بسم الله الرحمن الرحيم
باغ سے جنگل تک! مغربی بالادستی کے بعد کی دنیا کا سامنا کرتا یورپ
تحریر: انجینئر وسام الاطرش
(ترجمہ)
ایک ایسی دنیا میں جہاں اسٹریٹجک یقین متزلزل ہو رہا ہے اور امریکہ کا اثر و رسوخ زوال پذیر ہے، یورپ آج خود کو ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے جو ہر بین الاقوامی معاملے میں مداخلت کرنا چاہتا ہے، لیکن مغربی جیو پولیٹیکل ذہنیت کا تہذیبی تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپ آبادی کے لحاظ سے ایک بوڑھی ہوتی ہوئی طاقت ہے جو ناپائیدار اور ناہموار زمین پر چل رہی ہے۔ ایرانی بحران نے نہ صرف مغربی دفاعی صلاحیت (Deterrence) کی حدود کو بے نقاب کیا بلکہ خود یورپی منصوبے کی کمزوری کو بھی عیاں کر دیاہے۔یہ ایک ایسا براعظم جو امریکہ کے ساتھ جنگ سے ڈرتا ہے، نیٹو (NATO) کی چھتری تلے حرکت کرنے سے انکار کرتا ہے، چین کی شرائط پر امن سے خوفزدہ ہے، روس کو روکنے میں ناکام ہے، اور خوراک، توانائی و فوجی خودمختاری حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ اب اس کے پاس اس بین الاقوامی نظام کی چابیاں نہیں رہیں جسے بنانے میں کبھی اس نے خود حصہ لیا تھا۔
ایران کا مسئلہ مغربی احساسِ کمتری اور یورپ کی ہمہ جہت کمزوری کا ایک واضح آئینہ بن چکا ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی جہاز رانی، سائبر جنگوں اور علاقائی اثر و رسوخ کے حامل ایجنٹوں سے وابستہ خطرات بڑھ رہے ہیں، تو دوسری طرف یورپ محض سیاسی مذمتوں اور محدود دفاعی اقدامات پر ہی اکتفا کیے ہوئے ہے، اور اس میں اتنی سکت نہیں کہ وہ دفاع کی کوئی آزادانہ حکمت عملی تیار کر سکے یا اپنا جیو پولیٹیکل وژن مسلط کر سکے۔ اس کی وجہ فوجی طاقت یا معاشی وسائل کی کمی نہیں، بلکہ خود براعظم کے اندر ایک متحد جیو پولیٹیکل ارادے کا فقدان ہے۔
یورپی دارالحکومتوں کو خوف ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی بڑے پیمانے کے ٹکراؤ کے نتیجے میں دوہرا دھماکہ ہوگا: ایک شدید توانائی کا بحران، اوردوسرا نازک جوہری سمجھوتوں کے آخری بچے کھچے آثار کا خاتمہ۔ تاہم، اصل گہرا خوف کہیں اور چھپا ہے۔ یورپ کو ادراک ہے کہ خلیج میں کوئی بھی بڑا تصادم اسے سیکیورٹی کے لیے دوبارہ مکمل طور پر امریکہ کا محتاج بنا دے گا، جبکہ وہ کم از کم نظریاتی طور پر اس چیز کو بنانے کی کوشش کر رہا ہے جسے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون "یورپی اسٹریٹجک آزادی" کا نام دیتے ہیں، حالانکہ پولینڈ اور خاص طور پر بالٹک ریاستیں امریکی چھتری سے چمٹی ہوئی ہیں۔
یہ اندرونی تضاد خود مختاری کو ایک حقیقی منصوبے کے بجائے محض ایک نعرہ بنا دیتا ہے۔ مزید برآں، یہ "پرانا براعظم" امریکی طاقت کے ہتھوڑے اور چین کے عروج کے سندان (Anvil) کے درمیان پھنسا ہوا ہے: امریکہ اپنے اتحادیوں کو سخت صف بندی اور کھلے ٹکراؤ کی طرف دھکیل رہا ہے، جبکہ چین بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل خاموشی کی شرط پر بڑے پیمانے پر معاشی شراکت داری کی پیشکش کر رہا ہے۔ ان دونوں کے درمیان یورپ خود کو ایک آزاد خودمختار فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم پاتا ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جہاں توانائی، سیکیورٹی، تجارت اور سمندری راستے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
تاہم، یورپ کا بحران صرف جیو پولیٹیکل نہیں، بلکہ تہذیبی بھی ہے۔ مغربی سیاسی ذہنیت، جدیدیت اور انسانی حقوق کی تمام تر بیان بازی کے باوجود، اب بھی ایک ایسے ذہنی ڈھانچے کے اندر کام کر رہی ہے جو دنیا کو ایک 'مرکز' (جسے نظم و نسق اور قانونی جواز کی تعریف کا حق حاصل ہے) اور 'ذیلی کرداروں' (جنہیں صرف اطاعت یا گھیراؤ کو قبول کرنا ہے) کے درمیان منقسم دیکھتی ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ، جوزپ بوریل نے 13 اکتوبر 2022 کو اس متکبرانہ نظریے کا انتہائی حیران کن وضاحت کے ساتھ اظہار کیا تھا، جب انہوں نے کہا تھا: "یورپ ایک باغ ہے۔ ہم نے ایک باغ بنایا ہے... باقی دنیا کا بیشتر حصہ ایک جنگل ہے، اور جنگل باغ پر حملہ کر سکتا ہے... باغبانوں کو جنگل میں جانا پڑے گا۔ یورپیوں کو باقی دنیا کے ساتھ بہت زیادہ مشغول ہونا پڑے گا۔ ورنہ باقی دنیا ہم پر مختلف طریقوں اور ذرائع سے حملہ آور ہو جائے گی"۔
یہ محض ایک سفارتی غلطی نہیں تھی، بلکہ یہ اس مغربی اسٹریٹجک لاعلمی کا بھرپور اظہار تھا جو دوسروں کے انتشار کے مقابلے میں خود کو تہذیب کا علمبردار سمجھتا ہے۔ یہاں سے اس طریقے کو سمجھنا ممکن ہے جس کے ذریعے یورپ اور مجموعی طور پر مغرب، ایران اور غیر مغربی دنیا کے ساتھ معاملات کرتا ہے: یعنی جب طاقت کا توازن اجازت دے تو براہ راست فوجی مداخلت، اور جب جنگ مہنگی پڑنے لگے تو پابندیوں، ڈیٹرنس (روک تھام) اور ناکہ بندی کا نظام۔ دونوں صورتوں میں، ضمنی مفروضہ ایک ہی رہتا ہے: کہ مغرب قانونی جواز کی تعریف پر اپنی اجارہ داری رکھتا ہے، جبکہ باقی دنیا سے ان قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے جن کی تشکیل میں وہ شریک تک نہ تھی، جبکہ دوسری طرف یہودی وجود خطے میں تباہی کا راستہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم، دنیا اب بین الاقوامی نظام کی موجودہ شکل سے علیحدگی کی طرف بدل رہی ہے، کیونکہ امریکہ اور اس کے پروردہ یہودی وجود کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ان عالمی تبدیلیوں کی رفتار کو تیز کرنے والی مہمیز بن چکی ہے۔ ایران، چین، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کی طرح اب مغرب کو بین الاقوامی نظام کا واحد مرکز نہیں سمجھتا، بلکہ اسے ایک ایسی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے جسے تھکایا جا سکتا ہے، جسے نظر انداز (بائی پاس) کیا جا سکتا ہے، یا متبادل اتحادوں کے ذریعے متوازن کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی پابندیاں اب پہلے جیسے فیصلہ کن نتائج حاصل نہیں کر پاتیں، خاص طور پر ایشیائی طاقتوں اور 'برکس' (BRICS) جیسے بلاکس کی قیادت میں متوازی معاشی اور مالیاتی نیٹ ورکس کے عروج کے ساتھ۔
یورپ اس تبدیلی سے باخبر ہے، لیکن اس کا مکمل اعتراف کرنے سے ڈرتا ہے۔ ایک طرف اسے امریکی فوجی چھتری کی ضرورت ہے، اور دوسری طرف وہ معاشی طور پر ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے آنے والی منڈیوں، توانائی اور سپلائی چینز (رسد کی ترسیل) پر منحصر ہے۔ لہٰذا، برسلز ہچکچاہٹ کے ایک تنگ دائرے میں حرکت کر رہا ہے۔ وہ نہ تو کسی آزادانہ اسٹریٹجک مقابلے کی سکت رکھتا ہے، اور نہ ہی نفسیاتی اور سیاسی طور پر مغربی بالادستی کے بعد کی دنیا کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ یورپی یونین سے باہر، برطانیہ نے معاشی خون ریزی کے درد میں کچھ کمی تلاش کرنے کے لیے نقل و حرکت کی ایک وسیع جگہ ڈھونڈ لی ہے، کیونکہ اس نے خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ کرنے میں جلدی کی ہے جسے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ اب ایک ایسی قوت بن چکا ہے جو پیش قدمی کرنے کے بجائے خوف کا زیادہ شکار ہے۔ اسے توانائی اور رسد کی زنجیروں (سپلائی چین) میں تعطل، ہجرت کی لہروں، اپنے معاشروں میں مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے تناسب، عوامی مقبولیت پسند دائیں بازو کے ابھار، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی پسماندگی، اور اس تاریخی مراعات کے کھو جانے کا خوف ہے جو اس نے صدیوں کے معاشی اور استعماری تسلط کے ذریعے حاصل کی تھیں۔ یہاں تک کہ یورپی اقدار کی بیان بازی کو بھی بعض اوقات ایک ایسی دنیا میں اپنی علامتی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں جنگل کا قانون نافذ ہے، اور جو مغربی اشرافیہ کے فہم و ادراک سے کہیں زیادہ تیزی سے بدل رہی ہے۔
ایرانی کشمکش نے یورپ کے بحران کو بے نقاب کر دیا ہے، جو اب اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگا ہے۔ تاہم، یہ بحران صرف یورپ اور ایران تک محدود نہیں ہے۔ آج ہم جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ عہدِ حاضر کے بین الاقوامی نظام کے اخلاقی اور سیاسی مرکز کا بتدریج زوال ہے۔ امریکہ دنیا کو طاقت اور مفادات کی منطق سے چلا رہا ہے، اور چین خاموش اثر و رسوخ کی منطق کے ساتھ عالمی معیشت اور سفاک سرمایہ داری کو نئی شکل دے رہا ہے، جبکہ یورپ ان دونوں کے درمیان وجودی اضطراب کی حالت میں جی رہا ہے۔ جہاں تک 'عالمی جنوب' (Global South) کا تعلق ہے، اس نے دہائیوں میں پہلی بار اس کردار پر قناعت کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ محض ایک ایسا اکھاڑا بنے جہاں سلطنتیں آپس میں لڑتی ہیں۔
یک قطبی دور ختم ہو چکا ہے، لیکن دنیا ابھی تک ایک مستحکم اور منصفانہ کثیر قطبی نظام کی تعمیر میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ آج ہم جس افراتفری کا سامنا کر رہے ہیں وہ کوئی نیا بین الاقوامی نظام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عالمی اسٹریٹجک خلا ہے جس کے اندر ایسی طاقتیں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں جن کے پاس طاقت کے اوزار تو موجود ہیں، لیکن وہ ایک جامع تہذیبی وژن سے محروم ہیں۔
لہٰذا، اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ مغرب ایران کو کیا جواب دے گا؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا بالادستی اور افراتفری کی اس دوغلی کیفیت سے ہٹ کر بین الاقوامی تعلقات کا کوئی نیا ادراک پیدا کر سکتی ہے؟ کیا کوئی ایسا متبادل موجود ہے جو 'ایپسٹین کی تہذیب' کی پیدا کردہ غلاظتوں سے دور رہ کر روایات، نظاموں اور قوانین کی ازسرِ نو تشکیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو؟
شاید موجودہ لمحہ، اپنے تمام تر خطرات کے باوجود، ایک مختلف بین الاقوامی پیمانہ اور ایک نیا تہذیبی منصوبہ تخلیق کرنے کا ایک تاریخی موقع ہے، جو اکیسویں صدی میں سلامتی، تعاون اور آزادی کے مفہوم کی نئی تعریف کرے۔ ایک ایسا منصوبہ جس کی بنیاد دھونس، لوٹ مار اور بھتہ خوری پر نہ ہو، اور نہ ہی پابندیوں یا نیابتی جنگوں (پراکسی وارز) کی منطق کے ذریعے لوگوں کو محکوم بنانے پر مبنی ہو۔
وہ دنیا جو دن رات انسانی وقار کو پیروں تلے روند رہی ہے، وہ طاقت کے بحران کا شکار نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اعلیٰ اور بامقصد نصب العین کے بحران میں مبتلا ہے۔ اس لیے، امتِ مسلمہ کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اس بات کی پکار دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے نظامِ حکومت اور ریاست یعنی 'خلافتِ راشدہ' کو دوبارہ قائم کر کے اسلام کی بنیاد پر ایک بین الاقوامی نظم و نسق کی تشکیل میں حصہ دار بنے، کیونکہ صرف یہی وہ واحد نظام ہے جو انسان کو اس کی اصل انسانیت اور وقار لوٹانے کی طاقت رکھتا ہے۔