الجمعة، 24 صَفر 1448| 2026/08/07
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

نیتن یاہو کا دورہِ امریکہ: اس کے اسباب اور نتائج

 

تحریر: استاد اسعد منصور

 

(ترجمہ)

 

یہودی وجود کے وزیراعظم نیتن یاہو نے 27 جولائی 2026 کو امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم کے جنازے میں شرکت کے لیے امریکہ کا دورہ کیا، جسے یہودی وجود اور اس کے جرائم کا سخت ترین حامی تصور کیا جاتا تھا۔ اگلے دن اس نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی؛ 2025 کے آغاز میں ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ ان کی آٹھویں ملاقات تھی، کیونکہ دونوں کے درمیان گہرے شیطانی تعلقات استوار ہیں۔

 

نیتن یاہو کو ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہوئی جو ڈیموکریٹک پارٹی کی حریف ہے، اگرچہ دونوں جماعتیں یہودی وجود کی بے دریغ حمایت کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وجود عالمِ اسلام کے قلب میں امریکہ کا ایک اہم فوجی اڈہ اور خطے میں امریکی مفادات کی پاسبانی کرنے والا ایک بپھرا ہوا کتا ہے۔

 

اسی لیے سابق ڈیموکریٹک صدر بائیڈن نے 18 اکتوبر 2023 کو غزہ پر جارحیت میں یہودی وجود کی مدد کے لیے اس کا دورہ کیا اور کہا تھا کہ "اگر اسرائیل موجود نہ ہوتا تو ہم اسے خود قائم کرتے"۔

 

یہودی قائدین امریکہ کے مقاصد کو خوب سمجھتے ہیں، لیکن وہ اس کی حمایت کو اپنے وجود کی مضبوطی، توسیع اور خطے پر تسلط حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ان کا مقصد 'گریٹر اسرائیل' کا قیام اور خلافت کی راہ روکنا ہے، کیونکہ خلافت کے قیام کا مطلب ان کے وجود کی فنا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے جب وہ امریکہ کی مدد سے بے نیاز ہو کر اپنی آزادی حاصل کر لیں، اور نیتن یاہو نے مختلف مواقع پر اپنے کئی بیانات میں اس کا اظہار بھی کیا ہے۔

 

نیتن یاہو نے ٹرمپ کے اپنے اوپر اعتماد اور ان کے باہمی تعلقات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، اور یہ تاثر دینا چاہا جیسے وہ امریکہ کی پالیسی میں مداخلت کر رہا ہے یا اس کے صدر پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے شام کے معاملے میں ترکی اور اس کے صدر اردگان کے خلاف نیتن یاہو کے موقف پر اسے ایک بار ڈانٹتے ہوئے کہا تھا: "میں اردگان کو پسند کرتا ہوں اور وہ مجھے پسند کرتا ہے، اس نے شام میں ہمارے لیے وہ کام کر دکھائے ہیں جو کوئی دوسرا نہیں کر سکا"۔ ایک اور موقع پر جب نیتن یاہو نے ترکی کو ایف-35 طیارے نہ بیچنے کا مطالبہ کیا تو ٹرمپ نے اسے پھر جھڑکا اور کہا: "کوئی مجھے یہ نہیں بتا سکتا کہ میں کسے کیا بیچوں اور کسے نہیں"۔ ٹرمپ نے 16 جون 2026 کو فرانس میں امیرِ قطر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران اسے علانیہ طور پر ملامت کی اور کہا: "اس نے اسرائیل کو بتا دیا ہے کہ بیروت پر اس کا حملہ اسے پسند نہیں آیا، اور اب نیتن یاہو کو لبنان کے حوالے سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ امریکہ کے بغیر اسرائیل کا کوئی وجود نہ ہوتا، اور میرے بغیر بھی اسرائیل کا وجود ممکن نہ تھا"۔ امریکی ویب سائٹ 'ایکسیس' (Axios) نے دو امریکی ذرائع کے حوالے سے یکم جون 2026 کو ٹرمپ کا نیتن یاہو سے یہ قول نقل کیا: "میں ہی تمہیں بچانے والا ہوں، اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، تم پاگل ہو، اور اب ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اور تمہاری وجہ سے ہر کوئی اسرائیل سے بھی نفرت کر رہا ہے"۔

 

یہاں سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو سے سخت بیزار ہے، کیونکہ وہ اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی اس پر حاوی نظر آئے یا اسے پلٹ کر جواب دے۔ وہ ہمیشہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور ان پر اپنی مرضی مسلط کرتا ہے، جبکہ وہ کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتا، ورنہ وہ اسے کچل ڈالتا ہے چاہے وہ اس کا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔

 

یہودی اور امریکی ذرائع بتاتے ہیں کہ نیتن یاہو دو ماہ سے ٹرمپ سے ملاقات کے لیے منت سماجت کر رہا تھا لیکن ٹرمپ انکار کرتا رہا، یہاں تک کہ جرائم کے حامی گراہم کی ہلاکت نے یہ موقع فراہم کر دیا۔ عبرانی اخبار 'معاریو' نے 31 جولائی 2026 کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ "نیتن یاہو کا دورہ امریکہ روایتی گرمجوشی سے خالی تھا؛ ایئرپورٹ پر کسی نے اس کا استقبال نہیں کیا، نہ سرخ قالین بچھایا گیا، اور کیمرے، صحافی، پریس کانفرنس اور تصاویر کھنچوانے جیسے مناظر غائب تھے۔ وہ وائٹ ہاؤس میں ایک چور کی طرح رات کی تاریکی میں داخل ہوا اور پچھلے دروازے سے باہر نکلا۔ ٹرمپ نے اس سے تنہائی میں ملاقات نہیں کی، بلکہ دیگر حکام کی موجودگی میں ملے جن میں نیتن یاہو کے ناقدین بھی شامل تھے۔ واشنگٹن میں اس کی ایسی تذلیل ہوئی جس کی مثال اوباما کے دورِ اقتدار کے مشکل ترین دنوں میں بھی نہیں ملتی۔ غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اختلافات کی وجہ سے دونوں کے درمیان ہم آہنگی میں کمی آئی ہے۔ ٹرمپ کو نیتن یاہو کو کمزور دکھانے کے جتنے بھی مواقع ملے، اس نے ان میں سے کسی ایک کو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا"۔

 

یہ سب کچھ امریکہ کی نظر میں نیتن یاہو کی حقیر حیثیت اور اس کے ذلیل وجود کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے، اور یہ بھی کہ امریکی حکمرانوں پر ان کا اثر و رسوخ کتنا معمولی ہے۔ امریکہ صرف اپنے مفادات اور بالادستی کو جانتا ہے۔ یہودیوں یا کسی اور کا اثر صرف اسی صورت میں قبول کیا جاتا ہے جب وہ امریکہ کے استعماری اہداف کے موافق ہو۔ امریکہ پر نہ یہودی حکومت کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا، بلکہ وہاں سرمایہ دار طبقہ اپنے ایک کارندے کو صدر بنا کر حکومت کرتا ہے، اور عوام سے اسے منتخب کروا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ صدر کو عوام نے چنا ہے۔ اس طرح وہ امریکہ کے اصل حکمرانوں کی حقیقت پر پردہ ڈالتے ہیں اور لوگوں کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ ایک آزاد اور جمہوری ملک ہے۔

 

وہ سادہ لوح مسلمانوں کو یہ دھوکہ دیتے تھے کہ امریکہ کے فیصلوں پر یہودی حاوی ہیں، لیکن ٹرمپ نے یہودیوں کی حقیقت فاش کر دی کہ ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں بلکہ وہ محض اس کی وحشیانہ استعماری پالیسی کا ایک آلہ کار ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ نے عالمِ اسلام میں اس پالیسی کو نافذ کرنے سے پہلے اسے اپنے ملک کے اصل باشندوں کے خلاف آزمایا تھا اور ان کے کروڑوں لوگوں کو قتل کر کے ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہی کچھ انہوں نے جنوبی امریکہ کے عوام کے ساتھ کیا، جس کی زندہ مثالیں وینزویلا اور پاناما ہیں۔ انہوں نے میکسیکو کے 55 فیصد رقبے پر قبضہ کیا، اور یہی پالیسی کوریا اور ویتنام میں اپنائی، جبکہ اس وقت یہودیوں اور ان کے اثر و رسوخ کا کہیں ذکر تک نہ تھا۔

 

نیتن یاہو  ایران کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے امریکہ جاتا ہے، وہ ان کے درمیان کسی معاہدے پر دستخط نہیں دیکھنا چاہتا اور اس کا کھل کر اظہار بھی کرتا ہے۔ وہ ایرانی نظام کا خاتمہ کر کے ایک ایسا نظام لانا چاہتا ہے جو اس کے وجود کے لیے خطرہ نہ ہو، اس سے برتر نہ ہو اور اس کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔ وہ وہاں کی اپوزیشن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ان سے رابطے میں ہے۔ اس نے 2023 میں شاہِ ایران کے بیٹے کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی تاکہ وہ اس کے سکیورٹی حکام کے ساتھ مل کر موجودہ ایرانی نظام کے خلاف کام کرے اور اقتدار حاصل کر کے اپنے باپ کے دور کی طرح یہودی وجود کے ساتھ دوبارہ تعلقات قائم کر سکے۔ تاہم ان سب کے باوجود نیتن یاہو کی حیثیت حقیر ہی رہے گی۔

 

ایسا لگتا ہے کہ نیتن یاہو اس بار ایک اور مقصد کے لیے گیا تھا، اور وہ مقصد ٹرمپ کے ساتھ اپنے معاملات درست کرنا اور دوبارہ اس کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ اسے اکتوبر میں ہونے والے کنیسٹ کے انتخابات کا سامنا ہے، جبکہ ٹرمپ کی ڈانٹ ڈپٹ اور سابقہ طرز کی حمایت نہ ملنے کی وجہ سے اس کی داخلی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، غزہ میں وحشیانہ قتلِ عام، فاقہ کشی کی پالیسی اور بچوں، عورتوں، بیماروں اور قیدیوں کے قتل کی وجہ سے بہت سے امریکیوں کے سامنے یہودی وجود کا بھیانک چہرہ عیاں ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ امریکہ کی نہیں بلکہ یہودی وجود کی جنگ ہے اور نیتن یاہو نے ہی ٹرمپ کو اس طرف دھکیلا ہے۔ اس کے حالیہ دورہ امریکہ کے موقع پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق 49 فیصد امریکی جن میں ٹرمپ کے 23 فیصد ووٹرز اور 74 فیصد ڈیموکریٹس شامل ہیں، نیتن یاہو کی گرفتاری اور اس پر مقدمہ چلانے کی حمایت کرتے ہیں، اور یہودی وجود پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگاتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ میں یہ تناسب پہلی بار سامنے آیا ہے۔

 

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی ترجمان نے 29 جولائی 2026 کو ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے اقدام کریں، اور اس سے پہلے انہوں نے یہودی وجود کے خلاف فوجی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کا چارٹر غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے اس کا حق دیتا ہے۔ لیکن مسلم حکمرانوں میں ذرہ برابر بھی غیرت و حمیت باقی نہیں ہے، بلکہ انہوں نے تو فوجی کارروائی کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف ہی محاذ کھول لیا اور یہودی وجود کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے۔ پس وہ اور نیتن یاہو ایک جیسے ہیں اور اس کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔

 

اگر خطے کی ریاستیں فوجی طور پر حرکت میں آتیں تو نیتن یاہو اور اس کا وجود کبھی یہ سب کچھ کرنے کی جرات نہ کر پاتا۔ ان ریاستوں کے حکمران بدترین مقام پر ہیں اور سیدھے راستے سے بھٹک چکے ہیں۔ لہٰذا ان سے اور ان کے نظاموں سے نجات حاصل کیے بغیر کوئی خلاصی ممکن نہیں، اور اب مخلص قیادت کو آگے آنا چاہیے جو یہودیوں کے خلاف اللہ کی شریعت کو نافذ کرے۔

Last modified onجمعہ, 07 اگست 2026 06:08

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک