الأربعاء، 22 صَفر 1448| 2026/08/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال و جواب

 

لغت کے اعتبار سے اور اصطلاح کے لحاظ سے "نفس" کی تعریف، اور نیند کے دوران "نفس" کے "مر جانے (موت)" سے کیا مراد ہے

 

(عربی سے ترجمہ)

ابو عارف کے لئے

 

سوال

عزیز مکرم و محترم شیخ، عالی جناب شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر ،اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے، کی خدمتِ اقدس میں:

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

ہمارے جلیل القدر شیخ، ہمارے استاد، ہمارے قائد اور ہمارے امیر، جنہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے عزت و تکریم سے نوازا؛ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ آپ اور آپ کا معزز خاندان ہمیشہ صحت، عافیت اور برکت میں رہیں، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حفظ و امان اور اس کی نگہبانی میں رہیں۔ آمین۔ 

اب میں پیشگی معذرت خواہ ہوں، کیونکہ میں ایک معاملے کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں، جو درج ذیل ہے:

 

جلیل القدر عالمِ دین، شیخ تقی الدین النبھانی رحمہ اللہ کی کتب میں، بالخصوص اسلامی شخصیۃ سے متعلق موضوع میں مجھے دو اصطلاحات العقل (عقل/دماغ) اور العقلیہ (ذہنیت) کا استعمال ملتا ہے۔ شیخ تقی الدین النبھانی رحمہ اللہ نے دونوں اصطلاحات کی واضح تعریف بیان کی ہے، بلکہ انہوں نے پہلے عقل کی تعریف کی اور پھر عقلیہ (ذہنیت) کی تعریف بیان کی۔

 

تاہم، مجھے شیخ تقی الدین النبھانی رحمہ اللہ کی کتب میں، خصوصاً اسلامی شخصیت سے متعلق بیان کے اندر، نفس کی کوئی باقاعدہ تعریف نہیں ملی؛ بلکہ میں نے یہ پایا کہ وہ براہِ راست النفسیہ (نفیسہ) کی تعریف بیان کرتے ہیں۔

 

چنانچہ میرا سوال یہ ہے کہ: اگر شیخ تقی الدین النبھانی رحمہ اللہ کے نزدیک 'نفس' کی کوئی تعریف موجود ہے، تو وہ کیا ہے؟ یا پھر آپ کی عالی قدر رائے میں نفس کی تعریف اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ اور کیا نفس کو 'اہم ترین طاقت (قوت حیات)' سمجھنا درست ہے؟

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کو آپ کے جواب کا بہترین اجر عطا فرمائے، اور ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کے تمام نیک اعمال کا دنیا اور آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آمین، یا رب العالمین۔

 

والسلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ

 

آپ کا بھائی: محمد عارف باللہ (بوگور، انڈونیشیا)

 

میں معذرت خواہ ہوں، میرا ایک اور سوال ہے: اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ وہ روح (انفس) کو ان کی نیند کے وقت نکال لیتا ہے۔ تو نیند کے دوران نفس کی اس 'موت' سے کیا مراد ہے؟ اور کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ نفس کے اندر عقلی قوت، جسمانی حاجات اور جبلتیں بھی شامل ہوتی ہیں، جو انسان کے سونے کے دوران بظاہر معطل ہو جاتی ہیں یا 'مر' جاتی ہیں؟

اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیرِ کثیر عطا فرمائے!

 

جواب:

وعليكم السلام ورحمۃ الله وبركاتہ

 

اولاً:

یہ درست ہے کہ ہماری کتابوں میں "النفس" کی کوئی ایک مخصوص تعریف موجود نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک "مشترک" لفظ (ایسا لفظ جس کے کئی معنی ہوں) ہے، چنانچہ قرینے (سیاق و سباق) کے مطابق استعمال سے اس لفظ کے معانی بدل جاتے ہیں۔ جہاں تک "النفسیہ" کا تعلق ہے، تو وہ ایک اصطلاح ہے جس کا ایک ایسا مخصوص معنی طے کر دیا گیا ہے جو اس کے استعمال میں ہمیشہ اس کے ساتھ لازم رہتا ہے۔

 

اور "لفظِ مشترک" کے حوالے سے اس بات کی وضاحت کے لئے، کتاب "الشخصیۃ الاسلامیۃ" کی جلد 3، کے صفحہ نمبر 164 پر "باب الاشتراك" (مشترک الفاظ کا باب) میں یہ بات درج ہے-

 

اشتراک سے مراد یہ ہے کہ کوئی لفظ ابتدا ہی سے دو مختلف حقیقتوں کے لئے وضع کیا گیا ہو، اس اعتبار سے کہ وہ دونوں اپنی اپنی جگہ الگ حقیقتیں ہیں۔ اور مشترک (کثیر المعانی لفظ) وہ لفظ ہے جو دو یا دو سے زیادہ معانی میں سے ہر ایک پر دلالت کرے۔ مثلاً لفظ "العین" (جو عربی میں) دیکھنے والی آنکھ، بہتے ہوئے چشمے (پانی) اور سونے کے لئے استعمال ہوتا ہے؛ اور جیسے لفظ "روح" زندگی کی روح، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کے ادراک (شعور) اور جبرائیل علیہ السلام کے لئے بولا جاتا ہے؛ اور اس جیسی دیگر مشترک اصطلاحات ... اور الفاظ کا اس طرح کا اشتراک عربی زبان میں پایا جاتا ہے۔

 

ابوالحسن البصریؒ نے فرمایا: «أطلق أهل اللغة اسم القرء على الطهر والحيض، وهما ضدان، فدل على وقوع الاسم المشـترك في اللغة» "اہلِ لغت نے "القرء" کے نام کا اطلاق طہر (پاکیزگی کے دنوں) اور حیض (ایامِ ماہواری) دونوں پر کیا ہے، حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ لغت میں 'اسمِ مشترک' (لفظِ مشترک) پایا جاتا ہے"۔

 

اور قرآنِ مجید میں بھی اس لفظِ مشترک کی مثال موجود ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ "(وہ اپنے آپ کو) تین قرء (حیض یا طہر) تک روکے رکھیں" [سورہ البقرۃ؛ 2:228]

 

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ﴾ "اور قَسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ پھیل جائے" [سورہ التکویر؛ 81:17]

 

چنانچہ یہ لفظ (عسعس) رات کے آنے اور جانے دونوں معانی کے درمیان مشترک ہے .....

اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ لفظِ مشترک عربی زبان میں موجود ہے۔ اسی وجہ سے، کسی بھی لفظِ مشترک کے معنی کا تعین کرنا اور اسے اس کے متعدد معانی میں سے کسی ایک معنی کے ساتھ خاص کرنا، ایک قرینے (سیاق و سباق) پر منحصر ہوتا ہے؛ چنانچہ مقصودِ کلام کو واضح کرنے کے لئے قرینے کا ہونا ناگزیر ہے

 

اس طرح، لفظِ مشترک کے معانی میں سے کسی ایک معنی کو متعین کرنے کے لئے قرینہ (سیاق و سباق) بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اور بالکل اسی طرح، لفظ 'النفس' بھی اپنے ساتھ جڑے ہوئے قرینے کے لحاظ سے مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے، اور ان معانی میں سے کچھ درج ذیل ہیں-

 

 

اول: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَلَمْ تَرَوْا الْإِنْسَانَ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ قَالُوا بَلَى قَالَ فَذَلِكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَه» "کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب انسان مرتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں؟" صحابہؓ نے عرض کیا: "جی ہاں، ایسا ہی ہے" آپ ﷺ نے فرمایا: "تو یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اس کی نظر (آنکھ) اس کے نفس کا پیچھا کر رہی ہوتی ہے (اسے جاتے ہوئے تک رہی ہوتی ہے)"۔

 

چنانچہ اس حدیث میں نظر، نفس کا پیچھا کرتی ہے؛ لہٰذا یہاں لفظِ "نفس" اپنے معنی کی وضاحت کے لئے کسی قرینے کا محتاج ہے، اور وہ قرینہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں وارد ہوا ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ (ہمارے ہاں) تشریف لائے جب کہ ابو سلمہ کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں (یعنی وفات کے بعد کھلی رہ گئی تھیں)، تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھیں بند کر دیں، پھر فرمایا: «إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ» "بے شک جب روح قبض کی جاتی ہے، تو نظر اس کا پیچھا کرتی ہے"۔

 

چنانچہ اس حدیث میں نظر روح کا پیچھا کرتی ہے۔ یہ دونوں احادیث امام مسلم نے روایت کی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ 'نفس' جس کا پیچھا موت کے وقت نظر کر رہی ہوتی ہے، وہ دراصل 'روح' ہی ہے، جیسا کہ ام سلمہؓ کی حدیث میں صراحت ہے کہ نظر روح کا پیچھا کرتی ہے۔ یعنی اس سیاق و سباق اور قرینے  میں 'روح' اور 'نفس' ایک دوسرے کے مترادف ہیں"۔

 

 

دوئم: 'لسان العرب' (جلد 6، صفحہ 233) میں لفظِ "النفس" کے معانی کے بارے میں لکھا ہے

1"النفس" سے جامع طور پر ایک انسان بھی مراد لیا جاتا ہے؛ جیسے یہ کہنا کہ: (عندی ثلاثة أَنْفُسٍ) "میرے پاس تین نفوس ہیں"، اور جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ﴾ "کہ کہیں کوئی نفس یہ کہے کہ ہائے اس پر افسوس، جو میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی" [سورۃ الزمر؛ 39:56 [

2 "النفس" سے مراد خون بھی ہے ۔۔۔ اور"النفس" سے مراد نظرِ بد بھی ہے؛ چنانچہ 'النَّافِس' اس کو کہتے ہیں جو نظر بد لگائے، اور 'المَنْفوس'وہ ہوتا ہے جسے نظر بد لگی ہو۔ اور 'النَّفُوس' اس حاسد اور شدید نظر لگانے والے کو کہتے ہیں جو لوگوں کے مال و اسباب پر نظر رکھتا ہے تاکہ اسے نقصان پہنچائے۔ اور (ما أَنْفَسه) کے معنی ہیں کہ اس کی نظر کتنی شدید ہے! یہ تعریف امام اللحیانی سے مروی ہے۔ اور عربی میں کہا جاتا ہے: (أَصابت فلاناً نَفْس) "فلاں شخص کو نظر لگ گئی ہے"، اور جملہ (نَفَسْتُكَ بِنَفْسٍ) کا مطلب ہے "میں نے تمہیں نظربد لگا دی "

 

3۔ اور عربی کا جملہ (تَنَافَسْنَا ذٰلِكَ الْأَمْرَ) یا (تَنَافَسْنَا فِيهِ) کا مطلب ہے: "ہم نے ایک دوسرے پر رشک یا حسد کیا اور (اس چیز کو پانے کے لئے) ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی خواہش کی"۔ اور قرآنِ کریم میں ہے: ﴿وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ﴾ "پس خواہش رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس (جنت) کو پانے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش (مسابقت) کریں" [سورۃ المطففین؛ 83:26]

اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: (سَقِيمُ النِّفَاسِ) — جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے باہمی مسابقت اور دوسروں پر غالب آنے کی تگ و دو نے اسے بیمار کر دیا یا وہ بیماری کی لپیٹ میں آ گیا۔

 

اور ایک اور حدیثِ مبارکہ میں وارد ہوا ہے: «فَوَاللَّهِ لَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ» "...پس اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں فقر و فاقہ کا ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم پر دنیا (کی آسائشیں) اس طرح وسیع کر دی جائیں گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر وسیع کی گئی تھیں، پھر تم اس دنیا کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ (مسابقت) کرو گے جس طرح انہوں نے مسابقت کی تھی، اور یہ دنیا تمہیں بھی اسی طرح ہلاک کر دے گی جس طرح اس نے انہیں ہلاک کر دیا تھا"۔

 

یہ دلالت دراصل لفظ 'مُنَافَسَة' (مسابقت) سے ماخوذ ہے، جس کے معنی کسی چیز کی شدید چاہت رکھنا، اس میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنا، اور اسے حاصل کرنے میں انفرادیت یا اکیلے مالک بننے کی خواہش کرنا ہے"۔

 

]کتاب 'لسان العرب' سے اقتباس ختم ہوا۔ [

 

اور جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، متن کے اندر لفظِ 'النفس' کے معنی کا تعین کرنے کے لئے ایک قرینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظِ 'النفس' اور اس سے نکلنے والے دیگر مشتقات کے اور بھی بہت سے معانی ہیں، اور ان میں سے ہر ایک معنی کے لئے قرینے کا ہونا لازم ہے۔

چنانچہ، اسی وجہ سے ہم نے اپنی کتب میں 'النفس' کا کوئی ایک مخصوص یا معین معنی بیان نہیں کیا، کیونکہ یہ لفظ قرینے کے تابع ہے؛ اور ایک ہی متن میں یا کسی دوسرے متن میں قرینے کے بدلنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔

 

ثانياً: جہاں تک آپ کے اس سوال کا تعلق ہے جو آپ نے اس آیتِ کریمہ کے معنی کے بارے میں پوچھا ہے: ﴿اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ "اللہ روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور جن کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا انہیں ان کی نیند کی حالت میں (نکال لیتا ہے)، پھر جن کے بارے میں وہ موت کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے انہیں روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں"۔ [سورہ الزمر؛ 39:42]

 

لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ انسان کی موت کے وقت اس کی روح کو زندگی کے تمام امور سے قبض کر لیتا ہے، اور اسی طرح نیند کے دوران بھی انسان کی روح کو آزادانہ حرکت، تمیز و ادراک، اور ارادہ و عمل وغیرہ کی صلاحیتوں سے عارضی طور پر روک لیتا ہے۔

 

مزید وضاحت کے لئے میں بعض کتبِ تفسیر اور عربی زبان کی بعض کتب میں وارد توضیحات پیش کرتا ہوں

1۔ تفسیر القرطبی میں مذکور ہے: ﴿اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ "اللہ روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور جن کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا انہیں ان کی نیند کی حالت میں (نکال لیتا ہے)، پھر جن کے بارے میں وہ موت کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے انہیں روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں"۔ [سورہ الزمر؛ 39:42]

 

اس آیت کی تفسیر کے متعلق چار مسائل ہیں۔ پہلا مسئلہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا﴾ "اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے"۔

 

اور اس کا یہ فرمان: ﴿وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا﴾ "اور جن کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا انہیں ان کی نیند کی حالت میں (نکال لیتا ہے)"۔

 

اس آیت کی تفسیر کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ ان نفوس کو نیند کے دوران تصرف اور ارادی عمل کی صلاحیت سے محروم یا معطل کر دیتا ہے، جبکہ ان کی روحیں ان کے جسموں کے اندر ہی موجود رہتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى﴾"پھر جن کے بارے میں وہ موت کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے انہیں روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے"

 

جو کہ سونے والا نفس ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے اس کی حقیقی موت کے مقررہ وقت تک کے لئے دوبارہ تصرف اور ارادی عمل کے لئے آزاد کر دیتا ہے۔ ابن عیسیٰ نے کہا ہے... اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 'بے شک اللہ سبحانہ و تعالیٰ مردوں کی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض فرماتا ہے، اور زندوں کی روحوں کو ان کی نیند کے دوران۔ پھر وہ روحیں ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں۔' پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى﴾ "پھر جن کے بارے میں وہ موت کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے انہیں روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے"

 

اور رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كَمَا تَنَامُونَ فَكَذَلِكَ تَمُوتُونَ وَكَمَا تُوقَظُونَ فَكَذَلِكَ تُبْعَثُونَ»"جس طرح تم سو جاتے ہو، بالکل اسی طرح تم مرو گے؛ اور جس طرح تم (نیند سے) بیدار کیے جاتے ہو، بالکل اسی طرح تم دوبارہ (قبروں سے) اٹھائے جاؤ گے"

 

اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "نیند، موت کا بھائی ہے" اور یہ بات جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مرفوعاً (یعنی براہِ راست نبی کریم ﷺ سے منسوب ہو کر) بھی مروی ہے کہ عرض کیا گیا: "یا رسول اللہ ﷺ! کیا اہل جنت بھی سوئیں گے؟" تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَا، النَّوْمُ أَخُو الْمَوْتِ وَالْجَنَّةُ لَا مَوْتَ فِيهَا» "نہیں، نیند موت کا بھائی ہے، اور جنت میں کوئی موت نہیں ہے"

 

(اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے)...

خلاصہ*:

الف) ہم نے اپنی کتب میں 'النفس' کا کوئی ایک مخصوص یا معین معنی اس لئے بیان نہیں کیا کیونکہ یہ قرینے (سیاق و سباق) کے تابع ہے؛ اور ایک ہی متن میں یا کسی دوسرے متن میں قرینے کے بدلنے سے اس کا معنی بھی بدل جاتا ہے۔

 

ب) میری رائے اور فہم یہ ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے اس ارشاد : ﴿اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ "اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جن کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا انہیں ان کی نیند کی حالت میں (نکال لیتا ہے)، پھر جن کے بارے میں وہ موت کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے انہیں روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں"۔ [سورہ الزمر : 42]، تو اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ انسان کی موت کے وقت اس کی روح کو زندگی کے تمام امور سے قبض کر لیتا ہے، اور اسی طرح نیند کے دوران بھی انسان کی روح کو آزادانہ حرکت، تمیز و ادراک، اور ارادہ و عمل وغیرہ کی صلاحیتوں سے عارضی طور پر روک لیتا ہے۔

اس معاملے میں میری رائے میں یہی راجح مؤقف ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی سب سے بہتر جاننے والا اور نہایت حکمت والا ہے۔

 

آپ کا بھائی،

عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

*14 صفر 1448 ہجری*

بمطابق 28 جولائی 2026 عیسوی

 

#امیر_حزب_التحریر

 

 

 

Last modified onمنگل, 04 اگست 2026 14:17

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک