الأحد، 20 محرّم 1448| 2026/07/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

شمارہ الوعي کی لائبریری سے،

 

پہلا سال، شمارہ نمبر-4،

 

محرم الحرام 1408 ھ بمطابق ستمبر 1987ء

 

 

روحانی طاقت : سب سے قوی اور اثرانگیز قوت !


(عربی سے ترجمہ)

  

الوعي میگزین – شمارہ نمبر،479

 

چالیسواں سال، ذوالحج 1447ھ

 

بمطابق، جون 2026ء

 

تحریر : أحمد الطرابلسي

 

انسان جس قسم کی قوت کا حامل ہوتا ہے، اس کے اعمال بھی اسی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس لئے ان قوتوں کی نوعیت کو جانچنا اور ان کے اثرات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ لوگوں کے اعمال میں اتنا زیادہ فرق کیوں ہوتا ہے؟ کچھ لوگ عظیم کارنامے سرانجام دے دیتے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ ایسا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

 

انسان اپنی قوت کے مطابق ہی عمل کی طرف راغب ہوتا ہے۔ اس کے پاس جس نوعیت کی قوت جتنی زیادہ ہوگی، اس جانب اس کا جوش و جذبہ بھی اتنا ہی بڑا ہوگا۔ اس کی کامیابیوں کا دائرہ کار بھی اسی قوت کے تناسب سے ہوگا، جس کا وہ حامل ہوتا ہے۔ تاہم، انسان متعدد اقسام کی قوتوں کا حامل ہوتا ہے، جن میں یہ شامل ہیں: مادی قوتیں، جو کہ انسان کے بدن اور ان ذرائع سے ظاہر ہوتی ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی خواہشات اور ضروریات پوری کرتا ہے؛ اخلاقی قوتیں، جو ان اخلاقی صفات اور اقدار سے متعلق ہیں جنہیں وہ اپنانا چاہتا ہے؛ اور روحانی قوتیں، جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ انسان کے اپنے تعلق کے ادراک سے، یا احساس سے، یا دونوں سے پیدا ہوتی ہیں۔

 

درج بالا ان تینوں قوتوں میں سے ہر ایک قوت انسان کے اعمال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاہم، کسی شخص کے اعمال پر اثرانداز ہونے کے لحاظ سے یہ تینوں قوتیں مساوی نہیں ہوتی ہیں، بلکہ انسان پر ان کا اثر کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ مادی قوتیں (بدنی قوتیں) اعمال پر اثر انداز ہونے کے لحاظ سے ان قوتوں میں سب سے کمزور ہوتی ہیں، جبکہ اخلاقی قوتیں مادی قوتوں کے مقابلے میں زیادہ اثر انگیز ہوتی ہیں۔ اور جہاں تک روحانی قوتوں کا تعلق ہے، تو وہ انسان کے اعمال پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی اور سب سے زیادہ متحرک و مؤثر قوتیں ہوتی ہیں۔

محدود ترغیب:

 

مادی قوتیں، خواہ وہ جسمانی ہوں یا مادی وسائل کی صورت میں، انسان کو صرف اسی حد تک عمل پر ابھارے گی جس حد تک ان کی قدر و قیمت سمجھی جائے، اس سے زیادہ نہیں۔ بلکہ بعض اوقات یہ مادی قوت، وسائل موجود ہونے کے باوجود بھی انسان کو عمل کرنے پر نہیں ابھارتی، کیونکہ انسان ان کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کر رہا ہوتا۔ چنانچہ، ان مادی قوتوں کے اندر ترغیب دینے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے، اور محض ان کا موجود ہونا ہی عمل کرنے کو لازم نہیں کرتا۔ جب کوئی شخص کسی دشمن سے لڑنا چاہتا ہو، تو وہ اپنی جسمانی طاقت کا اندازہ لگائے گا اور اپنے مادی وسائل کا جائزہ لے گا۔ اور اگر وہ اپنی طاقت اور وسائل کو اپنے دشمن سے لڑنے کے لئے کافی پائے گا، تو وہ آگے بڑھے گا؛ بصورتِ دیگر، وہ رک جائے گا اور پیچھے ہٹ جائے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی مادی طاقت کو دشمن کو کچلنے کے لئے کافی پائے، لیکن یہ سوچنے لگے کہ وہ دشمن شاید کسی اور زیادہ طاقتور ذرائع کے ذریعے فتح حاصل کر سکتا ہے، اور یوں وہ بزدلی کا شکار ہو جائے۔ یا وہ شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ اپنی مادی طاقت کو ذاتی آرام و آسائش یا اپنا معیارِ زندگی بہتر بنانے پر صرف کرنا زیادہ بہتر ہے، اور یوں وہ سستی و کاہلی یعنی مصلحت پسندی کا شکار ہو جائے گا۔ جبکہ دشمن سے لڑنا ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس عمل کو انجام دے۔ تاہم، چونکہ انسان کی یہ خواہش اس کی مادی طاقت کے باعث محدود ہوتی ہے، اس لئے اس کا جذبہ بھی اسی طاقت کے دائرے میں مقید ہو کر رہ جاتا ہے۔ بعض اوقات انسان کے پاس تمام ضروری وسائل بھی موجود ہوتے ہیں، لیکن جب اسے ایسے حالات یا رکاوٹیں پیش آتی ہیں جو اس کے اندر خوف، بزدلی یا سستی پیدا کر دیتی ہیں، تو وہ عمل کرنے سے جھجکنے لگتا ہے۔

 

اخلاقی قوت :

 

اس کے برعکس، اخلاقی قوت پہلے انسان کے دل میں کسی کام کو کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے، اور پھر وہ انسان کو اس کام کے لئے درکار مادی وسائل اور طاقت حاصل کرنے پر آمادہ کرتی ہے، چاہے وہ وسائل ابتدا میں موجود نہ بھی ہوں۔ اخلاقی قوت بعض اوقات انسان سے ایسے کام بھی کروا دیتی ہے جو اس کی ظاہری جسمانی طاقت سے بڑھ کر ہوتے ہیں، اور بعض اوقات وہ اسی حد تک کام کرتی ہے جتنی طاقت اور صلاحیت انسان نے اپنے اندر پیدا کر لی ہو۔ بہرصورت، یہ اخلاقی قوت انسان کی جسمانی قوت کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے کارنامے انجام دے دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، وہ شخص جو ظلم سے نجات پانے، بدلہ لینے، شجاعت و بہادری دکھانے، یا مظلوموں کی حمایت جیسے مقاصد کے لئے دشمن سے لڑے گا، اس کے اندر عمل کا جذبہ اس شخص سے کہیں زیادہ ہوگا جو محض مالِ غنیمت، استعماریت، یا صرف تسلط قائم کرنے جیسے مادی مقاصد کے لئے لڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاقی قوتیں ایسے محرکات ہیں جن کا تعلق جبلّی تصورات سے اعلیٰ و ارفع تصورات کے ساتھ ہوتا ہے، اور یہ قوت اپنے لئےایک مخصوص تسکین کا تقاضا کرے گی۔ یہی چیز ان قوتوں کو اس تسکین کے لئے مادی ذرائع تلاش کرنے پر ابھارے گی، یوں یہ جبلّی تصورات پر قابو پا لے گی اور مادی طاقتوں کو اپنے تابع کر لے گی، جس کے نتیجے میں یہ اخلاقی قوتیں مادی طاقتوں سے کہیں بڑھ کر طاقت حاصل کر لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام اقوام اپنی افواج کے اندر مادی طاقتوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی قوتیں پیدا کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔

 

روحانی قوت - بے پناہ طاقت:

 

جہاں تک روحانی قوتوں کا تعلق ہے، تو نوعِ انسان پر ان قوتوں کا اثر اخلاقی اور مادی دونوں قوتوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روحانی طاقتیں انسان کےاپنے خالق، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کے ادراک سے پھوٹتی ہیں، جو کہ تمام کائنات کا خالق اور تمام قوتوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس تعلق کا یہ فکری ادراک، احساس اور جذبہ انسان کے اندر عمل کا ایسا محرک یعنی جذبہ پیدا کرے گا جو خالق کے حکم اور مطالبے کے عین مطابق ہوتا ہے، نہ کہ انسان کی اپنی طاقت یا اس قوت کے مطابق جسے وہ اپنے اندر جمع کر سکتا ہے۔ بلکہ یہ جذبہ بالکل اسی مطالبے کے مطابق ہو گا جو اس سے کیا گیا ہے، خواہ وہ مطالبہ کچھ بھی ہو، چاہے وہ اس کی مادی استطاعت کے اندر ہو، اس سے زیادہ ہو، یا کم ہو۔ یہ مطالبہ واضح طور پر جان کی قربانی کا تقاضا بھی کر سکتا ہے، یا ایسے حالات کی طرف لے جا سکتا ہے جہاں کسی کو اپنی جان قربان کرنی پڑ جائے۔ ایسے معاملات میں، انسان اس عمل کو ہر حال میں سرانجام دے گا، خواہ وہ اس کی بساط سے باہر ہو یا اس طاقت سے کہیں زیادہ ہو جو وہ اکٹھی کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے اندر موجود تمام قوتوں میں روحانی قوتیں سب سے زیادہ طاقتور، اثر انگیز اور مؤثر ہوتی ہیں۔

 

تاہم، اگر یہ روحانی طاقتیں محض جذباتی احساسات سے جنم لیں، تو عین ممکن ہے کہ دیگر جذبات کے غالب آنے کی وجہ سے اس قوت میں کمی اور تبدیلی واقع ہو جائے، یا یہ کہ یہ قوتیں ان اعمال کے علاوہ دوسرے کاموں کی انجام دہی کی طرف مڑ سکتی ہیں جن کے لئے یہ اصل میں مقصود تھیں۔ اس لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ روحانی قوتیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ انسان کے تعلق پر ایک مضبوط اور غیر متزلزل فکری عقیدے سے ہی ابھرتی ہوں۔ صرف اسی صورت میں یہ قوتیں پائیدار ہوں گی، اور ان کا بہاؤ ضرورت کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا۔ جب روحانی طاقتیں موجود ہوں، تو صرف اخلاقی طاقتیں بے معنی یعنی زائد از ضرورت ہو جاتی ہیں، کیونکہ تب انسان اپنے ذاتی محرک کے تحت نہیں، بلکہ خالصتاً روحانی محرک کے تحت عمل کرے گا۔ تب وہ انسان اپنے دشمن سے مالِ غنیمت یا فتح کی شان و شوکت کی خاطر نہیں لڑے گا، بلکہ اس لئے لڑتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؛ قطع نظر اس کے کہ مالِ غنیمت حاصل ہو یا نہ ہو، یا فتح کا جشن منایا جائے یا نہ منایا جائے، کیونکہ وہ صرف اس لئے عمل کرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ اور اس صورت میں، مادی طاقتیں عمل کرنے کا محض ایک ذریعہ بن کر رہ جاتی ہیں، نہ کہ متحرک کرنے والی قوت۔

 

اسلام نے اس بات کو پختگی سے یقینی بنایا ہے کہ مسلمان کو متحرک کرنے والی قوتیں لازماً روحانی ہوں، خواہ ان کے مظاہر مادی ہوں یا اخلاقی؛ کیونکہ اسلام نے روحانی بنیاد ہی کو پوری دنیاوی زندگی کی واحد اساس بنایا ہے۔ اسلام نے اسلامی عقیدے کو زندگی کی بنیاد، حلال و حرام کو اعمال کا معیار، اور اللہ کی رضا کے حصول کو وہ حتمی و اعلیٰ ترین مقصد بنایا ہے جس کے لئے انسان تگ و دو کرتا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں پر یہ فرض کیا ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، اللہ کے اوامر و نواہی کے مطابق، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کے فہم و ادراک کی بنیاد پر سرانجام دیں۔ یقین اور کامل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا یہی فہم وادراک اور احساس ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مسلمان کی زندگی کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو مسلمانوں کو کوئی بھی عمل کرنے پر ابھارتی ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا؛ اور یہی وہ بنیادی روح ہے جو انسان کے تمام اعمال میں ان کی دنیاوی زندگی کو برقرار اور زندہ رکھتی ہے۔ انسان کی روحانی طاقت کا معیار بالکل اسی فہم وادراک اور احساس کے معیار کے تناسب سے ہوتا ہے جو وہ اپنے اندر رکھتا ہے۔ لہٰذا، مسلمان کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ اپنی طاقت کو روحانی طاقت بنائے، کیونکہ یہی طاقت اس کا کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ اور اس کی کامیابی و کامرانی کا اصل راز ہے۔ 

Last modified onاتوار, 05 جولائی 2026 21:24

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک