الأربعاء، 18 رجب 1447| 2026/01/07
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ریاستوں کی سلامتی اور عوام کے سیاسی خودمختاری کا مذاق اڑانے والے امریکہ کو کون چیلنج کرے گا؟

(ترجمہ)

 

خبر:

واشنگٹن، 3 جنوری (رائٹرز) - صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ (3 جنوری 2026) کی صبح بتایا کہ امریکہ نے راتوں رات وینزویلا پر حملہ کر کے اس کے طویل عرصے سے برسرِاقتدار صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ اور اقتدار کی غیر قانونی حیثیت کے الزامات کے تحت مہینوں کے دباؤ کے بعد کی گئی ہے۔

(Source: https://www.reuters.com/world/americas/loud-noises-heard-venezuela-capital-southern-area-without-electricity-2026-01-03/)

 

تبصرہ:

 

وینزویلا کے خلاف یہ کھلی امریکی جارحیت اچانک نہیں ہوئی۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مہم کے بہانے وینزویلا کے خلاف اپنے اقدامات میں تیزی لائی ہے۔ تازہ ترین حملے سے قبل، امریکی حکام نے حالیہ ہفتوں میں 15 حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، جن کے نتیجے میں مبینہ طور پر 62 ہلاکتیں ہوئیں۔

 

امریکہ وینزویلا اور لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک کو اپنا "پچھلا صحن" (backyard) سمجھتا ہے اور ان کے وسائل پر اپنا حق جتاتا ہے۔ وینزویلا قدرتی وسائل کے اعتبار سے دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے، جہاں دنیا کے سب سے بڑے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن کا تخمینہ 300 ارب بیرل سے زائد ہے، اور وہاں قدرتی گیس کے چوتھے بڑے ذخائر ہیں جو 195 ٹریلین کیوبک فٹ سے زیادہ ہیں۔ 2024 میں چین اور وینزویلا کے درمیان تجارت 6.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس نے اس قریبی تعلق کے خلاف امریکی دباؤ اور دشمنی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

 

"مونرو ڈاکٹرائن" (Monroe Doctrine) کے "ٹرمپ کورولری" (Trump Corollary) کی آڑ میں، امریکہ جنوبی امریکہ پر اپنا غلبہ جارحانہ انداز میں پھیلا رہا ہے، جس میں وینزویلا میں اپنے مادی مفادات کا تحفظ بھی شامل ہے۔ اس طرح امریکہ نے جغرافیائی سلامتی اور اپنے حکمران کے انتخاب میں عوامی خودمختاری، دونوں کا مذاق اڑایا ہے۔

 

اگر امریکہ کو روکا نہ گیا تو یہ نہ پہلی بار ہے اور نہ ہی آخری بار۔ امریکی طریقہ کار یہ ہے کہ یا تو اپنے انٹیلی جنس اثاثوں کے ذریعے ملک کے اندر بغاوت کرائی جائے، یا فوجی اپوزیشن کے ذریعے قیادت کا خلا پیدا کیا جائے، جسے بعد میں امریکہ کے کسی ایجنٹ سے پُر کر دیا جائے۔ اس معاملے میں زیادہ امکان یہی ہے کہ امریکہ نواز وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا ماچاڈو کو سامنے لایا جائے گا، جنہیں حال ہی میں ان کا سیاسی قد بڑھانے کے لیے نوبل امن انعام سے نوازا گیا ہے۔

 

اے مسلمانو اور اے دنیا کے لوگو!

 

ہم اب بھی امریکہ کو دنیا کی قیادت کرنے والی ریاست کے طور پر کیسے قبول کر سکتے ہیں؟ امریکہ ایسےتکبر اور غنڈہ گردی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی مثال موجود نہیں ہے، اور ریاستوں کی سلامتی اور عوامی اقتدار سے متعلق بین الاقوامی روایات کو پامال کر رہا ہے۔ ہمیں اس کی غنڈہ گردی سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ درحقیقت، یہ غنڈہ گردی طاقت کی علامت نہیں بلکہ امریکہ کی کمزوری کی علامت ہے۔ امریکہ اب نظریاتی ایجنڈے یعنی آزادی، جمہوریت یا انسانی حقوق کے ذریعے دنیا کی قیادت نہیں کر رہا۔ غزہ نے اس کے ایجنڈے کی غلط بیانیوں اور دوغلے معیار کو واضح طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ چنانچہ، ٹرمپ کے دور میں امریکہ کھلے عام فوجی اور معاشی استعمار کی طرف لوٹ آیا ہے۔ تاہم، اس سے امریکی مفادات کو براہِ راست چیلنج کیے جانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

 

اے دنیا کے لوگو، فرانسیسی مفکر ایمانوئل ٹوڈ (Emmanuel Todd) کے الفاظ پر غور کریں جنہوں نے اپنی 2001 کی کتاب "After the Empire: The Breakdown of the American Order" میں کہا تھا: "یہ یقینی ہے کہ امریکہ کو اپنی اس بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی اور فوجی طور پر لڑنا پڑے گا جو اس کے معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔" ہم اب اسی بھیانک پیش گوئی کے دور میں جی رہے ہیں۔

 

جہاں تک تمہارا تعلق ہے، اے امتِ مسلمہ! تمہارے سوا اور کون ہے جو انسانیت کو امریکی بالادستی کے بڑھتے ہوئے اندھیروں سے نکال کر قیادت فراہم کر سکے؟ تمہارے سوا کس کے پاس اس بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام کا تہذیبی متبادل ہے جس نے دنیا کے بیشتر حصے کو، وافر وسائل کے باوجود، غریب بنا دیا ہے؟ تمہارے سوا کس نے اسلام کی رحمت کو ان بے شمار قوموں تک پہنچایا جو تین براعظموں پر پھیلی ہوئی ہیں اور جو اب امتِ مسلمہ کے ستون ہیں؟ رجب 1342 ہجری میں تمہاری خلافت کا خاتمہ صرف تمہارا نقصان نہیں تھا بلکہ پوری انسانیت کا ایک بڑا نقصان تھا۔ ایک صدی سے زائد عرصہ "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کے اصول پر گزر چکا ہے، جس میں ایسے جرائم ہوئے جن سے جنگل کے درندے بھی شرمائیں۔

 

اب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دنیا کی رائے عامہ اور بین الاقوامی صورتحال کو انسانیت کی عادلانہ قیادت کے طور پر تمہاری واپسی کے لیے تیار کر دیا ہے۔ لہٰذا، اپنا عزم بلند کرو اور طریقہ نبوت پر خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے جدوجہد کرو۔ جدوجہد کرو، اللہ تعالیٰ نصرت عطا فرمائے گا اور تمہارے ہاتھوں ناانصافی کا خاتمہ کرے گا۔

 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَىٰ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ

 

"اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں تھے مگر جب وہاں کے رہنے والے ظالم ہو گئے۔" [ سورہ القصص: 59]"

 

 

مصعب عمیر، ولایہ پاکستان

Last modified onپیر, 05 جنوری 2026 19:32

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک