بسم الله الرحمن الرحيم
"سول اسٹیٹ" اور موجودہ دور کے چیلنجز
تحریر: استاد ناصر رضا
(ترجمہ)
حالیہ عرصہ میں "سول اسٹیٹ" کی اصطلاح ابھر کر سامنے آئی ہے اور مسلم ممالک کے سیاسی حلقوں میں کثرت سے گردش کر رہی ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب لوگوں کے ذہنوں سے جمہوریت کی چمک دمک ماند پڑ گئی اور اسلام کے عظیم عقیدے اور اس کے نرم و آسان احکام کے ساتھ اس کا تضاد کھل کر سامنے آگیا۔ چونکہ استعمار گر کافر مغرب اور مسلم ممالک میں موجود اس کے ایجنٹ جمہوری فکر کی تشہیر اور اسے فروغ دینے میں ناکام رہے، اس لیے وہ دھوکہ دہی کے طور پر " سول اسٹیٹ" کی اصطلاح لے آئے؛ حالانکہ یہ وہی جمہوری نظامِ حکومت ہے جس کا مطلب (جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں) عوام کی مرضی کے مطابق عوام کی حکومت ہے۔
سول اسٹیٹ کی تعریف ایک ایسے سیاسی ادارہ جاتی نظام کے طور پر کی گئی ہے جو مساوی شہریت، قانون کی حکمرانی کی بالادستی، اور حقوق و فرائض میں تمام افراد کے درمیان برابری کی بنیاد پر قائم ہو۔ یہ وہی "قومی ریاست" یا "علاقائی ریاست" ہے جس کی بنیاد 1648 کے معاہدہ ویسٹ فیلیا میں رکھی گئی تھی، جو کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان 30 سالہ جنگ کے بعد ہوا تھا۔ اس جنگ نے ایک ایسی حقیقت کو جنم دیا جس نے تمام یورپی ممالک کو اس بات پر متفق ہونے پر مجبور کر دیا کہ ہر ریاست کی اپنی (جغرافیائی) حدود ہونی چاہئیں۔
یہ معاملہ اگرچہ بظاہر پُرکشش نظر آتا ہے، لیکن یہ اپنے اندر تین پہلوؤں سے فساد سمیٹے ہوئے ہے:
پہلا یہ کہ اس میں قانون سازی کا حق لوگوں کے رب کے بجائے خود لوگوں کو دے دیا گیا ہے، اور یہی ہر اس نظریے کی خرابی کی اصل بنیاد ہے جو وحی پر مبنی نہ ہو؛ کیونکہ انسان اپنی محدود سوچ کی بنا پر قانون ساز بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ ناقص، عاجز اور (اپنے رب کا) محتاج ہے۔
دوسرا یہ کہ سول اسٹیٹ یا جمہوریت کے سرمایہ دارانہ نظریے میں قانون کی پابندی کا تصور یہ ہے کہ اگر آپ قانون کی گرفت سے بچنے کے بارے میں مطمئن ہیں تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں؛ کافر مغرب میں بدعنوانی کی خبریں، "ایپسٹین جزیرہ" کا معاملہ اور سیاستدانوں و حکمرانوں کے بے نقاب ہونے والے اسکینڈلز اس کی واضح دلیل ہیں۔ اس کے برعکس، اسلام میں احکام پر عمل درآمد کا محرک سب سے پہلے اللہ کے لیے فرد کا تقویٰ ہوتا ہے، پھر نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے معاشرے کا دباؤ، اور پھر ریاست کی قوت اور اس کا اختیار ہوتا ہے۔
تیسرا یہ کہ روئے زمین پر شاید ہی کوئی ایسی ریاست ہو جہاں مختلف نسلوں، رنگوں اور مذاہب کے گروہ آباد نہ ہوں، مگر سول اسٹیٹ اور جمہوریت ان سب کو ایک خطے میں اکٹھا رکھنے اور ان کے درمیان پرامن بقائے باہمی پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ چھوٹی نسلوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی ضمانت کے دعوے کے تحت، ہر گروہ کی انفرادی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی زندگی میں "تناسبی نمائندگی" کا تصور ایجاد کیا گیا۔
مسلم ممالک میں سول اسٹیٹ کو درپیش نمایاں ترین چیلنجز درج ذیل ہیں:
پہلا: مذہب کے بارے میں اس کا موقف، کیونکہ یہ ایسی کسی بھی قانون سازی یا قوانین کی موجودگی کو روکتی ہے جو عقیدہ اسلام سے پھوٹتے ہوں، حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا للهِ أَمَرَ أَنْ لَا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ﴾
"فیصلہ کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے، اس کا حکم ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو"۔ (سورہ یوسف:آیت 40)
یہی وہ چیز ہے جو ایک مسلمان کے لیے اسے مسترد کرنا لازم کر دیتی ہے، کیونکہ اسلام ایک مکمل دین ہے جس کے اندر سے ریاست اور زندگی کے تمام نظام نکلتے ہیں:
﴿وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَاناً لِّكُلِّ شَيْءٍ﴾
"اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کی واضح وضاحت کرنے والی ہے"۔ (سورہ النحل:آیت 89)
دوسرا: مسلم ممالک میں مختلف نسلوں اور قوموں کا وجود؛ یہ صورتحال ہر ملک میں پائی جاتی ہے اور بعض جگہوں پر تو مسلکی اختلافات بھی موجود ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ سول اسٹیٹ نے اس چیلنج سے کیسے نمٹا؟ ڈچ مفکر آرنت لِج ہارٹ نے روایتی جمہوریت (جس کا مطلب اکثریت کی حکمرانی ہے) کے مقابلے میں نام نہاد "اتفاقِ رائے کی جمہوریت" (Consociational Democracy) کا تصور پیش کیا۔ وہ کہتا ہے کہ: "ایک ایسی سوسائٹی کے لیے جو نسلی، مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر بٹی ہوئی ہو، حکومت میں اس کے تمام گروہوں کی کوٹہ سسٹم کے تحت 'تناسبی نمائندگی' اور اقلیتوں کے لیے 'حقِ استرداد' (ویٹو پاور) کا ہونا ضروری ہے"۔ اس کا نتیجہ انتظامی ڈھانچے اور طرزِ حکمرانی میں سستی اور بگاڑ کی صورت میں نکلا، اور اعلیٰ ریاستی عہدوں پر نااہل افراد کی موجودگی کی وجہ سے حکومتیں ناکام ہو گئیں۔ اس کی مثال یوگوسلاویہ میں دیکھی جا سکتی ہے جو سات ریاستوں میں تقسیم ہو گیا، اسی طرح سوڈان دو ملکوں میں بٹ گیا، اور تقسیم و تفریق کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
اس کے برعکس، اسلام تمام اقوام کو ایک لڑی میں پرونے کا کام کرتا ہے اور لوگوں اور معاشرے کے مسائل کو نسلی، رنگ، لسانی یا مذہبی مسائل کے بجائے خالصتاً "انسانی مسائل" کے طور پر حل کرتا ہے۔ یہ مسائل انسانی خواہشات کے بجائے "وحی" سے حاصل کردہ قانون سازی کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔
تیسرا : سیاسی کثرت پسندی (Political Pluralism) کو اپنانا، لیکن ایسی جماعتوں کو اس سے مستثنیٰ قرار دینا جو مذہبی بنیادوں پر قائم ہوں۔ مسلم ممالک میں یقینی طور پر ایسی اسلامی جماعتیں اور گروہ موجود ہوتے ہیں جو ایک اصولی و نظریاتی کشمکش کو جنم دیتے ہیں، جس سے اقتدار کا استحکام خطرے میں پڑ جاتا ہے اور سول اسٹیٹ کی ناکامی کا باعث بنتا ہے۔ یہی صورتحال فوج کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنے (بغاوت) کا راستہ مکمل طور پر ہموار کر دیتی ہے۔
چوتھا : معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اقتدار اور دولت کی تقسیم کا نظریہ ہے۔ یہ تصور حکومت کو ایک ایسا "کیک" بنا دیتا ہے جسے آپس میں بانٹا جانا ضروری ہو، اور دولت کو ایک "مالِ غنیمت" کی شکل دے دیتا ہے جسے سیاست دان کو ہر حال میں حاصل کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس، اسلام حکومت کو ایک ذمہ داری، امانت اور رعایا کی بہترین نگہبانی و دیکھ بھال کا نام دیتا ہے۔ اسلام نے اسے شرعی احکام کے تابع کیا ہے، جن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسے کیسے حاصل کیا جائے اور سب کے درمیان کیسے تقسیم کیا جائے؛ چنانچہ حکمران کے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں سوائے اس کے جو وہ اپنے کام کے معاوضے (بدلے) کے طور پر لے۔ مزید یہ کہ سیاسی عمل اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت ہے، نہ کہ محض نوکری یا روزی کمانے کا کوئی ذریعہ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سول اسٹیٹ کی پکار دراصل اسلام اور اس کے نظاموں کو زندگی سے بے دخل کرنے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کو انسانوں کے بنے ہوئے (وضعی) قوانین سے بدلنے کی ایک دعوت ہے۔ لہٰذا، نہ تو اس کے مطابق حکومت کرنا جائز ہے اور نہ ہی اس کی طرف بلانا درست ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾
"پس (اے نبی!) آپ کے رب کی قسم، یہ لوگ تب تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے آپس کے جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ بنا لیں"۔ (سورہ النساء:آیت 65)۔
بلکہ اصل فرض اور واجب یہ ہے کہ اللہ کی شریعت کو ریاستِ خلافت میں نافذ کرنے کی دعوت دی جائے تاکہ اس جاہلیت کی موت سے بچا جا سکے جس سے رسول اللہ ﷺ نے ڈرایا ہے۔
ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ




