسل کے ڈپٹی چیئرمین، عالمِ دین شیخ علی الخطیب سے ملاقات کی گئی۔

 

ان ملاقاتوں میں یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات، صلح اور اسے تسلیم کرنے کو مسترد کرنے سے متعلق حزب التحریر کے واضح اور دوٹوک موقف پر زور دیا گیا۔ وفود نے اس بات پر توجہ مرکوز کی کہ اتھارٹی کی جانب سے اس سمت میں اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام کے حوالے سے ایک واضح موقف اپنایا جائے، چاہے اسے امن، جنگ کے خاتمے، نقصانات میں کمی، یا معاشی وعدوں جیسے کسی بھی نام کے تحت اختیار کیا جائے۔ کسی بھی صورت میں کوئی بھی شخص بیت المقدس اور اس کے گردونواح پر ان غاصبوں کے قبضے کے تسلسل کو کسی بھی جواز کی بنا پر درست قرار نہیں دے سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس وجود کی مجرمانہ نوعیت اور غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف اس کی جارحیت بھی پیشِ نظر رہے، جو کہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر کھلے عام جاری ہے، اور جسے امریکہ کی کھلم کھلا حمایت حاصل ہے۔

 

وفود نے اس بات کی توثیق کی کہ لبنان بھی دیگر ممالک کی طرح اسلامی سرزمین کا حصہ ہے، جسے اصولی طور پر نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے تحت پوری امت کی ایک متحدہ ریاست کے زیرِ اثر ہونا چاہیے۔ اس طرح کی وحدت کے بغیر، لبنان اور دیگر ممالک استعماری کفار ریاستوں، بالخصوص امریکہ اور اس کے مہرے یہودی وجود کے لیے ہیر پھیر کا میدان بنے رہیں گے۔

 

وفود نے لبنانی اتھارٹی کے یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات کے طریقہ کار کے خلاف سیاسی مزاحمت کی ضرورت اور وجوب پر بھی زور دیا۔ یہ ذمہ داری ان تمام سیاسی گروہوں پر عائد ہوتی ہے جو یہودی وجود کی مجرمانہ نوعیت کو پہچانتے ہیں اور اس کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس راستے کی مخالفت کرنے والے سیاسی حلقوں کو علماء اور عوامی شخصیات کے ساتھ مل کر ایسی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے جو امریکہ نواز حکمرانوں کے خلاف اس موقف کو تقویت دے۔

 

ولایہ لبنان میں حزب کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد جابر نے 6 مئی 2026 کو بیروت میں ایک سیاسی اور سماجی کارکن استاذ خلدون الشریف سے ان کے گھر پر ملاقات کی۔

 

یہ ملاقات رابطوں کی تجدید اور غاصب و قاتل وجود کو تسلیم کرنے کی طرف لے جانے والے مذاکرات کے راستے پر پارٹی کے موقف کی وضاحت کا ایک موقع تھی، جسے امت کے لیے جائز قرار دینا نہ تو شرعاً درست ہے اور نہ ہی حقیقت میں۔ نیز، اس ملاقات میں ہر ایک کو اس بات کی یاد دہانی کرائی گئی کہ میڈیا میں اور کھلی و بند سیاسی مجالس میں اس راستے اور اس معاملے کے خلاف انتباہ کے لیے عوامی اور واضح طور پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ خطے کو، بشمول لبنان، خطرناک فرقہ وارانہ فتنے میں دھکیلنے کی کوشش پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو صرف غاصب دشمن کے مفاد میں ہے۔

 

استاد خلدون الشریف نے ہمارے نقطہ نظر کو توجہ سے سنا اور اس بات پر غور کیا کہ تمام لبنانیوں کے درمیان اپنے موقف کی وحدت کو برقرار رکھنے اور اسے اتفاقِ رائے سے مضبوط بنانے کے لیے ہمیشہ مشترکہ پہلو موجود ہوتے ہیں۔ دونوں فریقوں نے ملک کے لوگوں کے درمیان ہر قسم کے فتنے کے خلاف کھڑے ہونے کی ضرورت اور فتنہ انگیزی کو روکنے اور غاصب وجود کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کو مسترد کرنے کے لیے تمام فریقوں کے دانشوروں کے درمیان مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

ہم نے اس بات پر زور دیا کہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے مسلمانوں کی وحدت کا ہمارا منصوبہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو مسلمانوں کے اتحاد کی ضمانت دے سکتا ہے اور دشمن کو ہماری سرزمین اور ہمارے لوگوں کی پامالی سے روک سکتا ہے۔ درحقیقت، یہ واحد منصوبہ ہے جو دشمن کو مسلم زمینوں کے غاصب کے طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

===

 

 

خلافت ہی امت کو بچائے گی، اس کی شان و شوکت بحال کرے گی اور اس کی قوت کو مضبوط بنائے گی

 

وہ واحد چیز جو امت کو بچائے گی، اس کی عظمتِ رفتہ کو بحال کرے گی، اس کی طاقت کو استحکام بخشے گی اور اس کے دشمنوں کو اس پر حملہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور کر دے گی، وہ صرف خلافت کی واپسی ہے تاکہ زمین اس کی خیر و برکت اور عدل و انصاف سے منور ہو جائے۔ جس طرح خلافت نے رومی قیصروں اور ایرانی کسراؤں کے تکبر کو خاک میں ملا دیا تھا، اسی طرح یہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کے غرور کا بھی خاتمہ کرے گی، جیسے کہ ظالم ٹرمپ اور استعماری کفار میں سے اس کے ہم مشرب۔ جہاں تک یہودی وجود کا تعلق ہے، تو وہ اس قدر حقیر ہے کہ اسے کوئی اہمیت ہی نہیں دی جا سکتی۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ﴾

"یہ تمہیں معمولی اذیت کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اگر یہ تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔" (سورۃ آلِ عمران: 111)

 

یہ وجود اپنے بل بوتے پر کھڑے ہونے کی سکت نہیں رکھتا۔ یہ لڑنے کے قابل نہیں ہے سوائے لوگوں کے سہارے کے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ﴾

"ان پر جہاں کہیں بھی یہ پائے گئے ذلت تھوپ دی گئی، سوائے اللہ کے عہد اور لوگوں کے سہارے کے۔" (سورۃ آلِ عمران: 112)

 

انہوں نے اللہ کی رسی (عہد) کو کاٹ دیا ہے اور اب صرف امریکہ و یورپ کے لوگوں کا سہارا، اور مسلم سرزمینوں پر موجود ان غدار حکمران ایجنٹوں کی مدد ہی ان کے پاس رہ گئی ہے، جو یہودیوں کی وحشیانہ جارحیت کے سامنے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اصل مسئلہ ان ریاستوں کا ہے جو آج کل مسلم علاقوں میں قائم ہیں، کیونکہ ان کے حکمران اسلام اور مسلمانوں کے دشمن استعماری کفار کے وفادار ہیں۔ اس طرح، مسلمانوں کی اصل مصیبت ان کے حکمران اور استعماری کفار کے ساتھ ان کی وفاداری ہے۔ یہ حکمران اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ وفاداری نبھانے، اس کی شریعت کے قوانین نافذ کرنے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع کرنے کے بجائے (تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت ملے اور کفر و کفار مغلوب ہوں)، ان کفار کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں اور ان کے منع کردہ سے رک جاتے ہیں۔

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

"اور اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہی نہایت غالب اور رحم کرنے والا ہے۔" (سورۃ الروم: 4-5)

 

 

ممتاز عالمِ دین عطا بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر کی جانب سے جاری کردہ ایک سوال کے جواب سے اقتباس

 

===

 

سودانی حکومت مصائب پیدا کر رہی ہے اور بجلی کے نرخوں میں 72 فیصد سے زائد اضافہ کر رہی ہے

 

 

بغیر کسی پیشگی اعلان کے، حکومت نے - جس کی نمائندگی بجلی کمپنی کر رہی ہے - بجلی کی قیمتوں میں 72 فیصد سے زیادہ نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ان اضافوں میں گھریلو استعمال کے نرخ مندرجہ ذیل ہیں:

  • پہلے 100کلو واٹ:4,000 پاؤنڈ سے بڑھا کر 7,000 پاؤنڈ
  • دوسرے 100کلو واٹ:5,000 پاؤنڈ سے بڑھا کر 9,000 پاؤنڈ
  • تیسرے 100کلو واٹ:6,000 پاؤنڈ سے بڑھا کر 11,000 پاؤنڈ ... اور اسی طرح

حکومت کی جانب سے بجلی کے فی کلو واٹ نرخوں میں ان بڑے اضافوں کا نفاذ، جس کا کوئی جواز نہیں ہے سوائے لوگوں کی دولت ناحق ہڑپ کرنے، ان کی تکالیف میں اضافہ کرنے، اور اس حقیقت سے لاپروائی برتنے کے جس میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت زندگی گزار رہی ہے ، یعنی وہ لوگ جو اس منحوس جنگ کی وجہ سے اپنی ملکیت کا بہت کچھ کھو چکے ہیں ، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ حکومت عوام یا ان کے حالات کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔ یہ حکومت ان چوروں کی طرح کام کرتی ہے جو لوگوں سے خفیہ طور پر اور اندھیرے میں چوری کرتے ہیں، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ان اضافوں کا کوئی معقول جواز موجود نہیں ہے۔ اسی لیے اس نے بغیر کسی پیشگی اعلان کے اور پسِ پردہ انہیں نافذ کیا ہے۔

 

ہم حزب التحریر / ولایہ سوڈان میں، اس حکومت کی بدانتظامی کے پیشِ نظر، درج ذیل باتوں کی توثیق کرتے ہیں:

اول: موجودہ دور میں بجلی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، اور یہ عوامی ملکیت (Public Ownership) کا حصہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: «النَّاسُ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَاءِ، وَالْكَلَأِ، وَالنَّارِ» "لوگ تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراہ گاہ اور آگ"۔ اس حدیث میں لفظ "آگ" میں توانائی (Energy) کے تمام ذرائع شامل ہیں۔ لہذا، اصولی طور پر اسے مفت ہونا چاہیے، یا کم از کم صرف لاگت کی قیمت پر فراہم کیا جانا چاہیے۔

 

دوم: اسلام میں یہ جائز نہیں ہے کہ عوامی ملکیت کو نجی ملکیت میں منتقل کیا جائے (نجکاری)، جیسا کہ آج بجلی کے معاملے میں ہو رہا ہے، جہاں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کے احکامات کی تعمیل میں اس کی نجکاری کر دی گئی ہے۔

 

سوم: شہریوں کو بجلی مفت یا اس کی حقیقی لاگت پر فراہم کرنے کے بجائے، حکومت اس سے منافع کما رہی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی حکومت کو بجٹ خسارے کا سامنا ہوتا ہے، وہ سروسز کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہے، تاکہ وہ اور اس کا بدعنوان ٹولہ ٹیکسوں، کسٹم ڈیوٹیوں، لیویوں اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کے ذریعے عوام کو کنگال کر کے خود پرتعیش زندگی گزار سکیں۔

 

یہ حکومت، جسے جنگ سے پہلے اور بعد میں غربت پیدا کرنے اور غریبوں کو کچلنے کے سوا کوئی سروکار نہیں رہا، اور جو ہمارے ساتھ نہ تو کسی عہد کی پاسداری کرتی ہے اور نہ ہی اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے، اس بہترین امت پر حکمرانی کے لائق نہیں ہے جسے بنی نوع انسان کے لیے نکالا گیا ہے،وہ امت جس کے نبی ﷺ نے فرمایا:

 

«اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِه»

"اے اللہ! جس نے میری امت کے کسی معاملے کی ذمہ داری لی اور پھر انہیں مشقت میں ڈالا، تو تو بھی اسے مشقت میں ڈال۔ اور جس نے میری امت کے کسی معاملے کی ذمہ داری لی اور ان کے ساتھ نرمی برتی، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی برت"۔

 

یہ باطل، بدعنوان اور جابرانہ نظام لوگوں پر سختیاں لادنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ اس لیے، سوڈان کے عوام کو ان لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے جو نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ قائم کر کے اسلام کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں، جو شہریوں کی دیکھ بھال کرتی ہے اور رب العالمین اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ان کے ساتھ نرمی سے پیش آتی ہے، نہ کہ کفر کے سودی اداروں کو مطمئن کرنے کے لیے۔ یہ وہ نظام ہے جو عوامی ملکیت کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے تاکہ اس کے ثمرات لوگوں کی زندگیوں میں خیر و برکت کی صورت میں جھلکیں۔

 

===

 

آج کے ان عظیم واقعات کے ذریعے جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسلام کی عظیم المرتبت قوت  کی آمد کی نوید ہے

 

موجودہ حالات ایک ایسے نظریے کی نئی سحر کے ابھرنے کا پتہ دیتے ہیں جو ریزہ ریزہ ہوتے بین الاقوامی نظام کو الٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ آج کے ان اہم واقعات کے ذریعے جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ کے حکم سے جلد ہی اسلام کی اس "عظیم قوت" کی آمد کی خوشخبری ہے۔

 

امت خود کو تیار کر رہی ہے، اور وہ پارٹی (حزب) جو اس عظیم انقلاب کا بوجھ اٹھانے کی اہل ہے، پہلے ہی موجود ہے۔ یہ امت کو کثیر قطبی عالمی افراتفری کے اس مرحلے سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گی۔ خلافت کی ریاست اپنے ظہور کے پہلے ہی لمحے سے بین الاقوامی قانون کے ناجائز ہونے کا اعلان کر دے گی، اور اس کے کسی بھی ادارے یا قرارداد کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے گی۔ یہ صرف بین الاقوامی روایات اور اصولوں پر مبنی ایک نئے عالمی نظام کا اعلان کرے گی۔ ایک متحدہ امت کے تصور کے تحت اس ریاست کی وسیع تر حدود اسے اپنے قیام کے فوراً بعد ایک ایسے عالمی مرکز میں تبدیل کر دیں گی جو بین الاقوامی معاملات پر اپنے پہلے ہی دن سے اثر انداز ہو گا۔

 

ہمارے پاس  تمام ضروری اسباب موجود ہیں،یعنی اللہ کی کتاب اور سنتِ نبوی ﷺ سے ماخوذ قانون سازی، بین الاقوامی تعلقات چلانے کا ایک جامع طریقہ کار،  حقیقی معنوں میں مدبر سیاستدان، اور امت کے وہ نوجوان جو ایک ایسا منفرد فکری ڈھانچہ رکھتے ہیں جو ریاست کو اندرونی اور بیرونی طور پر آگے بڑھانے اور ہر چیلنج کو صرف اسلامی نقطہ نظر سے برق رفتاری سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لہذاامت کی سرزمینوں پر اسلامی زندگی دوبارہ لوٹے گی۔ لوگوں کے معاملات اسی طرح چلائے جائیں گے جیسا کہ انسانوں کے رب نے حکم دیا ہے، زمین اپنی برکتیں اگل دے گی اور آسمان سے خوب بارشیں برسیں گی، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس قول کی سچائی میں جس نے فرمایا:

 

﴿وَأَن لَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاءً غَدَقاً﴾

"اور اگر وہ (منکر) سیدھے راستے پر ثابت قدم رہتے، تو ہم یقیناً انہیں وافر پانی پینے کو دیتے۔" (سورۃ الجن: آیت 16)

 

===

 

کب تک ہماری عزت پامال ہوتی رہے گی اور ہمارا خود مختار اختیار ہم سے چھینا جاتا رہے گا؟!

 

الجزیرہ نیٹ نے ایک خبر دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈفول نے، یہودی وجود کے اپنے ہم منصب گائیڈن سار (جو جرمنی کے سرکاری دورے پر تھے) کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران، جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں یہودی افواج کی موجودگی جاری رکھنے کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس کا جواز یہ پیش کیا کہ اس کا مقصد شمال کو لبنانی تحریک حزب اللہ کے حملوں سے بچانا ہے۔

 

الرایہ: جب جرمن وزیر خارجہ یہ کہتا ہے کہ جنوبی لبنان میں یہودی فوج کی موجودگی ضروری ہے، تو یہ محض ایک سیاسی رائے نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ساتھ برتی جانے والی بے توقیری کا کھلم کھلا اظہار ہے۔ اسی طرح، جب ٹرمپ اور مغربی استعماری طاقتوں کے دیگر رہنما امت کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور اس کے رجحانات اور پالیسیوں کا تعین کرتے ہیں، تو یہ معاملہ سفارت کاری سے بڑھ کر ایک طرح کی سرپرستی مسلط کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔

اس طرح کی مداخلتیں ہرگز نہ ہوتیں اگر امت کے اندر کوئی حقیقی لیڈر ہوتا، جو تقویٰ کے ساتھ قوت، اور عزم کے ساتھ حکمت کا مجموعہ ہوتا۔ ایسا لیڈر جو یہ سمجھتا ہو کہ اس کی ذمہ داری صرف اپنی کرسی کی حفاظت کرنا نہیں، بلکہ اسلام، امت کی عزت اور اس کی خود مختاری کا تحفظ کرنا ہے۔ ایسا لیڈر (آج) موجود نہیں ہے، اور اسی وجہ سے امت کمزور ہو چکی ہے، اس کی وحدت پارہ پارہ ہو گئی ہے، اور یہ ہر موقع پرست کا شکار بن رہی ہے۔

 

وہ امت جس کے پاس ایک مضبوط اور صالح قیادت ہو اور جو اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہو، اسے کبھی ذلیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کی پامالی ممکن ہے۔ تاہم، اگر کمزوری اور انتشار کی یہی حالت برقرار رہی، تو غیر ملکی مداخلتیں ایک تلخ حقیقت بن کر بار بار سامنے آتی رہیں گی، اور خود مختار اختیار ہمیشہ ادھورا رہے گا۔

 

===

 

جب اسلامی ریاست قائم تھی تو عورت کی آواز دنیا کو ہلا دیا کرتی تھی

 

مغرب میں، جو ترقی اور نشاۃِ ثانیہ کا دعویدار ہے، ی خواتین کو درپیش نمایاں ترین چیلنجز میں  گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، اور ملازمت اور خاندانی زندگی کے بوجھ کے درمیان توازن برقرار رکھناشامل ہیں۔ یہاں ان خوفناک اعداد و شمار اور پولیس اسٹیشنوں میں درج ان کیسز کا ذکر کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے جو شریکِ حیات کے ہاتھوں خواتین کے قتل، آبرو ریزی، اور مناسب طبی سہولیات و معاشی امداد کی کمی سے متعلق رپورٹ ہوتے ہیں۔

 

ایک وقت تھا جب اسلامی ریاست کی موجودگی میں عورت کی ایک پکار دنیا کو ہلا دیتی تھی۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قانون تھا جس نے اس کی حفاظت کی اور مردوں کو اس کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر تیار کیا۔ اس کی آواز خلیفہ معتصم باللہ تک اس وقت پہنچی جب اسے رومیوں نے قید کر لیا تھا، جس پر خلیفہ نے اسے چھڑانے کے لیے ایک پورا لشکر روانہ کر دیا۔

 

اے مغرب، اب یہ منافقت اور دھوکہ دہی بس کر دو۔ دنیا بھر کی خواتین اب اپنی حقیقت سے آگاہ ہو چکی ہیں اور تمہارے نظام کی بدعنوانی کو پہچانتی ہیں۔ جہاں تک آج کی مسلم خاتون کا تعلق ہے، وہ نہ تو تمہاری طرف دیکھتی ہے اور نہ ہی اسے تم میں اپنے، اپنے دین اور اپنے خاندان کے لیے دشمنی اور عناد کے سوا کچھ نظر آتا ہے۔ درحقیقت، تم اپنے تمام منصوبوں میں ناکام ہو چکے ہو، بشمول تمہارا نام نہاد "خواتین کی آزادی" کا منصوبہ۔

 

مسلم خاتون اپنی امت کی نشاۃِ ثانیہ کی خواہش مند ہے، ایسی نشاۃِ ثانیہ جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اور جو لوگوں کو تمہارے سرمایہ دارانہ نظام کی تاریکیوں سے نکال کر خلافتِ راشدہ کے سائے میں اسلام کے نور کی طرف لے آئے۔

 

===

 

 

Last modified onہفتہ, 16 مئی 2026 19:07

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک