الأربعاء، 05 ذو القعدة 1447| 2026/04/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ایران کے لئے آپشنز !

 

تاریخ کا جائزہ لینے پر نظر آتا ہے کہ امریکہ نے طاقت کے گھمنڈ میں اور واحد سپر پاور ہونے کے تکبر کے نشے میں بد مست ہو کر 2001ء میں افغانستان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور پھر 2003ء میں عراق پر چڑھائی کر کے وہاں قابض ہو بیٹھا۔ اس وقت کی امریکی حکومت، یعنی کلنٹن انتظامیہ نے 20 جنوری 2001ء کو جب اقتدار آنے والے صدر کے سپرد کیا، تو اپنے جانشین کے لئے امریکی خزانے میں سرپلس بجٹ چھوڑا، نیز 5.6 ٹریلین ڈالر کا قومی قرضہ، جو کہ ریاست کے وسائل کے مطابق قابلِ انتظام تھا اور ایک ایسی فوج چھوڑی جو دو محاذوں پر ایک ساتھ ڈیڑھ جنگ (1.5) لڑنے کی صلاحیت رکھتی تھی، یعنی ایک محاذ پر فیصلہ کن فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسی دوران دوسرے محاذ کو اس وقت تک سنبھالے رکھنا جب تک پہلے محاذ کا فیصلہ نہ ہو جائے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ان ”ڈیڑھ جنگوں“ کی اصطلاح سے مراد ایک طرف تو مشرقی یورپی میدانوں میں امریکہ کا روسی فوج کے خلاف محاذ ہے اور دوسری طرف کوریا کے خطے میں چین کے خلاف ممکنہ تنازعات تھے۔ اور آج کے حالات سے منصفانہ تقابلی موازنہ کرنے کے لئے اس وقت کے روس پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس وقت روس کی قیادت بورس یلسن (Boris Yeltsin) جیسے نااہل اور خمار زدہ شخص کے ہاتھ میں تھی، اور ویسے بھی سوویت یونین کے زوال کے بعد سے روس بنا کسی قیادت کے بے سمت ہو چکا تھا۔ جبکہ اس وقت کے چین پر نظر ڈالیں تو وہ ابھی تک تیانمین اسکوائر (Tiananmen Square) کے واقعے کے اثرات سے ہی نہ نکل پایا تھا اور اس واقعے سے وابستہ پابندیوں کے بعد سے خود کو سنبھال رہا تھا، اور اس کے علاؤہ مختلف قسم کے عالمی فورمز جیسے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) اور جنرل ایگریمنٹ آن ٹیرف اینڈ ٹریڈ (GATT)، اور دیگر میں اپنی جگہ بنانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ اور ادھر امریکی پالیسی ساز تھے کہ امریکی غلبے کے ایک نئے ”ہزار سالہ دور“ کے خواب دیکھ رہے تھے، اور امریکہ کے دانشور سوشلزم کو شکست دینے پر سرمایہ داریت کی فتح کا جشن مناتے ہوئے ”تاریخ کا خاتمہ“ (End of History) جیسے قصے لکھ رہے تھے۔

 

اب تقریباً 3 دہائیاں گزر جانے کے بعد 2026ء کے امریکہ پر نظر ڈالتے ہیں کہ جس کی حالت اب یہ ہو چکی ہے کہ امریکہ اپنے اس بیانیے پر اعتماد  کھو چکا ہے کہ جس پر قواعد پر مبنی نظام (Rule-based Order) کی عمارت کھڑی کی گئی تھی — اور جسے گلوبلائزیشن کا نام دیا گیا تھا۔ آج کے امریکہ کو سالانہ دو ٹریلین ڈالر کے خسارے اور تقریباً 38.38 ٹریلین ڈالر کے قومی قرضے کا سامنا ہے اور اس قرضے سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، اور اس کے علاؤہ امریکہ ایک ایسی فوج کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے جو محض چند ہفتوں کی محدود فضائی جھڑپ میں ہی اپنے اسلحہ سے ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ جارج بش کے پاس اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے لئے کوئی نہ کوئی جواز موجود تھا؛ لیکن ایران کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی اس نئی جنگ میں ٹرمپ کے پاس تو سوائے کھوکھلے دعوؤں کے اور ایک خالی خولی نقارہ بجانے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔

 

زیادہ پرانی بات نہیں لیکن ماضی میں کئی ایسے مواقع بھی گزرے ہیں جب کسی قوم کو بظاہر اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور دشمن کا سامنا کرنا پڑا، اور ایران کے لئے بھی ایسی ہی کئی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ امریکہ نے 1812ء کی جنگ میں اس وقت کی سپر پاور برطانیہ کے خلاف اپنا اسٹریٹجک مقابلہ جیت لیا تھا — حالانکہ اس جنگ میں امریکہ اپنے دارالحکومت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا تھا، اور کیپٹل ہِل کو جلا کر راکھ کر دیا گیا تھا اور برطانوی افواج کی پیش قدمی کے سامنے امریکی فوج واشنگٹن ڈی سی کو خالی کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔ اور اگرچہ برطانیہ نے اپنی حکمتِ عملی کی چالوں سے امریکہ کو نقصان تو ضرور پہنچایا، لیکن وہ امریکیوں کے لڑنے کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہے، اور بظاہر نظر آنے والی امریکہ کی وہ ناکامی برطانیہ کی ماہرانہ کامیابی کو اسٹریٹجک شکست میں بدل گئی۔ اور ایسی ہی ایک اور مثال سمندر پار کے براعظم کی ہے جہاں عین اسی دوران بالکل ایسی ہی صورتحال پیدا ہو رہی تھی۔ نپولین نے 650,000 سپاہیوں پر مشتمل اپنی زبردست طاقتور اور اس وقت تک کی ناقابلِ شکست فوج کے ساتھ روس پر حملہ کر دیا، اور یکے بعد دیگرے کی جنگوں میں یورپی اتحادی افواج کو روندتے ہوئے وہ ماسکو تک جا پہنچا، اور یہاں تک کہ ماسکو کو اس کے سامنے خالی چھوڑ دیا گیا۔ نپولین مہینوں تک ماسکو میں یہ انتظار کرتا رہا کہ روسی آئیں اور شکست تسلیم کر کے مذاکرات کر لیں۔ مگر وہ نہیں آئے۔ نپولین بھی روسی قوم کے اپنا دفاع کرنے کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہا جو اگرچہ مفتوحہ ہو چکی تھی۔ اور یوں نپولین کو مختلف عناصر کا مقابلہ کرتے ہوئے واپس فرانس کی طرف پیچھے ہٹنا پڑا، اور ان حالات میں اس نے اپنے 600,000 بہترین اور آزمودہ جنگجو سپاہی بھی کھو دیئے۔

 

اسی طرح دوسری جنگ عظیم کی مثال ہے، جس میں سوویت یونین کا موازنہ جرمنی سے کیا جائے تو سوویت یونین کو 27 ملین (دو کروڑ ستر لاکھ) جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ مشرقی محاذ پر جرمنی کا جانی نقصان تقریباً 4 ملین رہا تھا۔ یہ اعداد و شمار اس لئے بھی حیران کن ہیں کیونکہ جرمن ایک حملہ آور فوج تھی، اور عسکری روایات یہ بتاتی ہیں کہ عموماً حملہ آور کو دفاع کرنے والے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ بہرحال یہ خالصتاً ایک پختہ عزم کا مظاہرہ تھا، جو روسی محاذ، اسٹالن گراڈ (Stalingrad) کے دفاع سے کہیں زیادہ نمایاں نظر آیا تھا۔

 

ایسا ہی سبق کوریا کی جنگ سے بھی ملتا ہے۔ 1953ء میں، امریکہ نے اپنی ایٹمی برتری کے نشے میں اور حالیہ فتح کی یادوں میں مست ہو کر ایک ایسے ملک کے خلاف جنگ چھیڑ دی جو محض چند سال پہلے تک مغرب کی ایک کالونی رہا تھا۔ امریکہ نے کوریا کے اس خطے پر اس قدر بم برسا دئیے جتنے اس نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران پورے بحرالکاہل کے محاذ پر بھی نہ برسائے تھے، یہاں تک کہ پیانگ یانگ (Pyongyang) شہر میں ایک عمارت تک سلامت نہ چھوڑی، اور رپورٹوں کے مطابق شمالی کوریا کا تقریباً 90 فیصد بنیادی شہری انفراسٹرکچر تباہ کر ڈالا تھا۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ کوریا کے عزم کو نہ توڑ سکا۔ اور امریکہ ایک ایسی جنگ بندی کے مذاکرات کرنے پر مجبور ہوا جو شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین باہمی تعلقات کے لیے آج تک موجود واحد معاہدہ ہے۔

