السبت، 27 ذو الحجة 1447| 2026/06/13
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

بوٹ پالش کاسہ لیس حکمران

 

خبر:

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بہت جلد امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا، جیسا کہ سفارتی کوششیں ممکنہ معاہدہ کی طرف گامزن ہیں۔ انہوں نے عہد کیا کہ پاکستان اپنی امن کوششوں کو انتہائی خلوص کے ساتھ جاری رکھے گا۔ (ٹریبیون)

 

تبصرہ:

پاکستان پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست آمنے سامنے مذاکرات کے ایک اعلیٰ سطحی دور کی میزبانی اور ثالثی کر چکا ہے، جسے "اسلام آباد مذاکرات" کے نام سے جانا جاتا ہے، اور حال ہی میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ ایران تنازع کے حل کے لیے ایک یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے ایران کا دورہ کیا۔ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کے عروج کو اکثر اوقات "فوجی بوٹ پالش" کرنے کی غیر معمولی صلاحیتوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ لیکن عاصم منیر کی قیادت میں حالیہ مذاکرات یہ بتاتے ہیں کہ قوم کi سیاسی سمجھ بوجھ کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے - یہ سلسلہ ڈومیسٹک بوٹ پالش سے بڑھ کر  ڈونلڈ ٹرمپ کے جوتوں کے تسمے باندھنے کے پرجوش سفارتی ہنر تک جاتا ہے۔ یہ وہ ذلت ہے جو انہوں نے کفر کے غلام بن کر خریدی ہے۔

 

ہمیں دیکھنا ہوگا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے جو کردار ادا کر رہا ہے اس کے پیچھے کیا سوچ ہے؟ کیا یہ مسلم بھائی چارے اور مسلم اتحاد کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟ نہیں! اگر ایسا ہوتا تو پاکستان کا کردار ثالث کا نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے بھائی ایران کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہوتا اور امریکہ کے لیے خوف کی علامت بن جاتا۔ ایران کا بھی یہی حال ہے۔ اگر اس نے امت کے لیے اپنی ذمہ داری کا سوچا ہوتا تو وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کر دیتا۔ دوسری طرف پاکستان میں ان حالیہ مذاکرات کو کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور پاکستان اور اس کے حکمران اس سستی اور عارضی شہرت کو اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ امت جانتی ہے کہ پچھلی صدی میں جتنے بھی مذاکرات ہوئے جن میں مسلمان ریاستیں اور حکمران کسی بھی مغربی طاقت کے ساتھ بیٹھے وہ کبھی بھی امت کے مفاد میں نہیں تھے، ماضی کی تمام ’’امن سازی‘‘ میں ایک خاص خصوصیت ہے: بدعنوان قیادت، خواہ وہ شریف حسین کی میک مہون خط و کتابت ہو یا انور سادات کی کیمپ ڈیوڈ ایکارڈز ہوں۔ اس لیے عاصم منیر سابقہ چمچوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مذاکرات کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

پاکستان میں متوقع مذاکرات کا تیسرا دور محض امریکا اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے لیے سود مند ہو سکتا ہے جس میں زیادہ تر مسلم ممالک کا کردار طفیلیوں سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہاں بات چیت کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو درپیش مشکلات کو کم کرنا ہے اور جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ ان کی یہ آسانی ہمیشہ مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ اسلامی خلافت میں یہ وسائل امت کے لیے ہیں اور وہ ان میں شریک ہیں۔ تاریخ میں عباسی اور عثمانی ادوار کی ایسی مثالیں موجود ہیں جب ان مسلم خلافتوں نے آبنائے ہرمز کی موجودہ اہمیت کی طرز پر سمندری اور تجارتی گزرگاہوں پر کنٹرول کو دولت کے حصول، تجارت کے تحفظ اور اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا ۔ عباسی دور کا دبدبہ اور سیاسی غلبہ بالکل انہی اہم راستوں کی وجہ سے  تھا جن کو آج ایران خلیج فارس سے آنے والے تیل کے راستے پر کنٹرول کر کے فائدہ اٹھا رہا ہے اور جب کہ جدید آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی تقریباً 20 فیصد سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹول اور بحری پوزیشننگ پر انحصار کرتا ہے، عثمانیوں نے "ساحل سے" مضبوط بندرگاہوں اور بحری ہتھیاروں کے ذریعے بحیرہ احمر کی تجارتی گذرگاہوں اور مقدس مقامات کے سفر پر اپنا بھرپور اثر و رسوخ قائم رکھا۔

 

اُمت مسلمہ ایک بڑی آبادی ہے، یہ قیمتی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتی ہے جو اسے تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے بااثر بنا دیتی ہے۔ اس کی وجہ سے مسلم ممالک یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ مضبوط بنیں، اپنی آزادی کی حفاظت کریں اور اپنے مفادات کو سامنے رکھیں، بجائے اس کے کہ وہ ان مغربی طاقتوں پر انحصار کرتے رہیں جو کبھی ان پر غلبہ رکھتی تھیں۔ امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ خزانوں سے مالا مال ہے۔ ضرورت ہے ایک ایسے خلیفہ کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلفائے راشدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کی اطاعت اور اس کے بندوں کی سہولت کے لیے اسلامی ریاست قائم کرے اور اسے کامیابی سے چلائے۔ اللہ کے حکم کے مطابق آنے والا حکمران ہی مسلمانوں کے زمینی، آبی اور فضائی راستوں کی حفاظت کر سکے گا اور یہی وہ واحد راستہ ہے جو مسلمانوں کے ایمان، جان اور مال کی حفاظت کا ضامن ہو گا۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 

«إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ»

 

"بیشک امام (مسلمانوں کا حاکم) ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے ہو کر جنگ لڑی جاتی ہے اور جس سے بچاؤ کیا جاتا ہے۔ پس اگر وہ اللہ عزوجل سے ڈرنے (تقویٰ) کا حکم دے اور عدل کرے، تو اس کے لیے اس کا اجر ہے، اور اگر وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز کا حکم دے، تو اس کا وبال اسی پر ہے۔"

 

مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

اخلاق جہاں

Last modified onہفتہ, 13 جون 2026 16:21

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک