السبت، 04 صَفر 1448| 2026/07/18
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

پیوٹن کی بنیاد پرست سیکولر روسی حکومت کی جانب سے مسلمانوں پر کئے جانے والے ظلم اور اسلام دشمن پالیسیوں پر اسکی مذہبی جذبات کے احترام کی دوغلی گفتگو پردہ نہیں ڈال سکتی

22اکتوبر2012،بروز پیر اخبار ماسکو ٹائمز نے حجاب پر پابندی اور 18اکتوبر2012 ،جمعرات کے روز پیوٹن کے جاری کردہ بیان کے حوالے سے تحقیق ایک شائع کی ۔رائٹرز اور دیگر خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے روس کے جنوبی علاقے سٹاورپول کے سکولوں میں حجاب پر حال ہی میں عائد کردہ پابندی کے بارے میں کہا کہ،''ہمیں ہمیشہ لوگوں کے مذہبی جذبات کا بے حد احترام کرنا چاہئے۔اس کا اظہار ریاست کی تمام ظاہر اورپوشیدہ سرگرمیوں ہونا چاہئے یہاں تک کہ کوئی شے اس کے بغیر نہ ہو‘‘۔ اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے اس نے البتہ یہ بھی کہا کہ،''ہماری ریاست ایک سیکولر ریاست ہے اور ہمیں اسی بنیاد سے آگے بڑھنا ہو گا‘‘۔پیوٹن نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ یورپی ریاستیں جو سکول یونیفارم سے متعلق ایسی پالیسیاں نافذ کر رہی ہیں جن کے تحت مذہبی لباس پہننا ممنوع ہے، انہیں روسی سکولوں کے لیے مثال سمجھا جائے۔خصوصاً اس سے متعلق مثال کہ وہ حجاب اپنانے والی مسلمان طالبات سے کیساسلوک روا رکھتی ہیں۔چنانچہ اس کا یہ بیان روسی اور دیگر میڈیا کے اداروں نے ملک کے سکولوں میں حجاب پر پابندی کی کھلم کھلا حمایت سے تعبیرکیا۔اس کا یہ موقف دوسری انتہا پسند سیکولر ریاستوں مثلاً فرٖانس، بیلجیم،جرمنی، کینیڈا،ترکی اور ازبکستان کے موقف کی ہی نقل ہے جنہوں نے اپنے اپنے ممالک میں حجاب یا نقاب پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

 

حزب التحریرکے مرکزی میڈیا آفس کی نمائندہ ڈاکٹر نسرین نواز نے مسٹر پیوٹن کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:
''پیوٹن کی جانب سے روسی ریاست کو اپنے شہریوں کے مذہبی عقائد کا احترام کی دعوت دینا کھلم کھلا جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ وہی ریاست ہے جو اس سے قبل اپنی مسلم اقلیت پر جابرانہ پالیسیوں کے تحت ظلم وزیادتی کا ایک طویل ماضی رکھتی ہے، جس کی تصدیق روسی ادارہ برائے انسانی حقوق بھی کر چکا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں روسی سیکورٹی ایجنسیوں نے ایسی کئی مسلمان خواتین کو جن کے رشتہ دار مرد اسلامی دعوت کی جدوجہد میں مصروف تھے،ہراساں اورگرفتار کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی ،یہاں تک کہ ان کو چھریوں کا ساتھ دھمکی دی۔تاکہ ان کے مردوں کو ان کے اسلامی فرض کی ادائیگی سے باز رہنے پر مجبور کیا جا سکے۔ان میں سے بعض کے بچوں کو روسی ریاست کی ''انتہا پسندی کے خلاف‘‘ پالیسیوں یعنی ''اسلام دشمن‘‘ پالیسیوں کے تحت یتیم خانوں کے سپرد کردیا گیا ہے۔ ان معصوم مسلمان خواتین پر ظلم کرنے کے بعد بھی پیوٹن مطمئن نہیں ہوا چنانچہ اب اس نے روسی سکولوں سے نیک مسلمان لڑکیوں کو بے دخل کرنے کی ٹھان لی ہے۔جس کی وجہ محض یہ ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق لباس پہنتی ہیں ۔اس طریقے سے پیوٹن مسلمان روسی خواتین کی اسلامی احکامات پر عمل کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا اور اور ان پر زبردستی باطل سیکولر عقائد ٹھونسنا چاہتا ہے۔
''ایک طرف تو پیوٹن مذہبی عقائد کے احترام کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف مسلمان لڑکیوں کی پہنچ سے تعلیم کو دور رکھ کر انہیں دوسرے درجے کاشہری ٹھہرانا چاہتا ہے؛محض اس لیے کہ وہ اپنے اسلامی فرائض پر عمل کر رہی ہیں۔وہ فخریہ اپنی ریاست کے سیکولر ہونے کا اظہار کرتا ہے جبکہ یہ وہ نظریہ حیات ہے جس نے بار ہا مذہبی اقلیتوں اور مختلف معاشرتی طبقات کے خلاف عدم برداشت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ نیز یہ نظریہ سیکولر ریاستوں میں حجاب، نقاب اور میناروں پر پابندی عائد کر کے تمام لوگوں کے حقوق کی ضمانت دینے میں بھی ناکام رہا ہے۔
مسلمان خواتین واضح طور پر سمجھ چکی ہیں کہ سیکولر ریاستوں میں ''احترام‘‘ صرف ان کا حق ہے جو ان سیکولر عقائد پر اعتقاد رکھیں جبکہ رسوائی، بدنامی، تعصب اورزیادتی ان لوگوں کا مقدر بن چکی ہے جو اپنے مذہبی عقائد سے لگاؤ رکھتے ہیں اور اس سیکولر نظام تلے زندگی گزار رہے ہیں۔یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو ایک طویل عرصے سے اس فکری بحث میں شکست کھا چکا ہے کہ عادلانہ، منصفانہ اور مکمل طور پر آپس میں ہم آہنگ معاشرہ کیسے تشکیل دیا جائے‘‘۔
'' مزید برآں پیوٹن کس منہ سے مسلمان خواتین کے مذہبی جذبات کے احترام کی بات کرتا ہے جب اس کی اپنی حکومت ایسی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پرعمل پیرا ہے جنہوں نے چیچنیا کی معصوم مسلمان خواتین پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور جو پالیسیاں شام میں قاتل اسد کے ہاتھوں اس امت کی بیٹیوں کے قتل عام کی حمایت پر مبنی ہیں کیونکہ وہ اسلامی نظام کے تحت عزت سے زندگی گزارنے کا مطالبہ کر رہی ہیں‘‘۔

 

''نیزوہ سیکولر نظام جسے وہ فخریہ پیش کررہا ہے اس نے روسی خواتین کو درحقیقت دیا ہی کیا ہے؟آج روسی خواتین کو ایک وبائی مرض کی مانند پھیلتے استحصال،عورتوں اور بچوں کی خریدو فروخت،تشدد اور تنخواہ کے معاملے میں تعصب کا سامنا ہے۔اسی طرح ان سیکولر لبرل اقدار نے،جن کا ڈھنڈورا روسی حکومت پیٹ رہی ہے ، معاشرے میں خواتین کی شناخت محض ایک جنسی کھلونے کی حیثیت سے متعین کردی ہے۔ جسے کسی بھی دوسری اقتصادی شے (economic commodity)کی طرح استعمال کے بعد ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے۔چنانچہ وہ سیکولر خواتین و حضرات جو اسلام پر یہ الزام لگانا پسند کرتے ہیں کہ وہ عورتوں پر جبر کرتا ہے، انہیں پہلے اپنے گھر میں جھانک کر دیکھنا چاہئے۔ اور یہ خوب اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ مسلمان لڑکیوں کو تعلیم اور ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے والا اسلام نہیں بلکہ بنیادپرست سیکولر نظام اور مسلمان خواتین پر زبردستی جنونی لبرل نظریہ کا نفاذ ہے‘‘۔


'' بحیثیت خواتین حزب التحریر ہم روس میں اپنی دیندار بہنوں کو دعوت دیتی ہیں کہ وہ اپنے اسلامی عقائد اوردرست اسلامی لباس پر سختی سے کاربند رہیں جو حیاء اور عفت و عصمت کی اعلیٰ ترین اقدار کا مظہر ہے۔اورحجاب پر پابندی یا دیگر اسلام دشمن پالیسیوں سے ڈر کر یا دباؤ میں آکراپنے خالق حقیقی کی اطاعت ہر گز چھوڑیں کیونکہ یہ پالیسیاں اس ریاست کی جانب سے اپنائے گئے کمزور حربے ہیں ؛جو آپ کے اسلام پر عقلی ایمان کو متزلزل کرنے میں ناکام رہی ہے؛ اور آپ کے دلوں سے آپ کے دین کی خالص محبت نہیں نکال سکی۔ پس، ان باطل سیکولر عقائد کو مسترد کر دیں اور اپنے اسلامی عقائد اور فرائض پر مضبوطی سے جمی رہیں اور یہ جان لیں کہ آپ ہی ہیں جنہوں نے خالقِ کائنات، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی ہے۔ نیزاس ریاست خلافت کے قیام کے لیے بھرپور جدوجہد کریں جس کے سایے تلے آپ عزت سے اپنا اسلامی لباس پہن سکیں گی اور حقیقی احترام اور سلامتی کے ماحول میں اپنے اسلامی فرائض پورے کر سکیں گی‘‘۔


إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّواْ عَن سَبِیْلِ اللّہ فَسَیُنفِقُونَہَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُونَ وَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِلَی جَہَنَّمَ یُحْشَرُونَ
(ترجمہ معانی قرآن)''جولوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں) کو اللہ کے رستے سے روکیں سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) اُن کیلئے (موجبِ ) افسوس ہو گااور وہ مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے ‘‘۔(سورۃ الانفال :36)

 

ڈاکٹر نسرین نواز
نمائندہ مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

Read more...

پشاور میں کیانی کے غنڈوں نے رکن حزب التحریر کو اغوا کر لیا حزب التحریر کے شباب کا اغوا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات خلافت کے قیام کو روک نہیں سکتے

آج دوپہر پشاور، حیات آباد فیز 3 میں واقع خٹک مارکیٹ سے رکن حزب التحریر ڈاکٹر ذوالفقار کوجنرل کیانی کے غنڈوں نے سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں اس وقت اغوا کر لیا جب وہ اپنے بچوں کو اسکول سے لے کر واپس گھر جا رہے تھے۔ ایک طرف جنرل کیانی قوم سے یہ اپیل کرتا ہے کہ جب تک کسی پر الزام ثابت نہ ہو جائے اس کو مجرم نہ سمجھا جائے لیکن حزب التحریر کے شباب کو ان کے بچوں کے سامنے اس طرح اغوا کیا جاتا ہے جیسے وہ جیل توڑ کر بھاگے ہوئے مفرور مجرم ہوں۔ دراصل جنرل کیانی کی اس امت اور اس کی افواج کے خلاف غداریاں امت اور افواج دونوں پر واضع ہو چکی ہیں اور اب خلافت کے قیام کی پکار بھی امت اور اس کی افواج کی پکار بن چکی ہے۔

اس صورتحال سے گھبرا کر پہلے جنرل کیانی نے 5 نومبر کو ایک دھمکی آمیز بیان جاری کیا لیکن اس کے باوجود حزب کی مسلسل تیز تر ہوتی سیاسی جد و جہد سے خوفزدہ ہو کر اب جنرل کیانی ان غلیظ ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور حزب کے شباب کو جو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور اسلام کے نظام خلافت کے قیام کی پر امن سیاسی جد و جہد کر رہے ہیں، ان کے معصوم بچوں کے سامنے اٹھا کر حزب اور اس کے شباب کو خوفزدہ کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت نہ صرف حزب کے شباب کو اغوا کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات بھی قائم کیے جا رہے ہیں جس کی تازہ مثال کل لاہور میں ڈیفنس اے کی پولیس کی جانب سے حزب کے پانچ شباب کے خلاف نفرت انگیز پوسٹر لگانے کے الزام میں مقدمے کا اندراج ہے جبکہ ایسا کوئی واقع سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔ حزب التحریر جنرل کیانی کو یہ بتا دینا چاہتی ہے کہ نہ تو اس سے قبل پاکستان میں حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ کا اغوا اور شباب کے خلاف سینکڑوں جھوٹے مقدمات حزب اور اس کے شباب کو خوفزدہ کر سکے ہیں اور نہ ہی اب ڈاکٹر ذوالفقار کا اغوا اور لاہور میں جھوٹے مقدمات کا اندراج حزب کی جد و جہد میں کسی کمی کا باعث بنیں گے۔

حزب التحریر نے پاکستان، اس کی عوام اور افواج کے خلاف جنرل کیانی کی غداریوں کو مزید بے نقاب کرنے کے لیے ایک پمفلٹ جاری کر دیا ہے جس کا عنوان ہے "اے کیانی! یہ تم ہو جو پاکستان کو کمزور کر رہے ہو اور خود کو اپنی قوم سے جدا کر رہے ہو کیونکہ تم اس خلافت کے قیام کو روک رہے ہو جسے مسلمان اپنا نظام سمجھتے ہیں

جنرل کیانی یہ جان لے کہ اسلام، اس امت اور اس کی افواج کے خلاف کفار کی مدد و معاونت کر کے اس نے انتہائی گھاٹے کا سودا کیا ہے کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا وعدہ ہے کہ خلافت قائم ہو کر رہی گی۔ لہذا اس کے لیے صرف دو ہی راستے ہیں یا تو افواج پاکستان کی قیادت سے سبکدوش ہو جائے اور ان مخلص لوگوں کے لیے راستہ چھوڑ دے جو پاکستان سے کفریہ سرمایہ دارانہ نظام اور امریکی راج کا خاتمہ کر کے خلافت کے قیام کے ذریعے اللہ کے دین کو نافذ کرنا چاہتے ہیں یا پھر اس امت، اس کی افواج اور سب سے بڑھ کر اللہ سبحانہ و تعالی کے غیض و غضب کا شکار ہونے کی تیاری کر لے۔

ثم تکون الخلافة علی منھاج النبوة
"پھر نبوت کے نقشِ قدم پر یہ خلافت قائم ہو گی۔" (مسنداحمد)

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

شہزاد شیخ

Read more...

غدار حکمران کراچی کو بھی امریکی جنگ کی آگ میں جھونک دینا چاہتے ہیں کراچی کے حالات کے ذمہ دار سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار ہیں

سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی انجن کراچی کو امریکی جنگ کی آگ میں جھونک دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لیے عوامی حمائت کے حصول میں زبردست ناکامی کے بعد کراچی کی صورتحال کی ذمہ داری قبائلی مسلمانوں پر ڈال کر سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ کو قبائلی علاقوں کے بعد اب پاکستان کے بڑے شہروں تک پھیلا دینا چاہتے ہیں۔ یہ بات پاکستان کے عوام جان چکے ہیں کہ اس امریکی جنگ کا مقصد افواج پاکستان اور مخلص مسلمانوں کے درمیان فتنے کی جنگ کو جاری رکھنا اور دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کو اس امریکی جنگ کے ذریعے ایک کمزور اور بھارت کی طفیلی ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔ کراچی میں قتل و غارت گری، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کو اس لیے پھلنے پھولنے دیا جا رہا ہے تا کہ کراچی کے لوگ فوج سے درخواست کریں کہ وہ کراچی میں امن و عامہ کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے مداخلت کرے۔ اندرونی امن وعامہ کو قائم رکھنا پولیس کا کام ہے نہ کہ فوج کا، بلکہ فوج کا کام تو ملک اور اِس کے باسیوں کو امریکہ کی جارحیت سے محفوظ رکھنا ہے۔

9 اگست 2011 کو اس وقت کے سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان نے امریکی قونصل جنرل 'ولیم مارتھن' سے ملاقات کرنے کے بعد بتایا کہ امریکہ کراچی شہر کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے جدید آلات اور دوسری expertise دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی میں آپریشن کا مطالبہ درحقیقت امریکہ کا مطالبہ ہے۔ کراچی جہاں ریاست کے تمام ادارے پولیس، رینجرز، فوج، عدلیہ، انتظامیہ اور سیاسی جماعتیں موجود ہوں وہاں یہ کہنا کہ اس شہر کی ابتر صورتحال کے ذمہ دار قبائلی مسلمان ہیں ایک کھلا جھوٹ ہے اور کراچی کے عوام اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ درحقیقت سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار جن علاقوں میں امریکی فتنے کی جنگ کو پھیلانا چاہتے ہیں وہاں کے حالات کو پہلے امریکی سی۔آئی۔اے، بلیک واٹر اور ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے ذریعے خراب کیا جاتا ہے اور اس کی ذمہ داری قبائلی مسلمانوں پر ڈال دی جاتی ہے۔ پھر حکومتی رٹ کی بحالی کے نام پر اس علاقے میں فوجی آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں اس علاقے کی معاشی اور معاشرتی زندگی تباہ و برباد ہو جاتی ہے اور پاکستان مزید کمزور ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن علاقوں میں بھی فوجی آپریشن شروع کیا گیا وہاں آج کے دن تک زندگی معمول پر نہیں آسکی کیونکہ مقصد امن وامان اور حکومتی رٹ بحال کرنا نہیں ہوتا بلکہ فتنے کی جنگ کو مزید بھڑکانا اور دنیا کی طاقتور مسلم ریاست پاکستان کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔

حزب التحریر پچھلے ایک سال سے امت کو خبردار کرتی آ رہی ہے کہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار اس فتنے کی جنگ کو پاکستان کے بڑے شہروں تک پھیلا دینا چاہتے ہیں۔ لہذا حزب ایک بار پھر امت کو خبردار کرتی ہے کہ جس طرح انھوں نے غدار حکمرانوں کی تمام سازشوں کو مسترد کرتے ہوئے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی حمائت سے انکار کیا ویسے ہی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کی کراچی کو امریکی جنگ کی آگ میں جھونکنے کی اس سازش کو بھی ناکام بنا دیں اور کراچی میں فوجی آپریشن کی حمائت سے انکار کر دیں۔

حزب التحریر افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران سے مطالبہ کرتی ہے کہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کو فوراً ہٹائیں اور خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرة فراہم کریں۔ آپ کی خاموشی ان غداروں کو اپنی سازشوں میں مسلسل ناکامی کے باوجود اپنے آقا امریکہ کی خوشنودی کے لیے اس امت کے خلاف مزید سازشیں کرنے کی ہمت اور طاقت فراہم کر رہی ہے۔ صرف خلافت کا قیام ہی پاکستان کو فتنے کی اس امریکی جنگ سے نجات دلائے گا اور مسلم افواج کے ہتھیار اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف استعمال ہونے کے بجائے مقبوضہ مسلم علاقوں کو کفار کے تسلط سے نجات دلانے کے لیے استعمال ہوں گے۔

 

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

شہزاد شیخ

Read more...

عید الاضحی کے مبارک موقع پر حزب التحریر کی طرف سے عید مبارک

اللہ اکبر ،،،اللہ اکبر ،،،اللہ اکبر ،،،لا الہ الاّ اللہ ،،، اللہ اکبر ،،، اللہ اکبر ،،، وللہ الحمد

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود سلام ہو اللہ کے رسول ﷺ ،آپ ﷺ کے آل واصحاب اور متوالوں پر، ہر اس شخص پر جس نے آپ ﷺ کی پیروی کی اور آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلا اور اسلامی عقیدے کو ہی اپنی فکر کی اساس اور احکام شرعیہ کو ہی اپنے فیصلوں کے لیے معیار اور مصدر بنایا۔امّا بعد،

اے دنیا بھر کے مسلمانو! ہمیں خوشی ہے کہ ہم، حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر کے امیر جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو رَشتہ کی طرف سے پوری امت مسلمہ کو عید الاضحی کی مبارک باد پہنچا رہے ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی مسرت ہے کہ ہم حزب التحریر کے شباب (جوانوں) اور شابات (بہنوں) کو بھی مبارکباد پہنچا رہے ہیں جو جابرانہ عہد کی حکومتوں کے تابوت میں آخر کیل ٹھوکنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور اس خلافت کے قیام کے ذریعے اللہ کے کلمے کو بلند کر نے کے لیے جد و جہد میں مصروف ہیں جس کی بشارت اللہ کے بندے اور رسول ﷺ نے دی ہے۔

گزشتہ سال ہم اللہ الحی القیوم کے سامنے بہت گڑگڑائے کہ خلافت راشدہ کے قیام کے ذریعے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب کر دے اور اب ہم شام کے ظالم و جابرکو گرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

شام کے انقلاب کو مغربی ملکوں اور خاص کر ان کے سرغنہ امریکہ کی جانب سے دن رات کی سازشوں کا سامنا ہے۔ وہ دمشق کے جابر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے دن دھاڑے قتل و غارت گری اور خونریزی میں مصروف ہیں اور بشار الاسد قتل و غارت اور تباہی پھیلانے کے لیے ہر قسم کے دستیاب و سائل کو بروئے کار لا رہا ہے۔ یہ شام کے انقلاب کے کوکھ سے ریاست خلافت کے جنم لینے کے بارے میں مغربی قائدین اور غدار مسلم حکمرانوں کے خوف کی واضح دلیل ہے۔ اگر اہل شام امریکی ڈکٹیشن اور اس کے ایجنٹوں کے سامنے جھکتے تو یہاں بھی وہ ایک اور کرزئی یا طنطاوی مسلط کرنے میں کامیاب ہو جاتے جو انقلاب کو امریکی مفاد میں موڑدیتا...یوں امریکی کونسل جس کو قومی کونسل کا نام دیا گیا ہے کے داعی قصرِ مہاجرین میں شام کے انقلاب کے امین کے طور پر داخل ہو نے میں کامیاب ہو جاتے، حالانکہ یہ امریکی اور ترک حکومت کے گماشتوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں...لیکن انقلابیوں کے گزشتہ جمعے کے مظاہروں میں ان کا پردہ بھی چاک کر دیا جب انہوں نے یہ نعرے بلند کیے کہ "اے امریکہ !کیا اب بھی ہمارے خون سے تمہاری پیاس نہیں بجھی" جو امریکی مکاری کی حقیقت کے بارے میں ان کی بیداری کی دلیل ہے۔

پوری امت مسلمہ کو عید الاضحی کی مبارک باد پیش کر نے کے موقعے کو غنیمت سمجھتے ہوئے ہم تمام مسلمانوں ،خاص کر قائدین اور فوجی افسران اور تبدیلی لانے پر قدرت اور طاقت رکھنے ولوں کو اس شام میں موجود ان کے بھائیوں اور اپنوں کی مدد کے حوالے سے ان کی ذمہ داری یاد دلاتے ہیں جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "شام اسلام کا مسکن ہے"...اور ہم اپنے شامی بھائیوں کو اللہ کی اس مدد کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا اللہ وعدہ فرما چکے ہیں، ان کو چاہیے کہ انتہائی خلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں اس کو راضی کرنے کے لیے قربانی دیتے رہیں تاکہ وہ دو کامیابیوں میں سے ایک کو حاصل کر لیں یعنی نصرت یا شہادت۔

جس وقت میں آپ کو اور پوری امت مسلمہ کو حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے سربراہ اور اس میں کام کرنے والوں کی طرف سے عید الاضحی کی مبارک باد پہنچا رہا ہوں وہاں میں اللہ سبحانہ وتعالی سے التجا کر رہا ہوں کہ آئندہ عید اس حال میں آئے کہ امت مسلمہ رایہ عقاب (اسلامی جھنڈے) کے سائے میں زندگی گزار رہی ہو، وحدت اور اللہ کے اذن سے کامیاب اور باعزت بن چکی ہو، اس کو اس کی قیادت دوبارہ مل چکی ہو۔ یقینا وہی کارساز اور قدرت والا ہے۔(آمین)

اے اللہ اے الحی القیوم اے رحم کرنے والے کرم کرنے والے آسمانوں کو بغیر ستون کے اٹھانے والے خلافت کے ذریعے ہماری آنکھیں ٹھنڈی کر دے، اپنے دشمنوں دمشق کے جابر، اس کی مدد اور حمایت کر نے والوں کے مقابلے میں ہماری بھر پور مدد فرما، تیری راہ میں جہاد کرنے والوں کی ہر جگہ مدد فرما، ان کو تیرے کلمے کو بلند کرنے اور تیرے دین کی مدد میں کامیاب کر دے۔ (آمین)

ہم آپ کومتوجہ کرنا پسند کرتے ہیں کہ اس مبارک عید کی مناسبت سے ایک خاص براہ راست پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جو جمعے کے دن سے شروع ہو گا جو کہ عید الاضحی کا پہلا دن ہے۔

ہمیشہ خوش اور سلامت رہو اللہ تمہاری نیکیوں کو قبول کرے

والسلام علیکم ورحمة اللہ وبر کاتہ

سبحانک اللہم وبحمدک نشہد ان لا الہ الاّ انت نستغفرک ونتوب الیک

عید الاضحی کی رات 1433 ہجری

عثمان بخاش

ڈائریکٹرمرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

 

Read more...

ملالہ یوسفزئی پر حملے میں ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک ملوث ہے ملالہ پر حملہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے لئے عوامی حمائت حاصل کرنے کی انتہائی سفاکانہ کوشش ہے

ملالہ یوسفزئی پر حملہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کی دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کو ملک کے مزید علاقوں تک پھیلانے کے لئے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی ایک انتہائی سفاکانہ کوشش ہے۔ ماضی میں کبھی ایک جعلی ویڈیو تو کبھی GHQ پر حملے کو سوات اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے لئے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ لیکن پھر عوام امریکہ اور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کے اس طریقہ واردات کو سمجھ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ مہران نیول بیس کراچی اور کامرہ میں فضائی اڈوں پر حملوں کے باوجود غدار حکمران اس امریکی جنگ کو پاکستان کے مزید علاقوں تک پھیلانے کے لئے عوام کی حمائت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

لوگ یہ جان چکے ہیں کہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار ہی ہیں جنھوں نے بلیک واٹر اور ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکی دہشت گرد تنظیموں اور لوگوں کو ملک میں آزادانہ نقل و حرکت کرنے کی جازت دی ہوئی ہے اور پھر یہی ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک فوجی تنصیبات پر حملے کرواتا ہے اور ان حملوں کی ذمہ داری فوراً قبائلی علاقوں کے مسلمانوں پر ڈال دی جاتی ہے۔ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار اپنی اس حکمت عملی میں ناکامی کے بعد عوامی حمائت کے حصول کے لئے ایک نئے اور مزید سفاکانہ طریقہ واردات کے ساتھ سامنے آئے ہیں اورانھوں نے چودہ سالہ معصوم ملالہ یوسفزئی کو اپنے مکروہ عزائم کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی ہے۔

جنرل کیانی اور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار اگر اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کے ناحق خون بہنے پر اتنے ہی فکر مند ہوتے توامریکہ اور مغرب کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کی شان میں مسلسل ہونے والی گستاخیوں پر موت کی سی خاموشی اختیار نہ کرتے، سلالہ کے چوبیس فوجی جوانوں کے مقدس خون کا سودا نیٹو سپلائی لائن کھول کر نہ کرتے، قبائلی علاقوں کے مسلمان مردوں، عورتوں اور معصوم بچوں کو امریکی ڈرونز کے رحم کرم پرنہ چھوڑ دیتے، قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کواس کے بچوں کے ساتھ کافر امریکہ کے حوالے نہ کرتے، کراچی سمیت پورے ملک میں جاری قتل و غارت گری کے واقعات پر خاموشی اختیار نہ کرتے اور پاکستان میں حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ کی طرح لوگوں کو ان کے بچوں کے سامنے اپنے غنڈوں کے ہاتھوں اغوا نہ کرواتے اور ہزاروں لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں عدالتوں کے سالوں سے چکر نہ لگا رہے ہوتے۔

جنرل کیانی کی 13 اگست 2012 کی کاکول اکیڈمی کی تقریر کہ "انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے اور ہم اس کو لڑنے میں حق بجانب ہیں اور اس باری میں کوئی شک نہیں رہنا چاہیے ورنہ ہم تقسیم ہوں جائیں گے اور خانہ جنگی کا شکار ہو جائیں گے" اور ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملے کے موقع پر جاری ہونے والے بیان کہ "ہم لڑیں گے چاہے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے" سے واضع ہے کہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار جنرل کیانی کی قیادت میں قوم کو اس بات پر مجبور کرنے کی سفاکانہ طریقے سے کوشش کر رہے ہیں کہ قوم نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اسلام کے خلاف امریکی جنگ نہ سمجھے بلکہ اس کو اپنی جنگ سمجھ کر قبول کر لے۔ حزب التحریر معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں اور ریمنڈ ڈیوس نیٹ کی اس مذموم اور سفاکانہ دہشت گردی کی بھرپور مذمت کریں۔

حزب التحریر افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران سے مطالبہ کرتی ہے کہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کو فوراً ہٹائیں اور خلافت کے قیام کے لئے حزب التحریر کو فوری نصرة فراہم کریں۔ آپ کی خاموشی ان غداروں کو اس امت کے خلاف مسلسل سازشیں کرنے کا حوصلہ فراہم کر رہی ہے۔ صرف خلافت ہی پاکستان کو اس امریکی جنگ کی دلدل سے نکال سکتی ہے اور پاکستان اور خطے کو امریکی اثر و رسوخ سے پاک کر سکتی ہے۔

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان
شہزاد شیخ

 

Read more...

گیس کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافہ عوام کے ساتھ جمہوریت کا انتقام ہے

صرف خلافت ہی امت کو مہنگی توانائی اور اس کی قلت سے نجات دلائے گی

2اکتوبر2012کو مشیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹرعاصم حسین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تیل و گیس کی کئی کمپنیوں نے پچھلے چند سالوں کے دوران گیس کے ذخائر دریافت کرنے کے باوجود انھوں نے نئے ذخائر کی دریافت کا اعلان نہیں کیا تھا کیونکہ انھیں اس کی کم قیمت مل رہی تھی لیکن پیٹرولیم پالیسی 2012کے اعلان کے بعد یہ کمپنیاں نئے دریافت شدہ ذخائر سے نئی قیمتوں پرگیس کی پیداوار دینے کے لیے تیار ہو گئیں ہیں ۔ اس ظالم حکومت نے 2012کی پیٹرولیم پالیسی میں نئے دریافت ہونے والے ذخائر سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت 3.24 ڈالرMMBTUسے بڑھا کر 6ڈالرMMBTU کردی ہے۔یہ ہے سرمایہ دارانہ نظام کا کمال کہ انسانی اور ملکی ضرورت کی ایک انتہائی اہم چیز کی پیداوار صرف اس لیے نہیں لی جارہی تھی کیونکہ چند کمپنیوں کو ان کی مرضی کا منافع حاصل نہیں ہورہا تھا ۔ یہ مجرمانہ اور ظالمانہ فعل اس وقت اختیار کیا گیا جب ملک میں گیس کی قلت کی وجہ سے ہزاروں صنعتیں ہفتوں بند رہیں، لاکھوں مزدور بے روزگاری کا شکار ہو کر فاقوں پر مجبور ہوئے اور ملکی معیشت کو اس کے نتیجے میں کھربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ جمہوری حکمران اس حقیقت کو پہلے دن سے جانتے تھے لیکن انھوں نے چار سال تک خاموشی اختیار کی اور جب گیس کی قلت کا بحران انتہأ کو پہنچ گیا تونئی پیٹرولیم پالیسی کا اعلان کرکے ساتھ ہی عوام کو یہ خوش خبری بھی سنائی کہ اس سال سردیوں میں گیس کی قلت میں کمی واقع ہو جائے گی۔ OGDCL(آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیڈڈ)،جس کا پاکستان کی تیل کی پیداوار میں حصہ 58فیصد اور گیس کی پیداوار میں 27فیصد حصہ ہے ، نے مالیاتی سال 2011-12میں بعد از ٹیکس 91ارب روپے کا خالص منافع کمایا جو کہ 2010-11کے مالیاتی سال سے 27ارب روپے زائد ہے۔اگر صرف ایک کمپنی کا ایک سالانہ منافع اس قدر زیادہ ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ باقی کمپنیاں بھی سالانہ اربوں روپے کمارہی ہیں اور اب نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد ان کے منافعوں میں مزید کئی گنا اضاٖفہ ہوجائے گا۔ مشیر پیٹرولیم کا بیان اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جمہوریت اور آمریت دونوں صورتوں میں سرمایہ دارانہ نظام ہی نافذ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور استعماری طاقتیں مسلم ممالک میں آمر اور جمہوری دونوں طرح کے حکمرانوں کی حمائت کرتے ہیں کیونکہ دونوں صورتوں میں حکمران امریکہ اور مغربی طاقتوں کی منشأ کے مطابق پالیسیاں بناتے ہیں۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کہ کئی ممالک زبردست قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود ان ممالک کے عوام غربت کی دلدل میں دھنسے ہوتے ہیں جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور حکمران اس دولت سے اپنی تجوریاں بھر رہے ہوتے ہیں کیونکہ آمریت اور جمہوریت میں تیل، گیس اور معدنی وسائل کو آزاد معیشت کے نام پر نجی ملکیت میں دے دیا جاتا ہے۔صرف خلافت ہی امت مسلمہ اور انسانیت کو اس ظلم سے دلائے گی کیونکہ اسلام نے قانون سازی کا حق انسانوں سے لے کر کرہمیشہ کے لیے کرپشن کے اس دروازے کو بند کردیا ہے۔ اسلام تیل،گیس اور تمام معدنی وسائل کو امت کی ملکیت قرار دیتا ہے اور ریاست پر لازم کرتا ہے کہ وہ ان وسائل کو امت تک صرف اس پر آنے والی لاگت کی قیمت پر پہنچائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

((المسلمون شرکاء في ثلاث في الماء والکلأ والنارو ثمنہ حرام))

''تمام مسلمان تین چیزوں میں مشترک ہیں:آبی ذخائر،چراگاہیں یا جنگلات،اورآتش(توانائی کے وسائل)۔ اوراِن کی قیمت حرام ہے‘‘(داود)۔

اسلام کے صرف اس ایک حکم کے نفاذ سے کھربوں روپے کا منافع جو اس وقت حکمرانوں اورملٹی نیشنل کمپنیوں کی تجوریوں میں جارہا ہے اس کا رخ عوام کی جانب مڑ جائے گا، امت کو سستی اور وافر توانائی کے وسائل میسر ہوں گے اور سستی توانائی کی بدولت صنعتیں زبردست ترقی کریں گی۔

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان
شہزاد شیخ

 

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک