Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

جس طرح حج نے ہمیں ایک میدان میں جمع کیا ہے، اسی طرح نظامِ حکمرانی کو بھی ہمیں ایک خلافت میں متحد کرنا چاہیے

 

 

تحریر: استاد خلیفہ محمد

 

(ترجمہ)

 

کیسا عظیم الشان منظر ہے جب آپ لاکھوں مسلمانوں کو دیکھتے ہیں جو اپنے رنگ، نسل، عمر اور ملک کے فرق کے باوجود ایک ہی میدان میں، ایک ہی لباس میں جمع ہیں، اور ایک ہی رب کی پکار پر لبیک کہہ رہے ہیں۔ وہ سب مل کر ایک کے بعد دوسرا مناسک ادا کرتے ہیں، وہ اپنے گھروں، اہل و عیال اور دنیاوی مفادات کو اس عظیم فرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑ آئے ہیں۔ وہاں امیر اور غریب کے درمیان کوئی تمیز نہیں، کیونکہ یہ مقام صرف ایک اللہ واحد و یکتا کی اطاعت، عاجزی اور بندگی کا مقام ہے۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے،نہ تو  ان کی تخلیق کی اصل میں کوئی فرق ہے اور نہ ہی اس فطرت میں جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس ہیبت ناک منظر میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تقدیس کے عظیم ترین مظاہر نمایاں ہوتے ہیں، ان کی زبانیں ایک ہی آواز میں پکار رہی ہوتی ہیں: "لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمة لک والملک، لا شریک لک" (میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، یقیناً تمام تعریفیں، نعمتیں اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ رندھی ہوئی آوازیں آفاق کو چیرتی ہوئی اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے اپنی وفاداری کا اعلان کر رہی ہیں، جس نے فرمایا:

 

﴿وَلِلّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً﴾

 

"اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔" (سورۃ آل عمران: آیت  97)

 

اور اس کے رسول ﷺ کے لیے (وفاداری کا اعلان ہے) جنہوں نے فرمایا: «خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ» "مجھ سے اپنے (حج کے) مناسک سیکھ لو"، اور ان مومنین کے لیے جو تمام لوگوں کے مقابلے میں ایک ہی امت ہیں۔

 

درحقیقت، حج مسلمانوں کی وحدت کا ایک واضح اور نمایاں مظہر ہے، جہاں اعمال اور اقوال ایک ہیں، نیت اور مقصد ایک ہے، شعائر کے مقامات ایک ہیں، ان کا وقت ایک ہے اور لباس بھی ایک ہے۔ یہ سب ایک ہی بیج سے پروان چڑھا ہے جو اسلام کے ارکان میں سے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

یہ بات باعثِ حیرت نہیں کہ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، کیونکہ یہ فرض کیے جانے والے اسلامی احکام میں سے آخری حکم ہے، جو کہ مستند ترین روایات کے مطابق 9 ہجری میں فرض ہوا۔ غالباً اس میں حکمت یہ تھی کہ مکہ "دارالاسلام" بن جائے جہاں اسلام کے احکام نافذ ہوں۔ اس سال رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو امیرِ حج مقرر کیا اور ان کے پیچھے علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) کو سورۃ توبہ دے کر بھیجا تاکہ وہ حج کے موقع پر لوگوں کو اسے سنائیں۔ اس کا مقصد یہ اعلان کرنا تھا کہ مشرکین کو چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے، سوائے ان کے جن کا رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ تھا وہ اپنی مدت تک برقرار رہے گا، اور یہ کہ آج کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ یہ سب 9 ہجری میں ہوا جسے "عام الوفود" (وفود کا سال) کہا جاتا ہے، کیونکہ جزیرہ نما عرب کے قبائل کے وفود رسول اللہ ﷺ کے پاس اسلام قبول کرنے اور ریاستِ اسلامیہ کے پرچم تلے متحد ہونے کے لیے آئے تھے۔ یوں ایک واحد اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی گئی جس نے اسلام کے سوا ہر دوسرے نظریے اور اسلامی ریاست کے سوا ہر دوسرے وجود کا خاتمہ کر دیا۔

 

﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾

 

"بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری ہی عبادت کرو۔" (سورۃ الانبیاء: آیت 92)

 

9 ہجری میں ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو امیرِ حج مقرر کرنے کے بعد، رسول اللہ ﷺ نے خود 10 ہجری میں حج کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس میں یہ قانون سازی اور رہنمائی موجود ہے کہ مسلمانوں کے حکمران یا اس کے مقرر کردہ نمائندے کو حج کی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے، تاکہ وہ حجاج کی حفاظت اور حج کے احکامات سمیت دیگر ضروری شرعی احکام کے مطابق ان کے امور کی نگرانی کرے۔ آپ ﷺ کے بعد خلفاء نے بھی اسی سنت پر عمل کیا۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) اپنی پوری مدتِ خلافت میں ہر سال حج کی پابندی کرتے تھے۔ آپ کی سیرت یہ تھی کہ ہر سال حج کے موسم میں اپنے عمال (گورنروں) کو طلب کرتے تاکہ انہیں رعایا (کے حقوق کی ادائیگی) کا پابند کریں، ان سے ظلم کو روکیں، قریب سے ان کے حالات جانیں اور رعایا کے لیے ایک معینہ وقت ہو جس میں وہ اپنی شکایات پیش کر سکیں جیسا کہ آثار میں مروی ہے۔ اعمش روایت کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) نے ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کو امیرِ حج مقرر کیا، تو انہوں نے اس دن ایسا خطبہ دیا کہ اگر ترک اور رومی اسے سن لیتے تو اسلام قبول کر لیتے۔

