بسم الله الرحمن الرحيم
مصر میں سیسی حکومت اور مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کی پالیسی
تحریر: استاد سعید فضل
(ترجمہ)
مصری عوام کے خلاف مصری حکومت کے جبر و استبداد کے ابواب ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ مصری عوام کے اپنے عقیدے اور اپنی امت کے ساتھ گہرے لگاؤ کی وجہ سے، یہ جبر بہت شدید رہا ہے۔ مصر کے حکمرانوں کی آمریت کے درمیان بمشکل ہی کوئی فرق کیا جا سکتا ہے۔ ناصر مصری عوام کے لیے سادات، مبارک یا سیسی سے زیادہ مہربان نہیں تھا۔ ان سب نے مصری عوام پر ظلم ڈھانے میں حصہ لیا، اور حقیقت میں یہ وہ باؤلے کتے ہیں جنہیں امریکہ نے مصری عوام کو نقصان پہنچانے کے لیے کھلا چھوڑ رکھا ہے۔
فرعون سیسی کے لیے، جبر کوئی انفرادی معاملہ یا سیکیورٹی کی حد سے تجاوز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک منظم پالیسی کا تسلسل ہے جسے مختلف طریقوں سے نافذ کیا جاتا ہے: گرفتاری، مقدمے سے پہلے طویل حراست، جبری گمشدگی، سفری پابندیاں، اثاثوں کا منجمد ہونا، اور میڈیا کے ذریعے کردار کشی۔ اس کی ایک مثال حزب التحریر کے ارکان کے خلاف حکومت کا حالیہ ظلم و ستم ہے، جو اس وقت شروع ہوا جب ولایہ مصر میں حزب نے امت کو فلسطین کی مبارک سرزمین پر اپنے لوگوں کی حمایت کرنے کی پکار لگائی تھی۔ واشنگٹن اور تل ابیب اس مبارک مہم سے زچ ہو گئے، چنانچہ انہوں نے مصر کے فرعون کو حزب کے ارکان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا، اور ان میں سے کسی کو بھی کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ بدتر بات یہ ہے کہ ان پر تکفیر (کفر کا فتویٰ دینے) کا الزام لگایا گیا، حالانکہ وہ دین اور ایمان والے لوگ ہیں جو زمین پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کو اس کی مکمل شکل میں نافذ کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔
حکومت کو تمام قوانین، ضوابط اور انسانی اقدار، بشمول اپنے خود ساختہ قوانین کی خلاف ورزی کے قابل بنانے کے لیے، اس جابر حکومت نے پیر 25 مئی 2026 کی صبح سویرے، ایک پرامن اظہارِ یکجہتی کی سرگرمی کی بنیاد پر 'کمیٹی برائے دفاعِ اسیرانِ شعور' (Committee for the Defense of Prisoners of Conscience) کے تین رہنماؤں کو بھی گرفتار کر لیا۔ یہ منظر اس فرعونی ریاست کی حقیقت کا ایک جامع خلاصہ معلوم ہوتا ہے، جو نہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کے نفاذ کی دعوت دینے والوں، یا محض اپنے مخالفین کو قید کرتی ہے، بلکہ ان کا دفاع کرنے والوں کو بھی ظلم و ستم کا نشانہ بناتی ہے۔ یہ گرفتاری کوئی انفرادی واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس طویل تاریخ کا حصہ ہے جسے بین الاقوامی پریس اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے دستاویزی شکل دی ہے۔ یہ تنظیمیں جابر حکومتوں کے جرائم کا محض ایک معمولی حصہ ہی بیان کرتی ہیں، اور ان خلاف ورزیوں کو عوام کے سامنے ایک دھوکے کی دیوار (smokescreen) کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ اس ہولناک ریکارڈ میں وہ بات بھی شامل ہے جس کی 'ہیومن رائٹس واچ' نے مصر کے بارے میں اپنی 2016 کی رپورٹ میں تصدیق کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ حکام نے اختلافی آوازوں کو سزا دینا جاری رکھا اور صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا۔ اس رپورٹ میں برسوں پہلے یہ بھی دستاویزی طور پر درج کیا گیا تھا کہ مصر نے عوامی حلقوں کو کنٹرول کرنے کی ایک وسیع مہم کے حصے کے طور پر درجنوں خبروں اور انسانی حقوق کی ویب سائٹس کو بلاک کر دیا تھا۔ یہ محض سنسرشپ نہیں ہے، بلکہ یہ عوام تک پہنچنے والی معلومات کو مکمل طور پر اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے (engineer) کی ایک کوشش ہے۔
سیسی کے اقتدار کے خطرناک ترین پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نہ صرف اسلام کو دبانے اور مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، بلکہ اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے اور بیانیے پر اجارہ داری قائم کرنے کی بھی تگ و دو کرتا ہے۔ چنانچہ، حکومت کے ساتھ تصادم اب محض نظامِ حکومت، عوامی پالیسیوں، انتخابات یا اقتدار کی پرامن منتقلی کے بارے میں نہیں رہا، بلکہ اس بارے میں ہے کہ حقیقت کی تعریف (define) کرنے کا حق کس کے پاس ہے۔ پریس اور انسانی حقوق کی رپورٹوں نے اس بات کو ریکارڈ کیا ہے کہ مصر تکفیر، جھوٹی خبریں پھیلانے، اور کسی دہشت گرد یا غیر قانونی گروہ میں شمولیت جیسے مبہم الزامات کو ہر اس پکار یا تقریر کو مجرمانہ قرار دینے کے لیے استعمال کرتا ہے جو حکومت اور اس کے مہروں کی تعریف نہیں کرتی، قطع نظر اس کے کہ وہ کسی داعیِ دین، صحافی، کارکن، وکیل یا محقق کی طرف سے ہو۔
جب کوئی حکومت ایک اظہارِ یکجہتی کی تقریب کے بعد اسیرانِ شعور سے متعلق کمیٹی کو گرفتار کرنے کی حد تک چلی جائے، تو سیاسی پیغام بالکل واضح ہوتا ہے۔ یہ وہی پیغام ہے جو فرعون نے دیا تھا جب اس نے اعلان کیا تھا کہ "میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں" ۔یہ پیغام نہ صرف کمیٹی کے ارکان کے لیے ہے بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو حکومت کو تبدیل کرنے، اس کے جرائم کو دستاویزی شکل دینے، ان کے خلاف احتجاج کرنے، یا اس کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی دکھانے کا سوچتا ہے۔ یہ طرزِ عمل جبر کو محض براہِ راست گرفتاری سے زیادہ وحشیانہ بنا دیتا ہے، کیونکہ یہ معاشرے کے تمام طبقات میں خوف بٹھا دیتا ہے اور اظہارِ یکجہتی کو بذاتِ خود ایک خطرناک عمل بنا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اقربا پروری اور پسند ناپسند پر مبنی ایک کرپٹ ریاست میں، کوئی سفارش یا اثر و رسوخ اس کے مخالفین کا دفاع نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی بااثر یا صاحبِ حیثیت شخص کسی مخالف کی رہائی کے لیے سفارش کرنے کی ہمت نہیں کرتا، کیونکہ کسی حق دار یا مظلوم کے حق میں آواز اٹھانا ان سرخ لکیروں میں سے ایک ہے جسے سیسی کا قانون کسی کے لیے بھی عبور کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
سیسی حکومت کے جرائم اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے وہ ادارے بھی جو اس عالمی نظام سے جڑے ہوئے ہیں جو سیسی حکومت کا اصل پشتیبان ہے، مصر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر اب خفت اور شرمندگی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ وہ حکومت کی بعض خلاف ورزیوں کی کوریج کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ حق کی دعوت دینے والوں اور اسلام پسندوں کے خلاف حکومت کی زیادتیوں کی کوریج نہ کی جائے۔ متعدد رپورٹوں میں، بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں نے مصر کو خطے میں صحافتی آزادی کے لیے بدترین جابرانہ ماحول قرار دیا ہے۔ 'ورلڈ پریس فریڈم ڈے 2020' پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صحافتی آزادیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 37 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا، اور اس کارروائی کو معلومات پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی عمومی فضا سے جوڑا گیا۔ 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' نے بھی مسلسل پابندیوں، گرفتاریوں اور سنسرشپ کی وجہ سے عالمی سطح پر صحافتی آزادی کے اشاریوں میں مصر کی درجہ بندی کو انتہائی نچلی سطح پر برقرار رکھا ہے۔ 2017 میں، ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ دی کہ مصری حکام نے درجنوں پرامن کارکنوں کو گرفتار کیا اور میڈیا کی ویب سائٹس کو بلاک کر دیا، جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ بنیادی آزادیوں پر جبر شدید ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ بعد کی رپورٹوں میں کسی بھی داعی یا مخالف کو دبانے کے لیے سفری پابندیوں اور اثاثوں کو منجمد کرنے جیسے جابرانہ حربوں کے استعمال کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
اپنے ہی لوگوں میں خوف اور دہشت پیدا کرنے کی بنیاد پر قائم ریاست تمام تر پیمانوں اور معیاروں کے لحاظ سے ایک ناکام ریاست ہے۔ جب کوئی اقتدار برسوں اور دہائیوں تک گرفتاریوں، سنسرشپ اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھتا ہے، تو وہ نہ صرف آوازوں کو خاموش کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی ہیئت بدل دیتا ہے۔ ایک مسلمان جب حق اور روشنی کی دعوت دینے والے داعی کو، محض ایک رپورٹ کی وجہ سے قید صحافی کو، اپنی رائے کی وجہ سے سفر سے روکے گئے کارکن کو، یا انسانی حقوق کی سرگرمی کی وجہ سے طلب کیے گئے وکیل کو دیکھتا ہے، تو وہ جلد ہی یہ سبق سیکھ لیتا ہے کہ اپنی بقا کے لیے خاموشی ہی اس کا واحد راستہ ہے۔ یہاں پہنچ کر، سنسرشپ محض ایک سیکیورٹی اقدام کے بجائے ایک روزمرہ کی مشق میں، اور ایک سیاسی فیصلے سے بڑھ کر ایک سماجی رویے اور ایک ہمہ گیر دم گھٹتی فضا میں بدل جاتی ہے۔
سیسی کی پالیسیوں کا خطرناک ترین پہلو نہ صرف جبر کے دائرے کی وسعت ہے بلکہ وہ حمایت اور پردہ پوشی بھی ہے جو اسے عالمی نظام کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس نے بشار الاسد اور امت پر مسلط کردہ دیگر جابروں کے جرائم پر پردہ ڈالا۔ مصر کی صورتحال اب تبدیل نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ العز بن عبدالسلام جیسا کوئی مردِ حق سامنے آئے، جو سیسی اور اس کے کارندوں کو غلاموں کی منڈی میں نیلام کر دے۔ اور یہ مصری فوج کے مخلص ارکان کی جانب سے حزب التحریر کو 'نصرۃ' (فوجی مدد) فراہم کرنے کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاکہ نبوت کے نقشِ قدم پر دوبارہ خلافت قائم کی جا سکے۔
ولایہ مصر میں حزب التحریر کت میڈیا آفس کے رکن




