الجمعة، 17 رمضان 1447| 2026/03/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

متفرقات الرایہ – شمارہ نمبر 589

 

 

صفحہ اول کے اوپر

 

 

بے شک خلافت کے قیام کے لیے کام کرنا محض ایک سیاسی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عبادت ہے جس کے ذریعے ہم اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں، کیونکہ یہ اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز اور ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کے لیے زمین میں خلافت اور تمکین (اقتدار) کے اللہ کے وعدے کی تکمیل ہے۔ پس رمضان وہ مہینہ ہے جس میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں، لہٰذا اسے اللہ کے ساتھ اس کے دین کی نصرت، اس کے حکم کے قیام کے لیے کام کرنے، اور "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے جھنڈے تلے امت کی وحدت کی کوشش کے عہد کی تجدید کا مہینہ ہونا چاہیے۔

 

 

===

 

صفحہ اول کے لیے

 

رمضان المبارک نصرت اور فتحِ مبین  کا مہینہ ہے

 

 

اللہ سبحانہٗ نے ہجرت کے دوسرے سال شعبان کے مہینے میں رمضان کے روزے فرض کیے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ نے قرآن نازل فرمایا:

 

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ﴾

 

"رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح نشانیاں رکھتا ہے" (سورۃ البقرۃ: آیت 185)

یہ وہ مہینہ بھی ہے جس میں اللہ نے امت کو نصرت اور فتحِ مبین سے سرفراز کیا۔ چنانچہ سترہ رمضان کو غزوۂ بدرِ کبریٰ پیش آیا جس میں مکہ کے مشرکین کو بڑی شکست ہوئی… پھر اس مبارک مہینے میں دیگر فیصلہ کن معرکے بھی ہوئے، جن کا آغاز آٹھ ہجری کے بیس رمضان کو فتحِ مکہ سے ہوا، پھر معرکہ بویب "جو موجودہ شہر کوفہ کے قریب ہے" جو فارس کا یرموک تھا، جس میں مسلمانوں نے مثنیٰ کی قیادت میں بارہ رمضان تیرہ ہجری کو فتح حاصل کی، پھر دو سو تیئیس ہجری کے سترہ رمضان کو معتصم کی قیادت میں فتحِ عموریہ ہوئی، اور چھ سو اٹھاون ہجری کے پچیس رمضان کو معرکہ عین جالوت ہوا جس میں مسلمانوں نے تاتاریوں کو شکست دی… اور اس مبارک مہینے میں دیگر کئی فتوحات بھی ہوئیں…

 

یوں روزہ قرآنِ کریم کے ساتھ جڑا ہوا ہے، وہ قرآن جس کے پاس نہ آگے سے باطل آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے… روزہ فتح اور نصرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے… روزہ جہاد کے ساتھ جڑا ہوا ہے… روزہ اللہ کے احکام کے نفاذ کے ساتھ جڑا ہوا ہے… اور ہر صاحبِ نظر و بصیرت نے جان لیا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکام ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے، چاہے وہ عبادات ہوں یا جہاد، معاملات ہوں یا اخلاق و سلوک، یا حدود و جرائم… سب ایک ہی سرچشمے سے نکلتے ہیں۔ جو شخص کتابِ کریم کی آیات اور احادیثِ مبارکہ کے نصوص میں غور کرے، اسے یہ بات واضح اور روشن نظر آتی ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام ہے جو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوتا، اور اس کی دعوت ایک ہی ہے کہ اسے ریاست، زندگی اور معاشرے میں نافذ کیا جائے۔ پس جو اللہ کی آیات کے درمیان جدائی ڈالے، اور دین کو زندگی سے جدا کرے، یا دین کو سیاست سے الگ سمجھے، اس نے بہت بڑا گناہ اور سنگین جرم کیا، جو اسے دنیا کی رسوائی اور آخرت کے دردناک عذاب تک لے جاتا ہے۔

 

اے مسلمانو: میں تمہیں یہ سب کچھ ان دنوں میں یاد دلا رہا ہوں جب مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ غزہ پر یہود کا وحشیانہ ظلم جاری ہے، پھر یہود کی جارحیت لبنان اور شام تک پھیل گئی ہے… وہ مسلمانوں کی سرزمینوں میں دندناتے پھرتے ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں۔ اور بجائے اس کے کہ حکمران مسلمانوں کی افواج کو حرکت میں لاتے تاکہ وہ یہود کے وجود سے لڑیں، ایسی جنگ کریں کہ اس کے پیچھے والوں کو بھی منتشر کر دیں اور اس مبارک سرزمین کو آزاد کرائیں… اس کے برعکس ہم انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ یہود کے ساتھ پے در پے معاہدے کرتے ہیں، بلکہ طاغی ٹرمپ انہیں جمع کر کے ذلیل کرتا ہے اور وہ اللہ، اس کے رسول اور مؤمنین سے بھی حیا نہیں کرتے!

 

اے مسلمانو: یہود سے جنگ، ان کا قتل اور ان کے وجود کا خاتمہ، اس جبر کی بادشاہت اور ایجنٹ حکمرانوں کے دور کے بعد ایک راشد اور مجاہد خلیفہ کی قیادت میں لازماً ہو کر رہے گا۔ پس رسول اللہ ﷺ کی بشارت اپنے وقت پر ان شاء اللہ ضرور پوری ہو گی، جیسا کہ احمد نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا: «ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ. ثُمَّ سَكَتَ» "پھر جبر کی بادشاہت ہو گی، وہ رہے گی جب تک اللہ چاہے گا، پھر وہ اسے اٹھا لے گا جب چاہے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی۔ پھر آپ خاموش ہو گئے۔"

 

اور اسی طرح اس حدیث کے مطابق جسے مسلم نے روایت کیا: «لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ...» "تم ضرور یہود سے قتال کرو گے اور انہیں قتل کرو گے…"

 

اور آخر میں، جس طرح ہمیں روزہ رکھنے کی حرص ہونی چاہیے تاکہ اللہ ہم سے راضی ہو اور ہمارے پچھلے گناہ بخش دے، اسی طرح ہمیں اسلامی زندگی کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے خلافتِ راشدہ کے قیام کی جدوجہد پر بھی حریص ہونا چاہیے، تاکہ ہم دنیا میں اللہ کے احکام کے نفاذ کے ذریعے کامیاب ہونے والوں میں شامل ہوں، رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے، رایۃِ عقاب، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے جھنڈے کے سائے تلے رہنے والے ہوں۔ اور آخرت میں بھی اللہ کے سائے تلے، اللہ کے اذن سے کامیاب ہوں، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا، پس ہم دونوں جہانوں میں کامیابی پائیں، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

 

حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے رمضان المبارک 1447ھ کے آغاز کے موقع پر دی جانے والی مبارکباد سے اقتباس۔

 

===

 

مرکزی کلام کے تحت

 

ہندو ریاست کے وزیراعظم کا یہودی وجود  کا دورہ مسلمانوں کے خلاف اپنے اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیےہے

 

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 25 فروری 2026 کو یہودی وجود کا دورہ کیا۔ اس سے قبل اس نے اپنے 'ایکس' (X) اکاؤنٹ پر لکھا: "میں آج اور کل اسرائیل کا دورہ کروں گا، ہمارے ممالک کے درمیان ایک مضبوط اور کثیر الجہتی  اسٹریٹجک شراکت داری ہے، اور حالیہ برسوں میں تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے"۔

 

الرایہ: ان تعلقات کو مودی کے اس اعلان سے مزید تقویت ملی کہ بھارت غزہ پر جارحیت اور وہاں کے عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ میں یہودی وجود کی حمایت کرتا ہے۔ کیونکہ مودی کی قیادت میں بھارت اپنے ملک کے اندر اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف اسی طرح کی جنگ لڑ رہا ہے۔

 

بے شک ہندو ریاست اور یہودی وجود اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی دشمنی کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں اور وہ اسلامی ممالک پر قابض ہیں۔ بھارت نے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے زبردستی انضمام کا اعلان کیا تھا، اور یہودی فلسطین پر قابض ہیں، حالانکہ یہ دونوں اسلامی ممالک ہیں جنہیں مسلمانوں کی آغوش میں واپس آنا چاہیے اور یہاں ویسے ہی اسلام کے ذریعے حکومت ہونی چاہیے جیسے کہ 13 صدیوں سے زیادہ عرصے تک رہی ہے۔

===

ہمارا چھٹکارا ان نظاموں کے اندر سے ممکن نہیں جو ہم پر حکمران ہیں

 

 

شاید ہم میں سے کچھ کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو کہ امریکہ جن معاشی بحرانوں، سیاسی تقسیم اور سماجی بکھراؤ کا شکار ہے، اس کے باوجود وہ گر کیوں نہیں رہا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بدقسمتی سے وہ ہماری ہی بنیادوں پر زندہ ہے۔ ڈالر میں ہمارے تیل کی تجارت اس کی کرنسی کو غالب رکھتی ہے، ہمارے مالیاتی ذخائر اس کے قرضوں کو سہارا دیتے ہیں، ہمارے ہتھیاروں کے سودے اس کی فیکٹریوں کو جلا بخشتے ہیں، اور ہمارے حکمرانوں کی اس سے وابستگی اسے ہر فورم پر قانونی جواز فراہم کرتی ہے۔

 

یعنی یہ ہم ہی ہیں جو اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ ہم پر قابض رہے، ہمیں قتل کرے اور ہمارے ہی وسائل سے ہمارے قتل کی قیمت وصول کرے۔ اور اگر وہ ہمارے کسی ملک کو تباہ کر دیتا ہے، تو ہمیں ہی اسے نئے سرے سے تعمیر کرنا پڑتا ہے، بشرطیکہ وہ ہمیں اس کی اجازت دے۔ کیا ہم نے یہ ادراک کیا ہے کہ ان بدترین جابروں (طاغوتوں) کی وجہ سے، جو ہم پر حکمران ہیں، ہم ذلت کے کس مقام تک پہنچ چکے ہیں؟

 

آج ہمارا سب سے اہم فرض اپنے حکمرانوں کو بے نقاب کرنا بلکہ انہیں اقتدار سے الگ کرنا ہے، اور ایک ایسی خلافتِ راشدہ قائم کرنا ہے جو ایک حقیقی اسلامی نظام کی بنیاد رکھے، جس کی وفاداری مغرب کے بجائے امت کے لیے ہو، اور جو استعماری قوانین کے بجائے اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿الَّذِينَ آمَنُواْ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُواْ أَوْلِيَاء الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفاً﴾

 

"ایمان لانے والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کفر کرنے والے طاغوت (شیطان) کی راہ میں، پس تم شیطان کے ساتھیوں سے لڑو، بے شک شیطان کی چال نہایت کمزور ہوتی ہے"(سورۃ النساء، آیت  76

 

یہ ایک واضح لائحہ عمل (روڈ میپ) ہے جو دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جس میں تیسرا کوئی نہیں: وہ جو اللہ کی راہ میں لڑتا ہے، اور وہ جو طاغوت کی راہ میں لڑتا ہے۔ ہر وہ نظام جو اسلام کے خلاف برسرِ پیکار ہے، یا دعوت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے، یا غاصبوں کے ساتھ تعلقات استوار کرتا ہے، وہ طاغوت کے ساتھیوں میں سے ہے۔

===

 

﴿تَحْسَبُهُمْ جَمِيعاً وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى﴾

 

"تم انہیں متحد سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل ایک دوسرے سے جدا (پھٹے ہوئے) ہیں"

 

(سورۃ الحشر، آیت  14)

 

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 14 فروری 2026 کو میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران، جس میں تمام بڑی یورپی طاقتیں شریک تھیں، کہا: "جہاں تک امریکہ اور یورپ کا تعلق ہے، ہمارا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے"۔

 

الرایہ: امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان مماثلتوں کے باوجود، وہ اپنے متضاد مادی مفادات کی وجہ سے منقسم ہیں۔ اپنی پوری تاریخ میں یورپ نے اپنی ہی ریاستوں کے درمیان جنگوں کی ہولناکیوں کا سامنا کیا ہے، جن میں دو عظیم عالمی جنگیں بھی شامل ہیں۔ امریکہ نے اپنی آزادی کے لیے یورپی استعمار کے خلاف جنگ لڑی، اور اب وہ یورپ کے بچا کچھا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے برسرِ پیکار ہے۔

 

اے مسلمانو! امریکہ اور یورپ کے درمیان جاری اس کشمکش کی وضاحت کے لیے اللہ تعالیٰ کے کلام سے بڑھ کر کوئی اور اظہارِ بیان نہیں ہو سکتا، جہاں اللہ فرماتا ہے:

 

﴿بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعاً وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى﴾

 

"ان کی آپس کی لڑائی بہت سخت ہے، تم انہیں متحد سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل جدا جدا ہیں"(سورۃ الحشر، آیت  14

 

 

شرعی قاعدہ ہے کہ: "اعتبار لفظ کی عمومیت کا ہوتا ہے نہ کہ سبب کی خصوصیت کا"۔ حقیقت یہ ہے کہ کفار نبی ﷺ کے دور میں بھی منقسم تھے، جیسا کہ وہ آج منقسم ہیں۔ اسلام کے خلاف مشترکہ دشمنی کے باوجود وہ اندرونی خلفشار کا شکار ہیں۔ امتِ مسلمہ کا کام محض اس حقیقت کو جان لینا نہیں ہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اسے اسلام کے غلبے کو مضبوط بنانے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ یہ جائز نہیں کہ امت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے جبکہ بدعنوان ترین قیادتیں انسانیت کے وسائل پر اس طرح لڑ رہی ہوں جیسے وہ مالِ غنیمت ہو، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی شرعی ذمہ داریوں کو پورا کرے تاکہ عالمی سطح پر ایک بااثر قوت بن سکے، جو انسانیت کو مغرب کے ظلم سے نکال کر اسلام کے عدل کی طرف لے جائے۔

===

 

شہرِ رمضان المبارک: عظیم اسلام کی نصرت کے لیے ہمتیں جوان کرنے کا موقع

 

مسلمانوں کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے، جبکہ وہ اپنے دین اور اپنی امت کے خلاف اہل کفر کی چالیں دیکھ رہے ہیں، کہ انہیں ان کے رب سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ بے شک قرآنِ کریم جو ان کے ہاتھوں میں ہے، وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کی پکار بلند کر رہا ہے:

 

﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾

 

"اور ان کے مقابلے کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے طاقت اور پلے ہوئے گھوڑوں کی تیاری رکھو جس سے تم اللہ کے دشمنوں، اپنے دشمنوں اور ان کے سوا دوسروں کو، جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ انہیں جانتا ہے، دہشت زدہ کر سکو۔ اور تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا لوٹایا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا"(سورۃ الانفال، آیت  60)

 

اللہ عزوجل نے ہمارے لیے اس عظیم مہینے تک پہنچنا مقدر فرمایا ہے، جو ہمیں نفسیاتی تیاری کی قوت بخشتا ہے، اور ہمارے رویے کو دشمن کی دھمکیوں اور اس کی فوجی طاقت کے خوف سے نکال کر اللہ عزیز و حکیم کی نصرت پر مبنی عزت اور یقین کے مقام پر لے آتا ہے۔ پس اگر دشمن ہماری فوجی قوت کو چھیننے کی سازش کرے، تو رمضان میں عقیدے کی پختگی، ثباتِ قدم اور اس عظیم دین کی نصرت کے لیے ہمت کو مہمیز کرنے کا بہترین موقع ہے۔

 

بے شک رمضان وہ وقت ہے جس میں مسلمانوں کی تیاری ان کے دشمن کی تیاری کے مدمقابل آتی ہے اور اسے مغلوب کر دیتی ہے۔ پس تقویٰ اور اللہ کی طرف رجوع سے نفسیاتی تیاری مکمل ہوتی ہے، رہا مادی تیاری کا معاملہ تو اللہ اپنی قدرت و مشیئت سے اہل قوت و نصرت (اہلِ قوت و المنعہ) کو ہمارے حق میں متحرک کر دے گا، تاکہ پانسہ ظالموں پر پلٹ جائے اور اللہ کے فضل سے طاقت دوبارہ ہمارے ہاتھوں میں آ جائے۔ لہٰذا اس مہینے کا عنوان 'فتوحات کا مہینہ' ہونا چاہیے، اور ہماری تاریخ میں اس بات کی عظیم دلیلیں موجود ہیں کہ رمضان تیاری، مستعدی اور کامیابی کا مہینہ ہے۔

===

 

اسلام عقیدے اور نظام کے درمیان ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑنے کی دعوت دیتا ہے

 

 

اسلام نے جب حاکمیت (سیادت) کو شریعت کے لیے مخصوص کیا، تو اس سے مراد محض بلند و بانگ نعرے نہیں تھے، بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا مکمل نظام تھا جس سے قوانین اخذ کیے جائیں، تعلقات کو منضبط کیا جائے اور سیاست، معیشت، معاشرت اور زندگی کے دیگر تمام امور میں اسی کے ذریعے فیصلے کیے جائیں۔ پس یہاں حاکمیت کوئی محض ثقافتی انتخاب نہیں ہے، بلکہ یہ اس ایمان سے پیدا ہونے والا ایک پختہ عہد ہے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کے مفادات کو بہتر جاننے والا ہے، اور اس کی شریعت ہی لوگوں کے لیے عدل و انصاف کی فراہمی اور استحکام کی ضامن ہے۔

 

پس اسلام عقیدے اور نظام کے درمیان منقطع ہو جانے والے تعلق کو دوبارہ جوڑنے کی پکار ہے، تاکہ دین محض انفرادی رویوں تک قید نہ رہے اور نہ ہی امت کے معاملات اس کے عقیدے سے الگ رہ کر چلائے جائیں۔ یہ ایک ایسا  منصوبہ ہے جو شریعت کی حاکمیت اور امت کی وحدت پر مبنی ہے، اور اسے ہی افراتفری، غلامی اور تضادات کے چنگل سے نکلنے کی بنیاد قرار دیتا ہے۔

 

اس تصور کی طرف دعوت کوئی ٹکراؤ یا گوشہ نشینی کی دعوت نہیں ہے، بلکہ اس سوال پر ایک سنجیدہ مراجعت کی پکار ہے کہ: ہم اسلام کی بنیاد پر کیسے زندگی گزاریں؟ اور ہم اس سے اخذ شدہ احکامات کو لوگوں کے مسائل کا علاج اور زندگی گزارنے کا ایک ایسا حقیقی طریقہ کیسے بنائیں جو ان کے بحرانوں کو حل کرے، نہ کہ اسے صرف ایک ایسی میراث سمجھا جائے جسے صرف خاص موقعوں پر یاد کیا جاتا ہے؟ جب ان سوالات کو شعور اور سچائی کے ساتھ دوبارہ اٹھایا جائے گا، تو اسلام ہی سے منبثق نظام فکر و عمل کے میدان میں واحد حل بن کر ابھرے گا، جو امت کو بصیرت کی وضاحت اور سمت کی پختگی عطا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

===

 

گہرے سیاسی اسباق کا مجموعہ

 

معاشرے میں دین کے قیام کے لیے ایسی قوت کی ضرورت ہے جو اس کی حفاظت کرے، کیونکہ حکمرانی (سلطان) کے بغیر محض فکری قناعت کافی نہیں ہوتی۔ نصرت (مدد) صرف مفادات کا کوئی اتحاد نہیں بلکہ ایک جامع اصولی وابستگی ہے۔ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کام واضح مراحل سے گزرتا ہے جس میں فکری دعوت، پھر معاشرے کے ساتھ میل جول (تفاعل)، اور اس کے ساتھ ساتھ اہل قوت و اثر (اہلِ قوت و منعت) سے نصرت کی طلب شامل ہے، یہاں تک کہ ریاست قائم ہو جائے۔

 

جب ہم ان تصورات کو حقیقت سے جوڑتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی جماعتیں اور اصلاحی منصوبے اس لیے لڑکھڑا جاتے ہیں کیونکہ وہ یا تو صرف وعظ و نصیحت پر اکتفا کرتے ہیں اور اپنے افکار کے محافظ تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتے، یا پھر وہ ایسے سمجھوتوں (ڈیلز) میں شامل ہو جاتے ہیں جو ان کے منصوبے کو اس کی اصل روح سے خالی کر دیتے ہیں۔ یا پھر وہ دین کو اقتدار تک پہنچنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں، نہ کہ ایک مکمل ضابطہ حیات۔ چنانچہ آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ ، جیسا کہ بنو عامر بن صعصعہ نے کیا تھا ، نصرت میں اپنی سچائی ثابت کرنے سے پہلے ہی اقتدار میں اپنے حصے کا سوال کرنے لگتے ہیں۔

 

اس طرح، اس مرحلے کی سمجھ بوجھ تبدیلی کے حوالے سے ہماری سوچ کو دوبارہ ترتیب دیتی ہے: کہ دعوت کو ایک ایسی پناہ گاہ  کی ضرورت ہے جو اس کی حفاظت کرے، منصوبے کو ایسی قوت چاہیے جو اسے سہارا دے، اور نصرت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا عہد ہے جس کی قیمت وہ ادا کرتا ہے جو اسے پیش کرتا ہے۔ اور جو شخص نبی کریم ﷺ کا عرب کے قبائل میں تشریف لے جانے پر غور کرتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ ریاست کی تعمیر کسی ایک لمحے کا کام نہیں تھی، بلکہ یہ طویل صبر، واضح نظریے اور اصول پر ثابت قدمی کا ثمر تھا، یہاں تک کہ وہ سچا ماحول تیار ہو گیا جس نے پوچھا: "ہم کس بات پر آپ کی بیعت کریں؟" پھر جب انہوں نے اس کی قیمت جان لی تو کہا: "ہم نہ اس (عہد) سے پیچھے ہٹیں گے اور نہ ہی اسے ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے"۔

===

 

سرمایہ دارانہ بین الاقوامی ادارے: استعماری اوزار

 

 

شامی وزارتِ خزانہ نے 11 فروری 2026 کو شام کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالقادر حصریہ اور ورلڈ بینک کے وفد کے درمیان ایک اجلاس منعقد کیا، جس کا مقصد معیشت کی بحالی کے طریقوں اور متوقع بحالی کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ حصریہ نے ورلڈ بینک کے تعاون سے تین بڑے منصوبوں پر کام شروع کرنے کا انکشاف کیا، اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ منصوبے شام میں معیشت کی بحالی اور مالی استحکام کی راہ میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

 

الرایہ: ورلڈ بینک کی تاریخ قرض لینے والے ممالک کی پالیسیوں میں مداخلت اور ایسی سخت شرائط سے بھری پڑی ہے جو ان ممالک اور ان کی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ بینک ان امیر ممالک کی حمایت میں جانبداری کے لیے مشہور ہے جو اس کے زیادہ تر حصص (شیئرز) پر قابض ہیں، اسی طرح یہ قرض لینے والے ممالک کے مفاد میں پیداواری منصوبوں کی مالی اعانت کو نظر انداز کرتا ہے۔ اور اس کی جان بوجھ کر کی جانے والی بدانتظامی کے نتیجے میں قرضے حکام کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں، اور وہ شرائط جو یہ نام نہاد "معاشی اصلاحات" کے نام پر رکھتا ہے — جیسے کہ نجکاری اور سرکاری اخراجات میں کمی — غربت کا باعث بنتی ہیں۔

 

اس کی تباہ کاریوں کی مثالیں دنیا بھر میں اس کے ناکام منصوبے ہیں۔ بھارت میں اس نے 'مانا ڈیم' کے منصوبے کی فنڈنگ کی جس سے آبادی کی بے دخلی کے سوا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا، انڈونیشیا میں جنگلات کی سرمایہ کاری کا منصوبہ جس نے ماحول کو تباہ کر دیا، پاکستان میں توانائی کے منصوبے، ویتنام میں سڑکیں، نائیجیریا میں زراعت، ارجنٹائن میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے قرضے، موزمبیق میں پانی کا منصوبہ، اور دیگر وہ ممالک جو اس کی آگ میں جھلس چکے ہیں۔ معیشت کا بنیادی اور جڑ سے حل وہی ہے جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے، اور وہ ہے اس کی شریعت کا مکمل نفاذ، جس میں اقتصادی نظام بھی شامل ہے، اور یہ سب نبوت کے طریقے پر قائم خلافت کے سائے میں ہی ممکن ہے۔

===

 

امریکہ کا مغربی کنارہ کی بستیوں میں قونصلر خدمات فراہم کرنے کا اعلان

 

 

مقبوضہ بیت المقدس میں قائم امریکی سفارت خانے نے 24 فروری 2026 کو اپنے 'ایکس' (X) اکاؤنٹ پر یہ اطلاع دی کہ "بیرون ملک مقیم تمام امریکیوں تک رسائی کی کوششوں کے تحت، قونصلر عملہ جمعہ 27 فروری 2026 کو 'ایفرات' میں پاسپورٹ کی معمول کی خدمات فراہم کرے گا"۔ ایفرات ایک ایسی بستی ہے جو بیت لحم کے جنوب میں یہودیوں کی غصب کردہ زمین پر قائم کی گئی ہے۔ سفارت خانے نے یہ بھی بتایا کہ وہ بیت لحم ہی کے قریب واقع 'عیلیت' بستی میں بھی قونصلر خدمات فراہم کرے گا۔

 

الرایہ: یہ اقدام یہودی وجود کے لیے امریکی سفیر کے 21 فروری 2026 کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ اسے یہودی وجود کے پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے میں کوئی اعتراض نہیں، اور اس نے اسے نیل سے فرات تک یہودیوں کی زمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ "اگر یہودی اس تمام (علاقے) پر قبضہ کر لیں تو یہ اچھا ہوگا"۔ انہوں نے اسے وہ زمین قرار دیا جو "خدا نے ابراہیم کے ذریعے اس قوم کو عطا کی جسے اس نے چنا تھا"۔

 

بے شک امریکہ مسلمانوں کو یہ دھوکہ دے رہا ہے کہ وہ بستیوں (کی تعمیر) کو تسلیم نہیں کرتا، لیکن ایک دن ایسا آئے گا جب وہ انہیں تسلیم کر لے گا، اور پھر ان دیگر ممالک کی باری آئے گی جو نیل سے فرات تک کے خطے میں شامل ہیں۔ اس کا آغاز جنوبی شام پر قبضے سے ہو چکا ہے، جہاں وہاں کے صدر احمد الشرع نے اپنے آقا ٹرمپ کے حکم کی تعمیل میں انتہائی ذلت اور خود سپردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

===

جو نصرت چاہتا ہے وہ پہلے اسے اپنے اندر تلاش کرے

 

 

شریعت کے نفاذ پر ثابت قدم رہنا حالات کے سامنے جمود کا نام نہیں ہے، بلکہ طوفانوں کے درمیان ایک واضح بصیرت ہے۔ کہ انسان یہ جان لے کہ راستہ طویل ہو سکتا ہے اور آزمائش سخت ہو سکتی ہے، لیکن حق کبھی ضائع نہیں ہوتا جب تک زمین پر اسے سچائی کے ساتھ تھامنے والے موجود ہوں۔ پس حقیقی نصرت اس دن شروع نہیں ہوتی جب شہر فتح ہوتے ہیں یا جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، بلکہ یہ اس دن شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے خوف، اپنی خواہش اور اپنی ہچکچاہٹ پر فتح پا لیتا ہے، اور اس بات پر وفادار رہنے کا انتخاب کرتا ہے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔

 

قوموں کے بارے میں اللہ کی یہی سنت رہی ہے۔ کہ جب دل درست ہو جاتا ہے تو راستہ سیدھا ہو جاتا ہے، اور جب راستہ سیدھا ہو جاتا ہے تو تمکین (اقتدار و غلبہ) اس وقت آتا ہے جس کا انتخاب اللہ کرتا ہے، نہ کہ وہ وقت جس کی لوگ جلدی کرتے ہیں۔ یہ کوئی سست انتظار نہیں ہے، بلکہ یہ وہ عمل، صبر اور یقین ہے جو انسان کو قدم بہ قدم آگے لے جاتا ہے، یہاں تک کہ نظریہ ایک حقیقت میں، صبر فتح میں، اور وعدہ ایک ایسی سچائی میں بدل جاتا ہے جسے سب دیکھ لیتے ہیں، حالانکہ پہلے اس پر صرف چند لوگ ہی ایمان لائے تھے۔

 

لہٰذا جو نصرت چاہتا ہے وہ اسے سب سے پہلے اپنے اندر تلاش کرے۔ اپنی نیت کی سچائی میں، اپنے نظریے کی وضاحت میں، اور اپنے اس یقین میں کہ حق کا ظہور چاہے کتنا ہی مؤخر کیوں نہ ہو جائے، وہ کبھی شکست نہیں کھاتا۔ پس سچے لوگوں کو تلاش کرو اور ان میں شامل ہو جاؤ۔

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ * الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ

 

"اور اللہ یقیناً اس کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کرے گا، بے شک اللہ بڑی قوت والا اور نہایت غالب ہے * یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار (تمکین) بخش دیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے، اور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے" (سورۃ الحج، آیت  40 - 41)

===

 

 

Last modified onجمعرات, 05 مارچ 2026 08:47

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک