بسم الله الرحمن الرحيم
متفرقات الرایہ – شمارہ 611
پہلے صفحے کی پیشانی پر
بے شک وہ سچی اور مخلص پکار (دعوت) وہی ہے جو حق کہتی ہے، اور رب العالمین کی رضا کے لیےنبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے سائے میں اس کی شریعت کے نفاذ کی خاطر کام کرتی ہے، یہی وہ اکیلی طاقت ہے جو ہمارے علاقوں کی وحدت سے کھیلنے والے مغرب کے ہاتھ کاٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور یہی وہ اکیلی طاقت ہے جو ہماری جانوں کی حفاظت، ہماری عزتوں کی صیانت، اور اللہ رحمٰن کی رضا کے ساتھ امن و امان قائم کرنے کی اہل ہے۔
===
صفحہ اول کے لیے
وہ بات جس سے حزب التحریر نے نو سال پہلے خبردار کیا تھا، اب حقیقت بن رہی ہے
یورپی سیٹلائٹ "سینٹینل-2" سے لی گئی حالیہ تصاویر نے ایک ماہ کے دوران دریائے نیل کے بہاؤ میں واضح کمی ظاہر کی ہے، جس کی وجہ سے پانی کے کئی بڑے اسٹیشن بند ہو گئے ہیں۔ 22 جولائی 2026 کو اخبار "الشرق الاوسط" میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے: "اس موسم گرما میں دریائے نیل کے پانی میں کمی صرف دریا کی سطح میں موسمی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسے بحران میں بدل گئی جس نے لاکھوں سوڈانیوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ پینے کے پانی کے اسٹیشنوں کے بند ہونے اور کئی علاقوں میں سپلائی کم ہونے کے بعد، اب اس کے اثرات زرعی سیزن اور غذائی تحفظ تک پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔"
اس صورتحال پر حزب التحریر ولایہ سوڈان کے سرکاری ترجمان استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل) نے ایک پریس ریلیز میں کہا: یہ معاملہ متوقع تھا اور ہم نے حزب التحریر ولایہ سوڈان کی جانب سے اس بارے میں خبردار کیا تھا۔ ہم نے سوڈان اور مصر کی آبی سلامتی پر ایتھوپیا کے "سدِ نہضہ" (رینیسانس ڈیم) کے خطرات واضح کیے تھے، اور یہ بھی بتایا تھا کہ کس طرح مصر اور سوڈان کے حکمرانوں نے امت کے حقوق کا سودا کیا، جب انہوں نے 23 مارچ 2015 کو خرطوم میں "اعلانِ اصول" کے معاہدے پر دستخط کر کے اس تباہ کن ڈیم کی تعمیر پر رضامندی ظاہر کی۔
استاد ابو خلیل نے مزید کہا: اس ڈیم کی مخالفت میں ہم نے درجنوں سیمینار اور فورم منعقد کیے، جن میں مخلص آبی ماہرین کو مدعو کیا گیا جنہوں نے سوڈان اور مصر کی آبی سلامتی پر اس ڈیم کے خطرات کو واضح کیا۔ ڈیم کے حوالے سے حقائق بیان کرنے کی حزب التحریر کی کوششوں کے مقابلے میں، سیاست دانوں اور اکثر میڈیا نمائندوں کا موقف ڈیم کی تعمیر کی حمایت میں رہا اور وہ حکومت کے اس ملی بھگت والے موقف کے ساتھ کھڑے رہے جس نے ڈیم کی تعمیر کی اجازت دی۔ جولائی 2014 میں 32 صحافیوں پر مشتمل ایک بڑے میڈیا وفد نے "سدِ نہضہ" (رینیسانس ڈیم) کا دورہ کیا، جس کا اہتمام سوڈان کی وزارت اطلاعات اور وزارت آب پاشی نے کیا تھا تاکہ اس ڈیم کی تشہیر کی جا سکے اور وہ سوڈان کے عوام کے خلاف کیے جانے والے اس جرم کے جھوٹے گواہ بن سکیں۔ اس دورے نے لوگوں کو ڈیم کی تعمیر قبول کرنے پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جب انہوں نے جھوٹ اور بہتان کے ذریعے اس کے فوائد گنوائے۔