 
 

مسلمانوں کی وحدت کا معاملہ ایک فیصلہ کن (زندگی اور موت کا) معاملہ ہے۔ جس طرح یہ ہر سال حج کے موسم میں نظر آتا ہے، اگرچہ موجودہ مسلم ممالک کی سرحدوں اور متعدد حکمرانوں کی وجہ سے یہ محض جزوی ہے ، اسی طرح یہ نماز میں بھی ظاہر ہوتا ہے جب تمام مسلمان ایک ہی مؤذن کی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔ اسی طرح روزے میں بھی، جہاں قاعدہ یہ ہے کہ سب چاند دیکھ کر روزہ رکھتے ہیں اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرتے ہیں، اور پورے ماہِ رمضان میں فجر سے رات تک اس فریضے کو انجام دیتے ہیں۔ زکوٰۃ میں بھی یہی صورت تھی کہ رسول اللہ ﷺ اسے جمع کرنے اور حق داروں تک پہنچانے کے لیے اپنے عامل بھیجا کرتے تھے، اور خلفاء نے خلافت کے آخری دور تک اسی طریقے کو برقرار رکھا۔ تو پھر آج مسلمانوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ کچھ پکاروں پر تو لبیک کہتے ہیں اور کچھ پر نہیں؟ وہ اس پکار پر تو لبیک کہتے ہیں:

 

﴿وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ﴾

 

"اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔" (سورۃ الحج: آیت 27)

 

 

لیکن وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اس پکار پر لبیک نہیں کہتے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں:

 

 

﴿إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا﴾

 

"ایمان والوں کا قول تو یہی ہوتا ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں، تو وہ کہیں: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔" (سورۃ النور: آیت 51)

 

تو کیا وہ "سمعنا و اطعنا" (ہم نے سنا اور اطاعت کی) نہیں کہیں گے؟ انہیں کیا ہوا ہے کہ وہ اس پکار پر تو لبیک کہتے ہیں:

 

﴿إِذَا نُودِي لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾

 

"جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو۔" (سورۃ الجمعہ: آیت 9)

 

لیکن وہ اس حکم پر لبیک نہیں کہتے:

 

﴿لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء﴾

 

"یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست (مددگار و سرپرست) نہ بناؤ۔" (سورۃ المائدہ: آیت 51)

 

وہ لبیک کہتے ہیں اور ان کے علماء (موجودہ) "اولی الامر" کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں لیکن وہ اس حکم پر لبیک نہیں کہتے:

 

﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ﴾

 

"پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں تنازع پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔" (سورۃ النساء: آیت 59)

 

وہ اس پر لبیک کہتے ہیں:

 

﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ﴾

 

"تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔" (سورۃ البقرہ: آیت 183)

 

لیکن وہ اس پکار پر لبیک نہیں کہتے:

 

﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ اللّهُ﴾

 

"اور ان کے درمیان اس (قانون) کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔" (سورۃ المائدہ: آیت 49)

 

مسلمانوں کی وحدت کے مسئلے کے "فیصلہ کن" (زندگی اور موت کا معاملہ) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حوالے سے ویسا ہی قطعی اقدام کیا جائے جیسا زندگی اور موت کے سنگین معاملات میں کیا جاتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: «مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ» "تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جبکہ تمہارے معاملات ایک شخص (حکمران) کی قیادت میں متحد ہوں، اور وہ تمہاری طاقت کو توڑنا یا تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہے، تو اسے قتل کر دو"۔ پس مسلمانوں کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ کمزور اور بکھری ہوئی ریاستوں میں بٹے رہیں، اللہ کی شریعت کو معطل رکھیں اور زمین پر اس کے واحد نظامِ حکمرانی کو قائم نہ کریں۔ وہ حج، نماز، روزے اور بعض دیگر احکامات میں تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں لیکن اسلام کے بقیہ احکامات میں اس کی فرمانبرداری نہ کریں، تو ان کا حال ان لوگوں جیسا ہو جائے گا جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، یا ان لوگوں جیسا جو کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں؛ اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ مسلمانوں کا حال ان لوگوں جیسا ہو۔

 

اے مسلمانو!

 

حج نے تمہیں اس عظیم الشان منظر میں ایک ہی میدان میں جمع کیا ہے، اور اسلام کے تمام احکامات کا مکمل نفاذ تمہیں ایک ہی خلافت میں متحد کرنے کا تقاضا کرتا ہے، اور تم اس کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہو۔ تم صدیوں تک اسی حال میں ایک ہی خلیفہ کے پرچم تلے زندگی گزار چکے ہو، لہٰذا اس تاریخ کو دہرانا کتنا آسان ہے جبکہ تمہارے درمیان "حزب التحریر" موجود ہے، وہ رہنما جو اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولتا، وہ تمہاری بیداری اور تمہیں خلافت کے منصوبے پر متحد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اب تمہارا کام صرف یہ ہے کہ تم پختہ عزم کرو، اس کے ساتھ مل کر جدوجہد کرو اور اس کی نصرت کرو، کیونکہ اسی میں تمہاری وحدت کا سب سے عظیم مظہر نمایاں ہوگا، اور اسی میں تمہاری دنیا کی عزت، آخرت کی کامیابی اور اللہ کی سب سے بڑی خوشنودی ہے۔

Last modified onجمعہ, 29 مئی 2026 22:06

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.