 

ہمیں تاریخ میں اس طرح کی مثالیں بار بار نظر آتی ہیں۔ صرف چند ایک کا ہی ذکر کریں تو ویتنام، افغانستان، غزہ، عراق اور صومالیہ کے لوگوں نے شکست قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

 

اور حالیہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو ایران کے معاملے میں امریکہ کو یہ خام خیالی تھی کہ وینزویلا جیسا نتیجہ نکلے گا اور امریکہ کا اندازہ یہ تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ چار ہی دنوں میں ختم ہو جائے گی۔ لیکن بہرحال ٹرمپ کا امریکہ — چاہے وہ خود کو جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ظاہر کر لے — اب ویسا نہیں رہا جیسا اس وقت تھا جب اس نے 2 کروڑ 50 لاکھ تک کی آبادی کے ممالک، افغانستان اور عراق کے خلاف جنگ برپا کر دی تھی، اور اس وقت امریکہ کو افغانستان اور عراق کے پڑوسی ممالک کی بھرپور حمایت بھی حاصل تھی۔ لیکن اس صورتحال کے برعکس، ایران کا رقبہ 15 لاکھ مربع کلومیٹر ہے اور اس کی آبادی 9 کروڑ 30 لاکھ تک ہے — اور اس جنگ میں ایران کا ایک بھی اہم پڑوسی امریکہ کے ساتھ شامل نہیں ہے۔

 

ایران کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ امریکہ کو عسکری طور پر شکست دے دے، اسے اس جنگ میں صرف اپنی بقا کو ممکن بنانا ہے۔ لیکن اگر قومی ریاست (nation-state) کا نظام، امریکی اڈوں کا جال، اور عالمی نظام کے عناصر، جیسا کہ پیٹرو ڈالر، این پی ٹی (NPT)، ایف اے ٹی ایف (FATF)، آئی ایم ایف (IMF)، سوئفٹ (SWIFT)، سی ٹی بی ٹی (CTBT)، ایف ایم سی ٹی (FMCT)، اے بی ایم (ABM) معاہدہ وغیرہ اسی طرح برقرار رہے، تو ایرانی عوام کی قربانی رائیگاں جائے گی۔ آخر کار، یہ ایک سیاسی جنگ ہے۔ امریکہ کو سیاسی طور پر شکست دینا ضروری ہے، اور شطرنج کی اس بساط پر جو پہلا مہرہ گرایا جانا چاہیے، وہ قومی ریاست (nation-state) کا فریم ورک ہے۔

 

اس خطے کو اپنی سکیورٹی کے لئے امریکہ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اسے امریکہ سے اپنا بچاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔ استعماری مغرب نے خلیج کی چھوٹی چھوٹی اور کمزور ریاستیں محض اس لئے تخلیق کی تھیں تاکہ امت کے وسائل کو ہڑپ کیا جا سکے۔ پاکستان کی مسلح افواج پہلے ہی اس خطے میں موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پورے استعماری ڈھانچے کو لپیٹ کر کوڑے دان میں پھینک دیا جائے—خواہ اس کا مطلب سائیکس-پیکو (Sykes-Picot) کی تقسیم ہو، ڈیورنڈ لائن (Durand Line) کی  کھینچی گئی لکیر ہو، یا اسلامی سرزمین کے وہ حصے بخرے ہوں جو ریڈ کلف (Radcliffe) نے کئے تھے۔

 

موجودہ صورتحال کا واحد حل اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ صرف خلافت ہی ہے۔ خلافت کے علاوہ اور کوئی بھی منصوبہ امریکہ کو ایسے مواقع فراہم کرتا رہے گا کہ جن کے ذریعے وہ مختلف ذرائع سے امت مسلمہ کو اپنے قابو میں رکھنے کے قابل رہے۔

 

 

مهنّد مجتبی – ولاية باكستان

Last modified onبدھ, 22 اپریل 2026 05:53

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک