Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

9 مئی ہمارے لیے کیا ہے؟

 

تحریر: استاد ممتاز ماوراء النہری

 

(ترجمہ )

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید تاریخ کی سب سے بڑی جنگ دوسری جنگِ عظیم تھی۔ ان دنوں، اس جنگ کے فاتح فریق، 9 مئی کو بڑے پیمانے پر "یومِ فتح" کے طور پر مناتے ہیں۔ ان ممالک میں کرغزستان بھی شامل ہے، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اور اس دن کو وہاں سرکاری تعطیل بھی سمجھا جاتا ہے۔

 

9 مئی کی اصل اہمیت کو سمجھنے کے لیے، ہمیں سب سے پہلے تاریخ کے اوراق میں تھوڑا پیچھے جھانکنا ہو گا:

1919 میں، پہلی جنگِ عظیم "معاہدہ ورسائی" (Treaty of Versailles) کے ساتھ ختم ہوئی۔ اس معاہدے کے تحت، جرمنی ان علاقوں سے دستبردار ہو گیا جن پر اس نے قبضہ کیا تھا، اور آسٹریا-ہنگری کی سلطنت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بین الاقوامی سلامتی برقرار رکھنے کے بہانے "انجمنِ اقوام" (League of Nations) بھی قائم کی گئی۔ "معاہدہ سیورے" (Treaty of Sèvres) میں، برطانیہ اور فرانس نے جرمن نوآبادیات کے علاوہ ریاستِ عثمانیہ کے بیشتر علاقوں کو بھی آپس میں بانٹ لیا۔

 

برطانیہ اور فرانس نے ان نوآبادیات پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے "انجمنِ اقوام" قائم کی تھی۔ اس تنظیم کے نعرے امن کا تحفظ اور اسلحہ میں کمی قرار پائے۔ تاہم، برطانیہ نے فرانس کے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کے لیے جرمنی کی دوبارہ مسلح سازی کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی۔ برطانیہ اور روس دونوں کی طرف سے فراہم کردہ کسی حد تک سہولت کاری کے نتیجے میں، جرمنی نے دوبارہ ایک بڑی طاقت کی حیثیت حاصل کر لی اور ایک نئی عالمی جنگ کے شعلے بھڑکا دیے۔

 

پہلی بات تو یہ کہ جرمنی نازی نظریے پر سختی سے کاربند رہا اور تمام دیگر اقوام پر غلبہ پانے کی کوشش کی۔ دوسری بات یہ کہ وہ اب محض ان فوائد کی وصولی پر مطمئن نہ تھا جو وہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد کھو چکا تھا، بلکہ اب وہ پوری دنیا کی دولت پر قبضہ کرنے کا خواہش مند تھا۔

 

دوسری جنگِ عظیم میں، جو 1939 میں شروع ہوئی، محوری طاقتوں (Axis powers) یعنی جرمنی، جاپان اور اٹلی کا مقابلہ اتحادی طاقتوں (Allied powers) یعنی سوویت یونین، برطانیہ، فرانس اور بعد میں امریکہ سے ہوا، جبکہ 60 سے زائد دیگر ممالک بھی اس تنازع میں شامل ہو گئے۔ اس جنگ میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ فوجی اہلکار اور 3 کروڑ 80 لاکھ شہری مارے گئے۔ ان ہلاکتوں کی اکثریت، یعنی تقریباً 2 کروڑ، سوویت یونین کے شہری تھے۔ یہ جنگ محوری طاقتوں (Axis powers یعنی جرمنی، جاپان اور اٹلی) کی شکست پر ختم ہوئی۔

 

لوٹے ہوئے مال  کی تقسیم اور اپنی مستقبل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے، فاتحین نے فروری 1945 کی یالٹا کانفرنس (Yalta Conference) میں ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت، جرمنی کو امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ اور فرانس کے زیرِ اثر چار مقبوضہ زون میں تقسیم کر دیا گیا۔ بعد ازاں، اسے دو حصوں میں بانٹ دیا گیا: ایک مغربی زون جو امریکی اثر و رسوخ میں تھا، اور ایک مشرقی زون جو سوویت اثر و رسوخ کے تحت تھا۔

 

سوویت یونین نے ابتدائی طور پر جاپان کے خلاف جنگ میں داخل ہونے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن امریکہ کی جانب سے جاپان پر ایٹمی بمباری نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا، جس سے جنگ عملی طور پر ختم ہو گئی۔ اس کے بعد جاپان امریکی اثر و رسوخ کے تحت ایک ملک بن گیا۔ کوریا کو بھی دو ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا، ایک سوویت یونین کے زیرِ اثر اور دوسری امریکہ کے زیرِ اثر تھی۔

 

فاتح طاقتوں نے "اقوامِ متحدہ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جسے امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ، فرانس اور چین نے تخلیق کیا تھا۔

 

مختصر یہ کہ، دوسری جنگِ عظیم کے بعد ان پانچ ممالک نے پوری دنیا کو آپس میں بانٹ لیا۔ کسی چھٹی طاقت کے ظہور کو روکنے کے لیے، جو عالمی مفادات کی تقسیم میں حصہ دار بن سکے، ان پانچ ممالک نے اقوامِ متحدہ کو ایک ایسے "جال" کے طور پر بنانے پر اتفاق کیا تاکہ قوموں کو اطاعت اور محکومی پر مجبور کیا جا سکے۔ اس تنظیم کی تعریف میں استعمال ہونے والی بلند و بانگ عبارتیں، جیسے کہ اس کا مرکزی مشن "بین الاقوامی امن اور سلامتی کا قیام" ہے، محض عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ہیں، جو اس کی اصل حقیقت سے ناواقف ہیں۔

 

1947 میں، پیرس امن کانفرنس منعقد ہوئی، جس کے نتیجے میں اٹلی اپنی نوآبادیات سے محروم ہو گیا اور امریکہ، سوویت یونین اور برطانیہ کے زیرِ اثر آ گیا۔ ہنگری، رومانیہ اور فن لینڈ کو بھی جنگی ہرجانہ ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔

حاصلِ کلام یہ کہ، دوسری جنگِ عظیم بڑی طاقتوں کے درمیان بالادستی اور وسائل کے حصول کی جنگ کے سوا کچھ نہ تھی۔ ہم بڑی طاقتوں کے درمیان طاقت کی اس کشمکش کے نتیجے کو "عظیم فتح" کیوں تصور کریں؟ نوآبادیاتی قوموں کے لیے اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ایک فریق جیتتا ہے یا دوسرا؟ مثال کے طور پر، وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ کے لیے امریکہ اور روس کی موجودہ کشمکش میں ان کی جیت ہمارے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے؟ اگر بڑی طاقتیں ہی وہ ہیں جو اپنی مرضی کے مطابق ہمارے لیے "وطن" کی حدود طے کرتی ہیں، تو کیا انہیں اپنا وطن سمجھنا سادہ لوحی نہیں ہے؟

 

ابھی کل کی بات ہے کہ سوویت یونین ہمارا وطن تھا۔ آج وہ کہاں ہے اور اس کی میراث میں سے کیا باقی بچا ہے؟ ہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کیوں نہیں ہیں؟ قازقستان کو ایک ایٹمی ریاست کیوں نہیں تسلیم کیا جاتا، حالانکہ سوویت دور میں وہاں ایٹمی تجربات کیے گئے تھے؟ حقیقت میں، وہاں ایٹمی ہتھیار اب بھی موجود ہیں، لیکن وہ روس کی ملکیت ہیں۔ اور کل کو اگر امریکہ، روس کے ساتھ اپنے تصادم میں، ترک اقوام کے لیے ایک "ترکستان" ریاست قائم کر دیتا ہے، تو کیا ہم پھر کھڑے ہو کر اسے "اپنا وطن" قرار دے کر اس کے گیت گائیں گے؟

 

سچ تو یہ ہے کہ، تاریخ کے آغاز سے لے کر قیامت کے دن تک، قوموں کے درمیان تنازعات کی صرف دو ہی وجوہات رہی ہیں: پہلی، بالادستی اور غلبے کی خواہش؛ اور دوسری، مادی مفادات کا حصول۔

 

پہلی وجہ مزید دو حصوں میں تقسیم ہے: ایک بنیادی نظریے کو قائم کرنے اور پھیلانے کی خواہش، اور دوسری قوم پرستانہ غلبے، تعصب اور تکبر کی خواہش۔ مثال کے طور پر، اسلامی ریاست کے پاس تقریباً 1300 سال تک اسلام کو قائم کرنے اور پھیلانے کی تڑپ تھی، جبکہ کمیونسٹ ریاست کے پاس تقریباً 30 سال تک اپنے نظریے کو قائم کرنے کی خواہش رہی۔

 

جہاں تک جرمن نازی ازم اور اطالوی فاشزم کا تعلق ہے، جو دوسری جنگِ عظیم کے اسباب بنے، ان کے محرکات قوم پرستانہ غلبے کی خواہش اور مادی مفادات کا حصول تھے۔ لہٰذا، مسلمانوں کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر وہ اپنے اسلام کی خاطر اپنے مال اور جانوں سے جدوجہد نہیں کریں گے، تو وہ کافر ریاستوں کے درمیان لڑی جانے والی عالمی جنگوں، یا ان ریاستوں کی طرف سے بھڑکائے گئے مقامی تنازعات کا شکار بنتے رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں جان بوجھ کر کافر ریاستوں کے تنازعات کا شکار نہیں بننا چاہیے۔ ہم اس کے لیے اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کے حضور جوابدہ ہیں۔

 

 

Last modified onہفتہ, 16 مئی 2026 17:21

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.