ابو خلیل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: پھر یہ کہ میڈیا کا مجموعی طور پر رویہ منفی رہا، یہاں تک کہ جب حزب التحریر نے ٹھوس دلائل کے ساتھ ڈیم کے خطرات واضح کیے اور ستمبر 2017 میں ہم نے 40 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ بعنوان "سدِ نہضہ اور پانی کی جنگ کے سائے.. حکمرانوں کی غفلت اور امت کی ذمہ داری" جاری کیا۔ اس میں ہم نے اس بات پر زور دیا کہ 23 مارچ 2015 کو مصر کے حکمران سیسی، سوڈان کے حکمران عمر البشیر اور ایتھوپیا کے وزیراعظم دیسالین کے درمیان خرطوم میں نام نہاد "اعلانِ اصول" کے معاہدے پر دستخط، امت کے حق میں ایک بڑی کوتاہی اور شرمناک فعل تھا جو سوڈان اور مصر کی حکومتوں نے انجام دیا۔ اسی طرح ہم نے سوڈان اور مصر پر سدِ نہضہ کے خطرات، متوقع خدشات اور اس کی تعمیر سے ہونے والے نقصانات کو بھی واضح کیا۔ اس کے بعد کتابچے میں دریاؤں کے معاملے میں شرعی قواعد پر بات کی گئی، اور آخر میں سدِ نہضہ کی تعمیر کی اجازت دینے پر سوڈان اور مصر کے حکمرانوں کی ملی بھگت سے ہونے والی تین شرعی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا۔
کتابچے کے اختتام میں یہ درج تھا: "خلافت کی تاریخ اپنی عزت اور مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے حوالے سے عبرتوں اور نصیحتوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ تحفظ اس کی سیاسی قوت، اس کے مذاکرات کاروں اور سفارت کاروں کی عظمت، ان کے فخر و غیرت، اور عسکری طاقت کے استعمال کی دھمکی اور پھر اس کے عملی استعمال کے ذریعے تھا، جس کے پیچھے اللہ کی راہ میں موت کی تمنا رکھنے والے لاکھوں مردِ مجاہد کھڑے ہوتے تھے۔ یہ وہ عزت اور وقار کی ریاست ہے جس کے قیام کے لیے ہر مسلمان کو کام کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت میں ایک ایسی پاکیزہ زندگی حاصل ہو جس سے زمین و آسمان والے راضی ہو جائیں۔" اور ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
===
کلیدی کلمہ کے تحت
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ مسجد اقصیٰ کو یہودیوں سے پاک کیا جائے؟!
مسجد اقصیٰ پر انتہا پسند یہودیوں کے دھاوے اب کوئی نئی بات نہیں رہے بلکہ یہ ایک مستقل صورتحال بن چکی ہے۔ مغضوب علیہم (جن پر اللہ کا غضب ہوا) کا وہاں نمازیں پڑھنا، رقص و سرود کی محفلیں سجانا اور اس کی بے حرمتی کرنا اب تقریباً روز کا معمول بن گیا ہے۔ ان کے خود ساختہ "ہیکل کی تباہی" کی یاد میں کیے جانے والے دھاوے ہر سال خطرے کی ایک ایسی گھنٹی بجاتے ہیں جو اس بات کا انتباہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے، اسے یہودیانے اور اس کے کھنڈرات پر ان کے مزعومہ ہیکل کی تعمیر کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف، مذمتی بیانات، اس جرم کو "خطرناک اشتعال انگیزی" قرار دینا، وقت اور جگہ کی تقسیم کے منصوبوں کو بے نقاب کرنا، تاریخی اور قانونی حیثیت کی پامالی کا ذکر کرنا اور مجرم پر پوری ذمہ داری ڈالنا،یہ سب اب کوئی نئی خبریں نہیں رہیں جو ہم اوسلو اتھارٹی، نام نہاد متولی، عرب لیگ یا مسلم ممالک میں موجود موجودہ حکمران نظاموں سے سنتے ہیں۔ مسلمان ان کی کھوکھلی گونج سننے کے عادی ہو چکے ہیں، پھر وہ دیکھتے ہیں کہ یہی حکمران یہودیوں کی چکی میں مسلمانوں کو پیستے ہیں، یہود کے ساتھ نرمی برتتے ہیں، ان کا ساتھ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ صلح کرتے ہیں، بلکہ ان کی حفاظت اور مدد کرتے ہیں، انہیں تسلیم کرتے ہیں اور اہلِ فلسطین، ان کے حامیوں اور غاصبوں کی نجاست سے بیت المقدس کو پاک کرنے کا سوچنے والوں کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔
اس حوالے سے سرزمینِ مبارک فلسطین میں حزب التحریر کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے: مسجد اقصیٰ اور اس کے گرد و نواح میں یہودی وجود کے مجرمانہ جرائم، اور ارضِ مقدسہ کے گرد موجود نظاموں کے جرائم پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ وہ (یہود) محمد ﷺ کی نبوت کے پہلے دن سے اسلام کا کینہ پرور اور دشمن ہے، اور یہ حکمران نظام اپنے اقتدار کے پہلے ہی دن سے دینِ اسلام اور اس کے ماننے والوں کے دشمن ہیں۔
لیکن حیرت تو اس بات پر ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی جائے اور امتِ محمد ﷺ اپنے دین کی نصرت کے لیے نہ اٹھے!! اس امتِ جہاد کے لیے یہ کتنی عجیب بات ہے کہ وہ اس جگہ کو، جہاں تمام انبیاء و مرسلین خاتم المرسلین محمد ﷺ کی اقتداء میں جمع ہوئے تھے، یوں پامال ہوتے دیکھے اور نہ گھوڑے دوڑائے جائیں، نہ موت کے دستے تیار ہوں اور نہ تلواریں چلیں تاکہ اس مقام کو اس کی شان کے مطابق دوبارہ پاکیزگی فراہم کی جا سکے!
اور امتِ محمد ﷺ کے لیے یہ کتنی عجیب بات ہے کہ وہ صبح و شام، دن رات آپ ﷺ پر درود بھیجے اور پھر آپ ﷺ کی جائے اسراء کو یوں بے حرمت ہوتے چھوڑ دے جیسے یہ کوئی معمولی روزمرہ کا واقعہ ہو، اور نہ اس کے لشکر حرکت میں آئیں اور نہ اس کے جوان نکلیں!
حیرت ہے ان پر جو فاتح عمر رضی اللہ عنہ اور فاتحِ اعظم صلاح الدین کی سیرت کے گن گاتے ہیں، پھر وہ اس امت کے سپاہی اور افسر ہوتے ہوئے بھی ان جیسا اجتماع نہیں کرتے، ان جیسا خروج نہیں کرتے اور ان کی طرح برق رفتاری سے یہ نہیں کہتے کہ "اے اللہ کے رسول ﷺ کی جائے اسراء، ہم حاضر ہیں!"
پریس بیان کے اختتام پر کہا گیا: اس امت اور اس کے لشکروں پر عارضی زوال کے لمحات آئے ہیں، لیکن ان کے بعد ہمیشہ وہ مقابلے ہوئے جن کا ذائقہ پہلے صلیبی اور تاتاری چکھ چکے ہیں؛ کیا اب ارضِ مبارک کے معرکے کے آغاز کا وقت نہیں آیا؟! کیا اب وقت نہیں آیا کہ مسجد اقصیٰ ان کی نجاست سے پاک ہو، اس کے آنسو پونچھے جائیں اور فاتحین کی تکبیرات اور نمازیوں کی تہلیل سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں؟
===
جفری ساکس کا دورہ ازبکستان: عالمی معیشت میں وسطی ایشیا کی اہمیت کا اشاریہ
عالمی ماہرِ معاشیات، کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک کے سربراہ جفری ساکس نے جولائی 2026 میں شاہراہِ ریشم کے ایک تاریخی دورے کے دوران ازبکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے کا محور علاقائی تعاون کو فروغ دینا اور پائیدار ترقی کی حمایت تھا۔ جفری ساکس نے تاشقند میں انسٹی ٹیوٹ فار میکرو اکنامک اینڈ ریجنل اسٹڈیز (IMRS)، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) اور ازبک سینیٹ کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
الرایہ: جفری ساکس کا دورہ ازبکستان محض ایک عالمی ماہر کا دورہ نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی معاشی نظام میں وسطی ایشیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ایک اشاریہ ہے۔ ازبکستان اس عمل سے مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور سائنس، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور باہمی مفاد پر مبنی بین الاقوامی تعاون ملک میں ترقی کے نئے افق کھول سکتا ہے۔
لیکن ان مواقع کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ ہر مغربی سرمایہ کار ازبک عوام کی خوشحالی نہیں چاہتا بلکہ وہ اپنی دولت میں اضافہ چاہتا ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ممالک نہ صرف ہتھیاروں کے ذریعے زیرِ اثر آئے بلکہ معاشی وابستگی کے ذریعے بھی غلام بنائے گئے۔ اس تناظر میں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ 2025 کے اختتام تک ازبکستان کا مجموعی قرضہ تقریباً 46.85 بلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔
مغربی معیشت اور اسلامی عدل کے معیار کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی پوری تاریخ میں کسی بھی غیر ملکی ملک کو ترقی نہیں دی، بلکہ اسے معاشی اور سیاسی طور پر اپنا محتاج بنا لیا ہے۔
جہاں تک اسلامی معاشی وژن کا تعلق ہے، تو معاملہ صرف دولت میں اضافے کا نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی تعلق اس بات سے ہے کہ یہ دولت کیسے کمائی گئی اور معاشرے میں اسے کیسے تقسیم کیا گیا۔ اسلام میں مال انسان کی مطلق ملکیت نہیں ہے کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق اسے خرچ کرے، بلکہ یہ ایک امانت ہے جس میں اللہ نے اسے اپنا نائب بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ﴾
"اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب (خلیفہ) بنایا ہے، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے (راہِ خدا میں) خرچ کیا، ان کے لیے بڑا اجر ہے۔" (سورۃ الحدید:آیت 7)
اس بنیاد پر، معاشی ترقی کی پیمائش صرف ایک مخصوص طبقے کی دولت سے نہیں کی جاتی، بلکہ پورے معاشرے میں عدل اور خوشحالی کے حصول سے کی جاتی ہے۔ اسی طرح سرمائے کا حلال ہونا، کسی کو نقصان نہ پہنچانا اور معاشرے کے مفاد کی خدمت کرنا اسلام میں بنیادی اہمیت کے امور ہیں۔
===
امریکی وفد کا سلامتی کونسل کے اجلاس سے واک آؤٹ!
27 جولائی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے امریکی وفد احتجاجاً واک آؤٹ کر گیا جب فرانس کے سفیر جیروم بونافونٹ نے اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے ٹرمپ کے دور میں انسانی حقوق کے حوالے سے امریکہ کے ریکارڈ پر تنقید کی۔ یہ واک آؤٹ جنرل اسمبلی کی جانب سے وولکر ترک کی بطور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے بعد ہوا، جس کی 144 ممالک نے حمایت کی جبکہ امریکہ ان دس ممالک میں شامل تھا جنہوں نے مخالفت کی۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے فرانسیسی مشن نے اعلان کیا: "امریکہ کبھی انسانی حقوق کا مینار تھا، لیکن اب ایسا نہیں رہا،" اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امریکہ نے روس اور شمالی کوریا کے ساتھ مل کر ووٹ دیا۔ امریکہ کے متبادل مندوب ڈین نیگریا نے فرانس کے بیانات کو "مکارانہ تماشہ اور سیاسی بکواس" قرار دیا اور فرانس پر "دنیا کے بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ نرمی" کا الزام لگایا۔
الرایہ: یہ واک آؤٹ واضح طور پر بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے اخلاقی اثر و رسوخ میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ ملک جس نے کبھی خود کو انسانی حقوق کے میدان میں ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی، آج بامقصد تنقید میں شامل ہونے کے بجائے ڈرامائی واک آؤٹ کو ترجیح دے رہا ہے۔ انسانی حقوق کی ووٹنگ کے معاملے میں فرانس کا امریکہ کو شمالی کوریا اور روس سے تشبیہ دینا ایک ٹھوس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے حوالے سے امریکہ کی وابستگی کو اب دنیا اس کے اپنے مفادات کی حدود سے باہر نہیں دیکھتی۔
===




