الرایہ کی متفرقات – شمارہ 609
- Published in آرٹیکل
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- |
یورپ میں اب یہ سوال زیرِ بحث نہیں رہا کہ معاشی ترقی کی شرح کو کیسے بحال کیا جائے، نہ ہی یہ کہ افراطِ زر کو کیسے کم کیا جائے یا توانائی کے بحرانوں پر کس طرح قابو پایا جائے، بلکہ اب یہ سوال کہیں زیادہ گہرا ہو چکا ہے کہ یہ براعظم اپنی صنعتی صلاحیتوں کو کھوئے بغیر اپنی اسٹریٹیجک سلامتی کو کیسے برقرار رکھ سکتا ہے، اور اپنی معیشت کو اس معاشی ماڈل سے دستبردار ہوئے بغیر عالمی مقابلے سے کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کی خوشحالی کو ممکن بنایا؟
میرزیایوف نے جارجیا کا دورہ کیا، جسے بہت سے لوگوں نے ایک عام سفارتی واقعہ قرار دیا، لیکن حقیقت میں، یہ دورہ ان اہم اشاروں میں سے ایک ہو سکتا ہے جو اگلی دہائی کے دوران ازبکستان کے جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) رخ کی نشاندہی کریں گے۔
سیکولرزم کا مطلب ہے دین کو زندگی سے جدا کرنا۔ یہ سرمایہ دارانہ نظریے کا وہ عقیدہ ہے جو یورپ میں نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے دور میں چرچ اور مفکرین و فلاسفہ کے درمیان ایک درمیانی حل (compromise) کے نتیجے میں وجود میں آیا
سنہ 2003ء میں امریکہ نے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ذخائر کی موجودگی کا بہانہ بنا کر عراق پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا، حالانکہ بعد میں ایسے کوئی ہتھیار نہیں ملے تھے۔
یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ مصر دیوالیہ ہو چکا ہے یا ہونے کے قریب ہے، کیونکہ اس کا بیرونی مجموعی قرضہ 164 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور اندرونی قرضہ 15 ٹریلین (کھرب) پاؤنڈز سے زائد ہو گیا ہے
6 جولائی 2026 کو، برطانوی حکومت کی جانب سے وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کا ایک اہم مضمون "عالمی نظامِ نو میں برطانیہ کا مقام" کے عنوان سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا: "جیو پولیٹکس بدل رہی ہے
سوال و جواب: سورۂ النساء کی آیات 78 اور 79 میں "الحسنة" (بھلائی) اور "السيئة" (برائی) کا مفہوم