اسلام نافذ کرو، سیکولر ازم کا خاتمہ کرو
- Published in پاکستان
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- الموافق
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں موجود مسلمانوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شام میں ہمارے بھائی بہنوں کے خلاف شیطانی امریکی سازش کو بے نقاب کریں۔ یہ مغربی ساز ش ہے جس کے تحت شام میں امریکی ایجنٹ بشار الاسدکو گرنے اور اس کی شیطانی کفریہ حکومت کی جگہ نبوت کے طریقے پر خلافت کی واپسی کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ آپ پر شام کے حوالے سے صحیح رپورٹنگ نہ کرنے کا بہت زیادہ دباؤ ہےاور یہ پالیسی موجودہ حکمرانوں کے آنےسے قبل پوری طرح سے نافذ کردی گئی تھی جب کیانی-زرداری حکومت نے 29 جولائی 2012 کو شام میں پاکستان کے سفیر کو شامی وزیر اطلاعات سے شام کے انقلاب کی میڈیا تشہیر سے متعلق بات چیت کے لئے بھیجا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ہم آپ سے مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ آپ کا تعلق مسلمانوں کے میڈیا سے ہے کہ امت کو امریکی استعماری عزائم سے بچانے کے لئے آپ اپنا کردار ادا کریں۔
5 مارچ 2016 کو ڈان اخبار نے یہ خبر شائع کی کہ " دورے کا اب تک سرکاری اعلان نہیں کیا گیا لیکن ایک سے زائد حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جناب نواز شریف 9 سے 11 مارچ تک سعودی عرب کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خبریں بھی ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردی سے لڑنے کے لئےاعلان کردہ چونتیس ممالک کے فوجی اتحاد کے افتتاحی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے"۔ ایک ایسے وقت پر جب امریکہ شام میں اپنے وفادار ایجنٹ بشار الاسد کا متبادل تلاش کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، پاکستان کی حکومت عوامی رائے عامہ کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا وہ شامی جابر کو مقدس اسلامی انقلاب سے بچانے کے لئے بننے والے اتحاد میں حصہ لے سکتی ہے یا نہیں جس کا نعرہ ہی یہ ہے کہ ، الأمةتريدخلافةمنجديد"امت دوبارہ خلافت چاہتی ہے"۔
اسلام اور خلافت کے خلاف جنگ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے راحیل-نواز حکومت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے غیض و غضب کو دعوت دے رہی ہے اور اس نے خلافت کے داعیوں کے اغوا اور ان کو غائب کردینے کے سلسلے کو مزید تیز کردیا ہے۔ 9 فروری 2016 کو خلافت کے داعی اور انتہائی معزز لیکچرار، کامران کو لاہور سے راحیل-نواز حکومت کے غنڈوں نے اس وقت اغوا کرلیا جب وہ گھر سے اپنے کام پر جانے کے لیے نکلے تھے اور اب تک ان کے متعلق کوئی معلومات میسر نہیں ہیں۔ پھر 17 فروری 2016 کو انجینئر سعد خان جدون ، جو ایک انتہائی معزز جج کے بیٹے ہیں جنہیں اس بنا پر شہید کردیا گیا تھا----
29 فروری بروز پیر پاکستان بھر میں حکومت کے ہاتھوں ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے ۔ ممتاز قادری کا تعلق پولیس کی ایلیٹ کمانڈو فورس سے تھا جس نے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کردیا تھا۔ عدالت کے سامنے اپنے چالیس صفحات پر مشتمل بیان میں قادری نے یہ کہا تھا کہ سابق گورنر کی جانب سے توہین رسالت کی ملزمہ ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی حمایت اور توہین رسالت کے قانون کو "کالا قانون" قرار دینے کے بیانات نے اسے مشتعل کردیا تھا جس کی بنا پر اس نے سابق گورنر کو قتل کیا تھا۔
20 فروری 2016 کو انگریزی اخبار ڈان نے "عدالت میں 'قوم کے دشمنوں' کے خلاف مقدمے کی پہلی سماعت" کے عنوان سے اپنی ویب سائٹ پرخبر شائع کی کہ خصوصی عدالت 22فروری 2016 کوکالعدم تنظیم کے بارہ اراکین کے خلاف "نفرت انگیز" لیفلٹ تقسیم کرنے کے الزام میں مقدمے کی سماعت شروع کرے گی۔ یہ خصوصی عدالتیں پارلیمنٹ نے"نیشنل ایکشن پلان" کے تحت قائم کی ہیں جو کہ درحقیقت امریکی ایکشن پلان ہے جس کا مقصد اسلام کی آواز کو کچلنا ہے۔